08:33 am
 گوادر سی پیک کو تباہ و برباد کرنے کا عالمی منصوبہ

 گوادر سی پیک کو تباہ و برباد کرنے کا عالمی منصوبہ

08:33 am

جب سے پاکستان اور چین کا سی پیک منصوبہ پر گوادر میں کام شروع ہوا ہے اور بیجنگ میں 130 ممالک کی کانفرنس میں شاہراہ ریشم کو دنیا کے ذریعے تجارتی رسدگاہ بنانے کا منصوبہ پر تمام ملکوں کا اتفاق ہوا ہے اور الحمد للہ پاکستان کو اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔ بھارتی نیتائوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں اور وہ ہر قیمت پر خدا نخواستہ پاکستان کو تباہ و برباد دیکھنا چاہتے ہیں۔
بھارتی حکومت کے حوصلے عالمی عدالت میں پاکستان کے خلاف کل بھوشن یادو کیس میں پھانسی روکنے اور قونصلر رسائی دینے کے فیصلے سے ان کی ہمت مزید بڑھ گئی تھی۔ پاکستان کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف صاحب نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بھارتی تاجر کے ذریعے پیغام بھیجا تھا کہ پاکستان کا موقف عالمی عدالت میں کمزور پیش کیا جائیگا تاکہ بھارت کو سفارتی سطح پر کامیابی حاصل ہو۔ درحقیقت ایسا ہی ہوا کیونکہ بدقسمتی سے پاکستان میں چار سال سے ریگولر وزیر خارجہ موجود نہیں تھا اور وزارت خارجہ کا پورٹ فولیو بھی وزیر اعظم پاکستان کے پاس تھا اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز صاحب دراصل اکائونٹس گروپ سے وابستہ رہے ہیں وہ معاشی اور اقتصادی پالیسیاں تو کامیابی سے پیش کر سکتے تھے لیکن انہیں وزارت خارجہ کی ABCD نہیں آتی تھی اور وہ وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف صاحب کے احکامات پر عمل کرنااپنا قومی فریضہ سمجھتے تھے۔ پاکستان کا امیج پوری دُنیا میں جان بوجھ کر خراب کیا گیا تھا اور اُلٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق بھارتی جاسوس کل بھوشن یادو کو مظلوم بنا کر پیش کیا گیا تھا۔  دراصل بلوچستان میں سی پیک کو بھارت نے تباہ کرنے کے لئے بھارتی خفیہ ایجنسی را کو نہ صرف فری ہیند دے دیا تھا بلکہ اربوں روپیہ کے سیکرٹ فنڈز بھی دیئے تھے تاکہ بلوچستان کے غیور عوام کو خود کش حملوں کے ذریعے یہ باور کرایا جائے کہ پاکستان کی مسلح افواج،سیکورٹی اداروں کو ان کی کوئی  فکر نہیں  اور وہ بلوچستان کے عوام کے جان و مال کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ بلوچستان کے مظلوم عوام کو ستر سال سے یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ان کے مال و دولت پر غیر بلوچی عیش کر رہے ہیں اور بلوچستان کی ساری معدنیات، پیٹرول، گیس، اعلیٰ قسم کے ہیرے و جواہر، قیمتی دھاتیں و پتھر اعلیٰ قسم کے ڈرائی فروٹ اور پھل کو عالمی مارکیٹ میں بیچ کر سارا روپیہ اسلام آباد اور پنجاب لے جایا جا رہا ہے اور گوادر سی پیک معاہدہ سے نہ بلوچستان کے عوام کو، نہ سندھ کے عوام کو اور نہ ہی خیبر پختونخوا کے عوام کو کوئی فائدہ پہنچے گا بلکہ یہ تمام پیسہ پنجاب کی ترقی پر لگے گا۔ اس قسم کے منفی پروپیگنڈے سے نہ صرف بوڑھے، جوان، عورتیں بلکہ اسکول و کالج کے معصوم جوانوں پر اثر ہوا تھا اور میاں شہباز شریف صاحب وزیر اعلیٰ پنجاب جب گوادر کا دورہ کر رہے تھے تو گوادر کے اسکول میں معصوم بچوں نے ان سے یہی سوال کیا تھا کہ کیا بلوچستان کا پیسہ پنجاب میں ترقیاتی کاموں میں لگ رہا ہے اور بلوچستان میں کوئی ترقی نہیں ہو رہی ہے۔ یہ وہی منفی پروپیگنڈہ ہے جو سابق مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں بھارتی ایجنسی را نے بنگالیوں کے ذہنوں میں بٹھایا تھا۔
درحقیقت بلوچستان کو ماضی اور حال کے حکمرانوں نے ستر سال سے نظر انداز کیا ہوا ہے۔ صرف حب اور کوئٹہ میں صنعتیں لگی ہوئی ہیں جبکہ پورے بلوچستان میں گیس اور پیٹرول نکالنے کے لئے بھی غیر ملکی کمپنی نے باہر کے لوگوں کو ترجیح دی ہے۔ پورے بلوچستان میں صنعتوں کا جال بچھانا چاہیے تھا، سرکاری ملازتوں میں مقامی بلوچ نوجوانوں کو ترجیح دینا چاہیے تھی۔ راقم الحروف نے 34 سال سرکاری ملازمت میں آڈٹ کے دوران پورے سندھ اور بلوچستان کا تفصیلی دورہ کیا ہے۔ بلوچستان میں غریب عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ بلوچستان کی تباہی میں سول بیورو کریسی کے ساتھ سابق اور موجودہ حکومت کے وزراء اعلیٰ اور وزراء ہیں۔ کرپشن اور لوٹ مار میں عالمی ریکارڈ توڑا ہوا ہے۔ کبھی انہوں نے کوئٹہ سے نکل کر بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کا دورہ نہیں کیا تھا۔ صرف خراج تحسین پیش کرتا ہوں پاکستان کی مسلح افواج کو جس نے نہ صرف 16,000 بلوچی نوجوانوں کو فوج میں بھرتی کیا ہے بلکہ جگہ جگہ اسکول اور ہسپتال قائم کئے ہیں۔ بلوچستان کے عوام کو معاشی پیکیج بھی دیا ہے۔ اس وقت ضرورت اس مر کی ہے کہ بلوچستان کے گھمبیر مسئلے پر پالیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر بلوچستان کے عوام کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے اور ان کی فلاح و بہبود کے لئے نہ صرف جامع اسکیمیں تیار کی جائیں اور ایماندار اور فرض شناس افسروں پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں تاکہ قوم کا پیسہ صحیح جگہ پر خرچ ہو۔۔ بین الاقوامی عدالت انصاف میں بھارتی وزیر اعظم نریندرا داس مودی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے خلاف مقدمات قائم کئے جائیں۔ بین الاقوامی عدالت نے کلبھوشن یادو کیس میں پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا ہے اس کو فوجی عدالت سے سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ اس کو سزائے موت دینے سے باقی ماندہ دہشت گردوں کا بھی صفایا کر دیا جائے۔ سی پیک اتھارٹی قائم ہو چکی ہے اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم باجوہ کو مقرر کیا ہے۔ اُمید ہے کہ وہ اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر  اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ پاکستانی قوم پُراُمید ہے کہ سی پیک پروجیکٹ ان شاء اللہ تعالیٰ پاکستان کی ترقی میں اہم معاشی کردار ادا کرے گا۔ 


 

تازہ ترین خبریں