07:25 am
 چناب اور جموں سے مسلم آبادی کا صفایا کیاگیا

چناب اور جموں سے مسلم آبادی کا صفایا کیاگیا

07:25 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
6نومبر1947ء کو ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ، مہارانی تارا دیوی،ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل اور سابق وائسرائے لارڈ مونٹ بیٹن کی آشیر واد اوروزیر اعظم جواہر لال نہرو کی ہدایت پرمسلمانوں کو گاڑیوں میں سیالکوٹ پہنچانے کے بہانے شہید کیا گیا۔ تقسیم کے اصولوں کے منافی بائونڈری کمیشن کے ریڈ کلف کی بددیانتی سے ہندوستان کو کشمیر تک زمینی راستہ دینے کے لئے پنجاب کے مسلم اکثریتی علاقہ گورداسپور کو پاکستان کا حصہ نہ بننے دیا گیا۔اور اسے بھارت کو دے کر کشمیر تک راہداری دی گئی۔
مسلمانوں کی نسل کشی کا منصوبہ4 نومبر 1947ء کو ہندوستانی وزیر داخلہ سردار ولبھابھائے پٹیل، وزیر دفاع سردار بلدیو سنگھ اور مہاراجہ پٹیالہ سردار دیوندر سنگھ نے جموں میں مہاراجہ کی مشاورت سے تیار کیا تھا۔راوی کہتا ہے کہ مسلمانوں کے قتل عام سے چناب کا سب سے بڑا معاون دریا’’ توی‘‘ خون سے بھر گیا۔جموںکے گلی کوچوں سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ جموں ڈویژن سے نسلی صفائی میں جن سنگھیوں کو استعمال کیا گیا۔اس سے قبل ڈوگرہ فورسزنے پوری ریاست کے مسلمانوں کا قافیۂ حیات تنگ کررکھا تھا۔ قبائل کشمیر میں داخل ہوئے تو ڈوگرہ راجہ 25؍ اکتوبر 1947ء کو مقبوضہ وادی سے فرار ہوگیا۔ سرینگر سے جموں پہنچ کر رانی تارا دیوی نے سر کے بال بکھیر دیئے۔ چیخ و پکار کی کہ مسلمان غلاموں نے کشمیر ہم سے چھین لیا۔ ہندوئوں کو مسلمانوں پر حملے کرنے کی ترغیب دی اور اسلحہ تقسیم کیا ۔ منادی کرادی کہ مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لئے ہر ہندو آزاد ہے۔ تارا دیوی نے ڈوگرہ سرداروں کا اجلاس طلب کیا جس میں فیصلہ کیا کہ تمام مسلمان افسروں کو نوکریوں سے برطرف کر دیا جائے اور کوئی مسلمان افسر کسی ذمہ دار عہدے پر فائز نہ رہے۔کہا جاتا ہے کہ 30؍ اکتوبر 1947ء تک پورے جموں میںایک بھی مسلمان افسر کسی اہم اورذمہ دار عہدے پر فائز نہ تھا۔ مہاراجہ پٹیالہ نے شرپسندوں کی کمک جموں داخل کی ۔ قتل عام اورلوٹ مار کے بعد ہی مسلمانوںنے جموں سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا ۔ مسلمانوں کو فوجیوں کی حفاظت میں لاریوں میںپاکستانی سرحد پر آر ایس پورہ، ارنیہ، ڈگیانہ علاقوں میں اندھا دھند گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ عورتوں کو علیٰحدہ کرکے ان کے برہنہ جلوس نکالے گئے۔انہیں اغواء کیا گیا ۔جن کا آج تک کوئی پتہ نہ چل سکا۔سیکڑوں عصمتیں بچانے کے لئے دریا میں کود گئیں ۔جس طرح ہندوستان کے مسلمانوں کو پاکستان ہجرت کے موقعہ پر درندگی کا نشانہ بنایا گیا اسی طرح جموں کے مسلمانوں پرقیامت ٹوٹ پڑی۔مسلمانوں کے قتل عام میں پنجاب کے راجواڑوں، پٹیالہ، کپور تھلہ، فرید کوٹ اور نواحی علاقوں کے مہاراجوں نے بھی حصہ لیا۔ یہ عید الاضحی کا موقع تھا جب ہندو دہشت گردوں نے ایک نعرہ کے تحت مسلمانوں کی نسل کشی کی وہ کہہ رہے تھے کہ عید کو مسلے قربانی کرتے تھے اب آج کی عید پر ہم ان کی قربانی کریں گے۔ مسلمانوں کے قتل عام سے قبل پورے جموں میں کرفیو لگایا گیا۔ سیوک سنگھ، مہاسبھا اور اکالی دل کے جتھوں نے ایک دوسرے سے سبقت لیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کرنے کا عہد کررکھا تھا۔ چاروں اطراف سے  جے ہند اورمت سری اکال کے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ مسلمانوں کے علاقوں میں انتظامیہ نے اعلان کیا کہ پاکستان نے مسلمانوں کیلئے گاڑیاں بھیجی ہیں، اس لئے لوگ سیالکوٹ جانے کیلئے پولیس لائنز میں جمع ہو جائیں۔ اس وقت پولیس لائنز جموں توی میں تھا، جہاں بسوں پر پاکستانی جھنڈے لگا دیئے گئے تھے۔شیخ عبداللہ اپنی خود نوشت آتشِ چنار میںلکھتے ہیں کہ 5؍ نومبر 1947ء کو جموں شہر میں ڈھنڈورہ پٹوایا گیا کہ مسلمان پولیس لائنز میںحاضر ہو جائیں تاکہ انہیں پاکستان بھیجا جاسکے۔ مسلمان بچوں اور عورتوں کے ساتھ حاضر ہوگئے۔انہیں چالیس ٹرکوں کے قافلے میں سوار کیا گیا۔ ہر ٹرک میں 60 افراد سوار تھے۔ انہیں سانبہ کے قریب ایک پہاڑی کے نزدیک اتارا گیا جہاں مشین گنیں نصب تھیں۔ جوان عورتوں کو الگ کرکے باقی تمام جوانوں، بچوں اور بوڑھوں کو آن کی آن میں گولیوں سے اڑا دیا گیا ۔یہی سلوک کئی قافلوں کے ساتھ ہوا۔ جس طرح پٹیالہ، فرید کوٹ اور کپور تھلہ میںمسلمانوں کا مکمل صفایا کیا گیااسی طرح جموں سے مسلمانوں کا صفایا کرنا مقصود تھا۔کشمیر پر 27اکتوبر1947کوبھارتی فوجی قبضے سے قبل ڈوگرہ فوجیوں نے 20؍ اکتوبر 47ء کو اکھنور میںمسلمانوں کو پاکستان لے جانے کیلئے جمع کیا او ر انہیں شہید کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اکھنور پل سے بھی خون بہہ رہا تھا۔ 23؍ اکتوبر کو جموں کے آر ایس پورہ شاہراہ پر جمع 25 ہزار مسلمانوں پر ڈوگرہ اور پٹیالہ فورسز نے اندھا دھند گولیاں چلاکر شہید کیا۔ آر ایس پورہ تحصیل میںمسلمانوں کے 26دیہات تھے۔ آج وہاں چند گھر ہی نظر آتے ہیں۔ 
جموں شہر کی آبادی 1941ء کی مردم شماری کے مطابق ایک لاکھ 70 ہزار تھی جو 20 سال بعد 1961ء میں کم ہوکر صرف 50 ہزار رہ گئی۔مسلمانوں کی نسل کشی میںدہشت گرد تنظیموں آر ایس ایس، ہندو مہا سبھا اور دیگر فرقہ پرست جماعتیں پیش پیش رہیں۔ یہ وہی فرقہ پرست تھے جنہوںنے مارچ 1947ء میں لدھیانہ، جالندھر،امرتسر، کپورتھلہ، پٹیالہ،فرید کوٹ،پانی پت، کرنال، گوڑگائوں وغیرہ میں مسلمانوں پر حملے کئے اور یہی لوگ تھے جنہوں نے ریاست جموں و کشمیر میںداخل ہوکر مقامی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر کٹھوعہ، سانبہ، ادھمپور، بھمبر، نوشہرہ، ہیرانگر، رام گڑھ، آر ایس پورہ، ارنیہ، سچیت گڑھ، جموں ، بٹوت حتیٰ کہ مظفر آباد میں بھی ڈیرے ڈال دیئے تھے۔ مہاراجہ نے ان دہشت گردوں کی خوب آئو بھگت کی۔ اس نے وزیر اعظم پنڈت رام چند کاک کو برطرف کر کے مہارانی تارا دیوی کے قریبی رشتہ دار ٹھاکر جنک سنگھ کو وزیر اعظم مقرر کیا۔ مہاراجہ نے اپریل 47ء کو راولاکوٹ کے دورہ کے موقع پر جب جنگ عظیم دوم کے ہزاروں مسلمان فوجیوں کا نظارہ کیا تو واپسی پر فوری طور پر غیر مسلم راجپوت اور ڈوگرہ فوج کے یونٹ قائم کئے۔ راجہ نے اپنے سسُرالی علاقہ کانگڑہ (رانی تارا دیوی کا علاقہ) اور اس کے قرب وجوار کلو، چمبہ، گڑھوال وغیرہ سے بھی ہندو فوجی بھرتی کئے۔ ان فوجیوں کو سرینگر اور جموں میںتعینات کیا گیا۔ مہارانی تارا دیوی نے بائونڈری کمیشن کے ممبر مہر چند مہاجن جیسے مسلم دشمن غیر ریاستی شخص کو کشمیر کا وزیراعظم بنایا۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں