09:07 am
بھارت، نریندر مودی کی پہلی شکست!

بھارت، نریندر مودی کی پہلی شکست!

09:07 am

٭احسن اقبال گرفتار،30 کروڑ کا کام تین ارب میں کرانے کا الزامOکشمیر پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ جنرل باجوہ بھارت، جھاڑ کھنڈ صوبہ، بی جے پی کی 5 سالہ حکومت ختم کانگرس آ گئی، ملک بھر میں ہنگامےO بلاول، نیب کے سامنے پیش ہونے سے انکار، مجھے گرفتار کر کے دیکھو!O 27... دسمبر، بے نظیر بھٹو کا قتل، لیاقت پارک راولپنڈی میں جلسہ، منظوری نہ مل سکیO فیصل آباد: ولیمہ، 11 کھانے، گورنر اور وزیر موجودO قصور، کتے کے کاٹنے سے شہری جاں بحق، کراچی میں کتوں کے کاٹنے سے سات افراد زخمیO پرویز مشرف کو سزائے موت، اسلامی نظریاتی کونسل جائزہ لے گیO ترکی میں سعودی صحافی خشوگی کا قتل، 5 ملزم سزائے موت، تین افراد 24 سال قید، سعودی عدالت
٭نیب نے طویل تحقیقات کے بعد نارووال سے تعلق رکھنے والے، ن لیگ کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال کو گرفتار کر لیا۔ الزام یہ ہے کہ نارووال میں سپورٹس سٹیڈیم کی تعمیر کا 30 کروڑ روپے کا ٹھیکہ منظور ہوا مگر تین ارب روپے کے اخراجات دکھائے گئے۔ اس کیس میں ٹھیکیدار وغیرہ دوسرے افراد بھی شامل ہیں۔ حسب روائت ن لیگ کے رہنمائوں نے اسے سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔ یہ روائت تو قیام پاکستان سے اب تک چلی آ رہی ہے کہ اپوزیشن کے خلاف واضح ثبوت کے ساتھ بھی کوئی کارروائی کی جائے تو وہ سیاسی انتقام ہوتا ہے مگر اس دوران برسراقتدار حکومت کتنی ہی دھاندلیوں کی شکار ہو، اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، مثلا برسراقتدار نوازشریف کے حکم پر مخالف آصف زرداری کے خلاف مقدمے درج کر کے جیل بھیجا گیا تو یہ سیاسی انتقام قرار پایا۔ پھر منی لانڈرنگ وغیرہ ایسے ہی الزامات پر اپوزیشن میں آنے والے نوازشریف کو بھی گرفتار کیا گیا تو یہ بھی ’سیاسی انتقام‘ ہی تھا۔ یہ روائت اب بھی چل رہی ہے مگر ماضی میں تو کسی ایک شخص کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی اب سیاسی منڈیوں میں مخالفین کی گرفتاریوں کے اتوار بازار لگے ہوئے ہیں۔نیب نے موجودہ حکومت کے دور میں جو گرفتاریاں کی ہیں ان کے ناموں پر ایک نظر ڈالیں، ن لیگ کے نوازشریف، شہبازشریف، حمزہ شہباز، سلمان عباس، احسن اقبال، مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، راناا ثناء اللہ، مفتاح اسماعیل، سعد رفیق، سلمان رفیق اور دوسرے افراد ن لیگ ہی کے مفرور اور اشتہاری قرار دیئے جانے والوں میں نوازشریف کے دو بیٹے حسین نواز، حسن نواز، اسحاق ڈار اور دو بیٹے۔ پیپلزپارٹی کی گرفتاریاں آصف زرداری، ان کے بہت سے ساتھی، فریال تالپور، اب بلاول کی باری ہے۔
 ان ناموں کے بعد اب حکومت کی طرف آئیں۔ تحریک انصاف نے 126 روز تک اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دیا۔ اس دوران پارلیمنٹ، وزیراعظم ہائوس اور پاکستان ٹیلی ویژن کے ہیڈ کوارٹر پر حملے ہوئے، بہت سی توڑ پھوڑ ہوئی، پولیس کے ایس پی کو زدو کوب کیا گیا، سول نافرمانی کا اعلان کیا، تین افراد ہلاک ہونے کی خبریں بھی عام ہوئیں، مقدمات درج ہوئے، مگر آج تک تحریک انصاف کے کسی ایک رکن کی گرفتاری؟؟ پنجاب میں ایک رکن عبدالعلیم خاں کو ایک ہائوسنگ سوسائٹی کے کسی چکر میں گرفتار کیا گیا، چند ہی روز میں ضمانت ہوگئی۔ اس وقت تحریک انصاف کا کوئی نام کسی جیل میں نہیں! یہ پارٹی کسی وقت اپوزیشن میں آ گئی تو اس کی بھی گرفتاریوں کے اتوار بازار لگ جائیں گے! آئین، قانون، عدل و انصاف، اخلاقیات!! سب کھیل تماشا اور ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان!
