08:14 am
جنگ زدہ ایران و عرب پر تاریخ میں محفوظ ہوتا کالم

جنگ زدہ ایران و عرب پر تاریخ میں محفوظ ہوتا کالم

08:14 am

ایرانی سفیر مہدی ہزدوست کا بطور سفیر عہد سفارت ختم ہوگیا ہے‘ انہوں نے پاکستانی میڈیا میں بہت اثرورسوخ حاصل کیا اور یہ تاثر بھی وہ اہل قلم‘ اینکر پرسن صحافیوں کو دینے میں مصروف رہے کہ سعودیہ ہی اصلاً اتحاد امت مسلمہ کا قاتل ہے۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے رمضان میں بھی 35کے قریب صحافیوں کو بڑے ہوٹل میں مدعو کیا اور ان کے سامنے اپنا موقف بھی دیا تھا۔ مجھ تک یہ بات ایک ثقہ ریاستی ادارے کے ذریعے پہنچی کیونکہ مین نے سعودیہ و امارات کے سفارت کار دوست  سے مکمل مایوس ہو کر اس ریاستی ادارے سے ایرانی سفارت خانے کی طرف سے ہونے بھی جارحانہ  ’’مساعی جمیلہ‘‘ میں ’’ذاتی تحفظ‘‘ کی بات کی تھی۔ میں جناب مہدی ہزدوست کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ایک سفیر سے آگے بڑھ کر پرجوش انقلابی ایرانی سیاسی کارکن کا کردار پاکستان میں بہت خوب طریقے سے ادا کیا ہے یہ ’’وصف‘‘ اور یہ ’’جرات‘‘ ماشاء اللہ سعودیہ ‘امارات ‘ بحرین و کویت کے سفارت کاروں  میں مجھے کبھی دکھائی نہیں دی بلکہ مجھے سعودیہ و امارات کی طرف سے مشکل ترین حالات میں جس میں زندگی کے حوالے سے بھی کچھ ’’خدشات‘‘ لاحق تھے نہ صرف مدد نہ ملی بلکہ عملاً مکمل لاتعلقی اپنا لی گئی تھی ‘  لیکن مجھے حیرت اور تعجب ہوا کہ میرے کالموں کی بندش تو جناب ہزدوست نے حاصل کرلی مگر اللہ تعالیٰ نے مجھ فقیر کے اس ماضی بعید کے لکھے ہوئے تجزیاتی  و جدان کو عراق و لبنان میں سچا ثابت کر دیا ہے۔ میں نے لکھا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ شیعہ عرب ایران کے خلاف خود اٹھ کھڑے ہونگے۔ پھر توسیع پسند  عجمی ایران کیا کرے گا؟
 عراق میں جو حکومت مخالف شدید احتجاج اور مظاہرے ہورہے ہیں۔ ان میں بہت سی اموات بھی ہوچکی ہیں۔ کئی بار عراقی سرزمین پر ایرانی قونصلیٹ جلائے گئے اور ایرانی پرچم اتار  کر عراقی پرچم لہرایا گیا۔ خود ایران میں ولایت فقیہہ کی فیصلہ سازی کے خلاف مسلسل احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ بہت سی اموات ہوئیں۔ میں نے عمداً اس دوران قلم نہیں اٹھایا مگر اب تحدیث نعمت الٰہی کے طور پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھ فقیر کو اپنے نظام کائنات کے ذریعے سچا ثابت کر دیا ہے میں اکثر لکھتا تھا کہ ایران کو سنی مسلمانوں کا سیاسی حمایتی بننا چاہیے۔ شیعہ مسلک کے انقلاب کو برآمد کرکے مشرق وسطیٰ کو تبدیل کرنا بالآخرعجمی ایران کے اپنے لئے بھی نقصان کا باعث ہوگا۔ میری لکھی ہوئی یہ باتیں اب خود ایران کے سامنے آگئی ہیں ۔ عراق کے شیعہ رہنما مقتدیٰ الصدر اور آیت اللہ علی السیستانی تک ایران مخالف ہوچکے ہیں اور عراقی  سرزمین کو ایرانی ملیشیاء سے پاک صاف دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایران مخالف سعودی دوست مقتدیٰ الصدر پر ڈرون حملہ ہو چکا ہے کیونکہ وہ ایران کی طرح امریکہ کے سخت مخالف ہیں۔ ان پر کس نے حملہ کیا ہے؟    البتہ عراقی سنی عرب اور سنی کرد ایران مخالف مہم میں شامل نہیں۔
