09:31 am
جنوری میں مسلط ہوتی ممکنہ پاک بھارت جنگ

جنوری میں مسلط ہوتی ممکنہ پاک بھارت جنگ

09:31 am

 دشمن سے جنگ  ہو تو ’’فیصلہ ساز سیاسی حکومت‘‘  اور ’’فوج میں فیصلہ ساز کرداروں‘‘  میں مکمل ہم آہنگی ضروری ہوتی ہے۔ بعض اوقات جنگی اور عسکری طور پر مخصوص جگہ پر جنگی کارروائی میں کامیابی تو یقینی ہوتی ہے مگر اسے سفارتی طور پر عالمی دنیا کی مارکیٹ میں منظور اور مقبول کروانا ناممکن عمل ہوتا ہے۔ مثلاً کارگل کی جنگ کا نظریہ جنرل مشرف کا ذاتی نہ تھا بلکہ یہ تو فوج کی ملکیت تھا۔ بے نظیر بھٹو جب وزیراعظم تھی تو ان کے سامنے یہ نظریہ جنگ پیش کیا گیا مگر محترمہ نے  یہ کہہ کرنامنظور کر دیا کہ مجھے یہ تو یقین کامل ہے کہ ہماری افواج ہی کارگل میں فتح حاصل کریں گی مگر اس زمینی فتح کو بطور وزیراعظم وہ بین الاقوامی سطح پر ہرگز منوا نہیں سکیں گی بلکہ عالمی قوتیں پاکستان کو جارح قرار دے دیں گی۔ مگر یہ جنگ سست و کاہل وزیراعظم نواز شریف کے زمانے میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے کر ڈالی۔ فتح ابتدائی تو ہوگئی مگر بعدازاں یہ جنگ اور فتح پاکستان کے لئے وبال جان بن گئی۔ معصوم مجاہدین بھارتی طیاروں اور توپوں کا لقمہ بنتے رہے اور زمینی طور پر جیتی ہوئی جنگ سیاسی اور نفسیاتی تباہی کا مرکز بن گئی۔ اس فتح شدہ کارگل نے ہی صدر کلنٹن کو بھارت پر عظیم ترین احسان جتانے کا موقع دیا اور ایک محدود سی فتح بالآخر پاکستان کی عالمی ذلت اور کارگل میں بھی خفت اور شرمندگی کا راستہ بن گئی۔ لہٰذا میر اموقف یہ ہے کہ جنگ صرف جنرلز کی صوابدید پر نہیں بلکہ مدبر فیصلہ ساز سیاسی فیصلہ سازی کے ساتھ ہمرکاب ہو کر ہی لڑی اور پھر جیتی جاسکتی ہے۔ اگر اکیلے فیصلہ ساز صرف عسکری ذہن ہوں اور وہی عملاً حکومت بھی ہوں تو مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش ہو جانا ممکن بھی ہو جایا کرتا ہے۔
نہرسویز کو عبور کرنے اور اسرائیلی بالادستی کا انہدام صدر جنرل سادات جیسے قابل جنرل نے اس وقت تخلیق کیا تھا جب وہ سیاسی طور پر سول صدر تھے جس ائیر فورس چیف نے اس ہدف کا حصول ناممکن بتایا اسے فوراً معزول کرکے نائب ائیر مارشل حسین مبارک کو نیا چیف بنا کر ہدف حاصل کرنے کی ہمت‘ رہنمائی  شفقت دی۔ یوں مصری ائیر فورس نے حسنی مبارک کی زیر قیادت اسرائیل کا قبضہ نہ صرف ختم کردیا بلکہ نہر سویز کے دوسرے کنارے پر بھی اپنا قبضہ جما لیا اور اسرائیل کو شکست فاش سے دوچار کیا۔ یہ صرف اس وقت ہوا جب سول صدر اور جنگجو افواج مصری عوام کی مقبول عام فیصلہ ساز تھیں۔
دوبارہ برصغیر کی طرف آتے ہیں۔  ماہرین نجوم اصرار سے کہتے ہیں کہ 6جنوری سے 12جنوری 2020ء تک  ’’امرربی‘‘  کو وقوع پذیر کرتے عوامل و اسباب بالکل وہی ہیں جن کے سبب پہلی عالمی پھر دوسری عالمی جنگ ہوئی تھی۔ یہی وہ اسباب و عوامل تھے نجوم و افلاک میزان میں جن کے سبب1947ء کو تقسیم برصعیر ہوئی اور پاکستان تخلیق ہوا‘ بہت سی آبادی کو خون آلود فضا میں ہجرت کرنا پڑی تھی پھر 1971ء میں انہی نجوم و افلاک پر مبنی امرربی کے سبب سقوط ڈھاکہ ہوا اور نیا ملک بنگلہ دیش بنا تھا۔ 