07:11 am
حسنِ حکمرانی کے چند بنیادی اصول

حسنِ حکمرانی کے چند بنیادی اصول

07:11 am

بہتر زندگی حسن ِ ترتیب کا نام ہے ۔ ترجیحات واضح ہوں تو ان کو ترتیب دیا جانا ازحد ضروری ہوتا ہے۔ شخصی زندگی میں بھی اس کی اہمیت ہو
بہتر زندگی حسن ِ ترتیب کا نام ہے ۔ ترجیحات واضح ہوں تو ان کو ترتیب دیا جانا ازحد ضروری ہوتا ہے۔ شخصی زندگی میں بھی اس کی اہمیت ہوتی ہے لیکن جہانبانی میں تو حسن ترتیب بہرحال ناگزیر شے ہے۔ روز مرہ زندگی میں اگر کوئی شخص مصروفیت کا رونا روتا دکھائی دے تو سمجھ لیجئے کہ اس کے معمولات میں دو چیزوں کی کمی ہے۔ اول ،اس کے معاملات بے ترتیب ہیں ۔ دوم ' اس نے پاور اور اتھارٹی کو سینٹرلائز کیا ہوا ہے یعنی ہر کام اور ہر شے کے لیے اپنی ذات کو اس نے ناگزیر بنا رکھا ہے۔ حسن حکمرانی میں جہاں معاملات اور ترجیحات کی حسن ترتیب ضروری ہے وہیں اتھارٹی کو اوپر سے نیچے تک منتقل کرنا بہت ضروری امر ہے۔ مدت ہوئی سٹیفن آرکووے کی شہرہ آفاق کتاب Seven habits of highly effective people" پڑھی تو یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ موثرلیڈر شپ ڈیلیگیشن آف پاور کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ بادشاہ جن کی ذات میں ہر ریاستی کام مرتکز ہوتا ہے کو بھی اختیارات کی مناسب حد تک منتقلی کرنی پڑتی ہے وگرنہ ریاستی معاملات چل نہیں سکتے۔ جمہوریت تو خیر نام ہی اختیارات کی لا مرکزیت کا ہے۔ آج مہذب معاشروں میں اختیارات اور مالیات کی لامرکزیت کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ مالیاتی اعتبار سے چین اس وقت سب سے آگے ہے جہاں قومی بجٹ کا 50فیصد سے زائد حصہ مقامی اداروں (لوکل گورنمنٹس) کے ذریعے خرچ کیا جاتا ہے۔
حسن حکمرانی کا ایک اور اہم اصول ہم منصب پر موزوں شخص کا تقرر ہے ۔ یہ موزوں شخص کون ہوسکتے ہیں کا فیصلہ منصب کے تقاضے کے مطابق کسی شخص کے علم ، مہارت اور تجربے کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ علم، مہارت اور تجربہ ایک شخص کی استعداد کار کا تعین کرتے ہیں۔ اگر کسی کو منصب سونپتے وقت ان صلاحیتوں کو پیش نظر نہ رکھا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ حکومتی یا شعبہ جاتی امور کو دائو پر لگا دیا گیاہے۔ کسی منصب پر موزوں شخص کا تقرر ہی میرٹ ہے، شرط مگر یہ ہے کہ تمام لوگوں کو اس منصب کے حصول کے لئے مساوی مواقع دیئے جائیں۔
عدم مداخلت کی پالیسی کی بھی مہذب اقوام میں پیروی کی جاتی ہے کیونکہ جب اختیارات تفویض کر دیئے جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ جابجا مداخلت نہیں کی جائے گی۔ ’’اختیار آپ کا ذمہ داری آپ کی‘‘ کا اصول ہمیں بتاتا ہے کہ مداخلت کیے بغیر نتائج لینا ہی اصل دانش مندی ہے۔ جب خواہ مخواہ کسی کام میں دخل دیاجائے تو کارکردگی کبھی اچھی نہیںہو سکتی۔ مداخلت اچھی نیت سے ہو یا نیک ارادے سے یا بری نیت اور ارادے سے ہو،مداخلت اپنے تئیں ہی ایک بری چیز ہے تاوقتیکہ کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے مداخلت ناگزیر نہ ہو جائے۔ 
حسن حکمرانی درکار ہو تو معاملات میں شفافیت ضروری ہو جاتی ہے۔ یاد رکھئے! سانچ کو آنچ نہیںہے اور جھوٹ کو لوگ ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ آپ لوگوں کو دھوکا نہیں دے سکتے اس لیے جو کام کرنا مقصود ہو اسے اس طرح انجام دیجئے کہ دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں سے لوگ اس کا مشاہدہ کر سکیں۔ شفافیت کے خمیر سے حسن حکمرانی کی ایک اور صفت ابھرتی ہے اور وہ ہے معلومات تک عام آدمی کی رسائی۔ آمرانہ طرز حکمرانی میں معلومات کو چھپایا جاتا ہے جب کہ جمہوریت میں عام آدمی کو معلومات تک رسائی دی جاتی ہے۔ یہاں کچھ خفیہ نہیںہوتا ، یہی وجہ ہے کہ معلومات تک رسائی کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے جمہوری معاشروں میں "Right of Access to Informations Act"لائے گئے ۔ ایک باخبر معاشرہ ہی اپنی آزادی کا سب سے بڑا محافظ ہوتا ہے۔ جمہوریت کے جس تصور پر دنیا ایمان لے کر آئی ہے اس میں معاملات کو پوشیدہ رکھنے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ معاملات آشکار ہوں گے تو ان میں شفافیت آئے گی وگرنہ درون خانہ کیا کھچڑی پک رہی ہے اس کا کسی کو کیا پتہ۔ 
حسنِ حکمرانی اپنی ذمہ داری کی فوری اور بروقت ادائیگی کا نام ہے۔ جو جہاںجس منصب پر بیٹھا ہے اگر وہ اپنے منصب کے تحت ملنے والی ذمہ داری کی ادائیگی میںکوتاہی برتتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ برائی کا سبب بن رہا ہے ۔ حسن حکمرانی یقینی بنانا ہو تو اس میں برائی کے منبع کا تعین پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ کام اوپر سے شروع ہونا چاہیے اور نیچے تک مکمل سکروٹنی ہونی چاہیے تاکہ پتہ چل سکے کہ خرابی کہاں ہے۔ بیماری کی تشخیص ہو گی تو اس کا علاج کیا جا سکے گا۔ ایک محاورہ ہمارے یہاں عام طور پر بولا جاتا ہے کہ آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے' مطلب اوپر سے لے کر نیچے تک سب کام چور،نکمے،نکھٹو اور نالائق ہیں یا پھر رشوت خور ہیں۔ اگر کسی معاشرے میں یہ کیفیت موجود ہو تو وہاں حسنِ حکمرانی کا خواب کیوں کر شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے۔ جہاں اپنے جائز کاموں کے لیے بھی لوگوں کو ماہ و سال خوار ہونا پڑے اور ریاستی ادارے و اہلکار ان سے تحقیر آمیز سلوک کریں اور احسان جتلا کر کام کریںوہاں حسنِ حکمرانی کی بات کرنا تو دور کی بات ایسی انداز حکمرانی پر کئی طرح کے سوالات اٹھتے ہیں۔ یہیں سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی حکمران اپنے عوام سے کس قدر دور ہے۔ حسنِ حکمرانی کے لیے ضروری ہے کہ حکمران تک عام آدمی کی رسائی ہو۔ ریاست مدینہ اس ضمن میںایک روشن مثال ہے۔ لاکھوں مربع میل پر پھیلی ہوئی سلطنت کے حکمران تمام تر خطرات کے باوجود عام آدمی کی رسائی میں تھے۔ اگر حکمران عوام سے دور ہو گا تو اسے حقائق سے آگہی کیسے ہو گی اور حکومتی اہلکاروں کی غفلت' بدنظمی اور بداعمالی کی اسے خبر کس طرح ملے گی؟اچھی حکمرانی اچھے فیصلوں کا تقاضا کرتی ہے اور اچھے فیصلے تب تک ممکن نہیں ہیں جب تک خوب سوچ بچار اور بھرپور مشاورت نہ کی جائے۔ قرآنی اصول ہے ''و امرھم شوری بینھم'' اور ان کے فیصلے باہمی مشاورت سے ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے بڑھئی کا اصول بھی پیشِ نظررکھاجانا چاہیے جو کہتا ہے ''دو مرتبہ پیمائش کرو اورپھر کاٹو'' (Measure Twice, Cut Once) ایک سب سے اہم بات ' اچھی حکمرانی کے لیے اچھے شخصی اوصاف رکھنے والی قیادت ہونی چاہیے۔ سچی ' دیانتدار' مخلص ' عہد کی پاسداری کرنے والی ' ہمدردی اور ایثار کے جذبات سے لبریز ' صادق اور امین ' محنتی' ذہین اور بہادر' قوت فیصلہ کی حامل ' علم اور مہارت رکھنے والی قیادت نہ ہو گی تو حسنِ حکمرانی کی منزل کاحصول ہمیشہ ایک خواب ہی رہے گا۔ جن معاشروں نے ترقی کی معراج کو چھوا اورجو ہر دور میں مہذب معاشرے کہلوائے ان کی قیادت چور' لٹیرے' بدعنوان ' بدمعاش ' بدعہد ' بدکردار اور نالائق لوگوں کے ہاتھ میں کبھی نہیں رہی' اعلی ترین شخصی اوصاف سے مزین قیادت ہی حسنِ حکمرانی کو یقینی بناتی ہے جو بصیرت و حکمت کے ساتھ قوم و ملک کو عروج کی جانب گامزن کرتی ہے اور لوگوں کے لیے وسیلہ نجات بنتی ہے۔