07:33 am
دینی مدارس کے بارے میں حالیہ سرکاری اقدامات 

دینی مدارس کے بارے میں حالیہ سرکاری اقدامات 

07:33 am

مالیاتی نگرانی کے بین الاقوامی ادارے (FATF)  نے حکومت پاکستان کو ڈیڑھ سو کے لگ بھگ سوالات پر مشتمل ایک سوالنامہ بھجوایا ہے جس میں زیادہ تر سوالات دینی مدارس کے حوالہ سے ہیں اور 8 جنوری تک اس کا جواب طلب کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وفاقی وزیر تعلیم جناب شفقت محمود نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ حکومت اور اتحاد تنظیمات مدارس اس بات پر متفق ہیں کہ ملک بھر کے تمام دینی مدارس وفاقی وزارت تعلیم کے تحت رجسٹر ہوں گے اور تمام دینی مدارس کے طلبہ اگلے چار سال میں سرکاری بورڈ کے تحت امتحانات دیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مدارس کی رجسٹریشن کے لیے ملک بھر میں 16 دفاتر کھولے جا رہے ہیں اور مدارس کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ابتدائی طور پر ہم اس کام پر کم و بیش دو ارب روپے خرچ کریں گے۔ 
اس کے ساتھ یہ خبر بھی قابل توجہ ہے کہ وزارت تعلیم کے تحت ڈائریکٹوریٹ جنرل آف مذہبی ایجوکیشن قائم کیا گیا ہے جس کے لیے وفاقی حکومت کے کیبنٹ ڈویژن کی طرف سے نوٹیفیکیشن جاری ہو چکا ہے اور اس کے ہیڈ آفس کا وفاقی وزیر تعلیم نے باضابطہ افتتاح بھی کر دیا ہے۔ جبکہ وفاقی وزیر داخلہ سید اعجاز شاہ کا یہ بیان بھی قومی اخبارات کی زینت بنا ہے کہ اس سلسلہ میں وفاقی وزارت داخلہ کو مطلوبہ مشاورت میں شامل نہیں کیا گیا۔ 
اسی طرح ایک اور قومی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مشترکہ تعلیمی نصاب کی تیاری کے لیے قومی نصاب کونسل نے کام شروع کر دیا ہے اور پہلی سے پانچویں تک کا نصاب تیار کر کے صوبوں کو بھجوا دیا گیا ہے جو مارچ 2020 تک پورے ملک میں نافذ کر دیا جائے گا۔
ان خبروں کے مطابق تمام مدارس وفاقی وزارت تعلیم کے ساتھ رجسٹر ہوں گے اور وزارت تعلیم مدارس کے تمام کوائف اور معلومات اکٹھی کرنے کی ذمہ دار ہوگی، جبکہ وہ مدارس جو وفاقی وزارت تعلیم کے ساتھ رجسٹر نہیں ہوں گے انہیں ملک میں کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔ 
اس قسم کی خبریں کچھ دنوں سے مسلسل اخبارات میں شائع ہو رہی ہیں جبکہ اس سے قبل ہم ایک کالم میں عرض کر چکے ہیں کہ دینی مدارس اور عصری سکولوں و کالجوں کے لیے مشترکہ نصاب تعلیم مرتب کرنے کے لیے جو گروپ قائم کیے گئے ہیں اور ان میں سے بیشتر اپنا کام مکمل کر چکے ہیں، ان ورکنگ گروپوں میں دینی مدارس کی نمائندگی یا دینی ماہرین تعلیم کی شمولیت کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، اور ان گروپوں کا بیشتر حصہ ملازمین اور سیکولر این جی اوز کے نمائندگان پر مشتمل بتایا جا رہا ہے۔ 
اس تناظر میں دینی مدارس کے مستقبل کے حوالہ سے دینی حلقوں میں تشویش بڑھ رہی ہے اور بہت سے حضرات یہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں کہ اگر ان سب باتوں کو اسی طرح آگے بڑھایا گیا تو دینی مدارس خدانخواستہ اپنے اس آزادانہ اور خودمختار تعلیمی نظام و ماحول سے محروم ہو جائیں گے جس کی وجہ سے اس وقت پاکستان بلکہ جنوبی ایشیا کے مسلم معاشرہ میں عمومی طور پر قرآن و سنت، فقہ و شریعت  اور عربی زبان کی تعلیم کا ماحول پایا جاتا ہے، اور اسلامی تہذیب و ثقافت کے مظاہر بھی موجود دکھائی دے رہے ہیں۔ 
دینی مدارس کا تعلیمی نظام و نصاب اور ان کے باعث کسی حد تک باقی رہنے والا تہذیبی و معاشرتی ماحول آج کی عالمی قوتوں کے لیے مسلسل درد سر بنا ہوا ہے اور وہ اسے ہر صورت میں ختم کرنے کے لیے زور دے رہے ہیں۔ مگر پاکستان کا اسلامی تشخص، آئین و دستور، دینی مدارس کا وسیع نیٹ ورک اور ملک کا عمومی مذہبی ماحول اس میں رکاوٹ ہے جس کے لیے وقتا فوقتا اس نوعیت کے اقدامات سامنے آتے رہتے ہیں، اور حالیہ اقدامات بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی نظر آتے ہیں۔
