08:45 am
مغربی معاشروں میں صنفی تشدد

مغربی معاشروں میں صنفی تشدد

08:45 am

انسان جب فطرت کے بنائے ہوئے قوانین کو چیلنج کرتا ہے تو کبھی آسودگی نہیں پا سکتا۔ قدرت نے مرد کو طاقت عطا کی اور اسے اپنے خاندان کی کفالت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ ''الرجال قوامون علی النسا'' کی رو سے مرد نگہبان ہیں عورتوں پر، چنانچہ گھروں کی حکمرانی مردوں کی تسلیم کی گئی اور نظم کے تحت خاتون خانہ اس کے ماتحت رہ کر اپنے فرائض بجا لاتی ہے۔ اہل مغرب نے اس قانون سے بغاوت کی اور یوں مرد اور عورت برابر کی حیثیت کے شہری بن گئے۔ یہیں سے مغرب کی تہذیب اٹھی لیکن اب اس وجہ سے یہ تہذیب اپنے انہدام کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔ علامہ اقبال کی نگاہ تیز نے ایک صدی قبل پیش گوئی کی اور مغرب کی مادیت پرستی اور اقدار سے دوری کو جواز بناکر جو ارشاد فرمایا وہ آج سچ ثابت ہورہا ہے۔ آپ نے کہا تھا۔
دیارمغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تو سمجھ رہے ہو وہ اب زرکم عیار ہوگا
اور پھر آپ نے فرمایا
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کریگی
جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
آج اہل مغرب عورتوں پر تشدد کیخلاف سراپا احتجاج ہیں، بروز ہفتہ پیرس میں ہونے والے مظاہرے کو فرانس کی تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ قرار دیا جارہا ہے جو صنفی تشدد کیخلاف ہوا ہے۔ یہ مظاہرہ سال رواں اپنے خاوندوں کے ہاتھوں 116خواتین کے قتل کیخلاف ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر انصاف نکول بیلوبیٹ نے کہا کہ ان خواتین کو تحفظ دینے میں ہمارا نظام ناکام ہوگیا ہے۔ فرانس میں ہر تیسرے دن ایک خاتون اپنے سابقہ یا موجودہ شوہر یا وقتی پارٹنر کے ہاتھوں قتل ہوتی ہے جبکہ خانگی تشدد کے باعث ہر سال دولاکھ بیس ہزار خواتین متاثر ہوتی ہیں۔ ان اعداد وشمار کا ہم اپنے مسلمان ممالک سے تقابلی جائزہ لیں تو احساس ہوتا ہے کہ ہماری خواتین مغربی خواتین کی نسبت زیادہ پرسکون زندگی بسر کر رہی ہیں اس کی وجہ ہماری اقدار ہیں جن میں گھروں کی انتظامی ذمہ داری مرد کے کاندھوں پر ہے۔ خرابی وہاں پیدا ہوتی ہے جب دونوں اپنے آپ کوایک دوسرے کے مقابل  کی حیثیت  سمجھنے لگیں اور ہر کام میں برابری کے دعویدار ہوں۔ ''یہ میری زندگی ہے اور تمہارا اس سے کوئی سروکار نہیں ہے'' (It is none of your business) کے الفاظ کا ردعمل یقینی ہے اور قدرت نے جس کو طاقت عطا کی ہے وہ اپنے ردعمل سے اپنی برتری کو بہرحال ثابت کردیتا ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ چاند پر کمندیں ڈالنے والے انسانی دماغوں نے یہ راز پانے میں اب تک کیوں کوتاہی کی ہے؟ بنیادی بات یہ ہے کہ اسلام اور اہل مغرب کے انسانی حقوق کے معیار مختلف ہیں۔ مغرب فرد کی بنیاد پر انسانی حقوق کا تعین کرتا ہے جبکہ اسکے مقابلے میں اسلام ذمہ داری کی بنیاد پر حقوق عطا کرتا ہے اہل مغرب کے Individual based حقوق نے خانگی زندگی کو تباہ کر دیا ہے لیکن اسلام نے عورت کو ذمہ داری کی بنیاد پر جو حقوق عطا کئے ہیں اس نے جہاں اس کی خانگی زندگی کو پرسکون وشاداب بنا دیا ہے وہیں ماں کے روپ میں جنت اس کے قدموں میں رکھ کر اسے وہ عزت عطا فرمائی ہے جس کا دیارمغرب میں رہنے والی کوئی خاتون تصور بھی نہیں کر سکتی ہے۔ ایک ایسے معاشرے کے حوالے سے جہاں مرد کی حاکمیت کا اعلان کیا گیا ہو تنقید کے نشتر ضرور برسائے جاتے ہیں لیکن تنقید کرنیوالے اس توازن کو بھول جاتے ہیں جو ماں کی حیثیت میں عورت کی عزت اور اعلیٰ ترین درجے کی بدولت معاشرے میں قائم ہوتا ہے۔ نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک صحابیؓ نے سوال کیا یا رسولﷺ اللہ مجھ پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ فرمایا تمہاری ماں کا۔ پھر پوچھا تو آپﷺ نے یہی جواب دیا تمہاری ماں کا ہے۔ تین مرتبہ سوال ہوا اور تین مرتبہ آپﷺ نے جواب میں کہا تمہاری ماں کا۔ چوتھی مرتبہ جواب دیا تمہارے باپ کا۔ سوال کرنے والا صحابی ایک مرد تھا اور اس پر سب سے زیادہ حق اس کی ماں کا تھا جو خاتون تھیں۔ جس معاشرے میں مرد کی حاکمیت ہے اس معاشرے میں مرد کی تربیت یہ ہے کہ تم پر سب سے زیادہ حق اگر کسی شخصیت کا ہے تو وہ تمہاری ماں ہے تو کیا اس معاشرے میں عورت سے کوئی ناانصافی روا رکھی جاسکتی ہے۔جاہلیت کے رسم ورواج جہاں بھی ہوں وہ قابل مذمت ہیں لیکن مسلمان معاشروں کو بحیثیت مجموعی خراب قرار دیکر انہیں مغرب زدہ بنانے کی کوششیں کبھی کامیاب ہوئی ہیں اور نہ انشا اللہ مستقبل میں کبھی ہوں گی، اس کی وجہ وہ حقوق ہیں جو اسلام نے عورتوں کو عطا کئے ہیں۔ شہزادہ چارلس کے الفاظ مستعار لوں تو وہ یہ ہیں کہ ''اسلام نے صدیوں قبل عورتوں کو جو حقوق عطا کئے ان سے میری دادی جان سے قبل کے انگلینڈ میں خواتین ناآشنا تھیں''۔ وقت ثابت کر رہا ہے کہ مرد اور عورت کی برابری کا فلسفہ معاشرتی بے چینی پیدا کرنے کا باعث ہے ورنہ مغرب کے خوشحال معاشرے میں عورتوں پر تشدد کیوں کر ہو رہا ہے، اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق سال 2017 میں جو 87ہزار خواتین اور لڑکیاں قتل ہوئیں ان میں سے آدھی یعنی 43-1/2 ہزار عورتیں اپنے شوہروں، وقتی ازدواجی تعلقات رکھنے والے مردوں اور اپنے خاندانوں کے ہاتھوں قتل ہوئی ہیں۔ ازدواجی رشتہ مغرب میں ایک بھیانک خواب بنتا جارہا ہے، باضابطہ شادی سے گریز کرتے ہوئے وقتی طور پر جو ازدواجی تعلقات باہمی رضامندی سے قائم کئے جاتے ہیں ان کا انجام بھی خوفناک اور شرمناک ہوتا ہے۔

    
 

تازہ ترین خبریں