09:14 am
پروفیسر سجاد حسین۔۔۔ا یک ہمہ گیر شخصیت 

پروفیسر سجاد حسین۔۔۔ا یک ہمہ گیر شخصیت 

09:14 am

 ابھی دو ہفتے قبل سجاد سے میری بات ہوئی گفتگو میں مجھے کچھ کمی لگ رہی تھی میں نے پوچھا۔ خیریت ہے نا ۔ طبیعت تو ٹھیک ہے ۔ بولے ہاں بس ٹھیک ہی ہوں مگر طبیعت کے مسائل شاید بڑھتے جا رہے ہیں۔ دل تو چاہ رہا تھا جائوں دو تین گھنٹے ڈاکٹر کے ساتھ بیٹھوں مگر نہ جا سکا ۔ اچانک گذشتہ جمعہ کو فون پر پیغام پڑھا کہ سجاد اپنے رب کو سدھار گئے ۔ یوں لگا جیسے دل دھڑکن بول گیا ۔ ایک ہنستا مسکراتا خوبصورت دل دار ساتھ چھوڑ گیا ۔ بے شک ہم سب کو اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے۔
سجاد حسین سے دوستی تو ابتدائے جوانی سے ہو گئی تھی اگرچہ نہ تو وہ میرے کلاس فیلو تھے اور نہ ہی میں کالج میں ا تنا سوشل تھا مگر اس دور میں گورنمنٹ کالج سرگودہا کا ماحول ادبی لحاظ سے بڑا خوشگوار تھا ۔ پروفیسر خورشید رضوی ۔ پروفیسر غلام جیلانی اصغر معروف شعراء تھے ۔ کالج میں ادبی محفلیں ہوتیں۔ اگرچہ ہم سائنس کے مضامین پڑھتے تھے مگر ادب سے لگائو کی بنا پر ہماری عقیدت مندی اور نیاز مندی دونوں اساتذہ سے تھی۔گورنمنٹ کالج میں اس دور میں حافظ محمد سعید۔ حسین احمد پراچہ ۔فاروق حسن گیلانی ان محفلوں  میں بہت سرگرم ہوا کرتے ۔ پروفیسر شفیع سرور پرنسپل اگرچہ زوالوجی کے استاد تھے مگر ادب اور لٹریچر سے ان کا بے پنا لگائو تھا۔ ایک مقامی صنعت کار کے تعاون سے انہوں نے آئوٹ ڈور آڈیٹوریم بھی بنوایا جہاں اکثرشام کو ادبی اور غیر سیاسی مکالموں کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ سجاد حسین ان محفلوں کے سرگرم رکن ہوا کرتے ۔
پھرسجاد حسین مزید پڑھائی کیلئے لاہور چلے گئے ۔ پھر میڈیکل کالج جوائن کیا ۔ ہمارا جب بھی لاہور جانا ہوتا ۔ سجاد کے ہوسٹل میں ہی قیام ہوتا۔سجاد جب میوہسپتال میں ہائوس جاب کررہے تھے تو دن رات اپنے کام میں مگن رہتے ۔ کبھی کبھی تو ہم ایک دو دن ہوسٹل کے کمرے میں گزار کر بغیر ملاقات کے ہی واپس آیا جا کرتے۔
سجاد حسین کے ساتھ میری دوستی تو تھی ہی مگر شا ید محبت کا عنصر زیادہ تھا کئی بار ایسا ہوتا ہم دونوں گھنٹوں بیٹھے مگر گفتگو کا دورانیہ شاید محض چند منٹ رہا۔1981 ء میں میں 6 ماہ کیلئے لندن گیا ایک کورس کے لیے سجاد وہاں لندن سے دو گھنٹے کی مسافت پر کوئین میری ہسپتال میں ایف سی آر ایس کی ٹریننگ/  پڑھائی کررہے تھے۔ میں کبھی مہینے میں ایک بار ویک اینڈ پر سجاد کے پاس بذریعہ ٹرین جاتا اور رات گئے تک بس ہم دونوں بیٹھے رہتے چائے اور سگریٹ اور صبح میں ٹرین سے واپس آجاتا۔ خاموشی سے بھرپور اس ملاقات کے لیے ہم دونوں ایک مہینہ انتظار کرتے۔ لیکن جب سجاد گفتگو پر آتے تو گھنٹوں بولتے ہی رہتے مختلف موضوعات پر حالات واقعات پر گفتگو۔ 
