07:31 am
اک نئی کربلاآج بھی ہے

اک نئی کربلاآج بھی ہے

07:31 am

تحریر،ہاں کیاہرواقعہ تحریر کیا جاسکتا ہے؟ شاید، ہوسکتاہے خود پر تھوڑا سا جبر کریں، خودکوجمع کریں تو آپ لکھ لیں گے لیکن کیا ہر بات لکھی جاسکتی ہے؟ خوشی کو تو لکھا جاسکتا ہے اورغم کو دکھ توتحریر ہوسکتاہے اور دردآنسوؤں کوکیسے لکھاجاسکتاہے۔کرب کوکیسے لکھیں اضطراب کو،بے کلی کو،بے حسی کو،اناکوتحریرمیں کیسے سموئیں!
لفظ وہی ہوتے ہیں،قلم وہی ہوتاہے،صفحات وہی ہوتے ہیںسب کچھ وہی ہوتاہے لیکن آپ بے دست وپاہوتے ہیں۔رحمت کوتوبیان کیا جاسکتا ہے، تحریر کیا جاسکتا ہے۔نحوست کوکیسے پابند تحریر کیا جاسکتا ہے !اداسی  کوتحریرکرسکتے ہیں آپ؟کچھ نہیں کر سکتے   ہم۔ فیض صاحب نے توکہاہے"جودل پہ گزرتی ہے سوگزرتی ہے،اسے بیان کیسے کریں!میرے لیے یہ ممکن نہیں۔نہیں مجھے یہ ہنر نہیں آتااورمجھے یہ سیکھنابھی نہیں ہے۔ضروری تونہیں ہے مجھے سب کچھ آتاہو۔ نہیں میں نہیں لکھ سکتا دل کو،اداسی کو،بے کلی کو، اضطراب کو بالکل نہیں لکھ سکتا۔آنسوں کوکیسے تحریر کروں؟ بتائیے آپ۔اگرآپ تحریرکرسکتے ہیں توضرورکیجئے۔
مجھے اعتراف ہے،مجھے نہیں معلوم کہ کشمیریوں پرکیاگزرہی ہے؟لیکن 5/اگست کے بعدایک لمحہ بھی وہ آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو رہے۔ مشکل ترین دن ہیں۔یہ میراپیچھا کب چھوڑیں گے۔میں وہاں موجود تونہیں لیکن ٹی وی کی اسکرین پرجوکچھ دیکھتا ہوں، حیرت ہے مجھے میرادل ابھی تک بندنہیں ہوا۔
میں نے تواس وقت بھی سمجھایاتھاکہ عجلت میں فیصلے درست نہیں ہوتے لیکن بھارتی پائلٹ کوغیرمشروط رہاکرنے کی فاش غلطی نے پانسہ بدل دیااورسفاک مودی جوپانچ ریاستوں میں انتخاب ہارچکاتھا،اس عمل سے اس کی لاٹری نکل آئی اوروہ بھاری اکثریت سے انتخاب جیت گیااورمارے کوشاہ مدارمارنے کے مصداق ابھی بھارتی الیکشن کمیشن نے نتائج کا اعلان بھی نہیں کیاتھا کہ ہم نے اسے دلی مبارکبادکاپیغام بھیج دیاجبکہ موصوف اس سے پہلے میڈیامیں اس بات کااعتراف کرچکے تھے کہ میں نے تین مرتبہ مودی کوپیغام بھیجاہے لیکن اس کی طرف سے کوئی جواب ہی نہیں آرہا۔
کیاہمیں اس بات کاعلم نہیں تھاکہ اس نے تواپنی پہلی انتخابی مہم میں بھی کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم کرنے کاوعدہ کیاتھا اور اس مرتبہ توزورشورسے اس نے اعلان کیاتھا۔انتخابات جیتنے کے فوری بعدامیت شاہ نے کشمیرمیں جب ڈیرے ڈال دیئے توتب بھی میں نے اپنے کالموں میں توجہ دلائی کہ اس ماجرے کی بھی کوئی خبرلیں کہ آخرکشمیرمیں کیاہونے جارہا ہے؟لیکن مجال ہے جواس پرکوئی توجہ دی گئی ہواوراپنے امریکی دورے پرواپسی کوعالمی کپ کی فتح سے تعبیرکرکے خوب بغلیں بجائی گئیں کہ قصرسفیدکے فرعون نے کشمیرپرثالثی کا بیان دیکر گویا ہماری کامیاب خارجہ پالیسی کے ڈوبتے جہازکوکنارہ مہیاکردیاہے اورمیرا دل تواسی وقت بیٹھنا شروع ہوگیاکہ ’’ساقی نے کچھ ملانہ دیا ہو شراب میں‘‘۔
بالآخر جب کشمیرپرقیامت ڈھادی گئی توہاتھ پائوں پھولنے کی خوب اداکاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں تقریرکوکامیاب سفارت کاری کاایساتاثردیا کہ بس چنددنوں میں کشمیر ایک پکے ہوئے پھل کی طرح گودمیں گرنے والاہے۔ اسلام آبادہوائی اڈے پرہی فتح کے شادیانے بجاتے ہوئے خودکوکشمیرکاسفیر مقررکرتے ہوئے ہفتہ وارآدھ گھنٹے کے احتجاج کا اعلان ہوا،اوربالآخروہ اعلان بھی اپوزیشن پردشنام طرازی کی شکل میں دم توڑگیا۔اب حالت یہ ہے کہ اسلام آبادمیں افریقی ممالک کے سفیروں کی کانفرنس میں بھی کشمیرکا ذکر کرنے کی بجائے اپوزیشن کی کردارکشی کا رونا رویاگیاجیساکہ اپنے ہرغیرملکی دورے میں اپوزیشن کاتذکرہ ہوتاتھا۔ پہلے نواز شریف کی بیماری اوربیرون ملک علاج ،بعدازاں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع پھر الیکشن کمیشن کے سربراہ اوردیگراراکین کی تقرری  اوراب مشرف کی خبروںنے میڈیاپرقبضہ جما رکھاہے اوررہاکشمیرکا معاملہ تواس کاجنازہ خوداپنے ہاتھوں سے خوب دھوم دھام سے نکال کرقوم کی نظروں سے اسے مکمل طورپر اوجھل کردیاہے۔
