09:52 am
چشم فلک کاایک منظر

چشم فلک کاایک منظر

09:52 am

شمارلی کوریاکے شہر ’’سن شی آن‘‘کے عین وسط  میں ایک سٹیڈیم کے وسطی دروازے سے 25پولیس اہلکارایک خستہ حال بوڑھے کوبازؤں سے گھسیٹ کرلارہے تھے،بوڑھے کی ایڑیوں سے ایک لمبی لکیر بنتی جارہی تھی۔پولیس اہلکاروں نے بوڑھے کو سٹیڈیم کے درمیان ایک عارضی سٹیج پربنے پھانسی گھاٹ پر سہارا دیکرکھڑاکرکے اس کارخ تماشائیوں کی طرف کردیا ۔ سٹیڈیم میں پن ڈراپ خاموشی میں ڈیڑھ لاکھ لوگ دم سادھ کربیٹھے تھے۔بوڑھے کی داڑھی الجھی اوربال پریشان تھے،اس کی آنکھوں میں گہری اداسی اور چہرے پر دکھ تھا،پولیس اہلکاروں کے جتھے میں سے ایک سینئر افسرآگے بڑھا،اس نے جیب سے کاغذ نکالا ،بوڑھے کے جرائم باآواز بلند پڑھے اوراس کے بعداعلان کیا ’’معزز عدالت کے حکم پر75سالہ مسٹر کوسر عام پھانسی دے رہے ہیں‘‘ اس نے کاغذتہہ کیا،جیب میں ڈالا،سٹیج سے اترا اوراہلکاروں کوکاروائی مکمل کرنے کااشارہ دے دیا،پولیس اہلکاروں نے نیم مردہ بوڑھے کے گلے میں رسہ باندھ دیا،سٹیڈیم میں سیٹی کی آوازگونجی،اہلکار نے لیورکھینچا،بوڑھارسے پر تڑپااور ایک  منٹ بارہ سیکنڈ بعدٹھنڈاہوگیا،پھانسی کاعمل جوں ہی مکمل ہوا،سٹیڈیم میں بھگدڑمچ گئی،لوگ خوف کے عالم میں بھاگ کھڑے ہوئے،پولیس نے بھگدڑپرقابوپانے کی کوشش کی لیکن ہجوم 6لوگوں کوکچل کرشہر کی گلیوں میں گم ہوگیا، اس بھگدڑ میں 34افرادشدیدزخمی ہوگئے۔
یہ بوڑھاکون تھااوراس نے کس جرم میں یہ سنگین سزاپائی تھی،یہ انتہائی دلچسپ کہانی تھی، یہ 75سال کا ایک فیکٹری منیجرتھا حکومتی اداروں کواس پربدعنوانی کا شک گزرا،ان اداروں نے اس کی نگرانی شروع کرا دی،وہ رنگے ہاتھوں گرفتارہوگیا،مقدمہ عدالت  میں پہنچا،عدالت نے ثبوتوں کاتجزیہ کیااورملزم کوسرعام پھانسی کاحکم دے دیا۔اس75سالہ بوڑھے فیکٹری منیجرپرکرپشن کے چارسنگین الزامات تھے،اوّل فیکٹری منیجرنے فیکٹری میں چند ہزاروپے کی غیرقانونی سرمایہ کاری کی تھی،دوم اس نے اپنے نااہل بچوں کوفیکٹری کے انتظامی عہدوں پربھرتی کرایاتھا،سوم اس نے پوشیدہ ٹیلی فون لگوارکھاتھااوراس فون سے چند لوکل اوربین الاقوامی کالزہوئی تھیں اورچہارم فیکٹری منیجرنے کمیونسٹ پارٹی کے بعض عہدیداروں کوتحائف دئیے تھے،بوڑھے کے یہ چاروں جرائم ثابت ہوگئے تھے چنانچہ حکومت نے تحائف لینے والے تمام عہدیداروں کو معطل کرکے جیل بھیج دیاجبکہ بوڑھے کو سٹیڈیم میں ڈیڑھ لاکھ شہریوں کے سامنے پھانسی پرلٹکادیا، بوڑھے فیکٹری منیجر کی نعش دودن تک سٹیڈیم میں لٹکتی رہی۔
 میں نے جب بوڑھے کی کرپشن کاوالیم دیکھا اوراس کرپشن کے بدلے میں ملنے والی سزاکی سنگینی کااندازہ لگایاتومجھے بوڑھے منیجر کی بدقسمتی پرہنسی آگئی اورمجھے محسوس ہوا قدرت نے اسے کرپشن کی بجائے غلط ملک میں پیداہونے کی سزا دی تھی،اگریہ بے چارہ بوڑھاارض مقدس اسلامی جمہوریہ پاکستان کاشہری ہوتا تویہ کبھی کرپشن کے جرم میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں کے سامنے بے بسی کی موت نہ ماراجاتا۔
میں جس دن کوریاکے اس بوڑھے کرپٹ فیکٹری منیجر کی داستان پڑھ رہاتھاتومجھے پاکستان کے ایک اخبار میں شائع ہونے والی خفیہ سرکاری رپورٹ یاد آگئی جس میں انکشاف ہواتھاکہ ہماری وفاقی حکومت نے صرف پچھلے پانچ برسوں میں 5ہزار4سو 14بینک نادہندگان کے53ارب 49کروڑ اور90لاکھ روپے کے قرضے معاف کئے تھے ، حکومت کی اس فیاضی سے لطف اندوز ہونے والوں میں دووزراء اعلیٰ، ملک کے درجنوں نامورسیاستدان،اعلیٰ سول عہدیدار،  کاروباری ادارے اور ایک غیرملکی ٹرانسپورٹ کمپنی شامل تھی،رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ایک وزیراعلیٰ نے اپنی شوگرملوں،دوسرے وزیر اعلیٰ نے اپنی گھی مل اوربے شمارسیاستدانوں نے2002ء  میں ق لیگ کوحکومت بنانے میں مدددینے کے عوض اپنے قرضے معاف کرائے تھے۔قرضے معاف کرانے کی یہ سکیم صدرپاکستان کی مالیاتی ٹیم نے2002 ء کے الیکشنوں کے فوری بعد لانچ کی تھی اور اس سکیم کے بانی اس وقت کے وزیر خزانہ اوربعدازاں وزیراعظم شوکت عزیزتھے،صدرکی مالیاتی ٹیم نے اس نیک کام کیلئے تین درجے طے کئے تھے،پہلے درجے میں پانچ لاکھ روپے تک کے نادہندگان تھے، دوسرے درجے میں5لاکھ سے25لاکھ تک کے نادہندگان تھے جبکہ تیسرے درجے میں25لاکھ روپے سے زائد کے تمام قرض نادہندگان شامل تھے،حکومت نے اس سکیم کے تحت ان تمام سیاستدانوں کے قرضے معاف کرناشروع کر دئیے جو نئی حکومت کی تشکیل کیلئے اپنی پرانی وفاداریاں اور پارٹیاں تبدیل کررہے تھے،یہ عمل2007ء  تک جاری رہا اور اس کے نتیجے میں معاف کئے گئے قرضوں کاوالیم ساڑھے53ارب روپے سے زائدتھا۔ اگرہم ان ساڑھے 53ارب روپے کوشمالی کوریا کے اس بوڑھے منیجر کی کرپشن کے سامنے رکھیں تویہ بوڑھااوراس کی حقیر کرپشن شرمندگی سے دم توڑجائے گی لیکن آپ ہماراکمال دیکھئے شمالی کوریا نے اس مسکین بوڑھے کوچند ہزارروپے کی کرپشن کے جرم میں ڈیڑھ لاکھ لوگوں کے سامنے پھانسی پر لٹکادیاتھاجبکہ ہمارے ملک میں ساڑھے 53ارب روپے معاف کرانے والے بیشترآج بھی حکومتی کابینہ میں معزز ترین عہدوں پرفائز ہیں، یہ محب وطن بھی کہلاتے ہیں۔ 
آپ ایک لمحے کیلئے ان ساڑھے53ارب کوبھی بھول جائیے اورآپ محترمہ بے نظیربھٹواورآصف علی زرداری کودیکھئے،ان دونوں پر1996ء میں کرپشن کے الزامات لگے تھے، ان کی کرپشن کے ثبوت جمع کرنے کیلئے نیب میں ایک ونگ بنایاگیاتھا،اس ونگ نے غیرملکی کمپنیوں اوراداروں کوکروڑوں روپے فیس اداکی تھی،دنیابھرسے ثبوت جمع کئے گئے اور ان ثبوتوں کی بنیاد پر محترمہ اورمحترم کے خلاف سوئٹزرلینڈاورسپین کی عدالتوں میں مقدمے دائرکئے گئے،پاکستان کی عدالتوں میں بھی مسلسل گیارہ سال تک مقدمے چلتے رہے،ان گیارہ برسوں میں حکومت بے نظیربھٹوکے خلاف دوارب ڈالرکی کرپشن کے ثبوتوں کے دعوے کرتی رہی لیکن پھر2007ء میں اچانک حکومت کو محترمہ کی ضرورت پڑگئی چنانچہ ایک آف سیٹ کاغذپر دس لائنیں ٹائپ ہوئیں، ان لائنوں کے نیچے ایک دستخط ثبت ہوااوربیک جنبش قلم محترمہ اوران کے ساتھیوں کوکرپشن کے تمام الزامات سے پاک قرار دے دیا گیا اور چشم فلک نے یہ منظربھی دیکھاکہ رحمن ملک،ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم تاج سمیت حکومت کے اعلیٰ عہدید ا ر وں کے ساتھ سیاسی معاملات طے کررہاتھااورز رداری بڑے ٹھاٹ سے ملک کے صدر کے عہدے پربھی براجمان  ہوگئے۔
آپ ذرا تصورکیجئے وہ بے چارہ بوڑھاکرپشن کے معانی ہی نہیں جانتاتھا،اسے کیا معلوم اخلاقی،سماجی، سیاسی اورمالیاتی کرپشن کیاہوتی ہے جس میں حکومت سے ہاتھ ملانے والوں کے تمام مقدمے واپس ہو جاتے ہیں۔لہذامیراخیال ہے وہ بوڑھا کوریائی منیجر صرف نیشنلٹی کے ہاتھوں ماراگیا، اگروہ کوریاکی بجائے پاکستان میں پیدا ہوتاتووہ نہ صرف خوشحال زندگی گزار رہاہوتا بلکہ برطانیہ کے سخت ترین قانون ’’یوڈبلیواو‘‘ کی کٹھالی سے گزرکر 19کروڑپاؤنڈ ’’8 ارب پاکستانی کی ملک واپسی پربھی اس کا کانام حکومت، اپوزیشن اور میڈیاکے انتہائی بارسوخ، بااثر اور معزز ترین شخصیات میں ہوتا،اپنے ذاتی جہازاور بلٹ پروف گاڑیوں کی سہولت اسے میسرہوتی۔اگر یہ پاکستان میں ہوتاتویہ ملک توڑدیتایابیچ دیتااسے پاکستانی پرچم کاکفن بھی نصیب ہوتااور21توپوں کی سلامی بھی۔