جہاں تک دینی مدارس کی موجودہ ہیئت و ماحول کو تبدیل کر کے قومی دھارے کے نام سے ان کی اوورہالنگ کا پروگرام ہے، اس پر ہمیں وہ کہاوت یاد آرہی ہے کہ ایک بادشاہ کا شاہی باز ایک بار کسی وجہ سے ایک بڑھیا کی کٹیا پر آ بیٹھا۔ بڑھیا نے عجیب و غریب قسم کا پرندہ دیکھ کر اسے پکڑ لیا اور اس کا جائزہ لینے لگی۔ باز کی ٹیڑھی چونچ، بڑے بڑے پر اور لمبے لمبے ناخن بڑھیا کے لیے تعجب کا باعث بنے، اس نے سوچا کہ یہ کھاتا کیسے ہوگا؟، اڑتا کیسے ہوگا؟ اور شکار کیسے کرتا ہوگا؟ یہ سوچ کر اس نے ہمدردی کے جذبے کے ساتھ باز کی چونچ، پر اور ناخن کاٹ دیے اور وہ بے چارہ بے بس ہو کر بڑھیا کی کٹیا میں قید ہو کر رہ گیا۔ ادھر بادشاہ کے کارندے شاہی باز کو تلاش کرتے کرتے بالآخر وہاں پہنچے تو اسے اس حالت میں دیکھ کر انہوں نے سر پیٹ لیا کہ اس غریب کا  ہمدرد بڑھیا نے کیا حشر کر دیا ہے۔ مگر جب اسے بادشاہ سلامت کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اس نے صرف اتنے تبصرے پر اکتفا کیا کہ خود کو ناقدرشناسوں اور نااہلوں کے سپرد کر دینے والوں کو اتنی سزا تو ملنی ہی چاہیے۔  ہمارا خیال ہے کہ دینی مدارس کا باز ہمدرد بڑھیا کے ہتھے چڑھ گیا ہے جو پوری ہمدردی کے ساتھ اس کی چونچ، پر اور ناخن کاٹ دینے کی تیاری کر چکی ہے۔
چنانچہ گوجرانوالہ کے مختلف مکاتب فکر کے کچھ سرکردہ علما کرام نے اس عمومی تشویش کو محسوس کرتے ہوئے حسب روایت ایک مشاورتی نشست کا اہتمام کیا جو مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں مولانا حافظ محمد امین محمدی کی صدارت میں منعقد ہوئی اور اس کے شرکا میں حافظ ابرار احمد ظہیر، حافظ امجد محمود معاویہ، چودھری بابر رضوان باجوہ، علامہ عارف حسین تائبی، مولانا محمد آصف اویسی، حافظ جواد محمود قاسمی، جناب ظہیر حسین نقوی، حافظ نصر الدین خان عمر، اور عبد القادر عثمان کے علاوہ راقم الحروف بھی شامل تھا۔ ان حضرات نے دینی مدارس کے بارے میں سرکاری اقدامات میں مسلسل پیشرفت کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ یہ اقدامات ظاہری طور پر باعث تشویش ہیں جن کا نوٹس لینا ضروری ہے اور دینی جماعتوں اور مراکز کو اس کی طرف توجہ دلانا بھی ضروری ہے۔
اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ دینی مدارس کے وفاقوں کی طرف سے کوئی واضح موقف سامنے نہیں آرہا جس کی وجہ سے یہ تشویش اضطراب کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ چنانچہ اجلاس میں طے پایا کہ دینی مدارس کے وفاقوں کی قیادتوں کو اس سلسلہ میں دینی مدارس کے عمومی ماحول میں پائی جانے والی تشویش کی طرف ایک مشترکہ خط کے ذریعے توجہ دلائی جائے اور ان سے گزارش کی جائے کہ وہ ان معاملات میں واضح اور دوٹوک راہنمائی کے ساتھ ساتھ دینی مدارس کے عمومی ماحول کو اعتماد میں لینے کے لیے بھی فوری اقدامات کریں۔ 
گوجرانوالہ میں علما کرام کے اس اجلاس کے علاوہ جمعیت علماء اسلام پاکستان(س)کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرف فاروقی گزشتہ روز الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ تشریف لائے اور اس حوالہ سے ان سے تفصیلی گفتگو ہوئی، جبکہ صاحبزادہ پیر محفوظ احمد مشہدی اور صاحبزادہ نصیر احمد اویسی کے ساتھ بات چیت کا تذکرہ ہم نے گزشتہ ایک کالم میں کیا تھا اور بعض دیگر سرکردہ حضرات کے ساتھ مشاورت چل رہی ہے، امید ہے کہ اس سلسلہ میں یکم جنوری کو لاہور میں ہم باہمی مشاورت کے لیے مل بیٹھیں گے اور دینی حلقوں کے اس اضطراب اور تشویش کے مثبت اور موثر اظہار کی کوئی عملی صورت نکالنے کی کوشش کریں گے، ان شا اللہ تعالیٰ۔