07:43 am
سدا بادشاہی صرف اللہ کی

سدا بادشاہی صرف اللہ کی

07:43 am

ایک منٹ کے لئے مان لیتے ہیں کہ پرویز مشرف نے چالیس سال پاکستان کی خدمت کی او ر ممکن ہے کہ ان چالیس سالوں میں انہوں نے ملک کیلئے کوئی ’’نامعلوم‘‘ کارنامے بھی سر انجام دیئے ۔ کیا چالیس سالہ ’’خدمات‘‘ بار بار مقدس آئین توڑنے کالائسنس ہوسکتی ہیں؟ہر طرف اداروں کے ممکنہ ٹکرائو کی پھلجڑیاں چھوڑی جارہی ہیں،کیا پاکستان خدانخواستہ کوئی بنانا ری پبلک ہے کہ جہاں ادارے ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے لئے ٹکرا جائیں گے؟
دنیا چاند کو مسخر کرچکی اور ہمارے ہاں اداروں کو ایک دوسرے کو گرانے پچھاڑنے سے ہی فرصت نہیں، فوج وہ محترم ادارہ ہے کہ جس کو پاکستان کی آن اور شان قرار دیا جاتا ہے، سخت سردی کے دن اور راتیں چلتی گولیوں اور گولوں کے درمیان جان ہتھیلی پر رکھ کر سرحدات کی پہریداری کرنے والے کوئی معمولی لوگ نہیں بلکہ اللہ کے ’’محبوب‘‘ بندے ہوتے ہیں، رسواکن ڈکٹیٹر کے جرائم یا غلطیوں کو بنیاد بناکر جو پوری فوج کے خلاف پروپیگنڈا کررہے ہیں وہ اس ملک اور قوم کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے، لیکن فوج جیسے محترم ادارے کی طرف اپنی نسبت کرنے والے افراد  کو بھی چاہیے کہ وہ غداری کے جرم میں عدالتی سزا پانے والے پرویز مشرف کے حق میں فوج جیسے محتر م ادارے کا نام استعمال کرنے سے گریز کریں، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا فیصلہ بھی عدالت کا ہی تھا ، آسیہ ملعونہ  کی رہائی کا فیصلہ بھی عدالت کی طر ف سے ہی آیا تھا، ریمنڈ ڈیوس جیسے شیطان کی واپسی کا فیصلہ بھی عدالت کی طرف سے ہوا تھا، نواز شریف کو نااہل ایک عدالت نے ہی قرار دیا تھا، یوسف رضا گیلانی کو عدالت کے حکم سے ہی وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے تھے، امریکہ کے سینکڑوں مخالفین کو عدالتوں  کے ذریعے ہی سزائیں دلوا کر جیلوں میں ٹھونسا گیا۔
آج بھی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو جو150 سوالات پر مشتمل نیا سوالنامہ بھجوایا ہے اس میں کالعدم جہادیوں کو سزائیں دلوانے  کا مطالبہ کیا گیا ہے، مطلب یہ کہ انہوں نے کوئی جرم کیا ہے یا نہیں لیکن اس کے باوجود سزا لازمی دینی  پڑے گی،  اسی ایف اے ٹی ایف کو راضی کرنے کیلئے گزشتہ ایک سال کے دوران بے گناہ پاکستانی جیلوں میں یہ کہہ کر بند کیے جاچکے ہیں کہ ہماری مجبوری ہے۔
ایک طرف غیروں کو راضی کرنے کیلئے سینکڑوں بے گناہوں کو جیلوں کا رزق بنا دیا جاتا ہے اور د وسری طرف اگر خصوصی عدالت سنگین غداری کے  مجرم کو سزا سنائے تو بجائے اس کے کہ آئین کے تحت مجرم کا دفاع کیا جائے، میڈیا ٹرائل اور درباری ملائوں کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف کمپیئن چلائی جاتی ہے، یاد رکھیے جس طرح یہ بنانا ری پبلک نہیں ہے بالکل اسی طرح یہ کوئی پتھر کا زمانہ نہیں ہے کہ جو عدلیہ کے خلاف مختلف بولیاں بولنے والے وزیروں، مشیروں اور ملائوں کی ’’اصلیت‘‘ عوام سے چھپی رہ سکے گی۔
’’ر‘‘ جنرل پرویز مشرف ایک رجسٹرڈ سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اس سے بڑا قیامت خیز منظر اور کیا ہوگا کہ ایم کیو ایم ان کے حق میں کمپیئن چلا رہی ہے، ایم کیو ایم کے خالد مقبول اور دوسرے پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کے میرٹ اور ججز کی زبان پر اعتراض  اٹھا رہے ہیں، خالد مقبول صدیقی سمیت دیگر ایم کیو ایم کے رہنمائوں کی حب الوطنی کو چیلنج کئے بغیر میری ان سے گزارش ہے کہ وہ اپنے سابق روحانی باپ ، پیر ومرشد اور قائد بدنام زمانہ الطاف حسین کے زیادہ نہیں صرف ایک پتلا عزیز آباد کے مکا چوک پر جلا کر دکھا دیں کیونکہ وہ بد نام زمانہ ’’رنگیلا‘‘ نریندر مودی کے اعلانیہ پائوں چاٹنے کی سرتوڑ کوششیں کررہا ہے۔
