07:26 am
کفار کی نقالی

کفار کی نقالی

07:26 am

 اہل اسلام نے اپنی تہذیب و ثقافت کے ساتھ ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک دنیا کے ایک بہت بڑے حصے پر حکومت کی اور یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا کی دیگر قومیں مسلمانوں کی نقالی کرنے میں اپنے لیے فخر محسوس کرتی تھیں اور یہ صورت حال تھی کہ مسلمان موثر تھے اور باقی اقوام متاثر تھیں ۔
مسلمان  اسلام کے ساتھ قیصر و کسری کے ایوانوں میں گئے  انہوں نے دنیا کی متمدن کہلانے والی اقوام کی تہذیب و ثقافت بھی دیکھی اور انہوں نے وہ تاریخی شہر بھی فتح کیے جنہیں اپنی سینکڑوں سالہ پرانی شناخت پر بڑا ناز تھا لیکن جو آنکھیں سیرت ِ طیبہ کے سرمہ بصیرت سے روشن ہو چکی تھیں اور جن دلوں نے جمالِ محمدی (ﷺ)کی جھلک جذب کر لی تھی وہ دنیا کے کسی فیشن سے متاثر ہوئے نہ کفار کی ظاہری شان و شوکت انہیں مرعوب کر سکی ۔
پھر جب مسلمان اپنی اصل اور بنیاد سے دور ہٹتے گئے اور اپنی عادات و اخلاق میں غیروں کے پیرو کار اور نقال بن کر رہ گئے تو دنیا کی امامت اور حکومت کے عہدہ اور منصب سے بھی معزول کر دئیے گئے ۔ پھر ذہنی غلامی اور پسماندگی کا وہ وقت بھی آیا کہ کفار کی نقالی میں فخر محسوس کیا جانے لگا اور سنت ِ پاک کے مبارک طریقوں میں شرم اور عار محسوس ہونے لگی ۔ زوال اور پستی کے اس دور میں مسلمانوں میں ایسے مفکرین اور دانشور بھی پیدا ہوئے جنہوں نے ترقی کیلئے کفار کی نقال کو لازمی بتایا اور پوری مسلم قوم کو ذہنی غلامی میں مبتلا کر دیا۔
 آج ہم ایسے ہی دور میں کھڑے ہیں جہاں سنت پاک کے ہر عمل پر تو ہر طرف سے سوال اٹھتا ہے کہ اس میں کیا حکمت اور کیا فائدہ ہے ؟ جہاں ہر شرعی حکم کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنا لازمی سمجھا جاتا ہے اور جب اپنی ناقص عقل میں بات نہ سمائے تو گزشتہ چودہ سو سال کے اسلافِ امت کو غلط قرار دینا اور ان کی باتوں میں کیڑے نکالنا فیشن بن چکا ہے ۔ لیکن دوسری طرف مغربی دنیا سے آئی ہوئی ہر بات کو فرض سمجھ کر قبول کر لیا جاتا ہے اور ان کے لایعنی  بے کار اور بیہودہ طور طریقوں کو بھی اپنانے میں ذرا شرم و عار محسوس نہیں کی جاتی ۔
ممتاز عالم دین اور متعدد کتابوں کے منصف مفتی منصور احمد لکھتے ہیں کہ گزشتہ چند سالوں سے تو کفار کی خالص مذہبی تقریبات میں شرکت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے اور یہ جنون ہر سال بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے اور یوں لگ رہا ہے کچھ لوگ مسلمانوں کو کفار کے رنگ میں ایسا رنگنا چاہتے ہیں کہ پھر شکل و لباس تہذیب و تمدن اور اخلاق و معاشرت میں کہیں کوئی فرق باقی نہ رہ جائے ۔
