10:39 am
پیالی میں طوفان  

پیالی میں طوفان  

10:39 am

ان پڑھوں نے نہیں پڑھے لکھے جاہلوں نے ملک کا بیڑہ غرق کر رکھا ہے۔ ابوجہل بھی اپنے دور کا پڑھالکھا فرد تھا ۔ پر یہ پڑھالکھا اُس کے کچھ کام نہ آیا ۔ ضد ، تکبر اور بداعمالی کے سبب قیامت تک جاہلوں کا باپ ہی اُس کا لقب ٹہرا ہے ۔ ملک کو لوٹنے اور بگاڑنے میں ریڑھی والا رمضانی ، رکشا چلانے والا خیرو اور راج مزدوری کرنے والا عبدل ملوث نہیں ۔ یہ بچارے تو لٹنے والے ہیں ۔
لٹیرے تو ڈگری ہولڈر ہیں۔ زیادہ تر ولایتی ڈگری ہولڈر۔ کچھ کالے انگریز ایسے بھی ہیں جو جون جولائی کی گرمی میں تھری پیس سوٹ پہن کر قوم کو مقامی ثقافت کے نام پر بسنت اور ویلنٹائن ڈے کی افادیت پر بھاشن دیتے ہیں ۔ ایسے ایک کاٹھے انگریز سے دریافت کیا کہ بھائی چمپو جون کے مہینے میں لاہور شہر میں تھری پیس سوٹ کا مقامی ثقافت سے کیا تعلق ؟ اگر مقامی ثقافت کی بات ہے تو دھوتی کرتا پہنو ، اجرک سندھی ٹوپی پہنو! قمیض شلوار زیب تن کرو! چمپو بھائی ہتھے سے اکھڑ گئے اور کہنے لگے کہ ثقافت سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی ! ہمارا جواب تھا کہ بالکل ایسے ہی کثافت بھی سرحدوں کی پابند نہیں ہوتی۔ آپ ثقافت کے نام پر کثافت پھیلا رہے ہیں۔ ثقافت سرحد کی پابند ہو یا نہ ہو اخلاقی حدود کی پابند تو ہوتی ہے۔ اسکینڈے نیوین ملک میں ساحلِ سمندر پر مرد و زن جس لباس یا کیفیت میں تفریح کرتے ہیں کیا وہ انداز ثقافت یا معاشرتی رجحان کی آڑ میں کراچی یا گوادر کے ساحل پر بھی رائج کیا جانا مناسب ہو گا؟ یہ سرحد کی پابندی والا ڈائیلاگ بھی خوب ہے ! بھارت سے مرعوب ایک طبقہ یہ ڈائیلاگ بول کر پاکستان میں بھارتی ثقافت یا کثافت کے لیے نرم گوشہ پیدا کرنے پر ہمہ وقت جُتا رہتا ہے۔ اگر ثقافت سرحد کی پابند نہیں تو ذرا سرحد کے اُس پار لاہوری کھابے کی ثقافت کے نام پر بیف بریانی ، نہاری ، پائے اور حلیم ہی کھا کر دکھا دیں ۔ دو منٹ میں ہندوتوا بریگیڈ ثقافت کا بھوت اتار کر چمپو بھائی کی ارتھی تیار کردے گا ۔ سمجھ میں آجائے تو یہی ثقافتی خلیج اس ملک کے قیام کا سبب بنی تھی۔ بات دور نکل گئی ۔ بات پڑھے لکھے جاہلوں سے شروع ہوئی تھی ۔ سرکاری جہلاء کا حُسنِ کارکردگی سنبھالے نہیں سنبھل رہا۔ چند روز قبل اپنے کالم( بعنوان مسئلے کی جڑ) کے اختتامی حصے میں راقم نے یہ لکھا تھا کہ حکومتی ٹیم غیر معیاری اور دو نمبر کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ امید نہ تھی کہ اس قدر سرعت سے مزید عملی ثبوت فراہم کئے جائیں گے۔ آرمی چیف کی توسیع جیسا معاملہ ایسا الجھایا گیا کہ الامان و الحفیظ! آئین کے تحت وزیر اعظم سروسز چیف کی تعیناتی کا اختیار رکھتا ہے۔ یہ دراصل پارلیمان کی بالا دستی ہے! ان معاملات میں حکم نامہ یا نوٹیفیکیشن جاری کرنے کا طریقہ کار بھی متعین ہے جس کے تحت وزیرا عظم کی تجویز پر صدرمملکت بطور سپریم کمانڈر رسمی کارروائی مکمل کر دیتے ہیں۔ اگر توسیع کے معاملے پر قانون خاموش ہے تو یہ کوئی اچنھبے کی بات نہیں ہمارے بیشتر قوانین متحدہ ہندوستان سے مستعار لیے ہوئے ہیں۔ یہ برطانوی قوانین کا ہوبہو چربہ ہیں ۔ اگر آئینی ابہام یا قانونی سقم موجود ہے تو اُسے دور کرنے کے لیے مقننہ بھی موجود ہے اور تشریح کے لیے سپریم کورٹ بھی دستیاب ہے۔ پھر واویلا کیوں مچایا جاتا رہا ؟ توسیع دینی تھی یا دوبارہ تقرری ؟ وزارت قانون میں تشریف فرما بابو صاحبان یعنی نوکر شاہی سے کوتاہی ہوئی یا عمداً یہ معاملہ الجھایا گیا ؟ وزیر اعظم صاحب فوراً متوجہ ہوں ! یہ چھان پھٹک بھی ہونی چاہیے کہ ایک عادی درخواست گذار کی واپس لے لی جانے والی پٹیشن پر اعلیٰ عدلیہ میں معاملہ کیوں الجھتا رہا ۔ اٹارنی جنرل اور یکا یک مستعفی ہونے والے وزیر قانون، عدلیہ کو کیوں مطمئن نہ کرسکے؟ چھ ماہ کے لیے توسیع کا عدالتی حکم بھی موضوع سخن بنا ہوا ہے؟ ہم جیسے طالبعلم جاننا چاہتے ہیں کہ فی الوقت صدراتی آرڈی نینس سے کام کیوں نہ لیا گیا ؟ پی پی پی کے دور میں دی گئی توسیع کا طریقہ کار کیوں نہ اپنایا گیا ؟ کیا سابقہ توسیع بھی ضابطے کے خلاف تھی ؟ اور اگر تھی تو پھر آج پی پی پی کس منہ سے حکومت کو نالائقی کا طعنہ دے رہی ہے جبکہ ماضی میں یہی اقدام وہ خود بھی اُٹھا چکی ہے۔ آرمی چیف نے نہ تو توسیع کی درخواست کی اور نہ ہی وہ ایسی کوئی خواہش رکھتے تھے؟ یہ فیصلہ حکومت وقت نے کیا جس کا اختیار اُس کو حاصل ہے اور پی پی پی دور کی سابقہ مثال بھی موجود ہے۔ اگر قانونی سقم کی نشاندہی ہو بھی گئی ہے تو اُس کو دور کرنے کا طریقہ کار اور ادارے قائم و دائم ہیں ۔ ایسے حالات میں بھارت کے لیے نرم گوشہ رکھنے والا ایک مخصوص طبقہ جو افواجِ پاکستان سے دلی بیر رکھتا ہے ، گذشتہ چند روز سے فوج کے خلاف زہر اگل کر عوام کے ذہنوں کو پراگندہ کرتا رہا ۔ میڈیا کے پڑھے لکھے جاہلوں نے بھی اس معاملے پر ابہام اور ہیجان کو غیر ضروری بڑھاوا دیا ۔ حیرت ہوئی کہ بعض متعصب صحافی اور سوشل میڈیائی مینڈک اس صورتحال کو تاریخی لمحہ اور فیصلہ کُن گھڑی قرار دے کر یہ تاثر پیش کرتے رہے کہ بس اب عدالت عظمیٰ توسیع کے اقدام کو معطل کر دے گی اور فوج میں کمان کا بحران جنم لے گا۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ پیالی میں اٹھایا گیا طوفان بیٹھ چکا ہے۔ افواج پاکستان ملک کی مقدس سرحدوں پر دفاعی فرائض کل بھی انجام دے رہی تھیں اور آج بھی دے رہی ہیں ۔ ہاں بہت سے کینہ پرور بغضی کرداروں کے چہرے بے نقاب ہوئے ہیں اور ملک کے بدخواہوں کا خبثِ باطن بھی عیاں ہوا ہے البتہ حکومت کا نیا امتحان اب شروع ہوگا ۔ چھ ماہ میں قانون سازی کرنے کے لیے اب اُس اپوزیشن سے معاملات طے کرنے ہوں گے جن سے صاحب لوگ بات کرنے کے روادار نہیں تھے!
 

تازہ ترین خبریں