سنگین غداری کے مجرم پرویز مشرف کی حمایت اور عدلیہ کے معزز جج کے خلاف ایم کیو ایم کی کمپیئن کی وجہ  سے قوم کا اعتماد اپنی عدلیہ پر مزید بڑھتا جارہا ہے، اس لئے میری دونوں اطراف کے صاحبان عقل و خرد سے گزارش ہے کہ وہ فیصلوں اور فیصلوں کے خلاف ردعمل کو آئین کے تحت رکھنے کی کوشش کریں کیونکہ اسی  میں سب کا فائدہ ہے ،22کروڑ عوام حیرت سے یہ منظر نامہ دیکھ رہے ہیں، پرویز مشرف کو غدار قرار دیکر پھانسی کی سزا طالبان یا القاعدہ کی عدالت نے نہیں سنائی کہ اس فیصلے کے خلاف درباریوں سے فتوے طلب کیے جائیں بلکہ سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت آئین پاکستان کے تحت قائم ہوئی اور پرویز مشرف کی لاش کو تین دن تک ڈی چوک میں لٹکانے کانوٹ لکھنے والے جسٹس وقار آج بھی پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہیں، اس  لئے اگر ان کے فیصلے پر کسی کو اعتراض ہے تو وہ فتویٰ فروشی کی بجائے آئین پاکستان کا سہارا لینے کی کوشش کرے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ جب غازی ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی تو مفتیان نے اس پھانسی کو بھی غیر شرعی قرار دیا تھا اور آج کے بعض ’’فتویٰ باز‘‘ اس وقت عدلیہ یا ریاست کے ساتھ نہیں بلکہ ممتاز قادری شہید کے ساتھ کھڑے تھے، جس وقت سپریم کورٹ نے گستاخی کی مجرمہ آسیہ ملعونہ کو رہا تھا تب بھی اس فیصلے کو غیر شرعی کہا گیا تھا ، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ممتاز قادری کی پھانسی اور آسیہ ملعونہ کی رہائی والے غیر  شرعی فیصلوں پر ’’فتوئوں‘‘ سے کوئی اثر پڑا؟ ہرگز نہیں بلکہ آسیہ ملعونہ والے فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والے تحریک لبیک کے کارکنوں اور قائدین کے خلاف عمران خان نے خود ٹی وی چینلز پر آکر نہ صرف دھمکی آمیز لب و لہجہ استعمال کیا بلکہ ان بے چاروں کے خلاف ایک بےرحمانہ آپریشن بھی کیا گیا، علامہ خادم حسین رضوی کو معذوری کے باوجود قیدوبند کی صعوبتوں میں ڈالا گیا۔
لبرل، سیکولر، اینکرز اینکرنیاں اس معذور نامور عالم دین کا استہزاء اڑاتے رہے، آسیہ ملعونہ کے فیصلے کے خلاف احتجاج بھی عروج پر تھا، مولانا سمیع الحق جیسے نامور بزرگ عالم دین کو انتہائی ظالمانہ انداز میں ’’نامعلوم‘‘ دہشت گردوں نے شہید کر ڈالا، تمام تر فتوئوں اور تمام مسالک کے جیداکابر علماء کے شدید احتجاج کے باوجود نہ صرف ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی بلکہ اس جنازے کے لاکھوں کے اجتماع کو بھی  میڈیا سے بلیک آئوٹ کیا گیا، مذہب پسند عوام کے ان ناپسندیدہ فیصلوں کے حق میں میڈیا، عدلیہ، حکمران اور ریاستی ادارے ایک ’’پیج‘‘ پر موجود رہے، جو عوام ان فیصلوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے ان کے خلاف ڈنڈا استعمال کیاگیا۔
پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ بھی عدالت نے ہی دیا ہے، اس ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں اب اس فیصلے کو تسلیم  کرلینے میں ہی عظمت ہے لیکن اگر کسی فرد کے ذہن میں طاقت کا بھوت سوار ہے تو سن لیجئے کہ سب سے طاقتور ذات اللہ رب العزت کی ہے ، وہ اللہ کہ جس نے ہزاروں سال قبل ایک لنگڑے مچھر سے نمرود اور آج کے جدید دور میں بے سرو سامان افغان طالبان کے ہاتھوں امریکہ کو عبرتناک انجا م سے دوچار کروایا۔ بے شک ، سدا بادشاہی اللہ ہی کی ہے۔