07:44 am
اشرف غنی کی واپسی…مسیحی بھائیوں کو کرسمس مبارک

اشرف غنی کی واپسی…مسیحی بھائیوں کو کرسمس مبارک

07:44 am

٭  کل25 دسمبر: حضرت عیسیٰؑ، قائداعظم، نوازشریف کا یوم پیدائش،  پرسوں 26 دسمبر، پروین شاکر کی برسی، سورج گرہن!O اشرف غنی دوبارہ افغانستان کے صدرO بھارت کے خلاف بیان، مودی نے ملائیشیا کے سفیر کو طلب کر لیاO جنرل مشرف کے حق میں ایم کیو ایم کی ریلیO بھارت: شہریت ایکٹ، شدید ہنگامے،26 ہلاک بے شمار زخمیO کرکٹ: سری لنکا کے خلاف ناقابل تصور جیتO مقبوضہ کشمیر، کرفیو کو141 دن ہو گئےOکراچی: کتوں نے سات افراد کو کاٹ لیا!
 
٭ کل کا دن بہت اہم ہے۔  کل کے دن حضرت عیسیٰ کا یوم پیدائش، کرسمس، منایا جا رہا ہے۔ عام لوگوں میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح سرفہرست ہیں۔ انہوں نے مکمل پاکستان لے کر دیا مگر ہمارے فوجی آمر اور اقتدار کی ہوس میں مبتلا سیاست دانوں نے اسے دو لخت کر دیا۔ فوجی آمر کو فوجی اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا، اس کے معاونت کار سیاست دان کو پھانسی دے دی گئی۔ اس دن کی دوسری اہم شخصیت! نوازشریف!! 30 برس پاکستان پر حکومت کی، لندن میں کھربوں کی جائیداد بنا لی، پاکستان کے وزیراعظم دبئی میںبھی ملازمت کر رہے تھے۔ وہاںکا اقامہ بھی حاصل تھا۔ ساڑھے سات سال قید، سات ارب جرمانہ، بڑی آسانی کے ساتھ جیل سے نکل کر20 نومبر2019ء کو لندن پہنچ گئے، وہاں اپنے گھر پرآرام کر رہے ہیں۔ ہر پانچ چھ روز بعد ایک میڈیکل ٹیسٹ ہو جاتا ہے۔ لندن ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے اصل بیماری کا دور دور تک کوئی نام نشان نہیں مل رہا۔ تقریباً سارا خاندان (پانچ مفرور اشتہاری!) لندن میں ہے، اب سزا یافتہ بیٹی بھی مریم نواز بھی اس بنا پر لندن جانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ابا بہت یاد آ رہے ہیں! ویسے تو ہمارے غلام احمد بلور بھی 25 دسمبر (1939ء) کو پیدا ہوئے آج ان کی عمر 80 سال ہو گئی ہے لیکن ان کے یوم پیدائش پر کبھی کوئی تقریب نہیںہوئی۔ ان کے بھی نوازشریف اور آصف زرداری کی طرح بیرون ملک اثاثے ہوتے تو وہ بھی پاکستان کے مردان غازی قرار پاتے اور ان کی زندگی کے بارے میں اخبارات میں مضامین شائع ہوتے مگر یہ نہ ہو سکا۔ البتہ چند ایک بارسوال اٹھا جس کا انہوں نے کبھی جواب نہیں دیا یہ کہ وہ ریلوے کے وزیر بنے تو ان کی حضرو سے کراچی تک ہفتے میں ایک بس چلتی تھی۔ ریلوے کے وزیر بننے کے بعد متعدد ٹرینیں بند ہو گئیں مگرحَضرو سے کراچی جانے والی بسوں کی تعداد ہفتے میں تقریباً 10 سے 12 ہو گئی! کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ قدرت کب مہربان ہو جائے!
