08:51 am
مسلط ہوتی متوقع بھارتی جارحانہ جنگ

مسلط ہوتی متوقع بھارتی جارحانہ جنگ

08:51 am

آئیے بھارتی ہندوتوا بی جے پی حکومت کا مطالعہ اور مشاہدہ آج ایک بار پھر کرلیں۔ پاکستان دشمنی، برصغیر میں بالعموم اور بھارت میں بالخصوص مسلمان دشمن، مقبوضہ کشمیر میں بھی مسلمان دشمنی، اس کے ساتھ ساتھ دلت و مسیحی و سکھ دشمنی کی بنیاد پر ہی بی جے پی نے انتخابات جیتے تھے۔ انتخابی فضا اور ماحول میں بالاکوٹ حملہ کا ایڈونچر بھی کیا تھا۔ اس وقت ہمارے بہت سادہ لوح وزیراعظم عمران خان کو امید واثق تھی کہ بی جے پی کا انتخاب جیتنا اور دوبارہ اقتدار میں آنا مسئلہ کشمیر کے حل میںمددگار بنے گا مگر ہماے بہت مخلص وزیراعظم اور ان کو ایسے مشورے دینے والے بہت ہی ساد لوح ثابت ہوئے جبکہ عملاً مودی اور امیت شاکی بی جے پی نے  کشمیر کو بھارت میں ضم کر دینے، اس کی خصوصی حیثیت ختم کرنے، مسلمان دشمنی اور پاکستان دشمنی کی خصوصی بنیاد پر ہی واضح انتخابی برتری حاصل کی ہے۔ 
میں ان مسلمان علماء، فلمی و ثقافتی کرداروں کو مجبور محض بے بس، لاچار دیکھتا ہوں۔ ہمیں ان کے بدترین ماضی و حال و مستقبل کو سامنے رکھتے رہنا ہے ان کے لئے اس فضا اور ماحول سے نجات کی دعا کرنی چاہیے جس میں وہ کشمیریوں کی طرح اب مستقل مبتلا ابتلاء دکھائی دیتے ہیں۔ ہندو توا فلسفہ سیاست و اقتدار کو بھارتی سرزمین پر شہریت قانون پاس کروانے کے سبب بہت ہی زیادہ عوامی و ثقافتی، ہندو سیکولر شدید مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں اپوزیشن اپنا فائدہ دیکھ کر ہندو توا حکومت کو عوامی نفسیاسی سطح پر ناکام بناتے عمل میں کود رہی ہیں۔ ایسا ہونا مودی و امیت شاہ جیسے جنگجو اور مسلمان و پاکستان دشمنوں کے لئے سیاسی موت ہے۔ لہٰذا ان کے پاس صرف آخری وجہ رہ جاتی ہے خود کو بھارت میں سیاسی موت سے بچانے کے لئے کشمیری ظلم کے سبب دنیا بھر میں بدنام اور ناکام ہو جاتے عمل کے سبب اور وہ واحد راستہ ہے پاکستان پر جنگ مسلط کرکے عوام کو اندرونی سیاسی و آئینی خلفشار، کشمیری مسلمانوں سے پیدا شدہ بھارتی مسلمانوں اور عالمی مخالفت سے بہت دور کرکے پاکستان سے جنگ کے بھنور اور دلدل میں پھنسا دینے سے ۔ اندازہ ہے اس جنگ کی طوالت بہت زیادہ نہیں ہوگی کیونکہ اب روایتی جنگ طویل ہوگی نہ ہی بہت زیادہ افواج مہینوں تک جنگ لڑیں گی بلکہ یہ جنگ میزائلوں سے شروع ہوگی اور اگر برصغیر کی تقدیر میں بدقسمتی لکھی ہے تو یہ محض میزائلوں کی جنگ نہ رہے گی بلکہ بہت کچھ اور ہوسکتی ہے ۔ ’’اور‘‘ سے بچانے یعنی ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے بچنے اور بچانے کیلئے بہت صبرواستقامت و مضبوط اعصاب کی ضرورت ہوگی۔ اب پاکستان کے اندر سے ان حالات کا جائزہ لے لیں جو بھارت کو حملہ آور ہونے کی سہولت، آزادی، جرات دیتے ہیں۔ بھارت میں جمہوری طور پر مودی حکومت کو واضح اور دو ٹوک پارلیمانی عددی قوت حاصل ہے مگر پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کی مرکزی اور پنجاب حکومت اتحادیوں کی مرہون منت ہی موجود ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی یہ بہت ہی کمزور عددی حیثیت، نواز شریف و پرویز مشرف کے آزمودہ افراد کی کابینہ میں موجودگی جن کی نااہلی جنرل باجوہ کی ’’توسیع‘‘ اور اب جنرل پرویز مشرف کو سنائی جانے والی خصوصی عدالت کی سزا سے واضح اور دو ٹوک طور پر سامنے آگئی ہے ایسی نااہل و ناکام کابینہ ہرگز ہرگز جنگ و دفاعی طور پر لڑسکتی ہے نہ ہی جارحانہ پیش قدمی والی۔ افواج پاکستان ضرور جنگ میں کامیاب رہیں گی انشاء اللہ مگر جو مضبوط ترین حکومتی فیصلہ سازی درکار ہوگی اس بھارتی مسلط شدہ جنگ میں وہ تو مفقود ہے۔ جب ہم اندرونی آئینی معاملات کو د رست راستے پر کافی وقت موجود ہونے کے بعد بھی صحیح راستے پر نہیں ڈال سکتے تو دشمن سے جنگ جیتنے کا ’’جوا‘‘ اس کابینہ اور حکومت کے حوالے کیسے کیا جاسکتا ہے۔ جس  طرح اندرا گاندھی1970-71 ء میں مضبوط ترین سیاسی بھارتی قوت تھی اس کے مدمقابل جنرل یحییٰ خان کی غیر سنجیدہ و عیاش و نااہل حکومت تھی تو نتیجہ16 دسمبر1971 ء کو مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کی صورت میں نکلا تھا۔ آج کا ہندوتوا بھارت ہماری کمزور ترین پارلیمانی اور نااہل ترین کابینہ کے سبب1971 ء جیسی کامیابی کے حصول کے جوش و جذبے سے پاکستان پر جنگ مسلط کرے گا۔ کیا آپ میری اس تشویش کو محسوس کررہے ہیں جو مجھے عظیم نقصان کے خطرے کے سبب محسوس ہو رہی ہے۔ جارحانہ اور دفاعی جنگ صرف مضبوط  ترین حکومتیں لڑا کرتی ہیں جس طرح ایرانیوں نے صدام حسین کے خلاف آٹھ سال تک جوش و جذبے سے جنگ لڑ کر صدام حسین یعنی امریکہ کو فاتح بننے سے روک رکھا تھا۔ کیا ہماری کمزور حکومت بھارت کو فاتح بننے سے روکے رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ بس اس بات پر زیادہ سوچیں۔