10:38 am
جنرل باجوہ فوج حکومت و سیاست، میزان و جدان میں 

جنرل باجوہ فوج حکومت و سیاست، میزان و جدان میں 

10:38 am

جوزا شخصیت کے مولانا فضل الرحمان کا احتجاج اور دھرنا شروع ہوا۔ کتنا خوف پیدا ہوا اس دھرنے نما سیاسی دلچسپ مولوی  جدوجہد سے؟ اگر وہ 18نومبر تک دھرنے کو باقی رکھتے تو ’’شدید ریاستی ردعمل‘‘ سے دوچار ہو جاتے کہ انہیں موافق اور حمایتی امر ربی پر مبنی نظام نجوم و افلاک12نومبر کو چھوڑ گیا تھا۔ 14تک انہیں مکمل مایوسی ملنا تھی۔ عملاً اللہ تعالیٰ کے حکم  سے نجوم و افلاک پر مرتب شدہ معاملہ ایسا ہی ہوا۔ یہ پروفیسر غنی جاوید کا موقف تھا۔
 
جنرل قمر باجوہ شخصیت عقرب (سکارپیو) پیدائش 11نومبر1960ء کی تعیناتی وزیراعظم  نواز شریف  نے مورخہ27 نومبر کو کی تھی۔ اس وقت لاہور سے روحانی بھائی نے وجدان کیفیت میں مجھ سے  کہا تھا کہ 27 سے 30 کے مابین چاند کے آخری تین دن تھے۔ نحوست وقت کے  اس حلف اور تعیناتی کے سبب انہیں مسائل‘ مشکلات‘ خطرات کا سامنا  تھا۔ مشاہدہ ہے اگر ذکر الٰہی موجود ہو۔ روحانی  و ایمانی صبرو عزیمت و قوت ارادی بھی میسر اگر ہو تو عقرب کیا ہر کوئی اکثر مشکلات  پر بالآخر قابو پالیا کرتا ہے جس پر جنرل قمر باجوہ گزشتہ تین سال میں قابو پا کر اکثر کامیاب ہوتے رہے تھے جبکہ روحانی اور ایمانی قوت ہی ’’اصل‘‘ وہ قوت ہے جو نجوم و افلاک پر مبنی نظام کائنات کو بھی غیر موثر کر دیتی ہے جس طرح صبح و شام کی مسنون  دعائیں جادوٹونہ و نظر بد‘ حسد و بغض سے محفوظ کرتی رہتی ہیں۔ لہٰذا مشاہدے میں ہے کہ ’’تقدیر‘‘ جو تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ انسانی سعی و کوشش اور تدبیر سے اور وہ تقدیر بھی جو ’’مبرم‘‘ ہوتی ہے اس پر بھی ایمانی و روحانی قوت جو صرف رسول اللہﷺ سے مروی مسنون وظائف اور دعائیں ہیں بالآخر قابو پالیتی ہیں یا ان سے حکمت و دانائی‘ عقل و شعور کے نئے تدبیراتی دریچے کھل جاتے ہیں۔ 
سیکولر طور پر محض نجوم کا ماہر ہونا ہرگز مسائل کا حقیقی حل سامنے نہیں لاتا۔ نجوم و افلاک نظام پر مبنی علوم تو محض رہنمائی دیتے ہیں کہ مسئلے کی تدبیر کرو‘ علاج کرو‘ مقابلہ کرو اور یہ سب صلاحیتیں تو اللہ تعالیٰ نے ہی انسان میں ودیعت کی ہوئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انسان پر اس کی صلاحیتوں اور طاقت سے زیادہ ابتلاء‘ امتحان‘ بوجھ ہرگز نہیں ڈالتے ہیں۔ قرآنی اسلوب فکر پارہ (1) سورہ البقرہ کی آخری آیت نمبر286میں بھی موجود ہے۔  نومبر کے پہلے ہفتے میں پروفیسر غنی جاوید  کی مجھ سے کہی ہوئی بات کی طرف اب آتے ہیں کہ  سکارپیو جنرل باجوہ کو 18نومبر سے سخت مقابلے کی صورت کا سامنا ہونا تھا کہ مریخ ان کے مدمقابل آیا ہوا ہے اور ابھی مریخ  نے کچھ مدت تک مخالفت میں مزید موجود رہنا ہے۔ مریخ کی مخالفت نے ہی انہیں چیلنج اور مقابلے بلکہ قدم قدم پر امتحان سے دوچار کیا ہوا ہے۔ قومی مدبر قوسی شخصیت چیف جسٹس سعید کھوسہ نے ان کی نئی تعیناتی اور توسیع کے حوالے سے جو کچھ کیا وہ  25نومبر کو مریخ کی پوزیشن کے سبب تھا۔ لہٰذا25 سے 26کے درمیان لازماً اہم واقعہ رونما ہونا تھا جو جنرل باجوہ کی نئی تعیناتی کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک درخواست کے سبب پیدا ہوا۔  حالات نے  حاکمانہ انداز میں جنرل باجوہ‘ فوج پوری حکومت اور بلکہ پورے ملک کو ہیجانی کیفیت سے دوچار کئے رکھا۔ مارشل لاء‘ لگتا لگتا الحمدللہ رک گیا ہے ۔ یہ سب کچھ جارحانہ رویہ طلوع شدہ مریخ کے سبب ہوا ہے۔ 25 نومبر کو پیدا شدہ معاملے کا حل لازماً 28نومبر۔ یکم ربیع الثانی ہلال کے ذریعے سامنے آنا تھا جوکہ آچکا ہے۔
اگر میں لاہور میں مقیم روحانی بھائی کے موقف کا جائزو لوں تو اس مرتبہ بھی جو مسائل پیدا ہوے جنرل باجوہ کی موجودہ تعیناتی کے حوالے سے وہ  ان دنوں ہی ہوئے تھے جن تین دنوں میں چاند گھوڈا مار گیا تھا۔ یعنی چاند عملاً بہت کمزور تھا۔ ان دنو ںمیں چاند کی جو قوت اللہ تعالیٰ کے امرسے انسان کو میسر ہوتی ہے وہ تو بہت کمزور بلکہ معدوم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا پہلی تعیناتی اور حلف کے بعد اب نیا مسئلہ اور وفاقی کابینہ کا بار بار ان کی تعیناتی کی سمری تیار کرنا، اس میں غلطی ہوتے جانا ، سپریم ورٹ کا شدید ردعمل، یہ سب بھی ربیع الاول کے چاند کے آخری دنوں کے سبب ہوا کیونکہ چاند ان تین کمزور ترین دنوں میں تھا اور وہ جنرل باجوہ کی مطلوب مدد نہیں کررہا تھا اگر مدد تھی تو بہت کمزور تھی۔ ربیع الثانی کا نیاچاند28 نومبر کو پوری قوت سے بطول ہلال طلوع  ہوا تو سپریم کورٹ سے مسئلہ حل ہوکر چھ ماہ کی تعیناتی ہوگئی۔
اب پروفیسرغنی ماہر نجوم کے نئے موقف کی طرف آتے ہیں۔ جو مسئلہ25 کو پیدا ہوا،26 کو اس نے پورے ملک، فوج اور جنرل باجوہ، وفاقی حکومت کو سخت گرفت میںلے لیا تھا۔ اگرچہ28 نومبر کو جزوی طور پر مسئلہ تو حل ہوگیا مگر اس  کا ردعمل فوج اور جنرل باجوہ کی طرف سے جنوری اور مارچ2020 میں سامنے آسکتا ہے۔ یاد رہے11 اگست1947 ء کی وجہ سے فوج کا اہم کردا رہمیشہ موجود رہے گا۔
دسمبر، جنوری اور مارچ2020 میں کیا ردعمل ہوسکتا ہے؟ اسلام آباد میںمقیم پروفیسر غنی جاوید اور میرے لاہور میں مقیم روحانی بھائی کافی مدت سے دسمبر و جنوری میں ’’نظام‘‘ کی تبدیلی کی بات کہتے رہے ہیں۔ موجودہ پارلیمانی جمہوریت پر مبنی نظام سیاست و اقتدار تو اب دو ٹوک ناکام ہوگیا  ہے اکیلی کوئی بھی پارٹی تعمیری اور مثبت تخلیق اقتدار نہیں کرسکتی۔
