07:34 am
 ایک کالم علم و ادب کی زد میں

 ایک کالم علم و ادب کی زد میں

07:34 am

٭آج بے نظیر بھٹو کی برسی منائی جا رہی ہے، آج تک کوئی قاتل نہ پکڑا گیاO پاکستان کا قیام درست تھا، بھارتی مسلم رہنمائوں کا بیانO بھارت: ملک کے علاوہ دنیا بھر میں شہریت ایکٹ کے خلاف مظاہرے، ہنگامےO حکومت: جسٹس شیخ وقار سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں جانے کا فیصلہ ختم O قائداعظم کا ویژن ہمارا وژن ہے:جنرل باجوہO تمام بڑے چوروں کو ضمانتیں دی جا رہی ہیں: فیصل واوڈاO مودی حکومت نے بھارت کی معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے: آئی ایم ایفO مقبوضہ کشمیر: 92 فوجی کمپنیاں آسام میں منتقلO بیٹے کی شادی پر اسد عمر کا بھنگڑاO نوازشریف، کندھے کے نیچے گلٹی کی دریافتO لاہور: رنگ روڈ کا62 ارب کا گھپلا O نیب، سرگودھا کے سابق کمشنر ظفراقبال شیخ کے خلاف تحقیقات، 62 جائیدادیں، منی لانڈرنگ O عمرہ اوار حج کے لئے بحری سفر کی تجویز۔
٭بھارت میں انتہا پسند ہندو وزیراعظم نریندر مودی کی مسلم کش پالیسیوں سے ملک کا سارا نظام تلپٹ ہو کر رہ گیا ہے۔ 9 صوبوں سے شروع ہونے والے مودی کے شہریت ایکٹ پر شدید ردعمل نے دوسرے صوبوں کو بھی لپیٹ میںلے لیا ہے۔ آسام میں خونریز ہنگاموں اور ہڑتالوں سے تمام مارکیٹیں، تعلیمی ادارے اور سرکاری و غیر سرکاری دفاتر کئی روز سے بند ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی طرح پورے آسام میںبھی کئی روز سے کرفیو نافذ ہے مگر صورت حال مزید بگڑتی جا رہی ہے، آسام میں موجود فوج نے اس پر قابو پانے میں ناکام ہو گئی ہے۔ اس کی مدد کے لئے مقبوضہ کشمیر میں متعین 92 فوجی کمپنیاں آسام منتقل کی جا رہی ہیں (ہر کمپنی میں 100 فوجی ہوتے ہیں)۔ 20 کمپنیاں آسام پہنچ چکی ہیں، مزید 72 ایک دو روز میں پہنچ جائیں گی! مودی حکومت ایک طرح سے بابری مسجد کیس کے فیصلے سے ہونے والے خونریز ہنگاموں سے ہی نہیں نمٹ سکی، اس نے فوراً بعد شہریت کا ہنگامہ خیز قانون نافذ کر کے خود کو سخت مصیبت میں ڈال لیا ہے۔ ایک عرصہ سے مختلف حصوں میں جاری خونریزی سے ملک کی معیشت کا عالم یہ ہو گیا ہے کہ پیاز اور آلو کی شدید قلت پیدا ہونے کے ساتھ عوامی مسائل بڑھ گئے ہیں۔ اس کاآئی ایم ایف نے سخت نوٹس لیا ہے اور اس کے ایشیا پَیسیفک وِنگ کے ترجمان’’ ارنیل‘‘ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ ناقص پالیسیوں اور سُست رو اقدامات نے بھارت کی معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ بھارت کے اہم مسلم رہنمائوں نے کہا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کا قیام پاکستان کا فیصلہ درست تھا۔
