08:05 am
کاش،توسوچ سکے

کاش،توسوچ سکے

08:05 am

اکرم کی کہانی بہت دلچسپ تھی۔اکرم اوراشرف دو بھائی تھے،ان کے والدنے مرتے ہوئے اپناواحد مکان دونوں میں تقسیم کر دیا۔اکرم کے حصے نچلی منزل اوراشرف بالائی حصے کا مالک بن گیا۔مکان کے درمیان سٹورقسم کاایک کمرہ تھا،امام دین جو ان دونوں کا والد تھا،نے آخری سانسیں اس کمرے میں لیں۔ والدکی بیماری کے دوران اکرم نے اپنے والدکی بہت خدمت کی،لہٰذا والدنے انتقال سے پہلے وہ کمرہ اکرم کودے دیا۔اکرم ابھی اس کمرے میں سامان رکھنے کاسوچ رہاتھاکہ ایک دن اشرف نیچے اترااورکمرہ پرقابض ہوگیا۔ اکرم نے اسے لاکھ سمجھایا،ترلے منتیں کیں، یار احباب  سے کہلوایا،پنچائت بلوائی اورثالث بٹھائے لیکن اشرف نے قبضہ چھوڑنے سے انکارکردیا۔
ان دنوں ساری برادری اشرف کولعن طعن کرتی تھی لیکن اشرف کے پروں پرپانی نہیں پڑتاتھا۔اکرم ہرملنے والے کواشرف کی بدمعاشی اورزیادتی کے بارے میں بتاتااورآخرمیں بڑی عاجزی کیساتھ درخواست کرتاکہ اس بدمعاش کواس زیادتی سے روکیں اوراسے سمجھائیں۔ملنے ملانے والے اشرف کے خلاف فوراًقراردادِمذمت پیش کردیتے۔یہ سلسلہ برسوں تک جاری رہایہاں تک کہ ان دونوں کی اولا دیں جوان ہوگئیں۔ اکرم کاایک بیٹاذرااتھراتھا، وہ ایک روز اٹھا اور اس نے نیچے سے چچاکی بجلی،پانی اور گیس بند کر دی۔ اشرف بہت چلایا،اس نے بہت شور مچایالیکن لڑکے نے کنکشن کھولنے سےانکارکردیا۔ معاملہ پنچائت میں گیا، پنچائتی بیٹھے تولڑکے نے مطالبہ کیا چچاپنچائت کے پرانے فیصلے مان لیں،ہماراکمرہ واپس کردیں،میں کنکشن کھول دوں گا۔
اشرف اس مطالبے کودہرانے پربڑے غصے میں پنچائت سے اٹھ کرواپس آگیالیکن جس گھرمیں پانی بجلی اورگیس نہ ہواس کا مالک کتنی دیرتک ناراض رہ سکتاہے۔اشرف کی ضد نے تیسرے دن ہی دم توڑدیا۔وہ اکرم کے پاس آیا،اپنے رویے پرمعافی مانگی اورکمرے کی چابی اس کے قدموں میں رکھ دی۔اس شام اکرم کا’’اتھرا‘‘بیٹاباپ کی پائینتی بیٹھاباپ کے گھٹنے دباکر بولا’’ اباضدی اورقابض لوگ منت کومانتے ہیں اورنہ ہی مطالبوں کو،یہ لوگ جوتوں کی اولادہوتے ہیں،انہیں صرف جوتے کی زبان ہی سمجھ میں آتی ہے‘‘۔
اکرم کے اس اتھرے بیٹے کا نام آصف ہے اوربچپن میں میرانہ صرف کلاس فیلوتھابلکہ میراگہرا دوست بھی تھا۔حالات نے برسوں پہلے مجھے  لندن لابٹھایا۔پچھلے کئی مہینوں سے سوچ رہا ہوں کہ درخواست  کروں کہ بھائی ذراچنددنوں کیلئے اسلام آباد کاایک چکرضرورلگائو،انہیں اپنی کہانی سناکرکہو،اسلامی جوہری طاقت کے ظل سبحانیوں! قراردادیں اورمطالبے بااخلاق اور مہذب لوگوں کیلئے ہواکرتے ہیں، قابضین کیلئے نہیں،ضدکامقابلہ ضداورقبضے کامقابلہ قبضہ ہوتا ہے کیونکہ ظالم صرف ظلم کی زبان سمجھتا ہے۔
کشمیریوں سے یکجہتی کادن مناتے ہوئے وزیراعظم نے خودآزادکشمیر کی اسمبلی میں جاکر بڑے طمطراق سےخودکو کشمیر کا سفیر قرار دیتے ہوئے اپنے ارشادات سے قوم کوایک دفعہ پھرمخمصے میں ڈال دیا،اسمبلی نے ایک مذمتی قراردادبھی پاس کردی کہ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیرکا فیصلہ کرے۔جب یہ قراردادپاس ہورہی تھی آصف کواس وقت وہاں ہوناچاہیے تھاتاکہ وہ ان حکمرانوں کوقبضہ چھڑانے کاطریقہ بتاسکتااوراگریہ ممکن نہ ہوتاتوکم ازکم وہ اسمبلی کے باہرکھڑے ہوکرقہقہے ہی لگادیتا۔
