08:47 am
کنٹرول لائن پر بھارتی حملہ…اندرون ملک فساد!

کنٹرول لائن پر بھارتی حملہ…اندرون ملک فساد!

08:47 am

٭آزادکشمیر: کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی وحشیانہ فائرنگ جاری ہے۔ گزشتہ روز پاک فوج کے ایک میجر اور ایک کیپٹن زخمی ہو گئے۔ مقبوضہ کشمیر میںبھی کرفیو کو 121 دن ہوگئے ہیں۔ ساری پابندیاں اسی طرح جاری ہیں۔ تینوں سابق وزرائے اعلیٰ فاروق، عمر اور محبوبہ مفتی بدستور نظربند ہیں۔ نریندر مودی نے دو ماہ میں کرفیو اٹھانے کا اعلان کیا تھا، اب تین ماہ سے بھی زیادہ مدت گزر گئی ہے، 80 لاکھ کشمیری باشندے اسی طرح قید ہیں! پاکستان کی حکومتوں کو اعلیٰ افسروں کی ماہوار اکھاڑ پچھاڑ سے فرصت نہیں، اپوزیشن کچھ لندن میں کچھ پاکستان میں آرام کر رہی ہے۔
٭لاہور میںڈاکٹروں اور وکیلوں کے مافیا آپس میںلڑ پڑے ہیں۔ دونوں مافیا ہڑتالوں، سڑکیں بند کرنے اور دہشت گردی میںایک دوسرے سے آگے جا رہے ہیں۔ چند دن پہلے وکیلوں کا ایک گروہ دل کے امراض کے ہسپتال PIC پر چڑھ دوڑا۔ کسی مریض کے بارے میںکوئی شکائت تھی۔ یہ لوگ جتھے کی صورت میں ہسپتال کی ایمرجنسی میںڈاکٹروں پر حملہ آور ہو گئے۔ ڈاکٹروںاور ان کے عملے نے جوابی کارروائی کی۔ سخت ہنگامہ ہوا۔ ایک دوسرے کو سخت زدوکوب کیا گیا۔ ایک دو وکیل زخمی ہو گئے۔ اس پر بات بڑھ گئی۔ پٹائی کے بعد وکیل ہسپتال سے تو نکل آئے مگر تمام عدالتوں میں ہڑتال کے اعلان کے ساتھ کچھ ڈاکٹروں کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا۔ ڈاکٹروں نے بھی جوابی مقدمے کی درخواست دے دی- مقدمہ درج نہ ہوا تو تھانے کا گھیرائو کر کے جیل روڈ کی بڑی سڑک بلاک کر دی۔ دوسری طرف وکلا کا ایک گروہ سول سیکرٹریٹ میں گھس گیا اور ہنگامہ کر دیا۔ اس سے سیکرٹریٹ کا کام بند ہو گیا۔ تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف بپھرے ہوئے ہیں۔ تا دم تحریر ایک دوسرے کے خلاف ڈنڈوں اور لاٹھیوں کے استعمال اور گھروں پر حملوں کی کھلی دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ وکیلوں کا مطالبہ ہے کہ ہسپتال کے ایم ایس اور ڈاکٹروں کو گرفتار کیا جائے۔ ڈاکٹروںکا بھی ایسا ہی مطالبہ ہے۔ لاہور میں چار پانچ روز سے شدید بدامنی پھیلی ہوئی ہے۔ اور وزیراعلیٰ، وزیر صحت، وزیر قانون چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس خاموش تماشا دیکھ رہے ہیں۔
٭ملک پر اچانک ایک سرخ ’ٹڈی دل‘ حملہ آور ہو گیا ہے۔ ایک روز اچانک مختلف شہروں میں سرخ لباس، سرخ دوپٹوں اور سرخ ٹوپیوں والے نوجوانوں کے جتھے امڈ آئے۔ ’ایشیا سرخ ہے، کامریڈوں کو سرخ سلام ‘کے نعروں کے ساتھ طلبا کی یونینیں بحال کرنے کا مطالبہ کر دیا، مطالبات منوانے کے لئے پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسر کے دفتر کا گھیرائو کر لیا اور یونیورسٹی میںجلسے جلوسوں کا اعلان کر دیا۔