07:28 am
 سیرۃ النبیﷺ

سیرۃ النبیﷺ

07:28 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما 
حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا شوہر حضور رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ برکتیں دیکھ کر حیران رہ گیا،اور کہنے لگا کہ حلیمہ! تم بڑا ہی مبارک بچہ لائی ہو۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے کہا کہ واقعی مجھے بھی یہی امید ہے کہ یہ نہایت ہی بابرکت بچہ ہے اور خدا کی رحمت بن کر ہم کو ملا ہے اور مجھے یہی توقع ہے کہ اب ہمارا گھر خیروبرکت سے بھر جائے گا۔ 
 
حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں کہ اس کے بعد ہم رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی گودمیں لے کر مکہ مکرمہ سے اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوئے تومیرا وہی خچر اب اس قدر تیز چلنے لگا کہ کسی کی سواری اس کی گرد کو نہیں پہنچتی تھی،قافلہ کی عورتیں حیران ہو کر مجھ سے کہنے لگیں کہ اے حلیمہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیا یہ وہی خچر ہے ؟ جس پر تم سوار ہو کر آئی تھیں یا کوئی دوسرا تیز رفتار خچر تم نے خرید لیا ہے؟ الغرض ہم اپنے گھر پہنچے وہاں سخت قحط پڑا ہوا تھا تمام جانوروں کے تھن میں دودھ خشک ہو چکے تھے، لیکن میرے گھر میں قدم رکھتے ہی میری بکریوں کے تھن دودھ سے بھر گئے،اب روزانہ میری بکریاں جب چراگاہ سے گھر واپس آتیں تو ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوتے حالانکہ پوری بستی میں اور کسی کو اپنے جانوروں کا ایک قطرہ دودھ نہیں ملتا تھا میرے قبیلہ والوں نے اپنے چرواہوں سے کہا کہ تم لوگ بھی اپنے جانوروں کو اسی جگہ چراؤ جہاں حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے جانور چرتے ہیں۔ چنانچہ سب لوگ اسی چراگاہ میں اپنے مویشی چرانے لگے جہاں میری بکریاں چرتی تھیں،مگر یہاں تو چراگاہ اور جنگل کا کوئی عمل دخل ہی نہیں تھا یہ تو رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے برکات نبوت کا فیض تھاجس کو میں اور میرے شوہر کے سوا میری قوم کا کوئی شخص نہیں سمجھ سکتا تھا۔ 
الغرض اسی طرح ہر دم ہر قدم پر ہم برابر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی برکتوں کا مشاہدہ کرتے رہے یہاں تک کہ دو سال پورے ہو گئے اور میں نے آپ کا دودھ چھڑا دیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی تندرستی اور نشوونما کا حال دوسرے بچوں سے اتنا اچھا تھا کہ دو سال میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خوب اچھے بڑے معلوم ہونے لگے، اب ہم دستور کے مطابق رحمتِ عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ان کی والدہ کے پاس لائے اور انہوں نے حسب توفیق ہم کو انعام و اکرام سے نوازا۔ 
شق صدر:ایک دن آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واالہ وسلم چراگاہ میں تھے کہ ایک دم حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ایک فرزند ''ضمرہ ''دوڑتے اور ہانپتے کانپتے ہوئے اپنے گھر پر آئے 
اور اپنی ماں حضرت بی بی حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے کہا کہ اماں جان! بڑا غضب ہو گیا، محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو تین آدمیوں نے جو بہت ہی سفید لباس پہنے ہوئے تھے،چت لٹا کر ان کا شکم پھاڑ ڈالا ہے اور میں اسی حال میں ان کو چھوڑ کر بھاگا ہوا آیا ہوں۔ یہ سن کر حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااور ان کے شوہر دونوں بدحواس ہو کر گھبرائے ہوئے دوڑ کر جنگل میں پہنچے تو یہ دیکھا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بیٹھے ہوئے ہیں مگر خوف و ہراس سے چہرہ زرد اور اداس ہے،حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے شوہرنے انتہائی مشفقانہ لہجے میں پیار سے چمکار کر پوچھا کہ بیٹا! کیا بات ہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تین شخص جن کے کپڑے بہت ہی سفیداور صاف ستھرے تھے میرے پاس آئے اور مجھ کو چت لٹا کر میرا شکم چاک کرکے اس میں سے کوئی چیز نکال کر باہر پھینک دی اور پھر کوئی چیز میرے شکم میں ڈال کرشگاف کو سی دیالیکن مجھے ذرہ برابر بھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ 
شق صدر کتنی بار ہوا؟:حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز  صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سورۂ ''الم نشرح'' کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ چار مرتبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا مقدس سینہ چاک کیا گیا اور اس میں نور و حکمت کا خزینہ بھرا گیا۔