قارئین کرام! 25 دسمبر کو اس سرزمین پر نازل ہونے والے کچھ دوسرے نام پر پڑھ لیجئے، علم میں اضافہ ہو جائے گا۔ بہت سے نام ہیں، صرف چند نام: مشہور سائنس دان آئزک نیوٹن (1643-1736) انگریزی کا مشہور شاعر ورڈزورتھ (1771)، الجزائر کا پہلا صدر احمد بن بیلا (1916ء) سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی (1924)، موسیقار نوشاد علی 1919، مصر کا نوبل انعام یافتہ صدر         … اتنے ہی کافی ہیں۔ قارئین میں جس کسی کا یوم پیدائش 25 دسمبر ہے اسے مبارکباد!
٭ایک خوش گوار ’صدمہ‘!! پاکستان کی کرکٹ ٹیم نے 13 برس کے بعد اپنے ہی ملک میں سری لنکا کی ٹیم کو شکست دے دی! چڑیاں کوے حیران کہ یہ کیا ہوا؟؟ یہ بے چاری ٹیم تو برسوں سے مسلسل شکستیں کھا کھا کر سٹریچر پر پڑی ہوئی تھی۔ اس کی غیرت اچانک کیسے جاگ پڑی! بہت سوچ بچار کی تو یہی کچھ سمجھ میں آ سکا کہ بات نیت کی ہوتی ہے۔ نیت صاف ہو، عزم جوان ہو، غیرت زندہ ہو تو کوئی رکاوٹ رکاوٹ نہیں رہتی! مجھے حیرت انگیز مسرت ہو رہی ہے۔ مبارکباد بھی ضرور دوں گا، مگر آئندہ؟کچھ عرصہ پہلے لاہور میں ایک سرکس دیکھی۔ ایک پنجرے میں ایک بڑا سا ببر شیر بے چین دکھائی دے رہا تھا۔ اس کا تماشا دکھانے کا وقت قریب آ رہا تھا۔ اس کا پنجرا کھولا گیا، باہر نکل کر بھاگتا ہوا ایک اونچے میز پر جا چڑھا، ایک دو کرتب دکھائے، تھوڑا سادودھ پیا اور پھر بھاگتا ہوا واپس اپنے پنجرے میں آ کر بیٹھ گیا! غلامی بھی کیا چیز ہے! شیر خود پنجرے میں واپس آ جاتا ہے۔ مغلیہ خاندان کی شہزادیاں نئے حاکم قادر خاں روہیلہ کے سامنے رقص کرتی ہیں، روہیلہ سو جاتا ہے۔ اس کا خنجر سامنے پڑا ہے۔ شہزادیوں کا رقص جاری رہتا ہے۔ روہیلہ جاگ پڑتا ہے، کہتا ہے کہ میں سویا نہیں تھا، آنکھیں بند تھیں مگر سب کچھ دیکھ رہاتھا کہ کب کوئی شہزادی خنجر اٹھا کر مجھ پر حملہ کرتی ہے مگر کسی کی غیرت نہ جاگی! ٹھیک ہے، ناچتی رہو، یہی تمہارا مقدر ہے! علامہ اقبال نے اسی منظر پر کہا کہ ’’حمیت نام تھا، گئی تیمور کے گھر سے!‘‘ قارئین الجھن سے دوچار ہو رہے ہوں گے کہ بات کو کرکٹ ٹیم کی عجیب و غریب کارکردگی کی ہو رہی تھی، پہلی اننگز میں 191 پر ڈھیر، دوسری اننگز میں صرف تین وکٹوں پر 555 رنز کا پہاڑ!!حیرت! شکستوں پر شکستیں! پنجرے میں بند شیر ٹیم کو کیا ہو گیا؟ اک دم جاگ پڑی۔ اس کی عام شہرت ہی یہ ہے کہ انتہائی ناقابل اعتبار ٹیم ہے، پتہ نہیں، کب کیا کام دکھا دے! صوفی شاعر خواجہ میر درد نے ایسے میں منظر نامے کے بارے میں کہا تھا کہ ’’دِل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے، آن میں کچھ ہے، آن میں کچھ ہے۔‘‘
٭افغانستان کی قسمت! امریکہ اور بھارت کا دریوزہ گر اشرف غنی پھر افغانستان کا نام نہاد صدر بن گیا۔ دنیا بھر میں انوکھے صدارتی الیکشن! 28 ستمبر کو انتخابات ہوئے اور تقریباً تین ماہ بعد، نتیجے کا اعلان!! تین ماہ تک نتیجہ کہاں اور کیوں چھپا رہا؟ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چند گھنٹوں میںرزلٹ سامنے آ جاتا ہے۔ اسمبلیوں کے سینکڑوںارکان کے رزلٹ میں کچھ دیر لگ سکتی ہے مگر یہ تو صرف ایک عہدہ کا الیکشن تھا! اشرف غنی کو تقریباً 50 فیصد اور اس کے حریف عبداللہ عبداللہ کو 39 فیصد ووٹ ملے ہیں۔ عبداللہ عبداللہ چیخ رہا ہے کہ بھاری دھاندلی ہوئی ہے! دھاندلی یا کیا مگرنتیجہ 3 ماہ کے بعد! شائد امریکہ اور بھارت کو اشرف غنی جیسی کوئی قدم بوس کٹھ پتلی دکھائی نہیں دے سکی!!
