07:31 am
ہم حکومت کے ساتھ ہیں: پاک فوج

ہم حکومت کے ساتھ ہیں: پاک فوج

07:31 am

٭پاک فوج کی طرف سے حکومت کا ساتھ دینے کا تیسرا بیانیہO آزادی مارچ، موسم کی شدت تین جاں بحق، جمعرات کو بھی شدید بارش اور سردیO کرتارپورراہداری کل کھلے گیO پاکستان و بھارت پر سموگ کا حملہ، لاہور میں سکول، دہلی میں سکول، ہوائی اڈے بند، بھارت کے 22 شہر زد میںO لاہور: ٹماٹر 160 روپے، ادرک 400 روپے کلوO آزادی مارچ، تین ہزار خیمے، 14 ہزار چھتریاں تقسیم، دھرنا جاری رہے گاOتمام بیمار قیدیوں کو نوازشریف جیسا ریلیف دیا جائے، لاہور ہائی کورٹ۔
٭چند روز کے اندر پاک فوج کی طرف سے تیسری بار ایک موقف دہرایا گیا ہے کہ فوج غیر سیاسی اور جانبدار رہتی ہے۔ آئین کے مطابق وہ ہر حکومت کا ساتھ دینے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ وہ اپنا فرض ادا کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک انٹرویو میں یاد دلایا ہے کہ عمران خان کے دھرنے کے دوران بھی فوج نے حکومت کا ساتھ دیا تھا۔ فوج کے ترجمان کو بار بار یہ یاد دلانے کی ضرورت پڑ رہی ہے کہ وہ آئین کی پابند، غیر سیاسی ادارہ ہے۔ آج بلاول شائستگی کی ساری حدود پھلانگ کر اپنے سے ڈھائی گنا زیادہ عمر کے وزیراعظم کو فوج کی کٹھ پتلی قرار دے رہا تھا۔ ہوش و حواس سے بے خبر یہ نوجوان ذرا تاریخ پڑھ کر دیکھے (کیسے پڑھے! وہ تو اُردو سندھی لکھ پڑھ ہی نہیں سکتا!) سنو بلاول! تمہارے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے زندگی کا آغاز مارشل لا کی وزارت سے کیا، خود چیف مارشل لاایڈمنسٹریٹر بن کر صدر اور پھر وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا۔ روزانہ ٹیلی ویژن پر ڈھاکہ میں ہتھیار ڈالنے کی تصاویر دکھا کر فوج کو ہر ممکن حد تک رسوا کیا۔ پھر 22 مارچ 1972ء کو ایک فوجی جرنیل گل حسن کو پورا جرنیل بنائے بغیر، محض لیفٹیننٹ جنرل کے طور پر فوج کا چیف بنادیا اور کہا کہ گل حسن فائن سولجر ہے۔ اس نے بھٹو کی فوج دشمن پالیسیوں پر اعتراض کیا تو اسے استعفا دینے کا حکم دے دیا۔ اس نے استعفا نہیں دیا تو صرف ڈیڑھ ماہ بعد بھٹو کے حکم پر جنرل گل حسن کو وزیراعظم ہائوس میں بلایا گیا۔ وہاں اسے ملک غلام مصطفیٰ اور ایک دوسرے وزیر (نام بھول رہا ہوں) کے حوالے کیا گیا۔ دونوں جنرل گل حسن کو ایک پرائیویٹ گاڑی میں بند کر کے لاہور کے گورنر ہائوس میں لے گئے۔ وہاں غلام مصطفیٰ ٰکھر نے پستول نکالا، اور گل حسن کی کنپٹی پر رکھ کر اس سے فوج کی سربراہی سے استعفے پر دستخط کرا لئے۔! دنیا بھر میں کبھی کسی فوجی چیف کے ساتھ ایسا ذلت آمیز سلوک نہیں کیا گیا۔ فوج نے اس سلوک کو برداشت کر لیا۔ اس کی مجبوری تھی۔ مشرقی پاکستان میں شکست اور ہتھیارڈالنے کے بعد وہ عوام کے سخت ردعمل کی زد میں تھی۔ اور پھر یہ ہوا کہ جنرل گل حسن کے استعفے کے ساتھ ہی 3 مارچ کو نہائت نیاز مند جرنیل ٹکا خان کو فوج کا سربراہ بنا دیا گیا۔ وہ یکم مارچ 1976ء تک چیف آف سٹاف رہے۔ اس دوران ذوالفقار علی بھٹو کے ہر حکم کی اس طرح تعمیل کی کہ اپنے خلاف اپوزیشن کی تحریک پر لاہور میں مارشل لا لگا دیا (فوج نے عوام پر گولی چلانے سے انکار کر دیا)۔ لاہور والی تحریک ملک بھر میں پھیل گئی تو اس پر بے پناہ تشدد کیا گیا۔ جیلیں مخالفین سے بھر گئیں، ملک قاسم کو الٹا لٹا کر ان پر لوگ اس طرح کودے کہ ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی! جماعت اسلامی کے امیر میاں محمد طفیل کے ساتھ طوائفوں کے ذریعے جو شرم ناک سلوک کیا گیا تہذیب اسے بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتی! اسی دوران چودھری ظہور الٰہی پر بھینس چوری کا مقدمہ درج کر کے انہیں کوہلو بھیج دیا گیا اور گورنر بگٹی کو انہیں ختم کرنے کا حکم دے دیا مگر نواب بگٹی نے انکار کر دیا۔ ایک آخری بات! بلاول! یہ جو تم بار بار اپنی والدہ محترمہ کا ایک جملہ دہراتے رہتے ہو کہ ’’جمہوریت بہترین انتقام ہے‘‘ اس کا ایک’’ ثبوت‘‘ یہ ہے کہ بھٹو نے اپنے چھ سالہ دور میں ملک میںڈیفنس آف پاکستان رولز کے تحت مسلسل ایمر جنسی لگائے رکھی اوار بلدیات کے انتخابات نہیں ہونے دیئے۔ مگر پھر بعد میں نوازشریف نے وزیراعظم کے طور پر کیا کیا! فوج کے سربراہ جنرل جہانگیر کرامت سے استعفا لیا، جنرل پرویز مشرف کو برطرف کیا، جنرل وحید کاکڑ سے دشمنی مول لی، صدر اسحاق خاں کو صدارت سے نکلوایا اور سپریم کورٹ پر حملہ کرا دیا! اور اسی عرصہ میں جنرل آصف نواز کی پراسرار موت ہوئی۔ خاندان والے اب تک اسے قتل قرار دے رہے ہیںاور برخوردار! تمہارے والد نے بھوربن میں صدر کی حیثیت سے قرآن مجید کے سامنے اعلیٰ عدلیہ کے 60 معطل ججوں کو بحال کرنے کا نوازشریف سے معاہدہ کیا۔ اگلے روز کہا کہ وعدے اور معاہدے قرآن حدیث نہیں ہوتے۔ اور جب جنرل کیانی نے ہاتھ میں ڈنڈا لے کر دربار وزیراعظم ہائوس کے پھیرے لگائے تو سارے جج ایک ہی رات میںبحال ہو گئے اور پیپلزپارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی اور ساتھیوں نے(ن لیگ نے بھی) وزیراعظم اور وزرا کے عہدوں کے لئے ’’جمہوریت نواز‘‘ جنرل مشرف کے سامنے نہائت عاجزانہ انداز میں اس کی وفاداری کے حلف اٹھائے تھے؟ میں تھک رہا ہوں ان باتوں سے کچھ دوسری باتیں!