اگر یہی صورتِ حال برقرار رہتی ہے تو خدانخواستہ چند سالوں بعد نوبت یہاں تک آ پہنچے گی کہ ہماری نئی نسل کو یہ بھی معلوم نہیں ہو گا کہ ملاقات کے وقت السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کہنا چاہیے یا  نمستے؟ اور مسلمان اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں یا بھگوان کی پوجاکرتے ہیںاورمسلمان اپنی میت کو اعزازو اکرام سے دفناتے ہیںیا اس کی چتا کو نذرِ آتش کرتے ہیں؟یہ صرف اندیشہ ہائے دور دراز نہیںبلکہ کئی ایسے گھرانوں کے معصوم بچوں میں جہاں صبح و شام ٹی وی چلتا ہے ، ایسے واقعات پیش آ چکے ہیں۔
انہی خطرات کے پیشِ نظرعلما امت نے قرآن و سنت کی روشنی میںمسلمانوں کو کفار کے ساتھ تشبہ اختیار کرنے سے روکا ہے اور تشبہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک مسلمان   اپنی صورت وسیرت، اپنی ہیئت ووضع، مذہبی اور قومی امتیازات کو چھوڑ کر دوسری قوم کی صورت وسیرت ، اس کی ہیئت ووضع اور اس کی مذہبی وتعلیمی امتیازات کو ایسا اختیار کرلے کہ دوسری قوم کے وجود میں مل جائے اور اپنے آپ کو اس میں فنا کردے۔
اسلام نے مسلمانوں کو دوسری قوموں کے تشبہات اور امتیازات کو اختیار کرنے سے منع کیا ہے ، یہ ممانعت معاذ اللہ کسی تعصب اور تنگ نظری کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ غیرت وحمیت کی بنا پر ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ امت مسلمہ کو غیروں کے ساتھ التباس واشتباہ کی تباہی سے محفوظ رکھا جائے‘ کیونکہ جو قوم اپنی خصوصیات اور امتیازات کی حفاظت نہ کرے، وہ زندہ، آزاد اور مستقل قوم کہلانے کی مستحق نہیں ، اس لئے شریعت حکم دیتی ہے کہ مسلم قوم دوسری قوموں سے ظاہری طور پر ممتاز اور جدا ہوکر رہے، لباس میں بھی وضع میں بھی ، ایک تو جسم میں ختنہ اور داڑھی کو مسلمان کی ضروری علامت قرار دیا گیا ہے، دوسرے لباس کی علامت یعنی مسلمان اپنے اسلامی لباس کے ذریعے دوسری قوموں سے شناخت کئے جاسکیں۔
غرض کسی بھی چیز کا استعمال غیروں کی مشابہت کی نیت سے اور دشمنان دین کی مشابہت کے ارادے سے کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے دل میں ان کی طرف رغبت اور میلان ہے،   اللہ تعالی کویہ گوارہ نہیں کہ اس کے دوست اور نام لیوا(یعنی مسلمان) اس کے دشمنوں(یعنی کافروں)کی مشابہت اختیار کرنے کی نیت وارادے سے کوئی کام کریں۔
جو لوگ غیروں کے معاشرے کو اپنا محبوب معاشرہ بناتے ہیں وہ ہمیشہ ذلیل وخوار رہتے ہیں، کیوں کہ عشق ومحبت کی بنیاد تذلیل پر ہے یعنی عاشق کو ہمیشہ اپنے معشوق کے سامنے ذلیل وخوار بن کر رہنا پڑتا ہے۔
قرانِ مجید میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:کیا مسلمانوں کے لئے وقت نہیں آیا کہ اللہ کے ذکر اور اس کے نازل کردہ حق کے سامنے ان کے دل جھک جائیں اور ان لوگوں کے مشابہ نہ بنیں جن کو پہلے کتاب دی گئی(یعنی یہود ونصاری)جن پر زمانہ دراز گزرا، پس ان کے دل سخت ہوگئے اور بہت سے ان میں بدکار ہیں۔(حدیدآیت16)

تازہ ترین خبریں