07:42 am
چڑھتے سورجوں کادوست

چڑھتے سورجوں کادوست

07:42 am

1925میں پیداہونے والامحمدرضا شاہ پہلوی چھ سال کی عمرمیں ولی عہداور22سال کی عمرمیں شاہ ایران بن گیا۔وہ ایشیاء میں امریکاویورپ کاسب سے بڑادوست تھا،یورپی پریس اسے’’امریکن گورنر‘‘ کہتا تھا ،وہ امریکی وفاداری میں اس قدرآگے چلا گیا، کہ اس نے روشن خیالی اوراعتدال پسندی کاحکم دیتے ہوئے ایران میں داڑھی اورپردہ پرپابندی لگا دی۔کوئی باپردہ عورت گھرسے نکلتی توپولیس سر عام اس کابرقع پھاڑدیتی تھی،تمام زنانہ سکولوں،کالجوں اوریونیورسٹیوں میں اسکرٹ کو یونیفارم بنادیا، شراب نوشی،رقص اورزنا فیشن بن گیا۔شاہ کے دورمیں ایران دنیاکاواحد ملک تھا جس میں کالجوں میں شراب کی دکانیں تھیں، یونیورسٹیوں میں خواتین کی سودے بازی ہوتی تھی۔
اس مکروہ کاروبارکوقانونی حیثیت حاصل تھی،شاہ کے زمانے میں دوجرنیلوں کے ہم جنس پرست بیٹوں نے آپس میں شادی کی، سرکاری سطح پران کی دعوت ولیمہ میں شاہ اوراس کی کابینہ نے خصوصی طورپراس تقریب میں شرکت کی۔شاہ نے امریکاکی محبت میں ایران میں موجود 42ہزارامریکیوں کوسفارتی حیثیت دے دی،امریکانے شاہ ایران کے دفترمیں ’’گرین فون‘‘لگارکھاتھا اوراسے امریکاسے جوہدایت ملتی تھیں،وہ ان پرفوری عملدرآمدکراتاتھالیکن پھرشاہ کی امریکانوازپالیسیوں پربغاوت ہوئی،یہ بغاوت تین سال تک چلتی رہی،شاہ نے12شہروں میں مارشل لاء لگادیا،عوام نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا،شاہ ڈبڈبائی آنکھوں اورلرزتے ہاتھوں سے حکومت شاہ پوربختیار کے حوالے کرکے ملک سے فرار ہوگیا،اس کاخیال تھاامریکااب اس کی وفاداریوں کابدلہ دے گالیکن جوںہی شاہ ایران کا طیارہ ایران کی حدودسے نکلا،امریکانے آنکھیں پھیرلیں،شاہ پہلے مصرگیا، پھر مراکش،پھربہاماس اورپھرمیکسیکو،وہ اس دوران امریکاسے مسلسل مدد مانگتارہالیکن قصر سفید اس کاٹیلی فون تک نہیں سنتا تھا۔ شاہ ایران سواسال تک مارامارا پھرتارہالیکن کسی نے اس کی مددنہ کی،امریکانے اس کے اکائونٹس تک ’’منجمد‘‘ کردئیے،آخرمیں انوارالسادات کام آیا اور اس نے اسے پناہ دے دی۔ جولائی1980ء میں قاہرہ میں جب اس کا انتقال ہواتواس کے پاس اس کی تیسری بیوی کے سواکوئی نہ تھا،لوگ اس کاجنازہ تک پڑھنے نہ آئے چنانچہ اسے اس کے بیڈروم ہی میں امانتاًدفن کردیاگیا۔