وزیراعظم عمران خان پیدائش 5اکتوبر 1952 ء (لبرا) کا حلف جب ہوا تو وہ وقت بھی کافی منحوس تھا۔ لہٰذا حلف کے وقت بھی وہ غلطیاں کرتے رہے بلکہ اب بھی  اکثر  غلطیاں کرتے ہیں۔ میری ذاتی رائے میں جو محترمہ بشریٰ مانیکا کے خلاف باتیں لکھتے اور کرتے ہیں بلکہ ان کی روحانیت کا مذاق اڑاتے ہیں وہ بالکل غلط کرتے ہیں۔ علمائے نجوم کے مطابق تو عمران خان کو ریحام کے ہوتے ہوئے اور ریحام کے چلے جانے کے بعد بھی اقتدار ملنا مشکل ترین معاملہ تھا مگر جونہی بیگم بشریٰ مانیکا ان کی زندگی میں آئی تو یہ عمل دونوں نئے میاں بیوی کی زندگی میں ’’نئی‘ جہت لیکر آیا ہے عمران خان کا اقتدار اگرچہ نومبر میں تو بچ گیا ہے مگر اس کو متوقع جنوری2020 میں پھر شدید خطرہ ہوسکتا ہے۔ جنوری میں ہی جنرل باجوہ اور فوج کا نیا طاقتور ترین اسلوب اور رویہ سامنے آنے کی نجوم میزان میں  ممکن ہوسکتا ہے۔  یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پاک بھارت جنگ کا کوئی واقعہ جنوری میں ہو جائے مگر تب بھی عمران خان کا اقتدار جنوری میں پھر سے چیلنج ہوسکتا ہے۔ اگر تو نظام حکومت تبدیل ہوسکتا ہے تو ممکن ہے کہ صدارتی نظام واپس لوٹ آئے مگر جس وقت صدر محترم عارف علوی نے حلف لیا تھا  وہ وقت ان کے رتبے، عہدے، شخصیت کے لئے تو بہت ’’سعد‘‘ تھا۔ لہٰذا ان کے منصب کو شاید اتناخطرہ  نہیں ہوگا جتنا خطرہ عمران خان کے اقتدار، موجودہ حکومت اور موجودہ قومی اسمبلی کو ممکن دکھائی دیتا ہے۔
اگر تو ’’امر ربی‘‘ کے سبب سچ مچ نظام حکومت تبدیل ہو رہا ہو تو قومی اسمبلی، سینٹ، صوبائی اسمبلیوں میں مرد و خواتین ٹیکنو کریٹس، سیکولر و مذہبی علماء ، دانشوروں، مجہتدین، مفکرین کو تمام پارٹیوں کی طرف سے لایا جانا چاہیے۔ اسباب د نیا اور مال و دولت سے محروم یہ عظیم شخصیات ریاست، عوام اور حکومت و اقتدار کے لئے بہت زیادہ مفید ثابت ہوں گے۔ خواتین نشستوں کو بہت زیادہ کم کر دیناچاہیے۔
 نواز شریف کی بیماری بقول پروفیسر غنی بہت سنجیدہ ہے بالکل اس طرح جیسے محمد خان جونیجو کی بیماری انتہائی سنجیدہ معاملہ تھا۔ امکانی طور پر نواز شریف کو ا ن کے قریب ساتھی دسمبر، جنوری میں چھوڑ جائیں گے۔ مریم نواز شریف کو شدید ترین اپنوں کی بھی مخالفت کا سامنا رہے گا۔ شہبا ز شریف کو جنوری میں بہت بڑی رکاوٹ کا پھر سے نیا سامنا ہوگا۔ شریف خاندان سے اقتدار بہت دور چلا گیا ہے۔ لہٰذا نئے اقتدار کے لئے تو نئی مسلم لیگ بنانا پڑے گی۔ واللہ اعلم بالصواب۔
