08:03 am
بھارتی مسلمان کے صبر کا پیمانہ

بھارتی مسلمان کے صبر کا پیمانہ

08:03 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
  دوسرے ممالک میںاقلیتوںاور ان کی پریشانیوں کی دہائی دے کر بھی بی جے پی گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ زعفرانی پارٹی کو اگر واقعی پڑوسی ممالک کی اقلیتوں سے ہمدردی ہوتی تو وہ صرف پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان کا نام نہیں لیتی بلکہ وہ سری لنکا، نیپال، چین اور برماکا بھی تذکرہ کرتی۔ سری لنکا میں تمل، نیپال میں مسلمان، چین میں ایغور اور برما میں روہنگیا مسلمان اقلیت میں ہیں۔سری لنکا کو چھوڑ کر باقی تینوں ممالک میں اقلیتوں کی پریشانی کی واحد وجہ ان کی مذہبی اور نسلی شناخت ہے۔مگر یہ سب مسلمانوں کی شہریت کو خطرے میں ڈالنے کی جانب پہلا قدم ہے۔
  پاکستان میں اقلیتوں کی پریشانی کے تعلق سے بھی بی جے پی نے ایک جھوٹ گھڑا ہے جو سراسر دروغ گوئی پر مبنی ہے۔ امیت شا نے یہ جھوٹ پارلیمنٹ میں بولا ہے ،وہ یہ کہ بھارت کی تقسیم کے وقت پاکستان میں 23فیصد ہندو تھے جو اَ ب صرف تین فیصد رہ گئے ہیں۔ پارلیمنٹ میں اس کی وجہ تو انہوں نے بیان نہیں کی لیکن پارلیمنٹ سے باہر بی جے پی اس جھوٹ کو اکثر ہوا دینے کی کوشش کرتی رہی ہے کہ پاکستان  میںتبدیلی مذہب کی وجہ سے ہندوئوں کی تعداد بہت کم ہورہی ہے۔  اس تعلق سے ایک محقق ’ہمانشو پنڈیا‘ کہتے ہیں کہ1947ء میں مردم شماری نہیں ہوئی تھی بلکہ1941ء میں متحدہ ہندوستان کے طور پر ہوئی تھی۔ 
اُس وقت موجودہ پاکستانی خطے میں22 فیصد ہندو آبادی تھی۔ وِکی پیڈیا کے مطابق یہ تعداد59 لاکھ تھی۔ قیام پاکستان کے وقت ایک اندازے کے مطابق پاکستان سے تقریباً 50لاکھ ہندو بھارت گئے جن میں سے تقریباً 39 لاکھ کا تعلق صرف پنجاب سے تھا۔1951ء میں پاکستان میں جو مردم شماری ہوئی،اس کے مطابق پاکستان میں اقلیتوں کا تناسب12.3 فیصد تھا.... لیکن ان کی بڑی تعداد مشرقی پاکستان میں تھی جو اَب بنگلہ دیش ہے۔ اُس مردم شماری کے مطابق بنگلہ دیش میں28فیصد ہندو تھے جبکہ مغربی پاکستان یعنی موجودہ پاکستان میں صرف1.6فیصد ہندو تھے۔  اس لحاظ سے دیکھیں تو آج پاکستان میں 3فیصد ہندو ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔بی جے پی پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کر کے دنیا کے سامنے پردہ نہیں ڈال سکتی۔ بھارت میں ایک اور پاکستان کے قیام کی پیشن گوئیاں ایسا لگتا ہے کہ سچ ثابت ہو رہی ہیں۔ شاید مودی کو اسی بات کا خوف ہے۔شہریت قانون میں دیگرتمام مذاہب کا تذکرہ ہونے اور مسلمانوں کو چھوڑ دینے کے تعلق سے بی جے پی کہتی ہے کہ چونکہ مسلمانوں کے پاس بہت سارے ممالک ہیں،اسلئے ان کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن ہندوئوں کیلئے مسئلہ ہے کیونکہ دنیا کے نقشے پر ان کیلئے کوئی بھی ملک نہیں ہے۔ یہ کہہ کر بی جے پی یہ کہنا چاہتی ہے کہ ہندوئوں کیلئے دوسرے ممالک میں کوئی جگہ نہیں ہے لیکن سچائی اس کے بالکل برعکس ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پونے دو کروڑ لوگ بھارتی تارکین وطن ہیں۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ سب مسلم نہیں ہیں بلکہ ان کی اکثریت ہندوئوں ہی کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد خلیجی ممالک میں آباد ہے جنہیں بھارتی وزیرداخلہ مسلم ممالک قرار دے رہے ہیں۔ بھارتی پروپیگنڈا ، مسلم اور پاکستان دشمنی سب پر عیاں ہے۔ بھارتی مسلمان اب جاگ رہا ہے۔ یہ ایک انقلاب ہے۔ جس کی قیادت نوجوان کر رہے ہیں۔ اس لئے بھارت میں ایک اور پاکستان بننے میں شاید بی جے پی رکاوٹ نہیں ڈال سکتی۔ مودی حکومت کشمیر کی جنگ بندی لائن پر آزاد کشمیر کی آبادی پر جارحیت کر رہی ہے، مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ مگر یہ سب حربے شاید بھارت کو توڑنے سے بچا نہیں سکتے۔ کلسٹر بم بھارت کے کسی کام نہیں آسکتے۔ کیوں کہ کشمیری اب بھارتی بموں کو کھلونا بم ہی سمجھتے ہیں۔ 

تازہ ترین خبریں