٭قانون کا ذکر آیا تو اخبارات میں گزشتہ روز کا ایک واقعہ چھپا ہے۔ اسے دوبارہ پڑھ لیجئے! کئی برسوں سے شادیوں میں سالن، چاول اور میٹھے کی صرف ایک ڈش کا قانون اور رات کو دس بجے تقریب بند کرنے کی پابندی نافذ ہے۔ گزشتہ روز فیصل آباد کے ایک سابق ڈپٹی میئر کے بیٹے کے ولیمہ میں گیارہ ڈشیں موجود تھیں۔ کوئی کارروائی نہیں ہوئی ستم یہ کہ اس تقریب میں پنجاب کے گورنر اور ایک وزیر بھی شریک تھے! ظاہر ہے کسی افسر یا پولیس نے کیا کارروائی کرنی تھی۔ دوبارہ پڑھئے کہ 11 ڈشوں کے ولیمہ میں گورنر اور ایک وزیربھی موجود تھے! اس پر کیا لکھا جائے!! گورنر نے کوئی اعتراض کیا نہ وزیرکو قانون کی یہ رسوائی دکھائی دی! کارروائی کون کرتا؟ کارروائی کرنے والے افسر کو صادق آباد یا راجن پوپر بھیج دیا جاتا! اس ملک پر زوال ایسے ہی نہیں آیا!! امریکہ کے ایک نائب صدر کے ٹی اے، ڈی اے کے بل میں تقریباً 40 ڈالر زیادہ دکھائی دینے پر اسے مصیبت پڑ گئی۔ سینٹ نے جواب طلب کر لیا۔ اب ٹرمپ کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہو رہا ہے۔ ٹریفک کا ایک سپاہی برطانیہ کے ولی عہد، آئندہ بادشاہ کی کار کی تیز رفتار پر چالان کر دیتا ہے۔ مجسٹریٹ ولی عہد کو عام جرمانے سے ڈیرھ گنا جرمانہ کر دیتا ہے اور ریمارکس دیتا ہے کہ قانون کے نگران محافظ کی قانون شکنی عام شہری کے مقابلہ میں زیادہ سنگین ہے…!
٭بھارت میں نریندر مودی کے مُسلم کُش اقتدار کی توڑ پھوڑ شروع ہو گئی۔ جھاڑ کھنڈ صوبہ میں اس کی پارٹی بی جے پی بھاری اکثریت کے ساتھ حکمران تھی۔ دو روز قبل عام انتخابات میں منہ کے بل گِر گئی اور کانگریس اتحادی ساتھیوں کے ساتھ برسراقتدار آ گئی۔ یہ آغاز ہے۔ اس وقت شہریت ایکٹ کے خلاف پورا بھارت شدید خونریز ہنگاموں کی زد میں آ چکا ہے۔9 صوبوں میں احتجاجی ہڑتالیں، بلوے، آتش زنی کے بے شمار واقعات کے نتیجہ میں درجنوں گاڑیاں، تھانے، سرکاری عمارتیں جلائی جا چکی ہیں۔ متعدد یونیورسٹیاں، کالج، سکول اور مارکیٹیں بند ہیں۔ بڑے صوبوں بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بیز جی، مدھیہ پردیش (سی پی) کے وزیراعلیٰ سی ایم کمال ناتھ، راجستھان کے وزیراعلیٰ سی ایم اشوک، آسام اور کچھ دوسرے صوبوں نے صاف الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ یہ قانون نافذ نہیں ہونے دیں گے۔
٭بلاول کو گزشتہ روز نیب نے ایک ارب روپے سے زیادہ کی منی لانڈرنگ کے الزام میں اپنے دفتر بلایا تھا۔ بلاول نے جانے سے صاف انکار کر دیا اور خبردار کیا کہ مجھے ہاتھ لگا کر دیکھو! بلاول نوجوان ہے۔ اس عمر میں ہوش و حواس کی بجائے جوش زیادہ سرگرم ہوتا ہے۔ سنو بلاول! تاریخ بتاتی ہے کہ تمہارے بہت طاقت ور نانا ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو تمہاری پارٹی کا کوئی جیالا باہر نہیں نکلا تھا بلکہ جانیں بچانے کے لئے گھروں میں چھپ گئے۔ کوثر نیازی اور اعتزاز احسن نے پہلے ہی پارٹی چھوڑ دی تھی، مصطفی کھر تو لندن بھاگ گیا۔ بھٹو کا کوئی وفادار سڑک پر نہ آیا۔ اور اب اپنے زمانے کے کون کون سے بڑے نام جیلوں میں بند ہیں اور عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں! ان میں ایک سابق صدر، چار سابق وزرائے اعظم، اور دوسرے بڑے نام شامل ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی نیب یا کسی عدالت میں پیش ہونے سے انکار نہیں کیا۔ ان لوگوں کے سامنے تم ابھی بہت چھوٹے ہو۔ نیب نے تم پر ہاتھ ڈال دیا تو بڑی مشکل میں پڑ جائو گے!
٭قصور میں ایک نوجوان محنت کش کتے کے کاٹنے سے جاں بحق ہو گیا۔ عجیب بات ہے، ہر بری خبر قصور سے ہی آتی ہے! مگر کراچی کا بھی کیا عالم ہے۔ لاڑکانہ میں دو بچے پاگل کتوں کے شکار ہو گئے، اب مختلف مقامات پر مزید سات افراد کو کتوں کے کاٹنے کی اطلاعات شائع ہوئی ہیں۔ وہاں کتے تلف کرنے کی بجائے انہیں حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں!