08:46 am
بلاول سندھ کی ترقی و خوشحالی کا دن کب منائیں گے؟

بلاول سندھ کی ترقی و خوشحالی کا دن کب منائیں گے؟

08:46 am

اس میں کوئی شک نہیں کہ سندھ  دھرتی محبت و اخوت ، ہمدردوں و غمگساری کی دھرتی ہے … پیار اور امن سندھ دھرتی کا خاص وصف ہے، سندھ کو باب الاسلام کہا جاتا ہے … دین اسلام کا پیغام بھی تو امن و سلامتی، پیار و محبت واخوت، ہمدردی و غمگساری ہی ہے یوں اگر یہ کہہ دیا جائے تو یقینا غلط نہ ہوگا کہ سندھ دھرتی کا پیغام دین اسلام کے پیغام کے ہی تابع ہے … اتوار کا سارا دن  یہ خاکسار اپنے دوست قاری عبدالرحمن کے ہمراہ حیدر آباد شہر کی سڑکوں اور بازاروں میں سندھی ثقافت کے رنگ دیکھنے کے لئے پیدل گھومتا پھرتا رہا … دن بھر حیدر آباد کی سڑکوں، چوکوں اور چوراہوں پر ’’منچلے‘‘ سندھی  اجرک اور سندھی ٹوپی پہنے، تیز میوزک پر ڈانس کرتے نظر آئے اور میں ان ڈسکو ڈانس کرنے والے منچلوں میں سندھ کی ثقافت تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا۔
سندھ اگر باب الاسلام ہے اور یقینا ہے تو پھر سندھ  کی ثقافت کے رنگ بھی قدرتی اور اسلامی ہونے چاہئیں، پاکستان کے دوسرے صوبوں  کی طرح سندھ دھرتی پر بھی اقلیتیں آباد ہیں وہ ہندو ہوں، سکھ ہوں، عیسائی ہوں یا پارسی، تمام اقلیتی برادریوں کے ساتھ حسن سلوک روا رکھنا ، آئین میں دیئے گئے ان کے تمام حقوق کو ادا کرنا یہ ہر پاکستانی مسلمان کی ذمہ داری تھی، ہے اور رہے گی۔
قدیم سندھ ہو یا جدید سندھ، قدیم  نیرون کوٹ ہو یا جدید نام حیدر  آباد ، ہمیں راجہ داہر اور موہنجودڑو کے کھنڈرات میں دفن کلچر نہیں بلکہ اسلامی کلچر کی بنیاد پر آگے بڑھنا ہے، سندھی ٹوپی اور سندھی اجرک کے صرف سندھ کے باسیوں ہی نہیں بلکہ پنجاب، کے پی کے ، بلوچستان حتیٰ کہ کشمیر یوں کی بھی یکساں پسند ہے اور جاننے والے جانتے ہیں کہ گزشتہ30 سالوں سے یہ خاکسار سندھی ٹوپی اور سندھی اجرک سفرو حضر میں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا چلا آرہا ہے، بحث سندھی ٹوپی اور اجرک کی نہیں ہے اس یہ خوبصورت رنگ تو پیارے پاکستان کے ہیں، گزشتہ مہینے یہ خاکسار چترال کے دورے پر گیا تو وہاںکے دوستوں نے  دو چترالی پکول ٹوپیوں کا ہدیہ عنایت کیا ، میں نے وہاں بھی عرض کیا کہ یہ رنگ بھی پاکستان کے ہیں، لیکن سندھی ٹوپی یا اجرک کی آڑ میں لسانیت کی بُو نہیں پھیلنی چاہیے،اور نہ ہی راجہ داہری کلچر کو پروموٹ کیا جاناچاہیے، دکھ کی بات تو یہ ہے کہ قیام پاکستان کے 72 سال بعد بھی غریب نوجوانوں کو ٹوپیاں اور اجرکیں پہنا کر ناچنے، گانے اور دھمالیں ڈالنے پر لگا دیا گیاہے لیکن حکمرانوں سے کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ سندھ کی ترقی اور سندھ کے عوام کی خوشحالی سندھ دھرتی کے عوام سے کیوں روٹھی ہوئی ہے؟
موہنجودڑو کے کھنڈرات سے قدیم سندھ کی مردہ ثقافت کو زندہ کرنے کیلئے تو حکومت ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہے لیکن جدید سندھ میں رہنے والے کروڑوں انسانوں کی زندگیوں، ان کے سٹیٹس، رہن سہن اور تعلیم و اخلاقی اقدار میں بہتری لانے کے لئے حکومت نے کیا کردار ادا کیا؟