لبنان میں حزب اللہ کے خلاف لبنانی شیعہ نوجوان سنی نوجوانوں کے ساتھ مل کر اتنا احتجاج کرتے رہے کہ  حریری حکومت میں فوقیت رکھتی  حزب اللہ کا اقتدار بھی ختم ہوگیا ہے۔ سعودیہ نے لبنانی امداد بند کی ہوئی ہے  کیا ایرانی انقلاب کو پرجوش شیعہ عرب ردعمل نے دبوچ لیا ہے؟ انقلاب اور ردعمل انقلاب کا مطالعہ و تجزیہ کرنے والوں کے لئے  انقلاب ایران مخالف شیعہ عرب  بہار کا مطالعہ ردعمل انقلاب میں دلچسپی رکھنے والے نئے حقائق سے روشناس کردار رہا ہے۔ کسی بھی انداز میں چونکہ سعودیہ و امارات کویت و بحرین کا میں معمولی سا بھی ممنون احساس نہیں ہوں ان سے کچھ لئے بغیر ان کی حمایت صرف اس لئے لکھتا تھا کہ ان کے جغرافیے کو امریکی ڈیپ اسٹیس کی فراہم کردہ  مکمل تائید و مدد سے توڑا جارہا تھا اور وہ بھی ان کا جغرافیہ صرف  نئی  شیعہ عرب ریاستوں کی تخلیق کے لئے   انقلاب ایران کو استعمال کرنے کی یہ نادر امریکی حکمت عملی  تھی جس کا میں توڑ کر رہا تھا۔
گزشتہ کالموں میں میں ایران پر اقتصادی پابندیوں کو مسترد کر چکا ہوں۔ ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی کو غلط لکھ چکا ہوں۔ پاک ایران قریبی ہمسائیگی تعلقات کی بات اب میں ہمیشہ لکھوں گا ایران کا یہ کمال تھا کہ جب عرب اپنا سرمایہ بھارت میں لیکر جاتے رہے تو ایران میں سرمایہ  کاری بھارت نے خود کی ہے مگر بھارت نے  پاکستان مخالف اس کا اکثر  غلط استعمال کیا ہے کلبھوشن کا معاملہ اس کی مثال ہے۔ شاید اسی لئے جنرل راحیل شریف ایرانی صدر کی آمدپر ان سے ناراض تھے۔
 میں نئے ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔ اپنے آپ سے بھی توقع کرتا ہوں کہ میں خواہ مخواہ عربوں کا مفت کا حمایتی اور ایران کا مفت میں مخالف نہیں بنوں گا۔ انشاء اللہ البتہ سید محمد علی حسینی سے ضرور توقع کرتا ہوں کہ وہ  استدلال  و فکر اور مکالمے  پر مشتمل کالموں کی اشاعت رکوانے والا غیر مہذب راستہ بند کروائیں گے ۔ بات کریں اور دلیل دیں اور مکالمہ کریں۔ کالم کے آخر میں اس پیش رفت کا ذکر جو سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبداللہ کی قیادت میں  تین دن سے  اسلام میں اہم ترین ملاقاتوں میں مصروف رہا ہے۔
 دلچسپ بلکہ بہت دلچسپ کہ ایران کے اتحادی قطر سے اب سعودیہ کی مفاہمت ہونے جارہی ہے جبکہ سعودیہ حوثیوں کی جارحیت کو نظرانداز کرکے ان سے مفاہمت کی بھرپور کوشش کر رہا ہے تاکہ عرب اتحاد کا حصول ہو۔ نئے ایرانی سفیر محترم سید محمد علی حسینی صحافت میں 30سالہ تجربہ رکھتے ہیں اس کا مطلب ہے ان کا عہد میڈیا اور صحافت میں ایرانی موقف زیادہ منظم طریقے سے پیش کرے گا شائد عرب سفارتخانوں کے پاس اس کا منظم ردعمل دینے کی صلاحیت  پر کافی بڑی نظرثانی کی ضرورت پیش آئے گی۔