٭دوسری باتیں بعد میں، پہلے کچھ ادبیات: وزارت بیانات و تردیدات کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کی کوئی نہ کوئی بات مسئلہ بن جاتی ہے۔ گزشتہ روز فرمایا کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کا ’’روشن درخشاں‘‘ چہرہ متعارف کرایا ہے! اس بی بی کو کیا بتایا جائے کہ درخشاں کے معنی روشن ہی ہوتے ہیں اور یہ روشن درخشاں! اب بی بی بھی کیا کرے؟ کبھی علم و ادب کے ساتھ واسطہ پڑا ہوتا تو ایسے الفاظ استعمال نہ کرتیں۔ گزشتہ رمضان المبارک کی آمد پر فرمایا تھا کہ’’ ماہ رمضان المبارک کا مہینہ‘‘ شروع ہو رہا ہے! میں نے اس وقت بھی بی بی کو لاعلمی کے خاصے نمبر دے دیئے تھے۔ اب بھی یہی کر رہا ہوں مگر زبان کی توڑ پھوڑ تو عام ہو چکی ہے۔ سیلاب کا لفظ’’ سیلِ آب‘‘ یعنی پانی کا ریلا ہے مگر عام طور پر لکھا جا رہا ہے کہ سیلاب کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ ایک اور لفظ اتنا عام ہو گیا ہے کہ مشہور گانوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ چاندنی چاند کی روشنی کو کہتے ہیں۔ ایک دو گانوں کے بول : ’’ چندا تیری چاندنی میں جیا جلا جائے رے‘‘ یا ’’جہاں وہ ہوں، وہاں اے چاند لے جا چاندنی اپنی‘‘ وغیرہ۔ چلتے چلتے دیکھئے بعض بڑے اساتذہ نے چاندنی کا لفظ کیسے استعمال کیا ہے۔ اُردو زبان کی کانٹ چھانٹ اور اصلاح کر کے اسے صاف ستھری زبان کی شکل دینے والے استاد شاعر امام بخش ناسخ مشہور پہلوان تھے ( مولانا محمد حسین آزاد کے مطابق پانچ افراد کا کھانا کھا جاتے تھے) ان کا ایک شعر بہت مشہور ہے کہ ’’زندگی زندہ دلی کا نام ہے، مُردہ دل خاک جیا کرتے ہیں۔‘‘ انہی استاد ناسخ نے چاندنی کے بارے میں خوبصورت شعر کہا کہ ’’آ گیا رات کیا وہ ماہ کامل خواب میں…چاندنی کا ہے اثرزخمِ دلِ بے تاب میں!‘‘ ایک دوسرے استاد شاعرممنون کا شعر ’’چاندنی مار گئی جو دِل مجروح کو رات…عکس انداز یہ کس کا دِلِ پُرنُور ہوا؟‘‘ آخر میں قتیل شفائی کی چاندنی پر شاعری۔ ’’مسکرائو، گنگنائو، گائو جُھوم جُھوم کے! مسکرا رہی ہے رات، گنگنا رہی ہے رات، چاندنی کے ساز پر گیت گا رہی ہے رات‘‘ اور یہ کہ ’’حُسن شادمان رہے، عشق جاوداں رہے، چاندنی کا کارواں، دم بدم رواں رہے، رہگزار یہ کہے پائوں چوم چوم کے، گنگنائو۔ مسکرائو…‘‘ قارئین سوچ رہے ہوں گے کہ سرفراز سید آج کدھر نکل گیا۔ چلئے پھر وہی اردگرد کی باتیں!
