09:51 am
مہتاب خان کا عزم بالجرم

مہتاب خان کا عزم بالجرم

09:51 am

’’اوصاف قلمی جہاد پر قائم‘ کبھی یوٹرن نہیں لیا‘ اوصاف پہلے سے زیادہ مقبول ہو رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ الحمدللہ ہم جس قلمی جہاد کے لئے چلے تھے آج بھی اس پر قائم ہیں‘‘ روزنامہ اوصاف کے چیف ایڈیٹر محترم مہتاب خان کے خطاب کی یہ جھلکیاں جب اس خاکسار نے اخبار میں پڑھیں تو اوصاف کا 19سالہ سفر کسی کتاب کی طرح کھل کر میرے تصورات میں آبراجمان ہوا۔
 
چیف ایڈیٹر مہتاب خان نے اوصاف کے نمائندگان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جو دعویٰ کیا ہے ‘ میرا دل چاہتا ہے کہ آج کے کالم میں  اس کا مختصراً جائزہ لیا جائے ’’قلمی‘‘ جہاد کا سفر شروع کرکے 19سال بعد بھی اس  پر قائم رہنے کا عزم کوئی معمولی بات نہیں‘ بلکہ انتہائی غیر معمولی بات ہے‘ اکثر ’’قلم‘‘ کو دس‘ پچاس یا سو روپے کا لکھنے والا آلہ سمجھا جاتا ہے لیکن جاننے والے جانتے ہیں کہ ’’قلم‘‘ کی قسم کھا کر اللہ نے ’’قلم‘‘ کو جو عظمت بخشی ہے‘ اس عظمت کو کسی ظالم کا ظلم اور کسی قلم فروش کی قلم فروشی کم نہیں کر سکتی۔
مہتاب خان کو میڈیا انڈسٹری کا ایک چمکتا ہوا چاند اس لئے لکھ رہا ہوں‘ کیونکہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ ان کے لئے بھی اپنے اخبار کو کسی ’’امن کی آشا‘‘ ٹائپ کمپین کا حصہ بنا کر نوٹ سمیٹنا بہت آسان تھا‘ امریکہ یا مغربی ممالک کے ایجنڈے کو ملک میں پروان چڑھانے کی قیمت یہ بھی ڈالروں میں وصول کر سکتے تھے۔ اس لئے کہ دوسروں کو تو مغرب کا ایجنٹ بننے کے لئے نجانے کتنے پاپڑ بیلنا پڑے ہیں‘ مگر یہ تو 27سال روزگار کے سلسلے میں جرمنی میں رہ چکے ہیں۔ امریکی اور مغربی این جی اوز میں ٹائوٹی ڈھونڈنے والوں کو انگلش میں درخواستیں کمپوز کروانا پڑتی ہیں‘ ضمیر فروشی‘ اسلام فروشی‘ نظریات فروشی اور نجانے کیا کچھ بیچنا پڑتا ہے مگر مہتاب خان صاحب نے تو اوصاف کا آغاز کیا ہی لندن سے تھا۔
آج بھی اوصاف لندن اور جرمنی سے بیک وقت شائع ہو کر اپنی بہاریں دکھا رہا ہے‘ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مہتاب خان امریکہ‘ انڈیا اور مغربی دنیا کی حکومتوں اور این جی اوز کے پھیلائے ہوئے دام فریب میں الجھنے سے بچے رہے‘ اور انہوں نے اوصاف کو بھی دین اسلام کے احکامات اور نظریہ پاکستان کے دفاع کے لئے وقف رکھا تو یہ خاص ان پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم‘ نیک نیتی اور ماں باپ کی دعائوں کا اثر ہے۔ ’’قلمی‘‘ جہاد بظاہر تو بہت مشکل‘ لیکن جو کرنے کی ٹھان لیں‘ پھر ان کے لئے نہایت آسان ہو جاتا ہے‘ اس لئے کہ ’’قلم فروش‘‘ در‘ در پہ سجدہ ریزیاں کرنے پر مجبور ہوتے ہیں‘ لیکن ’’قلمی‘‘ مجاہد صرف ایک پروردگار کے در پہ سجدے کا پابند رہتا ہے‘ قلم فروش رزق کی تلاش میں جانے کس کس کے سامنے دست سوال  دراز کرتے ہیں۔ جبکہ ’’قلم‘‘ کا مجاہد اپنے رزاق حقیقی کا ہی محتاج رہتا ہے اور اس کے عطا کردہ رزق پر قناعت کرتا ہے‘ مہتاب خان تو اوصاف کے پورے ’’قلم قبیلے‘‘ کے چیف اور سربراہ ہیں‘ اس لئے اللہ پر توکل بھی ان میں دوسروں سے زیادہ ہے۔
مجھے تحدیث بانعمت کے طور پر فخر ہے کہ  میں بھی اوصاف ٹیم کا حصہ ہوں  اور اوصاف کے قلمی سفر میں آنے والے نشیب و فراز کے دوران جب دوسرے ’’طاغوت‘‘ کے قدموں میں ڈھیر ہوتے تھے‘ ناموس رسالت ؐ ‘ تحفظ ختم نبوتؐ ‘ نظریہ پاکستان اور اسلامی تہذیب و تمدن کی خاطر میں نے انہیں بڑے   دورس  اور جرات کے ساتھ فیصلے کرتے ہوئے دیکھا۔