اسلامی ممالک کی تنظیم اوآئی سی نے آخری مرتبہ ملائیشیاپتراجایا میں 18اکتوبر2003 کوکشمیرپر بھارت کے خلاف مذمتی قراردادپاس کی تھی جس میں اوآئی سی نے بھارت سے پرزورمطالبہ کیاکہ بھارت اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیرکافیصلہ کرے،اس وقت بھی نجانے آصف کہاں تھا کہ وہ عالمِ اسلام کے57بادشاہوں،امیروں اورصدروں کو قبضہ چھڑانے کاطریقہ بتاسکتالیکن سفاک دشمنوں کاقبضہ تودن بدن بڑھتاہی جارہاہے اورعالمِ اسلام غلامی کے قعرِمذلت میں تیزی کے ساتھ گرتاجارہا ہے۔
کشمیر کا مسئلہ1947میں پیدا ہواتھا، عربوں سے بھارت کے تعلقات50اور60کی دہائی میں قائم ہوئے تھے،اوآئی سی نے 1969میں جنم لیاتھا اور1969ہی سے کشمیراو آئی سی کے ایجنڈے پرچلاآرہاہے۔اجتماعی سطح پرمذمت کی اس نےکوئی پرواہ نہیں کی کیونکہ بھارت جانتاہے عالمِ اسلام کشمیراورفلسطین کے مسئلے پرسنجیدہ نہیں۔یہ محض خالی خولی نعرے اور زبانی کلامی مطالبے ہیں۔ بھارت کے یہ خیالات سوفیصد درست ہیں،خود سوچیے جوبھارت سعودی عرب،امارات اورکویت سے16ارب ڈالر کاتیل خریدتاہو،جو بھارت 22 ارب  ڈالر کی مصنوعات،سبزیاں اوراناج فروخت کرتاہواور جس بھارت میں 165ارب ڈالرکی صرف چارعرب ممالک نے سرمایہ کاری کررکھی ہو، 73لاکھ شہری عرب ریاستوں میں کام کر رہے ہوں اوریہ لوگ ہرسال اربوں ڈالر کا زرِمبادلہ کماتے ہوں،اس بھارت کوکشمیرپرعالمِ اسلام کی سنجیدگی جاننے کیلئے کتنی دیرلگے گی؟
کیادنیانہیں جانتی پوراعالمِ اسلام تو رہا ایک طرف صرف عرب ممالک بھارت کوتیل کی سپلائی بندکردیں،بھارت شدید مالیاتی، تجارتی اورسفارتی دیوالیہ کاشکارہوجائے گا،چندہی دنوں میں گھٹنے ٹیک دے گالیکن کیاکیجئے اب عالمِ عرب بھارت کے خلاف مذمتی قراردادیں پاس کرنے کی بجائے ’’موسٹ فیورٹ‘‘قوم بھی قراردے چکاہے۔ پہلے عرب کشمیریوں کی حمایت میں نعرے اوربیانات جاری کرتے تھے اورساتھ ہی بھارتی ٹینکوں کوتیل بھی فراہم کرتے تھے۔ہر کانفرنس،ہراجلاس اور ہرریفرنس میں مظلوم کشمیریوں کیلئے آنسو بھی بہاتے تھے اورساتھ ہی بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے بھی کرتے تھے،اسی لئے ہرمذمتی قرارداد کے بعدنہ صرف بھارت قہقہے لگاتاتھابلکہ پورایورپ اورامریکا بھی بغلیں بجاتے تھے لیکن اب تومعاملہ بالکل ان کی عین مرضی ومنشاء کے مطابق چل رہاہے۔
یہ دنیاکامسلمہ اصول ہے،مطالبہ کمزورکرتے ہیں یامنافق،اورپوراعالمِ اسلام اس وقت دونوں علتوں کاشکارہے اوریہ بھی اس دنیاکااصول ہے جوشخص قوتِ بازوسے اپناحق وصول نہیں کرسکتااسے وہ حق مطالبوں، قراردادوں اورمیمورنڈمزسے نہیں ملاکرتا۔ اسلامی ممالک کمزوری اورسفارتی منافقت کا شکار ہیں۔لہٰذا کشمیرہویافلسطین ہرآنے والادن ہمیں ہمارے حق سے دور لے جارہاہے۔ہرپھیلتی شام اوروسیع ہوتی رات ہمیں ہمارے استحقاق سے محروم کررہی ہے۔ امریکااورمغربی ممالک اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ پورا عالم ِ اسلام بھارت کاکچھ نہیں بگاڑسکاتووہ پھرکیوں اپنے مالی مفادات کوقربان کریں۔آخر کبھی نہ کبھی تواس منافقت کوخیربادکہنا پڑے گالیکن کب؟
کاش،توحیلہ جاروب کے پرنوچ سکے
کاش، تو سوچ سکے،سوچ سکے