08:47 am
خوفناک مماثلت

خوفناک مماثلت

08:47 am

لوگ حیران تھے،حکمرانوں کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا،ایسے کیسے ممکن ہے۔یہ سب توخاموش،مرنجا مرنج اورآرام کی زندگی گزارنے والے ہیں۔انہیں توآسائش سے پیارہے۔قلم اور کتاب سے ان کی دوستی ہے۔ان لوگوں نے ہتھیارکیسے اٹھالئے اوریہ لوگ بلا کے سپاہی بھی ثابت ہورہے ہیں۔مورخ لکھتے ہیں کہ اس فوج نے جوبرطانیہ کے ذہین،پڑھے لکھے اور سوجھ بوجھ رکھنے والے لوگوں پرمشتمل تھی،یوں فتح ونصرت کے جھنڈے گاڑے کہ دیکھنے والے حیران رہ گئے۔مقابلے پرتاج برطانیہ کی مستقل فوج تھی لیکن یہ لوگ جس جانب بڑھے فتح ان کامقدرہوتی اورجس جتھے سے ٹکراتے اسے پاش پاش کرکے رکھ دیتے۔ انہیں بہت سے محاذوں کاسامناتھامگران کے قدم نہ ڈگمگائے۔یہ لوگ کون تھے جنہیں آلیور کرامویل کے فوجی کہاجاتاہے۔یہ کیسے وجود میں آئے اورانہیں یوں ہتھیار اٹھانے پرکس نے مجبور کیالیکن یہ بات طے ہے کہ1647 سے1649 تک کے دوسالوں میں انہوں نے ایک تاریخ مرتب کردی۔برطانیہ کارخ ایسے موڑدیاکہ پھراس کے بعدنہ بادشاہ نے کبھی سوچا کہ مطلق العنان بن کرجوچاہے کرسکتاہے ،نہ فوج نے لوگوں کے جذبات کے مقابلے میں کسی آمریت پسند بادشاہ کاساتھ دیااورنہ پارلیمنٹ نے تصورکیاکہ چونکہ وہ اب منتخب ہوکرآچکے ہیں توجوچاہے کرلیں،بادشاہ کی آمریت کوتسلیم کرلیں یاعوام کی مرضی کے خلاف کوئی قانون منظورکرلیں۔
چارلس اوّل ان بادشاہوں میں سے ایک تھا جوآئین،قانون اورپارلیمنٹ کو کھلونا سمجھتا تھا۔ وہ صرف25سال کی عمرمیں برطانیہ کے تخت پربیٹھا۔ اس نے تاج پرسرفرازہونے کے صرف تین سال کے اندراندرپارلیمنٹ توڑدی۔اس لئے پارلیمنٹ نے اس کے سامنے تین عجیب وغریب مطالبات رکھ دئیے:
یہ کہ بادشاہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیرکوئی ٹیکس نہیں لگائے گا۔جب زمانہ امن ہوتوکسی فوجی کوسول عہدے پرتعینات نہیں کیاجائے گااورنہ ہی اپنامقصدحاصل کرنے کیلئے فوجی عدالتیں لگائی جائیں گی اورنہ ہی انہیں شہروں میں امن عامہ بحال کرنے کیلئے بھیجاجائیگا۔ فوج کسی کوبغیرثبوت اورواضح الزامات کے بغیرگرفتار نہیں کرسکے گی۔بادشاہ نے پارلیمنٹ توڑدی اورپھر 11سال تک بغیرپارلیمنٹ کے راج کرتارہا۔اسے اس کانشہ ساہوگیاتھالیکن عوامی  دباؤکے تحت اسے دوبارہ انتخابات کراناپڑ ے اور 1640میں آلیورکرامویل اس پارلیمنٹ کارکن  منتخب ہوا۔اس پارلیمنٹ کوبھی جب بادشاہ کی  آمریت سے لڑناپڑاتوصرف تین ہفتوں بعد انہیں گھر بھجوادیاگیا اوراسی سال نئے انتخابات ہوئے۔ کرامویل  دوبارہ منتخب ہوکرپارلیمنٹ میں جاپہنچا۔