کہا جاتا ہے کہ میڈیا لوگوں میں ’’اویئرنیس‘‘ پیدا کرتا ہے‘ جو میڈیا حیاء اور بے حیائی ‘ غیرت اور بے غیرتی‘ عزت اور بے عزتی‘ حب الوطنی اور ملک دشمنی‘ دین اسلام اور سیکولر لادینیت میں فرق جاننے سے قاصر ہو‘ وہ جو  ’’اویئرنیس‘‘ پیدا  کر رہا ہے نجانے کس بلا کا نام ہے؟ مہتاب خان  صاحب کی ایک عادت جو مجھے پسند ہے کہ نہ تو انہیں بہت اونچا اڑنے کا شوق ہے اور نہ ہی در‘ در پہ سجدہ ریزی کی عادت‘ اپنے ماضی اور حال پہ خوش اور مستقبل میں مزید بہتری کی کوشش‘ سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنا سب کچھ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حوالے‘ یقینا ان کا یہی وہ مائنڈسیٹ ہے کہ جس کی بنیاد پر اوصاف کی پہلی اینٹ رکھی گئی۔
اوصاف کا قلمی جہاد کا سفر نہایت مشکل اور پرخطر بھی رہا‘ لیکن خطرات اور مشکلات میں بھی حق و صداقت کا پرچم سربلند رکھنا ہی تو اصل جہاد ہے اور اس ’’جہاد‘‘ کی اللہ نے اوصاف کو بھرپور توفیق عطا فرمائی‘ عالمی طاغوتی طاقتوں نے جس طرح سے وطن عزیز پاکستان کو نشانے پر رکھا ہوا ہے‘ یہ بات کسی بھی ذی شعور سے مخفی نہیں ہے‘ کبھی اقلیتوں کے حقوق اور کبھی مذہبی آزادی کے نام  پر پاکستان کو بدنام کرنے کی اغیار کی پرانی روایت ہے‘ حالانکہ اقلیتوں کے حقوق ہوں یا پھر اقلیتوں کو حاصل مذہبی آزادی‘ بھارت اور یورپ کے کئی ممالک سے زیادہ پاکستان میں ان کا خیال رکھا جاتا ہے‘ لیکن امریکہ اور اس کے حواری صرف بلیک میل کرنے کے لئے جان بوجھ کر اس حوالے سے پاکستان کو بدنام کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
 یہ کہنا بالکل درست ہے کہ پاکستان میں تمام مذاہب کے بسنے والوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے۔ پاکستان میں کسی قوم‘ نسل اور مذہب کو تعصب کا سامنا نہیں ہے‘ دفتر خارجہ کے ترجمان  کا یہ موقف کوئی مریخ سیارے کے حوالے سے نہیں‘ بلکہ پاکستان کی سرزمین کے حوالے سے ہے‘ اور دنیا جانتی ہے کہ بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں رہنے والی  اقلیتیں‘ خواہ وہ ہندو ہوں‘ عیسائی ہوں یا قادیانی سو فیصد اطمینان‘ سکون اور مذہبی آزادیوں سے مالا مال ہیں‘ مگر امریکہ کا کوا سفید ہی ہے تو کیوں؟
ایک تو این جی اوز مارکہ لبرلز‘ دوسرا قادیانی ’’لابسٹ‘‘ اور تیسرا دجالی میڈیا کی وجہ سے‘ لیکن روزنامہ اوصاف اپنے اداریوں‘ خبروں اور کالموں کے ذریعے اس مکروہ پروپیگنڈے کا توڑ پوری  دلجمعی اور ثابت قدمی سے کرتا چلا آرہا ہے‘ یہ وطن ہمارا ہے‘ پاکستان کو بدنام کرکے عالمی طاقتوں سے مال بٹورنے والے نہ سچے پاکستانی ہوسکتے ہیں اور نہ ہی اچھے پاکستانی۔ ’’پاکستان‘‘ کی قیمت پر مال و منعقت حاصل کرنے والے اس ملک پر ایک بوجھ کی مانند ہیں۔
یہاں جو جتنا بڑا چور اور ایجنٹ ہے وہ اپنے آپ کو ’’غیر جانبدار‘‘ کہلوانا پسند کرتا ہے‘ سوال یہ ہے کہ دین اسلام‘ پاکستان‘ اللہ‘ رسولؐ اور قرآن کے حوالے سے کوئی سچا پاکستانی یا مسلمان غیر جانبدار کیسے رہ سکتا ہے؟
کئی سالوں بعد پہلی مرتبہ ہوا کہ یہ خاکسار سفر کی وجہ سے اسلام آباد ہیڈ آفس میں ہونے والے نمائندگان کے اجلاس سے غیر حاضر رہا‘ اگر اوصاف ٹیم‘ بلیک میلنگ‘ پگڑیاں اچھالنے اور اغیار کے  ایجنڈے کو پروان چڑھانے سے بچی ہوئی ہے تو یہ سب اللہ کا فضل اور چیف ایڈیٹر کا بے لچک وہ رویہ ہے کہ جس پر وہ کمپرومائز کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