09:07 am
بھارتی مظلوم بنگالی مسلمان اور بنگلہ دیشی خارجہ پالیسی

بھارتی مظلوم بنگالی مسلمان اور بنگلہ دیشی خارجہ پالیسی

09:07 am

تری پور اور آسام میں مسلمان بنگالیوں کی شہریت منسوخ ہوچکی ہے۔ لوک سبھا کے بعد شہریت بل تو راجیا سبھا سے بھی امیت شا نے منظور کروالیا ہے، آسام میں فوج تعینات ہے اور کرفیو نافذ ہے مگر پورے صوبے میں شدید احتجاج اور مظاہرے ہو رہے ہیں۔ یہی صورتحال مشرقی ریاستوں کی بھی ہے تری پورا بھی ان مشرقی جنوبی ریاستوں کا حصہ ہے۔ آسام کی طرح آسام میں مظاہرین نے کرفیو کی بار بار خلاف ورزی کی تو فوجیوں نے 4افراد کو قتل کر دیا ہے۔ یہ واقعہ کوہاٹی میں نمودار ہوچکا ہے۔
بنگلہ دیش کے وزیر داخلہ اور وزیر خارجہ عبدالمومن اور اسدالزمان نے بھارت کا دورہ کرنا تھا مگر بھارت کے شہریت قانون کے ردعمل میں دونوں بنگلہ دیشی وزراء کا دورہ منسوخ ہوگیا ہے جبکہ بنگلہ دیش نے اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کو بھی مسترد کر دیا ہے۔ آسام اور تری پورا میں آئینی ترمیم سے شدید متاثر چونکہ بنگالی مسلمان ہیں‘20لاکھ کے قریب آسامی بنگالی مسلمانوں کی شہریت سے انکار کا مطلب انہیں واپس بنگلہ دیش جانا پڑے گا۔ یہ بات وزیراعظم حسینہ واجد کی بھارتی دوستی اور بھارت نواز مسلسل خارجہ پالیسی کے لئے مودی کی طرف سے ’’تحفہ‘‘ ہے۔ کیا وزیراعظم حسینہ واجد نئے شہریت قانون کے سبب پرانی والی بھارت نواز خارجہ پالیسی برقرار رکھیں گی؟ ایسا ہونا شاید اب اتنا آسان نہیں رہے گا کیونکہ آسامی اور تری پورا کے بنگالی مسلمانوں کے سبب بنگلہ دیش کے لئے ناممکن ہوجائے گا کہ وہ مسلمان دشمن ہندوتوا ایجنڈے کی مودی حکومت کے ساتھ پرانی طرز کے پاکستان دشمن تعلقات کو دوام دے جبکہ پاکستان ہی واحد ملک ہے جو مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اب مشرقی جنوبی بھارتی ریاستوں میں بسنے والے مظلوم مسلمانوں، تری پور اور آسام کے مظلوم بنگالی مسلمانوں کی بھی دفاعی جنگ لڑ رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان مسلسل بھارتی مظلوم اور لاچار مسلمانوں کا مقدمہ عالمی فورم پر مسلسل پیش کر رہے ہیں۔
نئی دہلی سے آمدہ خبر کے مطابق سیاسی جماعت انڈین یونین مسلم لیگ نے بھارتی پارلیمان سے منظور ہونے والے شہریت سے متعلق متنازعہ مسلم مخالف ترمیمی بل کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے مگر جس طرح بابری مسجد کے حوالے سے سپریم کورٹ نے اصل زمینی تاریخی حقائق اور واقعات کی بجائے ہندوتوا ایجنڈے کو مذہبی طور پر قبول کرکے بابری مسجد ہندوئوں کو دے دی ہے اس تجربے کی روشنی میں لوک سبھا اور راجیا سبھا سے منظور شدہ بل کے سامنے سپریم کورٹ مسلمان نواز فیصلہ تو ہرگز نہیں کر ے گا لہٰذا سپریم کورٹ میں انڈین یونین مسلم لیگ کا مقدمہ محض نفسیاتی سہارا ہے ورنہ ہوتا تو وہی ہے جو پارلیمنٹ سے منظور ہوچکے قانون کا مطلب اور مفہوم ہے۔
