07:27 am
امیر تیمور لنگ اور مصر و شام، الہند، غزوۃ الہند

امیر تیمور لنگ اور مصر و شام، الہند، غزوۃ الہند

07:27 am

دسمبرکو شائع شدہ کالم میں کچھ تسامح ہوا لہٰذا اس کی تصحیح ملاحظہ فرمالیں۔ مصری ائیرفورس کے ائیر مارشل جس نے فاتحانہ
22 دسمبرکو شائع شدہ کالم میں کچھ تسامح ہوا لہٰذا اس کی تصحیح ملاحظہ فرمالیں۔ مصری ائیرفورس کے ائیر مارشل جس نے فاتحانہ عزم کے ساتھ اپنے مدبر صدر جنرل انور سادات کی زیرقیادت نہر سویز پر اسرائیلی قبضہ ختم کیا ان کا پورا نام حسنی مبارک ہے بعد وہاں وہ صدر انور سادات کے ساتھ نائب صدر  بنے اور قومی ہیرو قرار پائے پھر صدر مصر اور آمر مطلق بنے ۔ انور سادات جنرل نجیب اور جنرل جمال عبدالناصر کے ہمراہ شاہ فاروق اقتدار کے خاتمے میں مصری انقلاب بپا کرتے فوجی اذہان کا حصہ تھے خود جنرل نجیب جس کی زیرقیادت مصری شاہ فاروق کی بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور ان کے ساتھ انور سادات بھی فکری طور پر حسن البناء بانی اخوان المسلمون کے زیراثر تھے بالکل اسی طرح جیسے موجودہ مصری صدر جنرل السیسی کبھی اخوانی مفکر صدر محمد مرسی اور اخوان کے زیر اثر تھے۔ رب کی رب ہی جانے بعد میں کیا ہو جاتا ہے؟ اسی طرح امیر تیمور لنگ معروف چنگیزی نسل کے مسلمان حافظ قرآن، حنفی عالم و فاضل و علوم دینیہ نظامیہ، عربی و فارسی کے قادر الکلام متکلم مگر سفاک بے رحم فاتح بھی  ، انہوں نے موجودہ سینٹرل ایشیا (ایشیا کوچک) سے اٹھ کر خراسان (موجودہ افغانستان) ایرانی بادشاہت اور ہندوستان پر بطور فاتح کامیابیاں پائیں۔ ایران و بغدادو بصرہ سے ہوتے ہوئے شام کو بھی فتح کیا تھا  ۔ جب دمشق ان کے زیرنگیں آیا تو وہ بے چینی سے افریقی مورخ ابن خلدون (عمرانی علوم و سماجیات و سیاسیات کے بانی مفکر و مجتہد) سے ملنے کو بے چین تھے۔ 
میں سلام اور احترام پیش کرتا ہوں ان سنی بادشاہوں اور ان شیعہ بادشاہوں کو جنہوں نے سماجی و معاشرتی سطح پر اور ریاستی امور میں اتحاد بین المسلمین کو فروغ دیا۔ سب کو مناصب اور عہدے صرف لیاقت و صلاحیت (میرٹ) کی بنیا د پر دیئے۔ کامیاب ترین عثمانی خلافت کی بیورو کریسی میں مسیحی اور یہودی اسکالرز، ماہرین کو زیادہ اہمیت ملتی تھی کیونکہ ان کا مسلمانوں کے کسی بھی فرقے سے تعلق نہ ہونا انہیں خلیفہ کا حقیقی وفادار اور غیر جانبدار بیورو کریٹ بناتا تھا۔
’’الہند‘‘ سے کیا مراد ہے؟ ’’ہندہ‘‘ اور’’سیف ہندی‘‘ کیا ہے؟ اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو ہندہ نامی خاتون کا نام عربوں میں ملتا ہے ۔ ’’سیف ہندی‘‘ (ہندی تلوار) عربوں میں بہت زیادہ پسند کی جاتی تھی۔ عرب شعراء کے کلام میں ہندی سیف اور عربی النسل گھوڑے کا ذکر بڑے فخر سے ہوتا رہا ہے ۔ لاہور کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ سیف ہندی جو عربوں میں بھی بہت مقبول تھی اپنی صنعتی انفرادیت کے سبب اس کے کارخانے قدیم ترین عہد کے شہر ’’لہور‘‘ (موجودہ لاہور) میںپائے جاتے تھے۔ قدیم ترین لہور خود جنگجو شاید نہ تھا مگر حربی ہتھیاروں بطور خاص ہندی تلوار بنانے کا مرکز تھا۔ قدیم عہدمیں لہور ملتان کا مضافاتی علاقہ تصور ہوتا تھا مگر مغل بادشاہوں نے اسے  منفرد تہذیب و تمدن کا انوکھا تہذیبی اور باغات کا شہر بنا دیا تھا۔ ملتان تاریخی طو پر اسماعیلی عباسی اقتدار کا مضبوط ترین مرکز تھا۔ یہی وجہ ہے   کہ ملتان کے تہذیب و تمدن میں اسماعیلی سماجی اثرات آج تک محفوظ ہیں۔
’’الہند‘‘ سے مراد صرف موجودہ بھارت نہیں ہے۔ مولانا ارشاد الحق اثری نے  مجھے امام بخاری کے ہمعصر محدث و مورخ امام یعقوب فسوی کی کتاب المعرفتہ و التاریخ صفحہ116 جلد3سے حضرت خالدؓ بن ولید کی روایت پر غور کرنے کی تلقین کی کہ حضرت خالدؓ بن ولید شام میں حالت جنگ  میں تھے۔ ان کی مروی بات آپ خود پڑھیں۔(ترجمہ) ’’مجھے خلیفہ حضرت عمرؓ کا حکم ملا کہ میں الہند چلا جائوں۔ ان دنوں ہم الہند سے مراد بصرہ کی سرزمین  لیا کرتے تھے۔ ‘‘
مولانا ارشاد الحق اثری کے الفاظ میں ’’الہند‘‘ سے مراد صرف ہندو دین  رکھتی قوم نہیں بلکہ بصرہ سے آگے  مشرق بعید تک سارا علاقہ  ہی الہند تصور ہوتا تھا۔ لہٰذا آج وہ  ’’الہند‘‘ تو عملاً موجود ہی نہیں ایک ملک اور ایک جغرافیائی وحدت کی صورت میں جس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فتح کی پیشن گوئی فرمائی تھی جبکہ صحابہ کرامؓ  تو بصرہ و مضافات (عراق و ایران) کو ہی الہند سمجھتے تھے۔ غزوہ الہند والی حدیث سنن نسائی اور مسند احمد بن حنبل میں موجود ہے اور اس کی صداقت یوں ظہور پذیر ہے کہ قدیم الہند کا اکثر حصہ آج مسلم ممالک پر مشتمل ہے۔ لیکن میں غزوۃ الہند سے موجودہ ہندوتوا بھارت کے بارے میں مزید کچھ آئندہ عرض کروں گا۔ انشاء اللہ