صرف صوبہ سندھ ہی نہیں بلکہ کراچی پاکستان کا بھی سب سے بڑا شہر ہے، اس شہر ناپرساں کا پرسان حال کون ہے؟سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے حیدر آباد، اس شہر میں سیوریج سسٹم سے لے کر بجلی، گیس، سڑکوں، بازاروں، گلی محلوں کی اصل حالت زار پر اگر لکھا جائے تو کلیجہ منہ کو آتاہے، ویسے تو سندھ سارا ہی ترقی اور خوشحالی کے اعتبار سے حالت نزاع میں ہے، مگر کوئی کراچی اور لاہور میں ہونے والی ترقی کا موازانہ کرنا چاہے تو ضرور کرے، حیدر آباد، گوجرانوالہ یا راولپنڈی میں ہونے والی ترقی کا موازنہ کرنا چاہے تو ضرور کرے لیکن یہ موازنے کرتے ہوئے  نہ لسانیت کی  بُو پھیلنی چاہیے اور نہ ہی تعصب کی پٹی آنکھوں پر بندھنی چاہیے، صرف سابق ن لیگی پنجاب حکومت اور پی پی پی کی سندھ حکومت کی اپنے اپنے صوبے کے عوام کی بہتری اور شہروں کی تعمیر وترقی کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ہر غیر جانبدار خادم اعلیٰ شہباز شریف کو سو بٹا سو نمبر دینے پر مجبور ہو جائے گا، اب مجھے یہ کوئی نہ سمجھانے کی کوشش کرے کہ خادم اعلیٰ کے پاس فنڈز بہت زیادہ تھے … سوال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی سندھ پر لگاتار دوسری بار راج کررہی ہے، گزشتہ 5 سال اور موجودہ سولہ مہینوں میں کوئی بتاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے کسی صوبائی وزیر اور مشیر کو فنڈز کی کمی کی وجہ سے کبھی ماہانہ تنخواہ اور  اور بھاری بھر کم مراعا ت سے ہاتھ دھونا پڑے ہوں؟ وزیروں، مشیروں کی تنخواہوں، پروٹوکولز اور شاہانہ مراعات کے لئے تو فنڈز موجود ہیں لیکن جب بات آئے کراچی ، حیدر آباد، سکھر سمیت پورے سندھ کی تعمیر و ترقی کی تو فٹ سے یہ بہانہ تراش کر جان چھڑالی جاتی ہے کہ سندھ حکومت کے پاس تو فنڈز ہی بہت تھوڑے ہوتے ہیں، پیپلز پارٹی گزشتہ چالیس سالوں سے بھی اپوزیشن اور کبھی حکمرانی کے ذائقے چکھتی چلی آرہی ہے… بلاول زرداری بتائیں کہ وہ دن کب آئے گا کہ جب سندھ کے  عوام سندھ کی ترقی اور خوشحالی کا دن بھی منائیں گے؟ کھنڈر بنی سڑکوں پر ’’منچلے‘‘ جب سندھی ٹوپی اور سندھی اجرک پہنے ڈانس کررہے ہوتے ہیں تو یہ دیکھ کر ہر باشعور انسان سوچنے پر مجبور ہو جاتاہے کہ معصوم نوجوانوں کو ان کاموں پر لگاکر حکمران خود اپنی عیاشیوں اور اللوں ، تللوں میں مصروف رہتے ہیں، میرے قارئین جانتے ہیں کہ اس خاکسار کو کسی بھی مخصوص سیاسی جماعت سے کوئی خاص ہمدردی نہیں رہی البتہ یہ کہ جو سیاسی جماعت یا حکومت نظریہ اسلا اور پاکستانی قوم کی خدمت کے صفات سے  جڑی ہوئی ہو، ’’تھر‘‘ میں غربت اور مناسب خوراک نہ ہونے کے سبب معصوم بچے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مائوں کی جھولیوں میں دم توڑ جاتے ہیں اور حکمرانوں کو موہنجودڑو کے کھنڈرات سے کسی قدیم کلچر کی تلاش سے ہی فرصت نہیں، آخر کب تک ظلم و ستم کے یہ جھکڑ چلتے رہیں گے؟

 

تازہ ترین خبریں