6جنوری سے 12جنوری کے دوران یہ اسباب و  عدل‘ یہ نجوم و سیارے و ستارے اسی قسم کی تباہی و بربادی اور تہذیبی جنگیں اور پھر سے ملک ٹوٹنے کے واقعات سامنے لاسکتے ہیں۔ اصل قوت اور فیصلہ ساز صرف اور صرف تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے مگر اس کے احکامات کائنات میں نجوم کے ذریعے ظہور پاتے ہیں۔
لہٰذا بزرگ ماہرین نجوم و افلاک بار بار کہہ رہے ہیں تمام ملکوں کو بالخصوص بھارت و پاکستان کو شدید ترین اختلافات کے باوجود بھی جنوری میں بطور خاص اس جنگ سے بچنا چاہیے ورنہ بہت زیادہ نقصان کا اندیشہ ہے۔ یہ نقصان جتنا بھارت کو درپیش ہوگا اس کی اندرونی آبادیاں سوویت یونین کی طرح آزادی حاصل کرنے کی طرف چل پڑیں گی اور موجودہ بھارتی جغرافیہ نظریاتی سیاسی آزادی تحریکوں کو کامیابی بھی دے سکتا ہے جبکہ پاکستان کو بھی کچھ نہ کچھ نقصان ہوسکتا ہے۔ میں نے گزشتہ ایک کالم ’’سقوط ڈھاکہ سے ہندوتوا کے جارحانہ ظہور تک جو  16دسمبر کو شائع ہوا تھا۔ شاہ ولی اللہ کا برصغیر کے طاقتور ہندو خاندانوں کے مکمل اقتدار اور مکمل فتح میسر آجانے کے بعد مسلمان بن کر خدمت اسلام کا نظریہ پیش کیا گیا تھا جیسے چنگیز خان اور پھر ہلاکو خان جو مسلمانوں کی تباہی کا نام تھا پھر ہلاکو خان کا بیٹا مسلمان ہوا اور ان کی نسل سے ہی امیر تیمور جنگ بھی تھا۔
ترک سلطنت اور عثمانی خلافت میں اس چنگیزی نسل کا خون شامل تھا۔ التفھیمات الآلھیۃ نامی تصوف و روحانیات اور امور کائنات پر مبنی کتاب میں شاہ ولی اللہ نے پیشن گوئیاں آخر میں کی ہیں جن میں ایک یہ بھی ہے کہ برصغیر ان کی زندگی کے تین سو سے چار سو سالوں کے مابین بہت بری خون آلود تباہی دیکھے گا۔ ابھی یہ تین سو سال پورے نہیں ہوئے۔ لہٰذا شاہ ولی اللہ جو کئی مغل بادشاہوں کے عہد کے شاہد تھے اور زوال مسلمان ہند کے بھی شاہد تھے ان کی باتوں کو بزرگ علمائے نجوم کے اس خدشے کے ساتھ ملا کر پڑھیں کہ 6جنوری  سے12جنوری 2020ء کے درمیان‘ تہذیبی جنگ کروانے  والے نجوم و سیارے آپس میں پھر سے بغل گیر ہو رہے ہیں۔ بغل گیر ہونے کا مطلب شدید کشمکش اور بہت بڑی جنگیں یا ان کی بنیادوں کا استوار ہونا ہے ان ماہرین نجوم کے مطابق 1979ء میں بھی یہی سیارے‘ ستارے‘ نجوم کا ظہور ہوا تو شاہ ایران کے اقتدار کا خون آلود خاتمہ ہوا‘ خمینی انقلاب آیا اور بہت زیادہ ایرانی جنرلوں کو موت کی انقلابی سزائیں ہوئیں۔ افغانستان میں سوویت یونین آف رشیاء داخل  ہوا۔ یہ روسی جارحانہ عسکریت افغانستان ہی نہیں بلکہ پوری سوویت یونین آف رشیاء کی تباہی بن گئی تھی۔ جنگوں سے معیشت تباہ ہو جاتی ہے  اور یوں تباہ شدہ معیشت‘ مورال کی تباہی‘ عوامی غیض و غضب‘ بھوک و افلاس یہ سب باتیں پہلے جغرافیے کا انہدام اور نئے جغرافیے کی تاسیس‘ پرانے اقتدار کا خاتمہ نئے اقتدار کا سامنے آنا ممکن بناتا ہے۔ برصغیر میں بھی یہ سب کچھ ممکن ہوسکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب