08:04 am
حلال کمائی کی برکات

حلال کمائی کی برکات

08:04 am

قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جسکا رزق اللہ کے ذمہ کرم پر نہ ہو‘‘۔
مفسر شہیر حکیم الامت حضرت مفتی احمدیار خان علیہ رحمۃ الحنان ’’نورالعرفان‘‘ میں فرماتے ہیں: زمین پر چلنے والے کا اس لیے ذکر فرمایا کہ ہم کو انہی کا مشاہدہ ہوتا ہے ورنہ جنات وغیرہ کو بھی رب ہی روزی دیتا ہے، اسکی رزاقیت صرف حیوانوں میں منحصر نہیں، پھر جو جس روزی کے لائق ہو اس کو وہی ملتی ہے۔ بچے کو ماں کے پیٹ میں اور قسم کی روزی ملتی ہے اور پیدائش کے وقت دانت نکلنے سے پہلے اور طرح کی اور پھر بڑے ہو کر اور طرح کی روزی ملتی ہے۔ 
حلال روزی کے بارے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے 5 فرامین: سب سے زیادہ پاکیزہ کھانا وہ ہے جو اپنی کمائی سے کھائو۔ بیشک اللہ تعالیٰ مسلمان پیشہ ور کو دوست رکھتا ہے۔ جسے مزدوری سے تھک کر شام آئے اسکی وہ شام، شامِ مغفرت ہو۔ پاک کمائی والے کیلئے جنت ہے۔ کچھ گناہ ایسے ہیں جن کا کفارہ نہ نماز ہو نہ روزے، نہ حج نہ عمرہ، ان کا کفارہ وہ پریشانیاں ہوتی ہیں جو آدمی کو تلاشِ معاشِ حلال میں پہنچتی ہیں۔ لقمہ حلال کی فضیلت:ہمیں ہمیشہ حلال روزی کمانا، کھانا اور کھلانا چاہئے، لقمہ حلال کی تو کیا ہی بات ہے، حضرت سیدنا امام محمدغزالی رحمۃ اللہ علیہ احیاء العلوم کی دوسری جلد میں ایک بزرگ کا قول نقل کرتے ہوئے کہ مسلمان جب حلال کھانے کا پہلا لقمہ کھاتا ہے، اسکے پہلے کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور جو شخص طلب ِ حلال کیلئے رسوائی کے مقام پر جاتا ہے اسکے گناہ درخت کے پتوں کی طرح جھڑتے ہیں۔ حرام روزی کے بارے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے 4 فرامین: ایک شخص طویل سفر کرتا ہے جسکے بال پریشان (بکھرے ہوئے) ہیں اور بدن گرد آلود ہے (یعنی اُسکی حالت ایسی ہے کہ جو دُعا کرے وہ قبول ہو) وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر یارب! یارب! کہتا ہے (دُعا کرتا ہے) مگر حالت یہ ہے کہ اسکا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور غذا حرام، پھر اُسکی دُعا کیونکر مقبول ہو۔ (یعنی اگر قبولِ دُعا کی خواہش ہو تو کسب حلال اختیار کرو)۔ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئیگا کہ آدمی پرواہ بھی نہ کریگا کہ اس چیز کو کہاں سے حاصل کیا جائے، حلال سے یا حرام سے۔ جو بندہ مالِ حرام حاصل کرتا ہے، اگر اُس کو صدقہ کرے تو مقبول نہیں اور خرچ کرے تو اس کیلئے اس میں برکت نہیں اور اپنے بعد چھوڑ مرے تو جہنم کو جانے کا سامان ہے۔ اللہ تعالیٰ برائی سے برائی کو نہیں مٹاتا، ہاں نیکی سے برائی کو مٹاتا ہے، بیشک خبیث (یعنی ناپاک) کو خبیث نہیں مٹاتا۔ جس نے عیب والی چیز بیع کی (یعنی بیچی) اور اُس (عیب) کو ظاہر نہ کیا، وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں ہے یا فرمایا کہ ہمیشہ فرشتے اُس پر لعنت کرتے ہیں۔لقمہ حرام کی نحوست: مکاشفۃ القلوب میں ہے: آدمی کے پیٹ میں جب لقمہ حرام پڑا تو زمین و آسمان کا ہر فرشتہ اُس پر لعنت کریگا جب تک اُسکے پیٹ میں رہیگا اور اگر اسی حالت میں (یعنی پیٹ میں حرام لقمے کی موجودگی میں) موت آ گئی تو داخل جہنم ہو گا۔حلال کمانے کے طریقے: ٭ سیٹھ اور نوکر کیلئے حسب ضرورت اِجارے کے شرعی احکام سیکھنا فرض ہے، نہیں سیکھیں گے تو گنہگار ہوں گے۔ 