یہ صرف رضا شاہ پہلوی کی کہانی نہیں، امریکا کاہردوست حکمران اسی انجام کا شکار ہوا، آپ ’’اناس تاسیوسو‘‘کی مثال لیجئے،وہ نکاراگوامیں امریکی ایجنٹ تھا،نکاراگوامیں کمیونزم کی تحریک شروع ہوئی تو امریکا نے  اناس تاسیوسوکوڈالراوراسلحہ دیکرکمیونزم کے خلاف کھڑا کردیا۔تاسیوسو امریکاکی جنگ کواپنی جنگ سمجھ کرلڑتارہا،1979میں نکاراگوامیں اس کیلئےحالات مشکل ہوگئے،وہ ملک سے فرارہوالیکن جوں ہی اس نے نکاراگواسے باہرقدم رکھا،امریکانے اسے پہچاننے سے انکارکر دیا،اس نے امریکاآنے کی کوشش کی لیکن امریکی حکومت نے اجازت نہ دی، یوں اناس تاسیوسوچھپ کرجنگلوں اورغاروں میں باقی زندگی گزارتے ہوئے1980 میں اسی پریشانی کے عالم میں انتقال کرگیااوراس کے چند قریبی دوستوں نے پیراگوائے میں دفن کردیا،آج لوگ اس کے نام تک سے واقف نہیں ہیں۔چلی کے آمر’’جنرل اگارتے اگستوپنوشے‘‘1973 میں سی آئی اے کی مدد سے جنرل ایلینڈوکی منتخب حکومت پرشب خون ماراتھا ،پنوشے نے اقتدارمیں آتے ہی چلی کی عوام کے خلاف آپریشن شروع کر دیا۔پنو شے 1990 تک چلی پرحکمران رہا،ان17برسوں میں پنوشے نے امریکاکے کہنے پرہزاروں شہری قتل کرائے، امریکاکی ناپسندیدہ تنظیموں پرپابندیاں لگائیں اورامریکاکی خواہش پراپنے شہریوں کے انسانی حقوق غصب کئے، عوام1990میں پنوشے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے،وہ مارچ1990میں لندن فرار ہوگیا،اس کاخیال تھابرطانیہ اورامریکااس کی وفاداریوں کی قدرکریں گے لیکن لندن آتے ہی برطانوی پولیس نے اسے گرفتارکرکے اس کے گھرمیں نظربندکردیا،اس نے اس نارواسلوک پرامریکاسے احتجاج کیالیکن امریکی حکومت نے اسے جواب تک دینے کی زحمت نہ کی،برطانوی حکومت نے اسے2000میں چلی کے حوالے کردیا،اس کے خلاف مقدمہ چلا،3دسمبر 2006کواسے ہارٹ اٹیک ہوااوروہ دم توڑگیا،اس کی موت پر پورے ملک میں خوشیاں منائی گئیں جبکہ امریکی حکومت نے ایک سطرکاتعزیتی پیغام تک جاری نہ کیا۔انگولاکاباغی سردار’’جوناس سیومنی‘‘بھی امریکا نوازلیڈرتھا،وہ برسہابرس انگولا میں امریکی مفادات کی جنگ لڑتارہا، نومبر1992میں امریکانے اسے کیمونسٹوں کے ساتھ امن معاہدے کاحکم دیا،اس نے معاہدے پردستخط کردئیے جس کے نتیجے میں جوناس سیومنی بے دست وپاہوگیا، معاہدے پر دستخطوں کے دوماہ بعد کمیونسٹوں نے ’’ہامبو‘‘میں اس کے ہیڈ کوارٹر پرحملہ کردیا،وہ فرارہوگیا، آج اس واقعہ کو پندرہ سال گزر چکے ہیں، جوناس سیومنی کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ وہ زندہ ہیں یاماردِے گئے ہیں لیکن امریکی حکومت نے اس کافون تک نہیں سنا۔ 
جنرل نوریگاپانامہ میں امریکاکاآلہ کار تھا، اسے بھی امریکیوں نے کمیونسٹوں کے خلاف  استعمال کیا۔وہ1990تک امریکی مفادات کی جنگ لڑتارہالیکن امریکا کی تسلی نہ ہوئی لہذا امریکا نے پاناماپرحملہ کردیا، نوریگا گرفتار ہواامریکی ایماءپر عدالت نے اسے40سال قید بامشقت کی سزاسنادی اوربالآخر29 امریکی دوستی کا خمیازہ بھگتتے ہوئے مئی 2017کو سانتو تھامس خیراتی ہسپتال میں کسمپرسی کی حالت میں مردہ پایاگیا۔    (جاری ہے)