07:28 am
 چناب اور جموں سے مسلم آبادی کا صفایا کیاگیا

 چناب اور جموں سے مسلم آبادی کا صفایا کیاگیا

07:28 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 مہاجن کو لارڈ موئونٹ بیٹن اور کانگریس ہائی کمان تک رسائی حاصل تھی۔ مہاجن نے اپنی کتاب’’Back  Looking‘‘ میںتحریر کیا ہے کہ مہارانی نے ان کے ساتھ لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میںمشاورت کی۔ وہ اپنے علیل بیٹے کرن سنگھ کے علاج کے لئے لاہور آئی ہوئی تھی جو ایک بہانہ تھا۔ بعد ازاں مہر چند مہاجن کو چیف جسٹس آف انڈیا بنایا گیا۔
6 نومبر کو دنیا بھر میں کشمیری یوم شہدائے جموں اسی وجہ سے مناتے ہیں تاکہ جموں خطے کے مسلمانوں کی اسلام، پاکستان اور تحریک آزادی کے لئے جانوں، مالوں اور عزتوں کی قربانیاں یاد رکھی جائیں اور شہداء کے خون کے ساتھ سودا بازی نہ کی جائے۔73سال گزرنے کے باوجود جموں کے ہندو دہشت گردوں کی ذہنیت نہیں بدلی ہے۔ امر ناتھ شرائن بورڈ کے خلاف تحریک کے ردعمل میں جموں کے انتہا پسند  ہندوئوں کی طرف سے وادی کشمیر کی اقتصادی ناکہ بندی کی گئی۔ آج بھی لاک ڈائون اور کرفیو، پابندیوں کے دوران بھارتی فورسز کشمیریوں کو اقتصادی طور پر بدحال کرنے کے لئے کھیت اور کھلیان جلا رہے ہیں۔میوہ باغات کو تباہ کیا گیا ہے۔ تقریباً ایک کھرب روپے سے زیادہ کے میوہ جات درختوں پر سڑ رہے ہیں۔ وادی کے مسلمانوں نے ہندوئوں کا ہمیشہ احترام کیا۔ مسلمانوں کی نسل کشی کے واقعات کے باوجود وادی میںہندوئوں کے خلاف کوئی ایک بھی واقعہ رونما نہیںہوا۔ کشمیری مسلمان صرف اپنے حقوق کے لئے برسرپیکار ہیں جبکہ ہندو انتہا پسند جب بھی موقع ملے مسلمانوں کو تکالیف پہنچانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ آج بھی ویلج دیفنس کمیٹیوں میں شامل ہندو انتہا پسند چن چن کر مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔پنچ اور سرپنچ مقامی مسائل کی جانب متوجہ ہونے کے بجائے بھارتی فورسز کے آلہ کار بن رہے ہیں۔بھارتی فوج اس سلسلے میں تاریخ کا بدترین کردار ادا کر رہی ہے۔وہ کرگل جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے بھارتی فوجیوں کے لئے تابوتوں کی خریداری کے سودے میں بھی کرپشن کرنے سے گریز نہیں کرتی جبکہ بو فورس توپوں کے سودوں میں اربوں کے سکینڈل فوج کے لئے بدنامی کا باعث بن چکے ہیں۔یہی فوج کشمیر میں فرضی جھڑپوں میں شہریوں کو شہید کر کے ترقیاں اور تمغے پاتی ہے ۔ بارودی سرنگیں نصب کر کے ان کی برآمدگی کے نام پر ترقیاں اور میڈلز وصول کرنے کے سکینڈلز بھی منظر عام پر آ رہے ہیں۔کئی علاقوں  میں بھی میزائل اور مارٹر گولے داغنے کے بعد بارودی دھماکوں سے مکانوں کو زمین بوس کیا گیا۔ بھارتی فوج کی نصب بارودی سرنگیں پھٹنے سے کئی کشمیری شہید اور زخمی ہوئے۔