٭ نوکر رکھتے وقت، ملازمت کی مدت، ڈیوٹی کے اوقات اور تنخواہ وغیرہ کا پہلے سے تعین ہونا ضروری ہے۔
٭ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ الرحمٰن فرماتے ہیں: کام کی تین حالتیں ہیں (۱)سست، (۲)معتدل، (۳)نہایت تیز۔ اگر مزدوری میں (کم از کم معتدل بھی نہیں محض) سستی کیساتھ کام کرتا ہے گنہگار ہے اور اس پر پوری مزدوری لینی حرام، اتنے کام (یعنی جتنا اس نے کیا ہے) کے لائق جتنی اُجرت ہے لے، اس سے جو کچھ زیادہ ملا وہ مستاجر (یعنی جس کیساتھ ملازمت کا معاہہ کیا ہے اس) کو واپس دے۔ 
٭ کبھی کام میں سست پڑ گیا تو غور کرے کہ معتدل یعنی درمیانہ انداز میں کتنا کام کیا جا سکتا ہے مثلاً کمپیوٹر آپریٹر ہے اور روز کی 100 روپیہ اجرت ملتی ہے، درمیانے انداز میں کام کرنے میں روزانہ 100 سطریں کمپوز کر لیتا ہے مگر آج محض سستی یا غیرضروری باتیں کرنے کے باعث 90 سطریں تیار ہوئیں تو 10 سطروں کی کمی کے 10 روپے کٹوتی کروا لے کہ یہ 10 روپے لینا حرام ہے، اگر کٹوتی نہ کروائی تو گنہگار اور نارِ جہنم کا حقدار ہے۔
٭ چاہے گورنمنٹ کا ادارہ ہو یا پرائیویٹ ملازم، اگر ڈیوٹی پر آنے کے معاملے میں عرف سے ہٹ کر قصداً تاخیر کریگا یا جلدی چلا جائیگا یا چھٹیاں کریگا تو اس نے معاہدے کی قصداً خلاف ورزی کا گناہ تو کیا ہی کیا اور ان صورتوں میں پوری تنخواہ لے گا تو مزید گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہو گا۔ فرمانِ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ہے ’’جو جائز پابندیاں مشروط تھیں ان کا خلاف حرام ہے اور بکے ہوئے وقت میں اپنا کام کرنا بھی حرام ہے اور ناقص کام کر کے پوری تنخواہ لینا بھی حرام ہے۔ (فتاویٰ رضویہ، ج19، ص521)
٭ گورنمنٹ کے ادارے کا افسر دیر سے آتا ہو اور اسکی کوتاہی کے سبب دفتر دیر سے کھلتا ہو تب بھی ہر ملازم پر لازِم ہے کہ طے شدہ وقت پر پہنچ جائے، اگرچہ باہر بیٹھ کر انتظار کرنا پڑے۔ خائن و غیرمختار افسر کا ملازم کو دیر سے آنے یا جلدی چلے جانے کا کہنا یا اجازت دے دینا بھی ناجائز کو جائز نہیں کر سکتا، وقت کی پابندی سبھی پر ضروری ہی رہے گی۔
٭ گورنمنٹ اداروں میں افسر اور عام ملازم سبھی کا مخصوص وقت کا اِجارہ ہوتا ہے اور ہر ایک کو پوری ڈیوٹی دینا لازم ہوتا ہے، بعض اوقات افسر وقت سے پہلے چلا جاتا ہے اور اپنے ماتحت ملازم سے بھی کہتا ہے کہ تم بھی جائو! چلے جانیوالا افسر تو گنہگار ہے ہی اگر ملازم بھی چلا گیا تو وہ بھی گنہگار ہو گا لہٰذا واجب ہے کہ کام ہو یا نہ ہو وہیں دفتر میں اجارے کا وقت پورا کرے، جو بھی اس طرح چلا جائیگا اسے تنخواہ میں سے کٹوتی کروانی ہو گی۔ 
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں