07:30 am
بھارتی آئینی ترمیم اور اس کا عالمی و بھارتی شدید ردعمل

بھارتی آئینی ترمیم اور اس کا عالمی و بھارتی شدید ردعمل

07:30 am

بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نامی گجراتی مسلمان دشمن نے لوک سبھا سے متنازعہ مسلمان دشمن آئینی ترمیم کا بل منظور کروالیا ہے جبکہ امریکی مذہی کمیشن نے تجویز دی ہے کہ امیت شاہ پر پابندی لگائی جائے۔ 
میں اس امریکی مذہبی کمیشن کی تجویز پر مسکرا رہا ہوں۔ ماضی بعید میں اگر جائیں کہ جب وزیر اعلیٰ گجرات نریندر مودی اور اس کے مسلمان دشمن امیت شاہ نامی دست راست نے دوہزار سے زائد معصوم مسلمانوں کا قتل عام کیا تھا تو امریکہ و برطانیہ میں مودی ناپسندیدہ  اور قاتل سمجھا گیا تھا۔ اس کا داخلہ بند کیا تھا مگر جب یہی قاتل اور دہشت گرد مسلمان دشمن بی جے پی کا سیاسی گرو بن کر مسند اقتدار پر براجمان ہوگیا تو امریکہ و برطانیہ کو سانپ سونگھ گیا ۔ ہمارے ملک کے رائو انوار کو جعلی انکائونٹر کرنے کے سبب امریکہ میں داخلے پر پابندی کی نوید آگئی ہے مگر میں امریکی مذہبی کمیشن سے پوچھتا ہوں کہ اکیلے امیت شاہ پر پابندی کیوں؟ اس کے ساتھ نریندر مودی پر بھی پابندی کیوں نہیں؟ صرف نہیں بلکہ بھارت جو انتہا پسند مذہبی جنونیوں کی ہاتھ میں ہے اس کے ساتھ سیاسی، معاشی، سٹرٹیجک اتحاد کا خاتمہ بھی تو کریں۔ اس کے ساتھ ایٹمی مواد کے معاہدے بھی تو ختم کریں۔ اس مذہبی جنونی گروہ کے پاس اقتدار کا مطلب انسانیت کا خاتمہ ہے یا انسانی تہذیب و تمدن کا وسیع المشرب کردار کا استحصال۔  بہرحال پاکستانی قومی اسمبلی نے بھارتی لوک سبھا میں مسلمان دشمن بل کی ترمیم کے حوالے سے مذمتی قرارداد منظور کی ہے۔
 داخلی طور پر اس بل کی منظوری سے ریاست تری پورہ میں ہزاروں افراد شہریت بل کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے   دارالحکومت اگرتلہ میں11 گھنٹے کی طویل ہڑتال ہوئی۔ تری پورہ میں احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ ’’تری پورہ‘‘ کو اس بل سے باہر نکالا جائے۔ بنگالیوں کو اس بل کی زد اپنے اوپر پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہی بات آسام میں موجود بنگالیوں کی بھی ہے۔ رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے اس بل کو سیکولر ازم کے خلاف قرار دیا ہے۔ کانگرس نے  ملک گیر دھرنوں کی کال دے دی ہے۔ راہول گاند ھی کے بقول یہ بل آئین پر حملہ ہے۔ بھارت کے 600سے زائد دانشوروں، فنکاروں، سابق ججز نے بل کو امتیازی، غیر آئینی اور تقسیم پر مبنی قرار دیا ہے۔ 
شہریت بل کے مطابق پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان سے جو ہندو ، سکھ، جین مت، مسیحی ، بدھ مت کے پیر وکار 31 دسمبر2014 ء تک بھارت میں آچکے انہیں شہریت دی جائے گی۔
امریکی مذہبی کمیشن نے فوراً ردعمل دیتے ہوئے امیت شاہ پر پابندی کی تجویز دی ہے۔ امریکی مذہبی کمیشن  صدر ٹرمپ کے نامزد کردہ ارکان   اور امریکی کانگرس کے  دونوں ایوانوں کے ارکان پر مشتمل ہے۔ بل میں غیر رجسٹرڈ مسلمانوں کی شہریت ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ امریکی   مشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آسام، تری پورہ اور ملک بھر میں جاری آئینی عمل کے سبب کروڑوں مسلمانوں کے لئے مذہب کی بنیاد پر شہریت ختم ہونے کی فضا تیار ہوگئی ہے جبکہ بھارتی وزارت خارجہ نے امریکی مشن کے پینل کے موقف کو غلط قرار دیا ہے ان کے مطابق یہ بل تو اقلیتوں کی مدد کے لئے پاس ہوا ہے۔
مسلمان رہنما اسد الدین اویسی  رکن پارلیمنٹ کا موقف ہے کہ یہ بل آئین کے آرٹیکل14 کی خلاف ورزی ہے۔ اس وقت بھارت کی مشرقی ریاستوں میں مظاہرے اور احتجاج ہو رہا ہے جبکہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ 1985 ء کے آسام معاہدے کی بھی یہ بل خلاف ورزی ہے کیونکہ1985 ء کے معاہدے میں طے ہوا تھا کہ 24مارچ1974 ء تک آسام میں آنے والے بنگلہ دیشیوں کو بھارتی شہری تسلیم کیا جاتا ہے۔ مگر اب نئی آ ئینی ترمیم سے مسلمان بنگالیوں کو شہریت سے محروم کر دیاگیا ہے۔ مودی حکومت اگست میں آسا م میں رہنے والے 19 لاکھ مسلمان بنگالیوں کو شہریت سے خارج کرچکی ہے۔ اس بل کو نریندر مودی اپنی بڑی کامیابی تصور کررہا ہے۔ ’’بلومبرگ‘‘ میں پنکج مشراکے شائع شدہ مضمون کے مطابق موجودہ بھارت کو اس کے نئے بیانیے کے سبب ہندوانتہا پسندوں کی سوسائٹی کہا جارہا ہے جس نے پورے ملک کو یرغمال بنالیا ہے جبکہ بھارت کی معیشت سست روی کا شکار ہوچکی ہے۔
’’نیویارکر‘‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں جنونیوں کے پاس اقتدار آگیا ہے جو اپنے مقصد کے حصول کے لئے کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ ’’نیویارکر‘‘ نے ایک مضمون ’’بھارت میں تبدیلی مکمل ہونے والی ہے‘‘ بھی شائع کیا ہے جس میں مودی حکومت کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