06:59 am
ادیان مفاہمت کے متحدہ عرب امارات و پاکستان‘ اور ہندتوا بھارت

ادیان مفاہمت کے متحدہ عرب امارات و پاکستان‘ اور ہندتوا بھارت

06:59 am

متحدہ عرب امارات کی تاسیس2دسمبر1971ء کو ہوئی۔ اپنی تاریخ پیدائش کے اعتبار سے امارات قوس
متحدہ عرب امارات کی تاسیس2دسمبر1971ء کو ہوئی۔ اپنی تاریخ پیدائش کے اعتبار سے امارات قوس شخصیت رکھتا ہے۔ میں چونکہ خود بھی قوس شخصیت ہوں لہٰذا مارات کا قوس ہونا اور میرے وجود کا قوس ہونا دونوں میں ذہنی اور فکری اسلوب کو اجاگر کرتا رہا ہے۔ اسی سبب شاید میں نے اپنے کالموں میں امارات کو زیادہ جگہ دی اور اس خلیجی عرب یونین کا اکثر تذکرہ کیا جو مختلف چھوٹی اور مختصر ریاستوں کا خلیجی عربی گلدستہ بن کر متحدہ عرب امارات کہلاتا ہے۔ امارات کے صدر محترم الشیخ خلیفہ بن زید النھیان ہیں جبکہ وزیراعظم الشیخ محمد بن راشد المکتوم ہیں۔ تاریخ کے آئینے میں آل نھیان ابوظبیی میں فیصلہ ساز حکمران رہے ہیں اور آل مکتوم دوبئی میں حیرت اور دلچسپ امر یہ ہے کہ بانی امارات الشیخ زید النھیان نے مستقبل بینی کرتے ہوئے دور اندیشی سے جس طرح مختلف اور الگ الگ عرب  جغرافیائی موتیوں کو جمع کرکے  امارات کا عمدہ  اور خوبصورت ترین ہار دنیا کے لئے بنایا تھا اسے پوری دنیا میں عالمی پسندیدگی میسر آئی ہے۔ کہنے کو دوبئی اور ابوظبی بہت مختصر جغرافیے ہیں مگر دونوں ہی عالمی سفارت کاری و معیشت میں اہم ترین ہیں جبکہ انسان دوست رویوں کے تخلیق کار اور مربی اعظم بن کر بھی جلوہ گر ہیں۔
اگرچہ امارات کے صدر الشیخ خلیفہ بن زید النھیان ہیں تاہم ولی عہد ان کے بھائی الشیخ محمد بن زید النھیان ہیں۔ عملاً امارات کا سارا انتظام و انصرام ولی عہد ہی کے پاس ہے جس طرح سعودیہ میں شاہ سلمان آئینی بادشاہ ہیں۔ مگر طویل عمری کے سبب سعودیہ کا انتظام و انصرام عملاً ولی عہد محمد بن سلمان کے پاس ہے۔ یہی صورتحال امارات کی بھی ہے۔ 
میری دلچسپی امارات میں اس لئے بھی رہی ہے کہ اس نے برصغیر میں غیر مسلموں کے لئے وسیع المشرب جلال الدین اکبر‘ (مغل اعظم) کے انداز حکمرانی کو بھی اپنایا ہے‘ غیر مسلموں کے دل جیتنے کے لئے منفرد کاوشیں بھی کی ہیں۔ امارات میں مسیحیوں اور ہندوئوں کے لئے عبادت گاہیں بنائی گئیں ہیں اور مذہبی آزادیاں دی گئی ہیں۔ گزشتہ فروری میں مسیحی تہذیب و تمدن کے موجودہ نمائندہ پوپ فرانس امارات میں آئے تھے ان کی طرح ہی شیخ الازھر مصر سے آئے تھے۔ پوپ فرانس کے آنے سے امارات سرزمین پر موجود ہزاروں مسیحیوں کی خوشی دیدنی تھی اور پوپ کی  آمد نے امارات کو بھی موقع دیا کہ وہ دین اسلام کے عظیم انسانی روادار‘ تحمل ‘ برداشت کردار کو کھل کر اجاگر کرے۔ چنانچہ شیخ الازھر اور پوپ فرانس نے ’’آسمانی ادیان سے مفاہمت‘‘ کی یادداشت پر دستخط کئے تھے۔ اس تقریب کو امارات کی عظیم  ترین ریاست ہونے کا رتبہ حاصل ہوا تھا اماراتی حکومتی نے کھل کر اس اجتماع کی سرپرستی کی اور آسمانی ادیان میں مفاہمت کا مرحلہ عبور کرتے ہوئے تمام ادیان کو امارات میں سہولتیں‘ آزادیاں فراہم کرنے کی تاریخ مرتب کی۔یہ مفاہمت صلیبی جنگوں کے  ایک ہزار سال بعد انسانیت کے لئے  عظیم اماراتی تحفہ ہے۔ بدھ مت اور دیگر ادیان بھی فیض  یافتگان میں شامل ہیں۔