پھر 1995 ء میں میری پوسٹنگ بطور ڈی جی پی آر لاہور ہوگئی ا س تین سال کے عرصے میں سجاد سے اکثر رات گئے تک ملاقات رہتی ان کی وساطت سے کئی ڈاکٹرز سے ملاقات ہوئی اور میرے پاس تو ظاہر ہے اکثر سرکاری افسران ہی آتے یوں ہمارے دوست بنتے گئے ۔ 
میری بیوی ہمیشہ سے ان کی مداح رہی اور انہیں بڑے بھائی کی طرح احترام دیا۔ وہ بھی ہمیشہ اسے بڑے بھائیوں کی طرح پیار کرتے ۔سجاد کے بچے ہمیشہ میری بیوی کو پھپھو کہہ کر بلاتے ۔ میرے دونوں بیٹوں اوربیٹی سے بھی انہیں بہت پیار تھا۔ چھوٹے بیٹے کو پیار سے جنرل کہہ کر بلاتے۔ پھر2007 میں سیکرٹری کے طور پر میری پوسٹنگ لاہور ہو گئی تقریبا ہر روز رات 9 یا 10 بجے آجاتے ہم اکٹھے کھانا کھاتے دیر تک گپ شپ ہوتی ۔ڈی ایچ اے میں جب انہوں نے پلاٹ خریدا تو مجھے کہا تم بھی پڑوس میں پلاٹ لے لو اکٹھے گھر بناتے ہیں۔مجھے اب اس بات کا   ہے کہ میں نے اس کی بات کیوں نہ مانی ۔ اسے جب میری ضرورت تھی میں اس کے پاس کیوں نہ تھا۔ کاش میں اس کی بات مان لیتا اور اس کے جانے سے پہلے اس کا پیار سمیٹ لیتا ۔ سجاد ! تم نے کیوں اصرار نہ کیا جب کہ تمہیں پتہ تھا کہ میں زیادہ دیر تمہاری بات نہیں ٹال سکوں گا۔ یار ! میری تو تمہارے بیٹوں کے ساتھ بھی دوستی ہے تم ہر دکھ سکھ میں میرا ساتھ دیتے رہے میں کیوں تمہیں چھوڑ کر اس شہر بے مایا اور بے وفا میں آگیا۔
لاہورمیں میرے قیام کے دوران ایک بار میرے ابا جی آئے اورکچھ عرصہ قیام کیا۔ سجاد کے پاس کبھی کلینک چلے جاتے اور کبھی سجاد ان کے پاس آجاتا اور گھنٹوں اکٹھے بیٹھے رہتے اور مجھے واپسی پرابا جی بتاتے یارسجاد آیا تھا میں نے اس کے ساتھ کھانا کھا لیا تھا ۔ تم اکیلے کھالو۔ 
سجاد ایک ہمہ گیر شخصیت تھی ۔ ایک اچھا باپ۔ ایک شفقت کرنے والا بھائی اور ایک پیارا دوست۔ وہ ایک قابل سرجن تھا ہی مگر وہ دلوں کا بھی مسیحا تھا ۔ جب وہ سروس سے ریٹائر ہوا تو اس کے چند شاگردوں نے اسے فیئر ڈیل دیا اور گفٹ میں ایک ہونڈا سوک گاڑی دی۔ا تنی بے مثال محبت اورعقیدت شاید ہی کسی کے نصیب میں ہو۔
ہسپتال میں ہوتا یا پرائیویٹ کلینک میں ا س کے لئے ہر مریض وی آئی پی ہوتا۔ سرگودہا سے آنے والے ہر شخص کے لیے اس کے دروازے کھلے ہوتے۔ پیشے کے لحاظ تو ڈاکٹر سرجن تھا مگر اس کے تعلقات بیورو کریٹس اور سیاستدانوں سے بھی بہت تھے اور ہر شخص یہی سمجھتا کہ سجاد اس کا بہترین دوست ہے اس کی سیاسی بصیرت بھی یکتا تھی جس کے معترف اس کے سیاسی دوست ہمیشہ رہے ۔ پنجتن پاک سے اس کی محبت اور عقیدت مثالی تھی۔
مجھے یقین ہے پنجتن پاک کے صدقے اللہ کے ہاں بھی اعلیٰ پذیرائی ہوگی اور وہاں بھی وہ اتنا ہی مقبول ہو گا جتنا اس دنیا میں رہا۔