وادی میں  نہتے اور معصوم وپرامن مظاہرین پر پیلٹ گن، ٹیئر گیس شیلنگ، زہریلی گیسوں اور تباہی پھیلانے والے اسلحہ کا  استعمال ہو رہا ہے۔اس قتل عام کے خلاف وادی چناب اور پیر پنچال سمیت کرگل کے عوام نے بھی ہڑتال کیں۔ احتجاجی مظاہرے کئے۔ اس طرح انہوں نے بھی یک جہتی کا بھر پور اظہار کیا۔بھارت نے  انتقام کے طور پرہزاروں افراد کو جیلوں میں ڈال دیا ۔جن میں مقبوضہ ریاست کے تین سابق وزرائے اعلیٰ بھی شامل ہیں۔ شہداء کے نام پر سیاست چمکانے کا وقت گزر چکا۔ یہ مکار اور ایمان فروش لوگوں کا وطیرہ تھا۔شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ اُن کی قربانیوں کو یاد رکھنا اور مشن کو پورا کرنے کے لئے جدید اور سائنسی تقاضوں کے مطابق عملی جدوجہدکرنا ہے۔ جموں ڈویژن کے 10اضلاع ہیں۔شہدائے جموں کا مشن تقسیم کشمیر یا چناب فارمولے پر عمل درآمد نہیں بلکہ اسلام کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت، کشمیر کی مکمل آزادی تھا۔یہ دین کا رشتہ ہے۔
 1947ء کومسلمانوں کی نسل کشی اور انخلاء کے باوجود ضلع ڈوڈہ ، کشتواڑ ، پونچھ اور راجوری میں80فیصد مسلم آبادی ہے جبکہ ریاسی ، ادھمپور، کٹھوعہ اور جموں اضلاع میں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔بھارت نے کشمیر کو تقسیم کیا ۔اس کا خصوصی درجہ ختم کیا۔ اب مقبوضہ ریاست میں بھارتی مکمل عمل داری اور زمین جائیدادوں پر بھارتی شہریوں کے قبضے شروع ہو چکے ہیں۔  1947کی طرح مسلمانوں کی ایک بار پھر نسل کشی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔آج جموں وکشمیر کو ایک الگ بھارتی علاقہ اور لداخ کو بھی دہلی کا زیر انتظام علاقہ بنادیا گیا ہے۔دوسری طرف جموں خطے سے ہجرت کرنے والے پاکستان میں کراچی سے کوہالہ تک لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں۔انہیں دوہری شہریت حاصل ہے۔آزاد کشمیر اسمبلی میںمہاجرین جموں مقیم پاکستان کے لئے 6نشستیں مختص ہیں۔ نئی نسل اپنے آباء و اجداد کی قربانیوں سے بے خبر اور لاتعلق نہیں ہو سکتی ہے۔وہ اپنی روایا ت اور  ثقافت کو دم توڑتا ہو ا نہیں دیکھ سکتی۔ایک دوسرے سے تعلق اور تعاون کے فروغ کا تصور رفتہ رفتہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔تقسیم کشمیر کی بھارتی سوچ گمراہ کن ہے ۔ شہدائے جموں کے مشن کا تقاضا ہے کہ کشمیری جسد واحد بن کر لسانی،علاقائی اور برادری ازم  یا ادھر ہم ادھر تم جیسے فتنوںسے بچتے ہوئے شہداء کے مشن کو پورا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔کیا آپ جانتے ہیں شہداء کے بچے کس حال میں ہیں؟ آزاد کشمیر کی حکومت اب بھی عبوری حکومت ہے۔ اس کا آئین عبوری ہے۔ یہاں کے صدر، وزیر اعظم، سیاستدانوں،  بیوروکریسی  پوری ریاست جموں و کشمیر کو اپنا حلقہ سمجھنا چاہیئے۔سیاستدان صرف جنگ بندی لائن پار کرنے کی کاغذی دھمکیاںدیتے ہیں۔ عملی طور پر بیس کیمپ کا کردار بلند ہے  کہ سب ایک ہو کر جنگ بندی لائن کی طرف مارچ کریں۔ اسلام آباد میں دنیا کے سفارتی مشنز کو صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔ بھارت کی نام نہاد سرجیکل سٹرائیکس اور آزاد کشمیر پر جارحیت کی بڑھکوں اور دعوئو ں کے تناظر میں آزاد کشمیر کی آبادی کو جنگی تربیت اور اسلحہ دینے پر غور کیا جائے ۔تعلیمی نصاب اسی تناظر میں ترتیب دیا جائے۔ شہداء کی قربانیوں نے رنگ ضرور لانا ہے۔ ان شاء اللہ۔ تحریک مزاحمت بھی نئے اپروچ کا تقاضا کر رہی ہے۔

تازہ ترین خبریں