07:27 am
کوالالمپورسمٹ ‘ پاکستان اور سعودی عرب

کوالالمپورسمٹ ‘ پاکستان اور سعودی عرب

07:27 am

دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان نے کوالالمپور سمٹ میں حصہ نہیں لیا کیونکہ اس سمٹ پر بڑے مسلم ممالک کو تحفظات تھے
دفتر خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی نے کہا کہ پاکستان نے کوالالمپور سمٹ میں حصہ نہیں لیا کیونکہ اس سمٹ پر بڑے مسلم ممالک کو تحفظات تھے اور یہ تحفظات مسلم امہ میں تقسیم کے حوالے سے خدشات تھے‘ پاکستان اُمہ میں اتحاد اور یکجہتی چاہتا ہے جس کے لئے کام کرتا رہے گا۔
دوسری طرف ترک صدر طیب اردوگان نے ترک میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’سعودی عرب نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت کی صورت میں 3ارب ڈالر واپس  اور چالیس لاکھ پاکستانی ورکرز کو واپس بھیج دیا جائے گا اور ان کی جگہ بنگلہ دیش کو ویزے دئیے جائیں گے‘ پاکستان کو معاشی دشواریوں کی وجہ سے سعودی عرب کی خواہشات پر عمل کرنا پڑا۔‘‘
ترک صدر کے اس انکشافاتی بیان نے سچی بات ہے کہ پاکستان کے عوام میں سنسنی کی لہر دوڑا دی۔ خود مجھے کئی دوستوں نے فون کرکے طنزیہ انداز میں یہ پبھتی کسی کہ  یہ ہے آپ کا سعودی عرب‘ کہ جو نہ صرف پاکستان کو دھمکیاں دیتا ہے بلکہ بلیک میل بھی کرتا ہے۔
دوسروں کی طرح یہ خاکسار بھی اس بات کا منتظر رہا کہ دیکھتے ہیں ترک صدر کے اس بیان کی تردید کب آتی ہے۔ تاآنکہ اسلام آباد میں موجود سعودی عرب کے سفارت خانے نےاس سب کی تردید کردی ہے۔
ترک صدر کی طرف منسوب انکشافاتی بیان کو اگر پاکستان اور سعودی عرب کے موقف کی روشنی میں دیکھا جائے تو وہ بیان سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے‘ لیکن سوال یہ ہے کہ ترک صدر کو اس غلط فہمی میں ڈالا کس نے؟ انہیں یہ خبر کس نے دی کہ کوالالمپور کانفرنس میں  شرکت سے روکنے کے لئے سعودی عرب نے پاکستان  کو بلیک میل کیا‘ یہ ایک بہت بڑا الزام ہے کہ جو اگر جان بوجھ کر لگایا گیا تو نہایت افسوسناک بات ہے‘ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے  اس کانفرنس میں شرکت کرنا تھی بلکہ امریکہ کے دورے سے واپسی پر انہوں نے کسی بین الاقوامی معیار کے عجمی ٹی وی چینل کے قیام کی بھی خوشخبری سنائی تھی‘ جس کے ذریعے اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنا تھا۔
لیکن ملایشیاء کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کی میزبانی میں اس عجمی اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد سے قبل ایرانی اور ترک میڈیا نے جو تاثر دینے کی کوشش کی وہ بہرحال مناسب نہ تھا‘ تاثر یہ بن رہا تھا کہ جیسے کوالالمپور میں ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد او آئی سی کو ناکام بنانا‘ یا اس کے مدمقابل کوئی نیا اتحاد قائم  کرنا ہے۔
او آئی سی کے حوالے سے پائے جانے والے تمام تر تحفظات کے باوجود اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ اقوام متحدہ کے بعد دوسرا بڑا فورم او آئی سی کا ہے‘ اگر کسی کو اس کے طریقہ کار یا کام کی سست رفتاری پر اعتراض ہے تو اس پلیٹ فارم پر رہتے ہوئے رکن ممالک غورو خوض کے بعد اس کے کردار کو مزید متحرک کر سکتے ہیں‘ لیکن عجم اور عرب کے نام پر نئے نئے اتحاد بنانے کی کوششیں کرنے سے اتحاد کے نام پر مزید انتشار تو پیدا کیا جاسکتا ہے مگر مسلم امہ کو متحد نہیں کیا جاسکتا‘ یہ بات درست ہے کہ ملائشیاء اور ترکی نے کشمیر کے معاملے پر پاکستانی موقف کی ڈنکے کی چوٹ پر حمایت کی‘ جس پر پوری قوم ان کی  مشکور ہے‘ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ سعودی عرب جیسا پاکستان دوست ملک دنیا میں چراغ لے کر ڈھونڈنے سے  بھی نہیں ملے گا‘ مسئلہ کشمیر اپنی جگہ موجود ہونے کے باوجود وزیراعظم عمران خان نے انڈیا کے ساتھ نہ صرف کرتار پور راہداری کو کھولا بلکہ انڈیا کے سکھوں کے لئے  اربوں روپیہ لگا کر ایک شاندار گوردوارہ بھی تعمیر کر دیا‘ مسئلہ کشمیر پوری شدت کے ساتھ موجود ہے لیکن پاکستانی کھیتوں اور کھلیانوں میں اگلنے والا پیاز آج بھی انڈیا کی منڈی میں بیجا جارہا ہے۔ جب حکمران خود مسئلہ کشمیر سے اس قدر نظریں چرائے بیٹھے ہیں تو پھر کسی دوسرے سے شکوہ کیسا؟ کوالالمپور سمٹ سے ابھی تک تو کچھ برآمد نہیں ہوا‘ آگے چل کر جو نکلے گا وہ بھی پتہ چل جائے گا؟ لیکن کیا محض مفروضوں‘ اندازوں‘ وعدوں اور سہانے سپنوں کی خاطر سعودی عرب جیسے عظیم دوست ملک کو ناراض کرنا دانشمندی کہلاتا؟
یہ جو میڈیا کے پنڈت اور پردھان سعودی عرب کے خلاف پراکسیز بن کر پاکستان کے کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے پر تنقید کے کوڑے برسا تے رہتے ہیں‘ ان کی اپنی حالت تو یہ ہے کہ اگر ایک ماہ کی تنخواہ بند ہو جائے تو ان کی چیخیں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں‘ کسی غریب اور مسکین کے ہاتھ پر یہ ایک دھیلا رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور یہ پروپیگنڈا اس سعودی عرب کے خلاف کر رہے ہیں کہ  جس کے دئیے ہوئے ڈالروں کے سہارے آج پاکستان کی معیشت کھڑی ہے‘ عمران خان چونکہ عجلت پسندانہ طبعیت کے مالک ہیں اور  اوپر سے بدقسمتی یہ کہ انہوں نے اپنے آپ کو عالمی لیڈر بھی سمجھنا شروع کر دیا ہے‘ حالانکہ ہر عقلمند انسان اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ دنیا میں ان کی عزت وقار کی وجہ  پاکستان کا وزیراعظم ہونا ہے‘ اس لئے کوالالمپور میں شرکت کا فیصلہ کرنے سے قبل انہیں اپنے سلیکٹرز اور دوست ممالک کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا‘ میرے نزدیک کوالالمپور کانفرنس میں  ’’اپنوں‘‘ سے مشاورت کئے بغیر شرکت کا فیصلہ غلط تھا لیکن موصوف کو چونکہ یوٹرن لینے کی بھی عادت ہے‘ چنانچہ بعد میں انہوں نے یوٹرن لے کر سمٹ میں نہ جانے کا درست فیصلہ کرلیا‘ ایران اور سعودی عرب کی کشمکش ہو یا ترکی اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریاں‘ یقینا یہ مسلم امہ کے تصور کی تباہی کے مترادف ہے‘ اس نازک اور حساس  صورتحال میں پاکستان کو اپنے ’’کندھے‘‘ سنبھال کے رکھنا پڑیں گے تاکہ پاکستان کے کندھوں کو استعمال کرکے کوئی ایسے غلط مقاصد نہ حاصل کر سکے۔
اس موقع پر پاکستان کا یہ موقف  بالکل درست ہے کہ پاکستان مسلم امہ میں اتحاد چاہتا ہے جس کے لئے کام کرتا رہے گا‘ جہاں تک ملائشیاء اور سعودی عرب کے تعلقات کا تعلق ہے تو جانے والے جانتے ہیں کہ اس وقت بھی سعودی عرب کے تقریباً30ہزار کے لگ بھگ سعودی طلبہ اسکالر شپ پر ملائشین اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اس سمٹ سے قبل بھی ملائشیاء کے وزیراعظم اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی جس میں کوالالمپور سمٹ بھی زیر بحث آئی‘ مطلب یہ کہ اسلامی سربراہی کانفرنس کے میزبان ملک کے اپنے تعلقات تو سعودی عرب کے ساتھ بہترین ہیں اور ہمارے میڈیا میں بیٹھے ہوئے پراکسیوں کی کوشش ہے کہ پاکستان اپنے عظیم دوست ملک سعودی عرب سے اپنے تعلقات میں بگاڑ پیدا کرلے۔ یہ کس قدر احمقانہ سوچ ہے‘ یہاں تک کہ اسلام آباد میں موجودہ سعودی عرب کے سفارت خانے کو اپنے بیان میں یہ کہنا پڑا کہ میڈیا پر چلنے الی خبریں امت مسلمہ کے اتحاد کے خلاف ہیں‘ یہاں مسئلہ عمران خان کی تعریف یا تنقید کا نہیں ہے بلکہ معاملہ دو دوست ممالک یعنی پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قائم اعتماد کے رشتوں کو ٹھیس پہنچانے کا ہے‘ جس سے بچنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