09:05 am
او آئی سی  وارننگ… حرمین کے خلاف ہندو سازش

او آئی سی  وارننگ… حرمین کے خلاف ہندو سازش

09:05 am

نواز شریف تو چلیں بیمار ہیں، لیکن کیاشہباز شریف اور مریم نواز بھی بیمار ہیں کہ جو پرویز مشرف کے خلاف آنے والے عدالتی فیصلے کو سراہنے سے بھی گریزاں ہیں؟ کوئی نواز شریف سے پوچھے کہ اگر انہوں نے  مشرف کا معاملہ اللہ پر ہی چھوڑنا تھا تو پھر سنگین غداری کا مقدمہ قائم کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا نعرہ تخلیق کرنے والے اگر عدالت کے درست فیصلے کی تائید کرنے سے بھی قاصر رہے تو پھر انہیں ووٹ دینے والا ووٹر یہ سوال ضرور اٹھائے گا کہ ’’ووٹر‘‘ تو یہیں پر ہے، لیکن ووٹ کو عزت دو کا نعرہ متعارف کروانے والے کچھ لندن چلے گئے اور جوپیچھے رہ گئے و بھی لندن جانے کیلئے پرتول رہ ہیں … تو کیوں؟ مسلم لیگ (ن) میں موجود احباب سے بڑی معذرت، میں شریفوں کی اس سیاست کو ’’بزدلانہ‘‘ نہ کہوں تو پھر کیا کہوں؟
کیا ن لیگ کا ووٹر لندن میں منتقل ہوچکا ہے کہ ابا، چچا اور بھائیوں کے بعد محترمہ مریم نواز بھی لندن جانا چاہتی ہیں؟ جنہوں نے پرویز مشرف کے خلاف آنے والے عدالتی فیصلے کی حمایت اور جنہوں نے اس کی مخالفت کی ، میرے نزدیک وہ سب قابل احترام لوگ ہیں، لیکن وہ جو نہ ادھر ہیں نہ ادھر ہیں … لندن میں موجود اس اپوزیشن لیڈر سے کوئی پوچھے کہ آخر وہ کدھر ہیں؟ جو اپنے سب سے بڑے مخالف کے خلاف آنے والے فیصلے کی کھل کر حمایت کرنے سے بھی خوفزدہ ہوں، ایسے ’’بہادروں‘‘ کی لیڈری سے توبہ ہی بھلی، اب بڑھتے ہیں دوسرے موضوع کی طرف اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے بھارت میں متنازعہ شہریت کے بل اور بابری مسجد کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال سے مسلمان  اقلیت متاثر ہو رہی ہے، مزید اقدامات تنائو کا باعث بن سکتے ہیں، بیان میں مزید کہا گیا کہ بابری مسجد کے کیس کے معاملے پر بھی سخت تشویش ہے، او آئی سی بھارت میں مسلمانوں پر اثر انداز ہونے والے اقدامات پر نظر رکھے ہوئے ہے  اور مودی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ بھارت میں مسلم اقلیت اور اسلامی عبادت گاہوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
اسلامی تعاون تنظیم کا یہ بیان نہایت خوش آئند ہے ، گو کہ یار لوگ یہ کہہ  رہے ہیں کہ او آئی سی کا یہ جرات مندانہ بیان کوالالمپور سمٹ کا نتیجہ ہے اور یہ بھی کہ اگر ملائیشیاء میں مسلمان ممالک کی سربراہی کانفرنس  نہ ہوئی ہوتی تو ممکن ہے کہ اب بھی او آئی سی غفلت کی چادر تانے سوئی رہتی؟
اسلامی تعاون تنظیم کے اکابرین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت کی موجودہ اندرونی  صورت حال پر صرف نظر نہ رکھیں بلکہ اس سے بڑھ کر بھی کچھ کرنے کی کوشش  کریں، کیونکہ بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کے حالات دن بدن بد سے بدتر ہوتے چلے جارہے ہیں،  بھارت دنیا کا وہ واحد ملک ہے کہ جہاں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو جینے کا حق نہیں دیا جارہا …  یہاں تک کہ عدلیہ مسلمانوں کو انصاف فراہم کرنے کے لئے بھی تیار نہیں۔ ہندو شدت پسندوں کا حوصلہ اس قدر بڑھ چکا ہے کہ انہوں نے ایک کیلنڈر شائع کیا ہے جس میں بیت اللہ کو بھی (نعوذ باللہ) رام مندر کے طور پر دکھایا گیا ہے ۔