٭بوجھل باتوں کے بعد کچھ ہلکی پھلکی باتیں: پیپلزپارٹی کی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پلوشہ محمد زئی نے سرکاری وزارت اطلاعات کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کے بارے میں کچھ کہا ہے۔ پلوشہ ہی کی زبان سے ’’فردوس عاشق اعوان تو سرکاری برتن بھی نہیں چھوڑتی۔ پولیس نے چھاپہ مار کر سیالکوٹ میں اس کے گھر پر چھاپہ مار کر 12 سرکاری بسیں، سرکاری فرنیچر اور سرکاری برتن برآمد کئے تھے۔‘‘ میں اس معاملہ پر کوئی تبصرہ نہیں کرتا۔ عورتوں کی لڑائی بہت دلچسپ ہوتی ہے نچلی سطح پر ایک دوسرے کے بارے میں ایسے ایسے نسبی و علاقائی قسم کے انکشافات کرتی ہیں کہ سننے والوں کے کان سرخ ہو جاتے ہیں۔ میں نے دو سٹیج اداکارائوں کو لڑتے سنا، توبہ توبہ!! شہر کا کوئی بڑا نام نہیں چھوڑا۔ اونچی سطح پر بات بھی اونچی ہوتی ہے جیسی پلوشہ نے فردوس عاشق اعوان کے بارے میں کہی ہے۔ دیکھتے ہیں سیالکوٹ کی فردوس عاشق اعوان چکوال کی پلوشہ کے الزامات کے جواب میں مخالف فریق کے بارے میں کیا جواب دیتی ہیں؟ جو بھی ہو گا، دلچسپ ہی ہونا چاہئے!
٭ایک خبر: مظفر آباد میںدوبارہ کوکین اور افیون کا کاروبار شروع ہو گیا ہے۔ یہ خبر سن کر تھڑا سیاست دان علم دین نے کیا تبصرہ کیا ہے کہ یہ دونوں منشیات نیند آور ہیں مگر مظفر آباد والے تو پہلے ہی سوئے ہوئے ہیں، کبھی کبھار جاگتے ہیں تو یورپ اور امریکہ کا رخ کرلیتے ہیں، افیون اور کوکین کامظفرآباد میں کاروبار کیسے چلے گا؟
٭کراچی میں ایم کیو ایم نے جنرل (ر) مشرف کے حق میں ریلی نکالی۔ جنرل مشرف دہلی سے پاکستان آیا تھا۔ ایم کیو ایم نے الطاف حسین کے فرار کے بعد اسے سرپرست تسلیم کر لیا۔ بے نظیر بھٹو کی کراچی آمد پر خونریز دھماکہ سے بھاری جانی نقصان ہوا۔ اسی روز کراچی کے ایک حصے میں ایم کیو ایم نے ایک پُرجوش ریلی نکالی۔ ان واقعات کے بعد ڈی چوک میں کھڑے ہو کر جنرل مشرف نے ہوا میں مُکا لہرایا اور حاضرین سے کہاکہ ’’دیکھ لی آپ نے عوامی طاقت!‘‘