٭ایک خبر: اسلام آباد: سابق وزیرخزانہ، موجودہ وزیر اقتصادیات اسد عمر نے بیٹے آصف عمر کی شادی میں بھرپور بھنگڑا ڈالا۔ خبروں میں کہاگیا ہے کہ اسد عمر بہت دھیمے مزاج کے نرم گو انسان ہیں، بیٹے کے گلے میں ہار ڈالا، کچھ نوجوان بھنگڑا ڈالنے لگے۔ اسد عمر کو جوانی کے ایسے ہی لمحات یاد آ گئے ہوں گے۔ خبروں میں بھنگڑے میں شریک دوسرے نام نہیں بتائے گئے۔ شیخ رشید وہاں ضرور موجود ہوں گے۔ بھنگڑے کے ماہر بتائے جاتے ہیں۔ قارئین جانتے ہیں، بھنگڑا پنجاب، خاص طور پر بھارتی پنجاب کے سکھوں کا خاص ثقافتی رقص ہے۔ بھنگڑا ڈالنے والے جوش و خروش کی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔ کافی عرصہ پہلے بھارتی پنجاب کی پنجابی زبان میں بننے والی فلم بھنگڑا کی لاہور میں نمائش ہوئی۔ اس کی ہیروئن لڑکی (نام یاد نہیں رہا) نے مسلسل 35 منٹ تک بھنگڑا ڈالا۔ یہ فلم بہت ہٹ ہوئی۔ پہلوان لوگ بار بار دیکھتے تھے۔ اس کے بول بہت مزے کے تھے۔ ایک موقع پر لڑکی کہتی ہے کہ ’’وے مَیں پندرہ مربعیاں والی، مالک سارے پنڈ وی آں‘‘ جواب میں ہیرو کہتا ہے ’’مَینوں بِن تنخواہوںکُڑیے، مُربعیاں تے رکھ مُنشی!‘‘ (مربع 25 ایکڑ)۔
٭روائتی خبر: نیب نے سرگودھاکے سابق کمشنر ظفر اقبال شیخ کے خلاف اس الزام میں تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ اس نے دوران ملازمت اربوں روپے کی62 جائیدادیں بنائیں۔ انہیں فروخت کر کے لندن میں بیٹے کو منی لانڈرنگ کے ذریعے بھاری رقوم بھیجیں۔ بیٹے نے وہاں کمپنی بنا کر وسیع پیمانہ پر کاروبار شروع کر دیا۔ یہ کوئی نئی یا خاص خبر نہیں۔ ایسی باتیں عام ہو چکی ہیں۔ بہت سے سابق کمشنراسی طرح زیر تحقیقات ہی ہیں مگر ان میں بہت سے کمشنر ایسے بھی ہیں جنہوں نے انتہائی دیانت دارانہ زندگی بسر کی۔ ایک بڑی مثال بہاولپور کے سابق کمشنر اور مشہور شاعر 86 سالہ مرتضیٰ برلاس کی ہے۔ وہ پنجاب کے چیف سیٹلمنٹ کمشنر بھی رہے۔ چاہتے توایک سابق چیف سیٹلمنٹ کمشنر کی طرح سینکڑوں ہزاروں ایکڑ زمین اپنے نام کر سکتے تھے مگر اتنی سادہ، دیانت دارانہ زندگی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد پینشن کی رقم اور ہائوس بلڈنگ کارپوریشن سے قرضہ لے کر ماڈل ٹائون لاہور میں پانچ مرلے کا مکان بنایا۔ اس کے ڈرائنگ روم میںبمشکل چھ سات افراد بیٹھ سکتے ہیں۔ ایک روز مجھے بتایا کہ دیکھو! یہ سڑک کے پاس دو کنال کا گھر میرے ماتحت کام کرنے والے ایک نائب تحصیلدار کا ہے۔ وہ مجھے کہنے لگا کہ بیگ صاحب! آپ نے زندگی سے کیا حاصل کیا؟ (یہ تحصیلدار بعد میں جیل میں چلا گیا، مکان ضبط ہو گیا!)
٭قارئین کرام! آج بہت سی باتیں رہ گئیں تاہم ایک بات کہ وزیر بحری امور علی زیدی نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ آئندہ نئے سرے سے چار مقامات سے عمرہ اور حج کا بحری سفر شروع کیا جائے اس سے اخراجات بہت کم ہو جائیں گے۔ یہ تجویز اچھی ہے، ماضی میں ایسا ہی ہوتا تھا۔ تھڑا سیاست دان علم دین اچھا خاصا سمجھ دار ہے مگر بعض اوقات بہک جاتا ہے۔ پوچھ رہا ہے کہ کیا اس کی رہائش گاہ چیچو کی ملیاں سے بحری جہاز کا سفر شروع ہو سکتا ہے؟

تازہ ترین خبریں