(وزیراعظم نے یونینیں بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے) یہ طلبا کون ہیں؟ کسی منظم فوج کی طرح اچانک بڑے بڑے جلوسوں کی شکل میںکیسے منظم ہوئے؟ ان کی ملک بھر میں اتنی منظم منصوبہ بندی کیسے ہو گئی؟ ایک اہم بات کہ لاہور میں مکمل طور پر سرخ لباس والی ایک لڑکی جلوس کی قیادت کر رہی اور نعرے لگا رہی تھی۔ پولیس نے انہیں روکا نہیں۔ اب ان ہنگاموںکے مرکزی رہنما عالم گیر وزیرکو گرفتار اور تقریباً 300 افراد کے خلاف ملک دشمن تقریروں اور مظاہرے کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پہلے بتایا گیا کہ عالم گیر وزیر پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم ہے۔ یونیورسٹی نے تردید کر دی تو انکشاف ہوا ہے کہ وہ پی ٹی ایم کے منظور پشتین کا قریبی ساتھی ہے اور وزیرستان سے آیا ہے۔ ایک قابل ذکر خبر کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فوری طور پر ان مظاہرین کے خلاف کارروائی کی مذمت کر دی ہے اور عالمگیر وزیر کی رہائی کا مطالبہ کر دیا ہے!!
٭اسی کالم میں چند روز پہلے نشان دہی کی گئی تھی کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں اور نوجوانوں کی تنظیموں میں باقاعدہ منظم طور پر ’خاص‘ موضوعات پر مذاکروں اور لیکچروں کا منظم سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ ان اجتماعات میںقیام پاکستان،اسلامی تعلیمات کے خلاف اور سیکولرزم اور اشتراکیت کے حق میں فضا ہموار کی جا رہی ہے۔ اب آسان راستہ تلاش کیا گیا کہ تمام تعلیمی اداروں میں یونینیں بحال کر دی جائیں۔ اصولی طور پر طلبا کی یونینوں کا قیام بری بات نہیں۔ بڑے بڑے ترقی یافتہ ملکوں میں طلبا کی یونینیں، طلبا کے لئے علمی، ادبی، ثقافتی پروگرام تیار کرتی ہیں۔ بامقصد علمی و سماجی موضوعات پر مذاکرے ہوتے ہیں۔ اس طرح طلبا کو عملی زندگی کے مختلف پہلوئوں کے بارے میں اہم معلومات اور تربیت حاصل ہوتی ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو آکسفورڈ یونیورسٹی کی یونین کی صدر رہ چکی ہیں۔ میں نے خود یونیورسٹی کے زمانے میں یونیورسٹی یونین کی قیادت کی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ مل کر طلبا کے بہت سے مسائل حل کرائے اور مختلف شعبوں میں اہم بامقصد مذاکرے اور دوسرے پروگرام منعقد کرائے ۔ یہ تمام پروگرام اتنے پرامن اور پرسکون ہوتے تھے کہ ان میں خود ممتاز اساتذہ بھی شرکت کرتے تھے۔ مگر پیپلزپارٹی کے دور سے اچانک ماحول بدل گیا۔ سیاسی جماعتوں کو تعلیمی اداروں میں کام کرنے کی کھلی اجازت دے دی گئی۔ ان پارٹیوں کی قائم کردہ دائیں اور بائیں بازو کی تنظیمیں ایک دوسرے کے خلاف باقاعدہ خونریز محاذ آرائیوں پر اتر آئیں۔ متعدد طلبا ہلاک و زخمی ہو گئے، اساتذہ کی سرعام تذلیل بلکہ انہیں زدو کوب کرنے کے الم ناک واقعات شروع ہو گئے۔ فوجی حکمران یونینوں پر پابندی لگا دیتے اور سیاسی حکمران اپنے طلبا کو جلسے جلوسوں میں استعمال کرنے کے لئے یونینیں بحال کرتے رہے۔ اس وقت ملک بھر میں یونینوں پر پابندی ہے مگر عملی طور پر ان کا وجود باقی ہے۔ اب پھر یونینوں کی بحالی کا مسئلہ اٹھایا جا رہا ہے، تا کہ ایک بار پھر تعلیمی اداروں میں تعلیم کی بجائے لڑائی جھگڑوں اور انتشار کو فروغ دے کر ملک کے امن اور استحکام کو متزلزل کر دیا جائے۔ طلبا کی یونینوں کا قیام اچھی بات ہے میں ان کے حق میں ہوں۔مگر جو کچھ اب تک ہوتا آیا ہے اس کی حمائت کیسے کی جا سکتی ہے جب کہ بیرونی قوتیں پوری تیاری کے ساتھ حملہ آور ہو چکی ہیں؟
٭الیکشن کمیشن کے چیئرمین کی نشست 6 دسمبر کو خالی ہو رہی ہے۔ کمیشن کے پانچ میں سے سندھ اور بلوچستان کے دو ارکان کی نشستیں پہلے ہی خالی ہیں۔ اگلے چار روز میں یہ خالی نشستیں پُر نہ ہوئیں تو الیکشن کمیشن بالکل غیر فعال ہو جائے گا، اس کا فوری فائدہ تحریک انصاف کو ہو گا جس کے خلاف غیر ملکی امداد کا کیس الیکشن کمیشن کے پاس زیر سماعت ہے۔ کمیشن کے چیئرمین اور دوسرے ارکان کی تقرری وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے اتفاق رائے پر منحصر ہے۔ ان دونوں نے ایک دوسرے کے نام مسترد کر دیئے ہیں۔ یہ معاملہ بہت طول پکڑ سکتا ہے، اس کے باعث پنجاب میںبلدیاتی انتخابات بھی غیر معینہ عرصے کے لئے ملتوی ہو سکتے ہیں!
٭ن لیگ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ نوازشریف کی بیماری کی لندن میںبھی تشخیص نہیں ہو سکی، اس میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے نوازشریف کو علاج کے لئے 17 دسمبر تک دو ماہ کی ضمانت پر رہائی دے رکھی ہے مگر ابھی تک موصوف کا کوئی علاج ہی شروع نہیں ہو سکا! اب ہائی کورٹ میں مزید مدت کی درخواست دائرکی جا رہی ہے! یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ نوازشریف کے لئے صحت یاب ہونا خطرے کی بات ہے،واپس پاکستان آ کر پھر جیل!!! صحت یاب ہونے کا خطرہ کیوں مول لیا جائے؟
٭ایک دوسرے کی جانی دشمن حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی کرپشن چھپانے بلکہ جاری رکھنے کے لئے ایک دوسرے سے بغل گیر ہو گئی ہیں۔ حکومت نے نیب کو مکمل طور پرمفلوج اور معذور کرنے کے لئے 31 ترامیم تیار کی ہیں ان کی قانون سازی کے بعد نیب کے چیئرمین کے پاس کسی کرپشن کے مواخذہ کا اختیار ختم ہو جائے گا۔ یہ اختیار حکومت کے زیراثر چھ سرکاری افسروں کو منتقل کیا جا رہا ہے۔ پانچ کروڑ کی بجائے 50 کروڑ روپے تک کرپشن پر کوئی کارروائی نہیں ہو گی، 90 دنوں کی بجائے کرپشن کی تحقیقات صرف 14 دنوں تک محدود رہیں گی (بالکل ناقابل عمل) تحقیقات مکمل نہ ہوئیں تو کیس ختم! بہت سے محاورے ہیں ایک بُرا سا محاورہ کہ ’’چور اور …مل گئے…!!‘‘ مدینہ ریاست!!!
 

تازہ ترین خبریں