10:38 am
 آرمی چیف کی توسیع کامعاملہ

 آرمی چیف کی توسیع کامعاملہ

10:38 am

 گزشتہ دنوں چیف آف آرمی اسٹاف کی ملازمت میں توسیع سے متعلق جوصورتحال پیدا ہوئی تھی‘ وہ کسی بھی لحاظ سے ملک کے مفاد میں نہیں تھی۔ بہرحال چیف جسٹس محتر م کھوسہ صاحب نے اپنے ایک عدالتی حکم کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف  جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کردی ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی حکم دیاہے کہ مزید توسیع کے لئے آئین کی روشنی میں (آرٹیکل243کی تشریح)پارلیمنٹ سے رجوع کیاجائے۔ اس طرح پورے ملک میں جو ہیجانی کیفیت پیدا ہوگئی تھی وہ ختم ہوگئی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے صحیح کہا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان کے اندر اور باہرجومافیا بیٹھی ہوئی ہے‘ اس کو بہت تکلیف پہنچی ہوگی ۔ یہ پاکستان دشمن مافیا بھارت اور عالمی سامراج کی ایما پر پاکستان کی فوج میں دراڑیں ڈالنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں۔ پاک آرمی کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کوئی نئی بات نہیں ہے اور نہ ہی اس کو ایشو بناناچاہیے تھا۔ اس سے قبل جنرل کیانی(ر) کو بھی ان کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع دی گئی تھی ان کی توسیع کے خلاف بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک اپیل دائر کی گئی تھی جس کو کورٹ نے مسترد کردیاتھا۔ جنرل قمر باجوہ کے خلاف بھی ریاض راہی نامی شخص نے اپیل دائر کی تھی جس کو اس نے واپس لینے کی بھی درخواست کی تھی‘ لیکن محترم چیف جسٹس صاحب نے اس کو منظور نہیں کیاتھا‘ کیونکہ بقول ان کے اس اپیل کاتعلق مفاد عامہ سے ہے اس لئے سناجاناچاہیے ۔ چنانچہ ایساہی ہوا اور بحث و تمحیص کے بعد دلائل کی روشنی میں اعلیٰ عدلیہ نے چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی توسیع کردی ہے۔ تاہم یہ بات ماہرین قانون اچھی طرح جانتے ہیں کہ چیف آف آرمی اسٹاف کو مدت ملازمت میں توسیع کااختیار حکومت وقت کو حاصل ہوتاہے جس طرح ماضی میں اُس وقت کے صدرمملکت کے حکم پر جنرل کیانی سے متعلق فیصلہ کیا گیاتھا۔ اس طرح اور بھی چیف آف آرمی اسٹاف نے اپنی مدت ملازمت میں توسیع کرائی تھی۔
میری ناقص رائے میں سپریم کورٹ کو ریاض راہی کی رٹ واپس لینے کی درخواست کو منظور کر لینا چاہیے تھا اس صورت میں ملک میں خواہ مخواہ کی یہ  ہیجان پیدا نہ ہوتا ۔ نیز عدالتی فیصلے سے قبل جس طرح مافیا اور پاکستان دشمن عناصر نے ملکر پاکستان آرمی اور عدلیہ کے خلاف مہم چلائی  اس کابنیادی مقصد پاکستان کواندر سے عدم استحکام سے درچار کرناتھا۔ اور معاشی ترقی کے بڑھتے ہوئے قدم کو روکنا تھا۔ بھارت کا ٹی وی اور ریڈیو اس مہم کوچلانے میں بڑی برق رفتاری سے کام کرتے ہوئے اپنے مخصوص لہجے میں پاکستانی عوام کو گمراہ کررہے تھے۔ اداروں کی کردار کشی میں سوشل میڈیا بھی پیش پیش رہا۔ جس کو بیرونی امداد مل رہی تھی ۔مزید براں یہ بات تو پاکستان کے باشعور عوام کے علاوہ پوری دنیا اس حقیقت سے واقف ہے کہ پاکستان آرمی وہ واحد ادارہ ہے جو اپنی جگہ فولاد کی طرح مربوط اور منظم ہے اور پاکستان کی بقا اور سلامتی کے لئے ہروقت تیار رہتے ہوئے قربانیاں دیتا رہتا ہے۔ بھارت کے ساتھ ساتھ عالمی سامراج بھی پاکستان آرمی کے اندر اختلاف پیداکرنے کی کوشش کرتارہتاہے۔ جس میں مختلف نوعیت کا زہریلا پروپیگنڈا بھی شامل ہے۔ حالانکہ اس مافیا کواس کار بد میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی اور نہ ہوسکے گی کیونکہ پاکستان کے عوام یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستان کے دفاع کی کلیدی ذمہ داریاں افواج پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔ جو بڑی خوش اسلوبی سے ان ذمہ داریوں کو نبھارہے ہیں۔ اگرخدانخواستہ مافیا اور پاکستان دشمن عناصر پاکستان آرمی کے اندر اختلافات پیداکرنے میں کامیاب ہوگئے (خدانخواستہ) تو اس صورت میں بھارت پاکستان پرحملہ کرنے سے نہیں چوکے گا(مشرقی پاکستان کے سانحہ کویاد رکھناچاہیے)