٭اسلام آباد میں پھر تیز بارش اور شدید سرد ہوائیں! آزادی مارچ کے تین شریک بیمار افراد انتقال کر گئے۔ اِنا للہ و اِنا الیہ راجعون! ان خاک نشینوں کا خون کس کے ذمے جائے گا۔ گزشتہ روز کی بارش اور سردی سے بے شمار شرکاء دمہ انفلوئنزااور نمونیہ وغیرہ جیسے امراض میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ پہلے ہی روز90 افراد ہسپتال پہنچ گئے تھے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہاکہ چند مفاد پرست حکمرانوں اور اپوزیشن والوں کا یہ چھون چھپائی کا کھیل کس انجام کو پہنچے گا؟ ایک اطلاع کے مطابق آزادی مارچ کے فنڈز سے فوری طور پر تین ہزار خیمے اور 14 ہزار چھتریاں دھرنا گاہ پر پہنچا دی گئی ہیں۔ طوفانی بارشوں اور تیز سرد ہوائوں کو یہ چھتریاں کیسے روک سکیں گی۔ (کروڑوں اربوں کے یہ اخراجات کہاں سے آ رہے ہیں) سیاسی بزر جمہروں کو ان غریب افراد کی زندگیاں دائو پر لگا دینے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ لوگ بے روزگاری اور بھوک سے بھی تو مر رہے ہیں، ان کی اہمیت کیا ہے۔
٭ایک اہم خبر: لاہور کی فضا میں ’سموگ‘ پھیل جانے کے باعث خطرناک صورت حال پیدا ہو گئی ہے ۔ جمعرات کے روز شہر کے سارے سکول بند کر دیئے گئے، ایک وزیر نے سموگ کا الزام بھارت پر لگا دیا ہے کہ اس کے کسانوں نے چاول کی خشک فصلیں جلا کر دھواں پاکستان بھیج دیا ہے۔ اس وزیرکو کسی نے نہیں بتایا کہ بھارت تو خود اس انتہائی خطرناک فضا میں بری طرح مبتلا ہو چکا ہے۔ اس کے شمالی حصے کے 22 (دنیا بھر کے 30 شہروں میں سے)اہم شہروں پر یہ گہری زرد فضا اس طرح چھا گئی ہے کہ دہلی سمیت متعدد شہروں میں سکول بند کر دیئے گئے ہیں۔ ایک عالمی رپورٹ میں دہلی کو دنیا بھر کا آلودہ ترین شہرقرار دیا جا چکا ہے۔ اس کے ہوائی اڈوں پر پروازیں روک دی گئی ہیں۔ پورے شہر پر کئی روز سے گہرے زرد رنگ کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ان میں گاڑیوں اور فیکٹریوں کا دھواں، ہوا میں نمی، زہریلی گیسیں اور پہلے سے موجود دھند مل کر انتہائی زہریلی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔دہلی پر یہ زہریلی فضا کئی روز سے پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سموگ ماپنے کے معیار کے مطابق 350 فیصد آلودگی تک یہ فضاقابل برداشت ہو سکتی ہے، لاہور میں 438 ہو گئی مگر دہلی میں 999 فیصد تک جا چکی ہے۔ سموگ سے آنکھیں جلنے لگتی ہیں، سانس اکھڑنے لگتا ہے اور دماغی امراض شروع ہو جاتے ہیں۔
٭ایک دلچسپ خبر: بھارت، بی جے پی بنگال کے صدر دلچسپ گوش نے ایک دلچسپ تحقیق پیش کی ہے کہ بھارت میں پیدا ہونے والی گائے کے دودھ میں سونا ہوتاہے، اس کا رنگ سنہرا ہوتا ہے۔ یہ دودھ پینے سے جسم میں بے پناہ طاقت آ جاتی ہے اور یہ کہ جو گائے بھارت سے باہرپیدا ہوتی ہے اس کے دودھ میں سونا نہیں ہوتا۔ گائے کے جو بچے باہر سے آتے ہیں، وہ عام جانور ہیں ان کا احترام ضروری نہیں۔ دلچسپ بات یہ کہی کہ بھارت سے باہر والی گائے بھارتی گائیوں کی خالہ یا پھوپی ہوتی ہے۔

تازہ ترین خبریں