08:34 am
بھارتی ایٹمی ہتھیار‘ فوگ‘ نقشہ اور اسلام آبا د کا دھرنا

بھارتی ایٹمی ہتھیار‘ فوگ‘ نقشہ اور اسلام آبا د کا دھرنا

08:34 am

آج کی تحریر میں چند متفرق باتیں اور موضوع مختصر طور پر زیر بحث لارہا ہوں۔ پہلی بات بھارت سے وابستہ ہے کہ اس نے کشمیر کا نقشہ از خود تبدیل کر دیا ہے۔ چین نے پاکستان کی طرح بھارتی نئے نقشے کو مسترد کر دیا ہے۔ بھارت کا اتحادی امریکہ مقبوضہ کشمیر کو تاحال متنازعہ مانتا ہے۔ برطانیہ اسے تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا مانتا ہے۔ پھر بھارت کے ایک آئینی ترمیم کے خاتمے اور نئی آئینی ترمیم سے نئے کشمیری نقشہ کو کون مانے گا؟ لہٰذا یہ نیا نقشہ ہر کوئی مسترد کرے گا۔ چین بھی پاکستان بھی‘ برطانیہ بھی‘ امریکہ بھی‘ دوسری بات بھارتی فوگ ہے‘ فوگ چاول کی فصل بذریعہ مشینوں کے حاصل کرکے باقی ماندہ فضلے یعنی پرالی کو آگ سے جلا دینے کے سبب پیدا ہوتی ہے۔ لاہور اور پنجاب میں جو بھی فوگ ہے۔ اس کا اصل سبب اور راستہ بھارتی پنجاب  ہے۔ وہاں  زرعی فضلے اور چاولوں کی پرالی کو جلانے کے سبب فوگ پیدا ہو کر لاہور پاکستانی پنجاب میں چلی آتی ہے۔ سبب اس فوگ اور موسمیاتی تباہی کا صرف بھارتی پنجاب کی زراعت سے پیدا شدہ آگ اور دھواں ہے مگر سزا  اہل لاہور اور پاکستانی پنجاب کو ملتی ہے۔ کیا بین الاقوامی قوتیں‘ اقوام متحدہ اس بھارتی فوگ کا راستہ بند کرنے کی دلیری کر سکتی ہیں تاکہ پاکستانی عوام اور لاہور کے عوام فوگ اور موسمیاتی عذاب سے نجات پاسکیں۔
پاکستان نے 9نومبر کو کرتارپور کا گوروارہ کھول کر بھارتی پنجاب کے سکھوں کے لئے مذہبی آزادی اور رواداری کا عملی نمونہ  پیش کیا ہے تو کیا مشرقی بھارتی پنجاب کے سکھ اور ہندو فوگ کا خاتمہ کرنے میں عقل و شعور اور انسانی محبت کا عمل پیش کر سکتے ہیں؟
لہٰذا ’’گرین پیس‘‘ عمل کو عالمی سطح پر اٹھانے کی استدعا کرتا ہوں‘ تیسرا معاملہ انڈیا کی نکلیرانفریش کا مسئلہ ہے۔ انڈیا کے نکلیر معاملات کو آسانی سے ہیک کیا جاسکتا ہے۔ بلیک مارکیٹ میں بھارتی حساس معلومات میسر ہیں۔ ان کا غلط استعمال ہوسکتا ہے۔ یوں دونوں ممالک میں پہلے سے موجود عدم اعتماد کی فضا کا خوفناک انجام کسی ہیکر کے سبب وقوع پذیر ہوسکتا ہے۔ اس کا عالمی نکلیراتھارٹیز کو احساس کرنا ہوگا اور بھارتی ایٹمی معاملات کو عالمی ہیکرز سے بچانے کا عمل تیز کرنا ہوگا۔ ویسے بھی بھارت از خود بھی ڈرامہ کرنے کا عادی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ خود ہی یہ راستہ ہیکر کے ہاتھ میں دے دے۔ لہٰذا IAEAکو کمانڈ اور کنٹرول کے ذریعے خطرات کا تدارک فوراً کرنا چاہیے اور یقین کرنا چاہیے کہ کیا سچ مچ بھی بھارتی ایٹمی ہتھیار اور تنصیبات محفوظ ہاتھوں میں ہیں؟ خاص طور پر جبکہ بھارت سیکولر کی بجائے اب انتہا پسند ہندتوا ریاست بن گیا ہے اور بابری مسجد پر بھارتی سپریم  کورٹ کے فیصلے نے بھی ثابت کر دیا ہے کہ بھارتی جمہوریت اور بھارتی سپریم  کورٹ بھی صرف عقیدے کو آر ایس ایس جمہوریت و ریاست بناتے عمل میں شریک ہیں۔ انسانیت کا قتل کیا جارہا ہے۔سب سے آخرمیں اسلام آباد میں موجود دھرنے کے حوالے سے درخواست ہے کہ کیا ہماری عدالتیں اس ناجائز اور ناقابل فہم دھرنے میں مداخلت کر سکتی ہیں؟ جسٹس صدیقی اور جسٹس قاضی عیسیٰ کے پہلے فیصلے فیض آباد دھرنے کے حوالہ سے  موجود ہیں۔ ان کی تاحال نہ تنسیخ ہوئی ہے نہ ان میں ترمیم ہوئی ہے۔ لہٰذا یہ دونوں فیصلے قانونی طور پر موجود ہیں۔ کیا دوبارہ اعلیٰ عدالتیں‘ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ موجودہ دھرنے کے ناجائز عمل کو ختم کرنے کے لئے از خود نوٹس لیکر اسلام آباد کی انتظامیہ‘ عوام ‘ ریاستی اداروں کو محفوظ بنا سکتی ہیں؟ 
جب حکومت ناکام ہوجاتی ہے تو ریاستی اداروں کو آگے آکر الجھا ہوا مسئلہ سلجھانا بھی پڑتا ہے۔ فیض آباد دھرنے میں جب اس وقت کی حکومت ناکام  ہوگئی تھی۔ تب ہی ریاستی ادارے سے وابستہ عسکری شخصیت نے ’’صلح‘‘ کا راستہ ایجاد کیا تھا مگر جسٹس صدیقی نے اسلام آباد ہائی کورٹ اور جسٹس قاضی عیسیٰ نے سپریم کورٹ سے اس حوالے سے جو ریاستی ادارے کے حوالے سے فیصلے دئیے‘ اس کا آج فوری تقاضا ہے کہ اب سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ دونوں ہی موجودہ ناجائز دھرنے  کے حوالے سے از خود نوٹس لیکر اہل اسلام آباد کو عذاب سے نجات دلائیں۔ پھر انتظامیہ بھی دیکھے کہ افغان مہاجرین اور افغان خاندانوں کے لڑکے اور نوخیز جو عموماً غلط ہاتھوں میں کھیلتے رہتے ہیں وہ تو دھرنے کے عمل میں شریک نہیں؟ کیونکہ ایسے غیر ذمہ داروں کے حوالے سے ناخوشگوار واقعات‘ تشدد‘ ہنگامہ‘ فساد آسانی سے وقوع پذیر ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر جبکہ محمود اچکزئی جیسا کردار جو پاکستانی مفادات کی بجائے عموماً افغانستان کے سیاسی مفادات کا ترجمان و محافظ ہو جاتا ہے بھی متحرک ہے۔ ضروری ہے انتظامیہ اور ریاستی ادارے ناخوشگوار واقعات کے نمودار ہونے کو روکنے کے لئے افغان مہاجرین اور ان کی اولادوں کو صرف دھرنے میں شریک ہونے سے دور رکھیں۔ اگر وہ شریک ہیں تو تو پھر انہیں نکال باہر کریں۔
 میٹروس سروس دھرنے کے سبب بند ہے‘ شہریوں کو اس کی بندش سے شدید مشکلات ہیں۔ مگر دھرنا ختم ہوگا تو میٹرو چلے گی۔ سپریم کورٹ  یا ہائی کورٹ اس معاملے میں مداخلت فوراً کرے۔