اسلامی تعاون تنظیم کے اکابرین اس بات پر غور کریں کہ عرب و عجم کے مسلمان ممالک کے حکمران تو بھارتی ہندوہوں  یا سکھ سب کے ساتھ حسن سلوک کررہے ہیں، ابھی وزیراعظم عمران خان نے نہ صرف بھارت کے ساتھ کرتارپورہ راہداری کو کھولا بلکہ سکھوں کے لئے عظیم الشان گوردوارہ بھی سرکاری خرچے پر تعمیر کرکے سکھوں کے حوالے کر دیا، اس سے قبل متحدہ عرب امارات نے اپنے خرچے پر بھارتی ہندوئوں کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں مندر تعمیر کر کے دیا، سعودی عرب نے ہندوستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے، ایران کے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی نوعیت انتہائی مثالی رہی ہے، چاہ بہار اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔عرب حکمرانوں کی طرف سے نریندر مودی کو میڈ ل بھی عطا کیے گئے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کا بڑا پن ہے،  لیکن نریندر مودی اور بھارت کے شدت پسند ہندو اس قدر بدمعاش، رذیل اور کم ظرف واقع ہوئے ہیں کہ مسلم ممالک کا کھاکر، مسلم حکمرانوں سے میڈل وصول کرنے کے باوجود یہ کشمیری اور ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ظلم، دجل اور فریب سے باز نہیں آتے، مسلمانوں کی مساجد پر حملے کرتے ہیں، گائے کے ذبیحہ کا الزام لگاکر انسانوں کو زندہ جلا ڈالتے ہیں، آقاء مولیٰ حضرت محمد کریمﷺ نے مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند قرار دیاہے، میری عرب و عجم کے تمام ممالک کے مسلم حکمرانوں سے اپیل ہے کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ کم ظرف نریندر مودی کو کٹہرے میں کھڑا کرکے  پوچھا جائے کہ تم مسلمانوں سے جینے کا حق کیوں چھین رہے ہو؟ سعودی عرب میں واقع مکہ و مدینہ امت مسلمہ کے انتہائی متبرک روحانی مراکز ہیں، مسجد الحرام کائنات کے ہر مسلمان کی عقیدتوں کا محور و مرکز ہے، پاکستان کا ہر مسلمان مکہ و مدینہ کی حرمت پر جان قربان کرنا اپنے لئے سعادت سمجھتا ہے۔
نریندر مودی کے ہندو انتہا پسندوں کو یہ جرات کیسے ہوئی کہ انہوں نے بیت اللہ شریف اور مکہ و مدینہ کے حوالے سے غلاظت بھری گفتگو کی ، بیت اللہ کو نعوذ باللہ مندر بنانے کی بات کرنا سعودی عرب کی سالمیت پر حملہ ہے صرف سعودی عرب ہی نہیں بلکہ دنیا میں بسنے والے ایک ارب75 کروڑ مسلمانوں کی غیرت کو چیلنج ہے، اگر ہم حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملے برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں تو پھر بھارتی ہندوئوں کی مکہ و مدینہ اور سعودی عرب کے خلاف کی جانے والی ناپاک سازشوں کو کس طرح برداشت کرسکتے ہیں؟ او ئی سی کو چاہیے کہ اگر اس وارننگ کے بعد بھی بھارت مسلمانوں پر مظالم ڈھانے سے باز نہیں آتا تو پھر بھارت کے خلاف عملی اقدامات اٹھائے جائیں، خلیجی ممالک میں موجود بھارتی ہندوئوں کو واپس بھارت بھجوانے کا فیصلہ کیا جائے اور نریندر مودی سے پوچھا جائے کہ آر ایس ایس کے جن بدمعاشوں نے بیت اللہ، مکہ اور مدینہ کے خلاف کیلنڈر چھاپا ہے، ان بدمعاش ہندوئوں کو ابھی تک گرفتار کرکے قرار واقعی سزا کیوں نہیں دی گئی؟