07:30 am
عید میلاد النبی  ﷺ

عید میلاد النبی  ﷺ

07:30 am

معاشرتی زندگی میں انصاف سے محرومی سے فتنہ و فساد پیدا  ہوتا ہے اور فتنہ وفساد کی کیفیت لوگوں کے جذبات اورتعصبات کو مسلسل ابھارتی رہتی ہے۔جبر کے ذریعے لوگوں کو وقتی طور پر خاموش رکھا جا سکتا ہے لیکن جبر کی خاموشی پھر بغاوت کا طوفان بن کر نمایاں ہوتی ہے۔انسانی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وہ فانی نہیں ہے ۔انسانی وجود کو ،انسانی ذات کو موت کے بعدبھی باقی رہنا ہے انسان کیلئے آنے والی زندگی ناگزیر ہے اور اس آنے والی دائمی زندگی میں کامیابی یا ناکامی کی بنیاد اس دنیامیں ایمانی شعور کے تحت اختیاری عمل ہوں گے۔آخرت پر ایمان انسان میں خود احتسابی کی صفت پیدا کرتا ہے ۔انسانی معاشرت کے تعمیری اور تخریبی دونوں پہلو نسلوں، علاقوں  یا ملکوں تک محدود نہیں رہتے۔
گزشتہ چودہ سو برسوں میں عالمگیر سطح پر جتنی بھی مثبت تبدیلیاں ہوئی ہیں‘انسانی حقوق کا جتنا شعور بھی بیدار ہوا ہے ‘قوموں کو اعلیٰ انسانی اقدار کے مطابق اپنا نظام مرتب کرنے پر راغب کرنے کیلئے بین الاقوامی تنظیموں کے قیام کی جو کوششیں بھی ہوئی ہیں ‘ ان ساری کوششوں کاحقیقی محور مرکز سرکاردو عالم ﷺکا دور سعادت آثار ہی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ توحید پرایمان سازی نسل انسانی کیلئے خیروفلاح کی راہیں کشادہ کرتا ہے۔
یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدیٰ کا  
کہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کا
لیکن نسل انسانی کی وحدت اور اس کی فلاح و خیر کی راہ میں رکاوٹیں بھی مسلسل آتی رہتی ہیں  اور حق و باطل اور خیروشر کے درمیان یہ آویزش انسانی معاشرے کی امتیازی صفت ہے چنانچہ امن و انصاف کی فضا کو فتنہ و فساد پیدا کرنے والی طاقتیں برابر مکدر کرتی رہتی ہیں اور طرفہ تماشہ یہ کہ فساد پھیلانے والے بھی یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اصلاح کرنے والے ہیں ۔فتنہ و فساد کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں ۔قرآن پاک میں فتنہ پردازی کو انسانی قتل سے بھی زیادہ بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔فرعون کو مفسد کہا گیا ہے اورفساد کی شدت کو انسانی بد اعمالیوں کا نتیجہ بتایا گیا ہے ۔تاریخ قوموں کا حافظہ اور واقعات کی ریاضی ہے۔تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے اور اس طرح ہم پر یہ حقیقت واضح ہو تی رہتی ہے کہ اللہ کا قانون بدلا نہیں کرتا۔حیات و کائنات کا نظام انسانی معاشرے کے مختلف اجزاء پر مشتمل ہے ‘ان میں منقسم نہیں ہے‘ہم نے عملًااسے منقسم کردیا ہے ۔
عبادات الگ‘ معاملات زندگی الگ اور ہم اس ارشادِ قرآنی کو بھول جاتے ہیں  کہ ایک سے زیادہ اللہ ہوں گے تو فساد ہوگا۔ ہمارے ہادی برحقﷺنے خطبہ حجتہ الوداع میں ہم اہل ایمان پر یہ ذمہ داری ڈالی تھی کہ جو وہاں موجود تھے وہ اس پیغام کو ان لوگوں تک پہنچائیں جو وہاں موجود نہیں تھے۔یہ ایک عالمگیر ذمہ داری تھی ۔اس کے ساتھ قرآنِ کریم نے ہم پر اجتماعی طور پر ’’خیر امت‘‘اور ’’امتِ وسط‘‘ہونے کی ذمہ داری بھی ڈالی ہے۔قرآن کریم کی سورۃ انفال میں ارشاد ہوا ہے’’حق کی منکر قوتیں ایک دوسرے کا ساتھ دعوت دیتی ہیں ‘ تم اگر ایسا نہیں کرو گے تو بڑا فساد برپا ہو جائے گا۔‘‘علام اقبالؒ نے امت مسلمہ کو یہی ذمہ داری یاد دلائی ہے ۔
دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ہے ابھارا
اللہ کو  پامردیٔ  مومن  پر  بھروسہ
ا بلیس  کو یورپ  کی مشینوں  پر بھروسہ   
تقدیرِ امم  کیا  ہے کوئی کہہ نہیں سکتا
مومن کی  فراست ہو  تو کافی ہے اشارہ 
ایمان کی توانائی فرد میں اور قوم میں ‘دونوں میں خود احتسابی کی صفت پیدا کرتی ہے ۔ہم اس صفت سے ایک طویل عرصے سے عالمگیر سطح پر محروم ہیں اور اس محرومی نے ہمیں اس توانائی سے بھی محروم کردیا ہے جسے اقبالؒ نے مومن کی فراست کی اصطلاح سے تعبیر کیا ہے اس کے باوجود عالمی سطح پر امن و انصاف کے قیام کیلئے ہمارا ملی کردار کلیدی اہمیت رکھتا ہے ۔جب تک وہ کردار ادا کرنے کے قابل نہیں ہوں گے ‘عالمگیر سطح پر امن و انصاف قائم نہیں ہو سکتااور اپنی اس بے بسی کیلئے ہم اللہ کے حضور جوابدہ بھی ہو نگے اور اس کردار کی ادائیگی کی راہ جذبہ حب رسول ﷺسے ہی منور ہو سکتی ہے  کیونکہ حضور اکرمﷺ کی ذات ہی حاصلِ حیات و کائنات ہے ۔
ہو نہ یہ  پھول تو بلبل  کا ترنم  بھی  نہ ہو
چمن دہر میں  کلیوں کا تبسم  بھی نہ ہو
نہ یہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو
بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو تم بھی نہ ہو
خیمہ افلاک کا  استادہ اسی  نام سے ہے
بزمِ ہستی  تپش آمادۂ اسی نام سے ہے 
رہے نام میرے رب کا جس نے میرے نبیﷺ کو سب جہانوں کیلئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا!

تازہ ترین خبریں