برادرم حمد عبیدالزعابی سفیر محترم کا تحمل برداشت و رواری پر مبنی عمدہ کالم حال ہی میں پڑھنے کو ملا تھا کالم میں انہوں نے امارات کے حوالے سے  جو کچھ لکھا اصلاً تو وہ عہد حاضر کی اسلامی تہذیب و تمدن کو نئے انداز اور نئے ریاستی اسلوب میں پیش کرکے عمل کا تذکرہ ہے۔ اوپر جو کچھ میں نے لکھا وہ میرے احساسات ہیں مگر دوسری طرف امارات و سعودیہ اور خلیجی ریاستیں جس طرح بھارت میں اپنا وجودی قرب‘ ریاستی تعلق‘ سرمایہ کاری‘ ذاتی طور پر وزیراعظم مودی کے لئے عرب سرگرم محبت دوستی پیش کرتی رہی ہیں جبکہ بھارت کے لاکھوں افراد عرب ریاستوں میں وافر رزق حاصل کرتے ہیں۔ بلکہ عربوں نے اکثر پاکستان کے اعتراض کو بھی نظرانداز کرکے بھارت کو بعض معاملات میں اپنے ہاں ترجیح دی ہے بلکہ کھل کر شکوہ کرنے دیجئے  کچھ عرب ریاستوں نے کشمیر کے حوالے سے بھارتی پالیسی کی بالکل غلط طور پر اور کشمیری مسلمانوں کی مظلومیت کو نظرانداز کرکے ہندتوا کے لئے فراخ دلی دی تھی۔ کیا عرب اب بھی مظلوم کشمیریوں کے لئے انسانی عدل و انصاف مودی حکومت سے مانگ سکتے ہیں۔ ایران کی طرح؟
مودی عہد کے انتہا پسند بھارت نے عربوں کو اپنا مسلمان دشمن‘ اسلام دشمن رویہ‘ چہرہ‘ وجود‘کردار بار بار پیش کیا ہے۔ باربری مسجد کا انہدام اور بھارتی سپریم کورٹ کا مسلمانوں کے جائز موقف کے دلائل کو تسلیم کرنے کے باوجود انہیں عدل و انصاف دینے کی بجائے ہندتوا پر مبنی تازہ فیصلہ عربوں  کے لئے یقینا ایسا مودی حکومت کا تحفہ ہے جو عرب بھائی شاید آسانی سے مستقبل بعید میں ہضم نہیں کر سکیں گے۔ عرب بھائی شاید گجرات کے ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کو بھی اب تک نہیں ہضم کر پائے ہوں گے جو وزیراعلیٰ گجرات مودی اور اس کے دست راست امیت شاہ نے کروایا تھا‘ عرب بھائی شائد ہزاروں سکھوں  کے قتل عام کو بھی نہ بھولے ہونگے جو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد فسادات کی صورت نمودار ہوئے تھے۔ پاکستان اور عرب امارات میں مشترکہ میراث یہ ہے کہ گوردارہ کرتار پور صاحب کو سکھوں کے لئے پاکستان نے فراخ دلی سے کھول دیا ہے۔ سکھوں کے لئے یہ مقام مسلمانوں کے لئے مدینہ منورہ کی طرح کا تصور ہوتا ہے کیونکہ بابا گرونانک کی ولادت موجودہ ننکانہ میں ہوئی۔ ننکانہ میں ہی گورونانک جی کو مسلمان زمینداروں نے مفت جائیدادیں تحفہ میں دیں اور اب  پاکستان کا ننکانہ میں گورونانک یونیورسٹی بنانا۔ گورداوارہ کرتار پور صاحب کا تحفہ دینا وہی وسیع المشرب‘ وسیع الظرف انسان دوست  مسلمان رویہ‘ ادیان مفاہمت کردار ‘ چہرہ ہے جسے عرب امارات نے سال 2019ء کو انسانیت کے لئے وقف کا نام دیا ہے۔ جناب حمد عبیدالزعابی کیا میں نے امارات‘ پاکستان و بھارت کا تقابل کرکے غلط تو نہیںکیا؟  حکومت  پاکستان بھی متروک  مندروں کو دریافت کرکے انہیں ہندوئوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔
پس تحریر: کالم اختتام پر ہے تو مجھے امارات کے اس نادر تاریخی عقل مند کردار کی یاد آئی ہے جو یمن میں شمالی یمن کے قیام کے خواہش مندوں کو اماراتی سرپرستی دیکر یمن کو متحد رکھنے کا عمل ظہور میں لایا گیا ہے۔ امارات کے سبب ہی عارضی انقلابی کونسل کے اصحاب نے ریاض میں شاہ سلمان کی زیر قیادت  یمن میں صلح و امن کے لئے معاہدہ کیا ہے میں یمن کے حوالے سے ادا کئے گئے اس  نادر اماراتی  اورعمان (مسقط)کے  مصالحانہ کرادر کی تحسین کرتا ہوں مگر ایران نے حوثیوں کے تہران میں موجود نمائندے کو یمن کا سفیر تسلیم کرکے سفارت خانہ و املاک انہیں دینے کا اعلان کیا ہے۔ایرانی اقدام کو کون قبول کرے گا؟