پہلی مرتبہ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تھے جس کا ذکر ہو چکا۔ اس کی حکمت یہ تھی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان وسوسوں اور خیالات سے محفوظ رہیں جن میں بچے مبتلا ہو کر کھیل کود اور شرارتوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ دوسری بار دس برس کی عمر میں ہوا تاکہ جوانی کی پر آشوب شہوتوں کے خطرات سے آپ بے خوف ہو جائیں۔ تیسری بار غارِ حرا میں شق صدر ہوا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب میں نور سکینہ بھر دیا گیا تا کہ آپ وحی الٰہی کے عظیم اور گراں بار بوجھ کوبرداشت کر سکیں۔چوتھی مرتبہ شب معراج میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مبارک سینہ چاک کرکے نور و حکمت کے خزانوں سے معمور کیا گیا۔
بچپن کی ادائیں:حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا گہوارہ یعنی جھولا فرشتوں کے ہلانے سے ہلتا تھا اور آپ بچپن میں چاند کی طرف انگلی اٹھا کر اشارہ فرماتے تھے توچاند آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی انگلی کے اشاروں پر حرکت کرتا تھا۔جب آپ کی زبان کھلی تو سب سے اول جو کلام آپ کی زبان مبارک سے نکلا وہ یہ تھا اللہ اکبر اللہ اکبرالحمد للہ رب العالمین وسبحان اللہ بکرۃ واصیلا بچوں کی عادت کے مطابق کبھی بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے کپڑوں میں بول و براز نہیں فرمایا۔ بلکہ ہمیشہ ایک معین وقت پر رفع حاجت فرماتے۔ اگر کبھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی شرم گاہ کھل جاتی تو آپ رو رو کر فریاد کرتے اور جب تک شرم گاہ نہ چھپ جاتی آپ کو چین اور قرار نہیں آتا تھا اور اگر شرم گاہ چھپانے میں مجھ سے کچھ تاخیر ہو جاتی تو غیب سے کوئی آپ کی شرم گاہ چھپا دیتا۔ جب آپ اپنے پاؤں پر چلنے کے قابل ہوئے تو باہر نکل کر بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھتے مگر خود کھیل کود میں شریک نہیں ہوتے تھے لڑکے آپ کو کھیلنے کے لئے بلاتے تو آپ فرماتے کہ میں کھیلنے کیلئے نہیں پیدا کیا گیا ہوں۔ 
حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی وفات
حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی عمر شریف جب چھ برس کی ہو گئی تو آپ کی والدہ ماجدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ آپ کے دادا کے نانھیال بنو عدی بن نجار میں رشتہ داروں کی ملاقات یا اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کیلئے تشریف لے گئیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے والد ماجد کی باندی امِ ایمن بھی اس سفرمیں آپ کیساتھ تھیں‘ وہاں سے واپسی پر ''ابواء '' نامی گاؤں میں حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی وفات ہو گئی اور وہ وہیں مدفون ہوئیں۔ والد ماجد کا سایہ تو ولادت سے پہلے ہی اٹھ چکا تھا اب والدہ ماجدہ کی آغوش شفقت کا خاتمہ بھی ہو گیا لیکن حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا یہ در یتیم جس آغوشِ رحمت میں پرورش پا کر پروان چڑھنے والاہے وہ ان سب ظاہری اسبابِ تربیت سے بے نیاز ہے۔
ابوطالب کے پاس :ابو طالب کا بیان ہے کہ میں نے کبھی بھی نہیں دیکھا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کسی وقت بھی کوئی جھوٹ بولے ہوں یا کبھی کسی کو دھوکہ دیا ہو، یا کبھی کسی کو کوئی ایذا پہنچائی ہو، یا بیہودہ لڑکوں کے پاس کھیلنے کیلئے گئے ہوں یا کبھی کوئی خلافِ تہذیب بات کی ہو۔ ہمیشہ انتہائی خوش اخلاق، نیک اطوار، نرم گفتار، بلند کردار اور اعلیٰ درجہ کے پارسا اور پرہیز گار رہے۔
اُمی لقب:حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا لقب ''اْمّی'' ہے اس لفظ کے دو معنی ہیں یا تو یہ ''اْم القریٰ'' کی طرف نسبت ہے۔ ''اْم القریٰ'' مکہ مکرمہ کا لقب ہے لہٰذا ''اْمی'' کے معنی مکہ مکرمہ کے رہنے والے یا''اْمّی'' کے یہ معنی ہیں کہ آپ نے دنیا میں کسی انسان سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا۔ یہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا بہت ہی عظیم الشان معجزہ ہے کہ دنیا میں کسی نے بھی آپ کو نہیں پڑھایا لکھایا۔ مگر خداوند قدوس نے آپ کو اس قدر علم عطا فرمایا کہ آپ کا سینہ اولین و آخرین کے علوم و معارف کا خزینہ بن گیا اور آپ پر ایسی کتاب نازل ہوئی جس کی شان ہر ہر چیز کا روشن بیان ہے۔ حضرت مولانا جامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ 
نگار من کہ بہ مکتب نرفت و خط ننوشت
بغمزہ سبق آموز صد مدرس شد
یعنی میرے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نہ کبھی مکتب میں گئے ،نہ لکھنا سیکھامگر اپنے چشم و ابرو کے اشارہ سے سینکڑوں مدرسوں کو سبق پڑھادیا۔ 


آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے امی لقب ہونے کا حقیقی راز کیا ہے؟ اس کو تو خدا وند علام الغیوب کے سوا اور کون بتا سکتا ہے؟ لیکن بظاہر اس میں چند حکمتیں اور فوائد معلوم ہوتے ہیں۔
اوّل۔ یہ کہ تمام دنیا کو علم و حکمت سکھانے والے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہوں اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا استاد صرف خداوند عالم ہی ہو، کوئی انسان آپ کا استاد نہ ہوتاکہ کبھی کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ پیغمبر تو میرا پڑھایا ہوا شاگرد ہے۔
دوم۔ یہ کہ کوئی شخص کبھی یہ خیال نہ کر سکے کہ فلاں آدمی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا استاد تھا تو شاید وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے زیادہ علم والا ہو گا۔
سوم۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بارے میں کوئی یہ وہم بھی نہ کر سکے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم چونکہ پڑھے لکھے آدمی تھے اس لئے انہوں نے خود ہی قرآن کی آیتوں کو اپنی طرف سے بنا کر پیش کیا ہے اور قرآن انہیں کا بنایا ہوا کلام ہے۔
چہارم۔جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ساری دنیاکو کتاب وحکمت کی تعلیم دیں تو کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ پہلی اور پرانی کتابوں کو دیکھ دیکھ کر اس قسم کی انمول اور انقلاب آفریں تعلیمات دنیا کے سامنے پیش کررہے ہیں۔
پنجم۔ اگرحضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا کوئی استاد ہوتا تو آپ کو اس کی تعظیم کرنی پڑتی،حالانکہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو خالق کائنات نے اسلئے پیدا فرمایا تھا کہ سارا عالم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی تعظیم کرے، اس لئے حضرت حق جل شانہ نے اس کو گوارا نہیں فرمایا کہ میرا محبوب کسی کے آگے زانوئے تلمذ تہ کرے اور کوئی اس کا استادہو۔(واللہ تعالیٰ اعلم)


 

تازہ ترین خبریں