اوپر میں نے ذکر کیا ہے کہ  14اگست 1947ء کو یعنی لیلۃ القدر کو جب تاسیس پاکستان ہوئی تھی تو امرربی سے ہی ریاستی امور میں فوج کا ’’موثر کردار‘‘ بھی ساتھ ہی تخلیق ہوگیا تھا۔ لہٰذا ماضی میں جو فوج کا کردار رہا ہے خواہ وہ آئینی تھا یا غیر آئینی وہ امر ربی کے سبب تھا اسے غداری کہنا غلط ہے۔ اگرچہ ہم جنرل ایوب ‘ جنرل ضیاء الحق‘ جنرل مشرف کو بار بار معتوب کرتے ہیں کہ انہوں نے آئین شکنی کی اور جابرانہ نظام کا اجراء کیا  جس کے سبب شخصی آزادیاں اور جمہوری تقاضے نیست و نابود ہوتے رہے ہیں۔ طلبہ یونین اکثر کالعدم ہوتی رہی ہیں۔ مثالی دنیا (یوٹوپیا) میں تو ان حاکم جنرلز کو ہمارا معتوب کرنا درست اور رسم دنیا ہے مگر سوال ہے روس‘ چین  میں کیوں فوج کا کردار ریاستی طور پر کامیاب اور موثر ترین ہے؟ اگر صرف جمہورت کو دیکھیں تو بادی النظر میں اس خاص جمہوریت سے عموماً سماجی و معاشرتی عدم استحکام  پیدا ہوتا رہتا ہے‘ شخصی سیاسی اشرافیہ تخلیق ہوتی ہیں۔ اکثر سول حکمران آمر مطلق بن جاتا ہے۔ کیا ہمارے شخصی حکمران اپنی اپنی پارٹیوں کے مدارالمہام بن کر یہی کچھ نہیں تھے؟
دوسری طرف ’’مثالیت‘‘ پر مبنی جمہوریت سے اکثر سیکولر ظالم و جابر‘ مذہبی شدت پسند اور انسانی و سیاسی حقوق کے قاتل کردار اقتدار میں آتے رہے ہیں مثلاً بھارت میں نریندر مودی کا اقتدار‘ اسرائیل میں نیتن یاھو کا طویل کردار و اقتدار ‘ امریکہ میں ٹرمپ کا اقتدار‘ اگر جمہوریت کے بغیر اور فوج کے حاکمانہ کردار کے سبب صرف تباہی ہوتی ہے تو میرا سوال ہے کہ چین میں کیوں ہمہ گیر ارتقاء ہوا ہے؟ تباہ شدہ روس دوبارہ سے صدر پیوٹن کے زیر قیادت کیونکر مرد آھن بن گیا ہے؟
میری نظر میں حالیہ آئینی و حکومتی بحران نے فوج کو بطور ادارہ نہایت مستحکم کیا ہے۔ اب کور کمانڈرز اپنے عقاب صفت جنرل باجوہ کی زیر قیادت سیسہ پلائی دیوار ثابت ہونگے۔ سپریم کورٹ میں بھی بالغ نظری کے ساتھ ساتھ سیاسی و آئینی نظریہ ضرورت پر مبنی   پیش رفت کو عملیت پسندی کے طور پر اپنایا جائے گا۔ ایسا ہونا یا ہماری آئین سازی میں موثر تبدیلیاں لائے گا۔ اپوزیشن پارٹیاں مل کر ریاستی امور سے وابستہ معاملات مین مددگار بن کر آئین سازی کریں گی۔ نیا سیاسی اتحاد وجود میں آئے گا۔ اگر عمران خان نے اب بھی نیا سیاسی اتحاد قبول نہ کیا ۔ اپنے اردگرد کے خود غرض‘ مفاد پرست‘ موقع پرست‘ خوشامدیوں کی جگہ حقیقت پسند‘ متعدل مزاج مدبرین کو جمع کرکے نئی جنگی کابینہ تشکیل نہ دی تو  پھر ہمیں  بے رحم مارشل لاء سے کوئی نہیں بچا سکے گا کیونکہ موجودہ نااہل ترین کابینہ کے ذریعے ہم پر مسلط شدہ جنگ نہیں لڑی جاسکے گی۔

 

تازہ ترین خبریں