 اس پس منظر میں ہمیں کشمیری مسلمانوں سے سبق لیناچاہیے ۔ جہاں بھارت کی 10لاکھ فوج جو جدید اسلحہ سے لیس ہے‘ اس نے مسلمانوں پرعرصہ حیات تنگ کررکھاہے۔115 دن سے کرفیو نافذ ہے۔ 15ہزار نوجوانوں کو بھارت کی مختلف جیلوں میں بندرکھا ہوا ہے۔گیارہ ہزار خواتین کی بھارتی فوج نے کھلے بندوں عصمتیں لوٹی ہیں۔ ساری دنیا بھارت کی ان انسان دشمن پالیسیوں کی مذمت کررہی ہے اوراس سے مطالبہ کررہی ہے کہ ان غیر انسانی حرکتوں کو فی الفور بند ہوناچاہیے اور کرفیو کواٹھاکر کشمیریوں کوایک باعزت زندگی گزارنے کاموقع فراہم کرناچاہیے جو یو این چارٹر کے عین مطابق ہے۔
اگر پاکستان عدم استحکام سے دوچار ہوتاہے جس کی ایک کوشش مولانا فضل الرحمن نے دھرنوں کی صورت میں کی تھی تو بھارت کو پاکستان پرحملہ کرنے کاموقع مل سکتاتھا۔ 
 محمد علی جناح ؒکی رہنمائی میں پاکستان کی تحریک کو عوام نے اپنے ایمانی جذبے سے چلاکر پاکستان کوقائم کیاتھا۔ وہ عناصر جو اس وقت پاکستان میں سیاسی اور معاشرتی اتفراتفری پیداکرناچاہتے ہیں انہیں عوام پہلے ہی مستردکرچکی ہے۔ کیونکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ان عناصر کے بزرگوں نے بڑی شدومد سے مخالفت کی تھی اور ہندو جماعت کانگریس کا ساتھ دیاتھا ۔مزید براں جس طرح بھارت 22کروڑ بھارتی مسلمانوں کے ساتھ نازیباً برتائوکررہاہے وہ ہماری آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔انتہاپسند جماعت بی جے پی اور اس کی ذیلی تنظیم آر ایس ایس کی یہ کوششیں ہیں کہ کسی طرح پاکستان کو دولخت کرکے بھارت میں شامل کرلیاجائے یعنی  اکھنڈ بھارت بن جائے۔ تاہم موجودہ حالات کے اس نازک موڑ پر سپریم کورٹ نے ایک معقول و مناسب راستہ اختیار کرکے اس ہیجانی کیفیت کو ختم کردیا ہے اس ضمن میں وفاقی حکومت کو بیورو کریسی پہ کڑی نگاہ رکھنی چاہیے‘ کیونکہ چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق جو سمری کی صورت میں جوناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی تھی اس کی ذمہ داری ان ہی پر عائد ہوتی ہے جو اپنے دفتروں میں بیٹھ کر سیاست میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور ملک کے مفاد کو پس پشت ڈال کر اپنی ذات کیلئے کام کرتے ہیں حالانکہ بیورو کریسی کاکام ملک کے مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے تنددہی سے کام کرناہوتاہے۔ تاکہ ملک میں کسی قسم کا بحران پیدا نہ ہوسکے ۔ بہرحال اب پارلیمنٹ آئندہ چھ ماہ کے دوران ملک کے حالات کوپیش نظر رکھتے ہوئے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق توسیع آئین کی روشنی میں جائزہ لیتے ہوئے مزید توسیع کرکے پاکستان کے اندرونی استحکام کویقینی بنائے گی اور پاکستان دشمنوں کو یہ پیغام دے گی کہ ہم ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔
ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان ان لاکھوں شہیدوں کی امانت ہے جنہوں نے پاکستان کے قیام کے دوران اپنے جان ومال قربان کردیئے تھے۔ یہ ملک 27ویں رمضان کو وجود میں آیاتھا اس کو توڑنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہونگی۔ مشرقی پاکستان کو علیحدہ کرنے میں بھارت کے کردار پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے تاہم سانحہ مشرقی پاکستان میں ہماری اپنی بھی کچھ غلطیاں شامل تھیں ہمیں اب ان غلطیوں کو نہیں دہرانا چاہیے۔ اسی انداز میں جمہوریت پنپ سکتی ہے اور قانون کی بالا دستی بھی قائم ہوسکتی ہے۔ کیونکہ قانون کی بالا دستی کے بغیر جمہوریت کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔



 

تازہ ترین خبریں