خدا کو کیا منظور ہے؟ ہندوتوا کی برتر سیاسی قوت والی مودی حکومت کا پورے برصغیر میں مسلمان دشمنی کا بے سورج اب نصف النہار کی طرف جارہا ہے۔ 1930ء سے لیکر آج تک کشمیری غلام اور مظلوم ہیں۔ ان کے ساتھ نہرو اور شیخ عبداللہ نے دھوکہ کیا تھا، انہیں کانگرس نے استعمال کیا تھا مگر موجودہ مودی حکومت نے تو کھلے عام بلکہ انتخابی منشور کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں جغرافیائی آئینی تبدیلی کے ذریعے عملاً وہ کچھ کر دکھایا ہے جو ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ 
بھارتی مسلمان میری نظر میں تو بہت ہی بے بس ہیں۔ وہ گزشتہ عشروں میں دو قومی نظریے کے باطل ہونے، پاکستان کی تخلیق کو قائداعظم کی ہٹ دھرمی اور انا کی تسکین کا نام دیا کرتے تھے۔ بھارت میں مسلمانوں کے تحفظ کے لئے بھارتی علماء کشمیری مسئلے میں تو صرف بھارتی حکومت کی حمایت کھل کر کیا کرتے ہیں جیسا کہ اب چند ماہ قبل بھی جمعیت العلمائے ہند کے دونوں دھڑوں اور اہل حدیث علماء کی طرف سے مودی حکومت کی کشمیر پالیسی کی حمایت ہوئی مگر آسامی اور تری پورا کے بنگالی مسلمانوں اور نئے شریعت بل کی منظوری سے مودی کی حمایت کرنے والے بے بس اور لاچار علماء کے لئے بھی تو ہر راستہ بند ہوتا جارہا ہے۔ شہریت بل کی منظوری کو بھارت میں قائداعظم کے دو قومی نظرئیے کی جیت اور گاندھی کی شکست سے تعبیر کیا جارہا ہے۔اللہ تعالیٰ کیا ہندو مسلمان کشمکش کو تخلیق کر رہا ہے؟
ماضی بعید میں پاکستان دشمن میں حسینہ واجد کا بنگلہ دیش بھارت نواز تھا مگر اب اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ’’تقدیر‘‘ سے آسامی اور بنگالی مسلمانوں کے ساتھ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں جیسا برا حال شائد برصغیر میں ’’نئی ہندو مسلمان کشمکش‘‘ کا نیا احیاء بن رہا ہے۔ حسینہ واجد کے لئے پاکستانی موقف کے ساتھ کھڑے ہونے کے سوا شاید کوئی راستہ موجود نہیں ہوگا۔ 80سالہ ماہر نجوم و فلسفہ و انگریزی ادبیات کے پروفیسر غنی جاوید مجھے کہا کرتے تھے کہ برصغیر میں پھر سے مسلمان ہندو کشمکش طلوع ہوگی تو 1947ء میں پاکستان بننے سے بھی وہ کشمکش ختم نہیں ہوسکی تھی ہندوتوا ایجنڈے کی حکومت آئی اور پوری جمہوری جیت کے ساتھ آئی اور اب جس طرح مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کو ’’فتح‘‘ کیا گیا، اسی طرح اب مشرقی جنوبی بھارتی ریاستوں کے مسلمانوں کو بنگلہ دیش کی طرف دھکیل دئیے جانے کی فضا تیار ہے تو پروفیسر غنی کی بات میں وزن محسوس ہو رہا ہے؟ کیا اگلا عشرہ برصغیر میں مسلمان ہندو کشمکش میں بہت تیزی آنے والی ہے؟