مجھے انسانی حقوق کے چیمپئن بہت یادآئے اورجبہ ودستاروالے بھی۔ ہاں وہ بھی جو خادمین حرمین ہیں کہ اب وہاں  نہ صرف کشمیراورغزہ کیلئے دعامانگنے کی بھی ممانعت ہے بلکہ ملائشیاسربراہ کانفرنس کے سلسلے میں جس بری طرح ہماراگلادبوچ لیاگیاہے کہ سانس بھی ان کی اجازت سے لینامحال ہوگیاہے لیکن خود سفاک ہندوکو اپنے ہاں بلا کر ملک کاسب سے اہم میڈل گلے میںپہناکرکاروبارمیں وسعت کے منصوبے تشکیل دیئے جارہے ہیں اور ہمیں اس بات کاحکم دیاگیاہے کہ  خبردارآئندہ کشمیرکومسلم امہ کامسئلہ نہ کہاجائے۔کیا آج  ہم اس قدرلاچارہوگئے ہیں،مسلم امہ اس قدربے بس ہوگئی ہے؟ہم وہاں جا کر، یہ جو کچھ ہوا،اسے نہیں روک سکتے تھے؟ روک سکتے تھے لیکن ہم اپنے راحت کدوں میں بیٹھ کر یہ سب کچھ دیکھتے رہے۔ انسانی حقوق کے چیمئپن بھی ! جبہ و دستار والے بھی سب کے سب زبانی......جمع خرچ کرتے رہے۔ ہاں میں بھی  مجھے بھی خاموش رہنے اورقلم توڑنے کامشورہ دیاجارہا ہے۔میں کیاکروں، مجھے وہ  امریکی غیرمسلم لڑکی یاد آرہی ہے جب فلسطینیوں کے گھربلڈوزکرنے کیلئے اسرائیلی فوج آگے بڑھی تو وہ تنہابہادرلڑکی نے ان کاراستہ روکاتھا: ’’نہیں تم نہیں گراسکتے ان کے گھر ‘‘اورپھرہواکیاتھا،جانتے ہیں آپ؟جی،اس لڑکی پرسے بلڈوزرگزاردیاگیاتھا۔ہم سب کچھ نہ کرسکے، یہ جبہ ودستار والے بھی دیکھتے رہے بلکہ مرے رب نے ان سے احتجاج تک کرنے کی توفیق بھی سلب کرلی،میں کیسے خاموش رہ سکتاہوں؟ہرگزنہیں۔
ایک امتحان ہے،یہ تو گزرہی جائے گا۔نتیجہ تو بعدمیں نکلے گا۔کیا؟میں نہیں جانتا۔بس میں تویہ سوچ رہاہوں کہ میں نے کیا کیا اور ان کا نتیجہ کیانکلے گا؟ ہم سب حاضرکیے جائیں گے اپنے رب کے حضور،اور پھردیکھیں گے میرارب کیافیصلہ صادرکرتاہے۔وہ تودلوں کے بھیدسے واقف ہے لیکن جناب!دنیا بھی تودارالمکافات ہے۔یہاں کیسے روکیں گے ہم اس سزا کو؟
ہاں دعا کروں میںلیکن کس منہ سے دعاکروں؟ کیسے اپنے رب کاسامناکروں؟اک نئی کربلا میرے سامنے بپا ہے۔بچے اوربچیاں تہہ تیغ کئے جارہے ہیں، پانچ مہینوں سے کرفیو جاری ہے۔کس طرح وہ اپنی زندگی گزاررہے ہیں،خوراک کی قلت کس طرح مقابلہ کرتے ہوں گے،بیماروں کاعلاج معالجہ کاکیاپوچھیں ،اس ظلم وستم کے ہاتھوں اپنے رب کے پاس پہنچ جانے والوں کی تدفین کیسے ہورہی ہوگی؟ہم نام نہادحسینی بغلیں بجارہے ہیں،مجھے خودکوحسینی کہتے شرم آتی ہے۔آپ کہاں ہیں اورکیاکہتے ہیں؟معصوم بچوں اوربچیوں کی چیخیں مجھے جینے نہیں دیں گی۔میراسینہ شق ہو جائے گا۔میں کچھ نہیں کرسکا۔ہاں مجھے زندگی پیاری ہے ہاں میں سانس کی آمدورفت کوزندگی سمجھتا ہوں ہاں میں نے ذلت و رسوائی کی زندگی قبول کرلی ہے  ہاں میں موت سے بہت ڈرتاہوںہاں میں نے اپنا رب بدل لیاہے ہاں میں عزت و ذلت کامالک انہیں سمجھتاہوں جن کے ہاتھ میں بے حس بندوقیں ہیں۔ شعلہ اگلتی ہوئی بندوقیں۔میں انہیں زندگی اورموت کامالک سمجھتاہوں جن کے جنگی جہازوں کی گڑگڑاہٹ سے دل دہل جاتاہے۔ہاں وہی ہیں میرے مالک، آپ کے متعلق کیسے کہہ سکتا ہوں! آپ جانیں اور آپ کا کام۔