اس دفعہ پارلیمنٹ کے ارکان ذراڈرے ڈرے اورسہمے سہمے تھے۔وہ چاہتے تھے کہ کسی طرح مفاہمت سے کچھ لواورکچھ دو کے اصول پرمعاملات کوآگے بڑھایاجائے اورجمہوریت کی گاڑی کوچلنے دیاجائے لیکن لوگ توبادشاہ سے نفرت کرتے تھے۔ انہوں نے توان ارکان کواس لئے نہیں بھیجاتھاکہ ان کے جذبات کا سودا کر دیا جائے۔بادشاہ کے سامنے مختلف مواقع پرمختلف شرائط رکھی جاتی رہیں۔ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ فوج کوپارلیمنٹ کے ماتحت کردیاجائے۔یہ شرط اس بادشاہ کوکیسے منظورہوسکتی تھی جواسی فوج کے بل بوتے پرحکمرانی کررہاتھا۔لوگ اب روزروزکے مذاکرات سے تنگ آچکے تھے۔ان کے نزدیک پارلیمنٹ کے ارکان اپنے مفادات کی خاطر ان کے جذبات سے کھیل رہے تھے۔انہیں یہ منافقت پسندنہ تھی۔ ایسے میں آلیورکرامویل جس کاکوئی فوجی تجربہ نہ تھاجوصرف گاں کی سکیورٹی فورس میں چندسال ملازم رہاتھااس نے ایک فوج ترتیب دیناشروع کردی جو بادشاہ کی آمریت اورپارلیمنٹ کی منافقت سے بیک وقت لڑے۔ معرکے شروع ہوگئے۔بادشاہ کی فوج ہر محاذ پر شکست کھانے لگی۔کرامویل کی فوج میں ذہین، باصلاحیت اور پڑھے لکھے افرادتھے۔ان میں حالات کی وسعت کرنے کاایک مذہبی جذبہ بھی عودکرآیا۔کرامویل کی تقریروں میں وہ جوش وجذبہ تھاکہ آگ لگادیتا۔وہ اپنے آپ کواللہ کاسپاہی تصور کرتاتھا۔دوسری جانب پارلیمنٹ کے ارکان سسٹم بچانے کیلئے مذاکرات کررہے تھے۔ لوگوں کوان مذاکرات سے نفرت ہونے لگی۔وہ انہیں فراڈ،دھوکا دہی اوردل کا بہلاوا سمجھتے۔
دسمبر1648کوکرامویل کی اس عوامی فوجی کے ایک جتھے نے ان تمام ارکان پارلیمنٹ کامحاصرہ کرلیا۔ وہ مزید مذاکرات کے حامی تھے۔ اس محاصرے کی قیادت تھامس پرائڈ کر رہاتھا۔ اس واقعے کوتاریخ میں پرائڈسپرج کے نام سے جاناجاتا ہے۔کرامویل اس وقت شمال میں بادشاہ کی وفادارفوجوں سے جنگ میں مصروف تھا۔اگلے دن وہ لندن پہنچا اور ان ارکان پارلیمنٹ کے ساتھ ہوگیا جوبادشاہ پرمقدمہ چلا کراسے منطقی انجام تک پہنچاناچاہتے تھے۔اسے یقین تھاکہ بادشاہ کی موت ہی انگلینڈ میں خانہ جنگی کوختم کرسکتی ہے۔لوگ اب نہ ارکان پارلیمنٹ پربھروسہ کرتے تھے اورنہ کوئی مذاکراتی حل چاہتے تھے۔ بادشاہ پرمقدمہ چلایاگیا۔59ممبران کی عدالت بیٹھی جس نے اسے مجرم گردانتے ہوئے ڈیتھ وارنٹ پردستخط کردئیے۔30جنوری 1649کو مطلق العنان بادشاہ کا سرتیزدھارلہراتے ہوئے چھرے کی زدپرتھا۔
یہ دنیاکی تاریخ کاانوکھا اورعلیحدہ ورق نہیں ہے۔ایسی مثالیں آپ کوجگہ جگہ مل جائیں گی۔ جب لوگ اپنے جذبات اوراحساس سے مذاق صرف ایک حد تک برداشت کرتے ہیں وہ اپنی مرضی کے خلاف قانون سازی کی اجازت اگرایک آمر کونہیں دیتے توپھراسے بھی نہیں دیتے جسے انہوں نے ووٹوں سے منتخب کرکے بھیجا ہوتاہے۔اقتدارکانشہ ایسی چیزہے کہ کبھی بادشاہ کویہ گمان ہونے لگتاہے کہ وہ بالادست ہے اورکبھی پارلیمنٹ یہ یقین کرلیتی ہے کہ وہ بالادست ہے ۔  بالادست توعوام ہوتی ہے۔ نقارہ خلق ہی آواز خدا ہوتاہے۔ جو اس نقارے پراپنے کان بند کرلیتے ہیں ان کی زندگیوں میں کوئی نہ کوئی کرامویل ضرور نکلتا ہے۔اس خوفناک مماثلت کوآپ سمجھ ہی گئے ہوں گے۔



 

تازہ ترین خبریں