08:06 am
بھارت کے جارحانہ عزائم

بھارت کے جارحانہ عزائم

08:06 am

5اگست2019 ء کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر پردوبارہ قبضہ کرلیاہے۔ اس وقت سے بھارت کو چین نصیب نہیں ہورہاہے۔ ایک طرف مظلوم کشمیریوں کے ساتھ بھارت کی انتہا پسند ہندو حکومت جس بربریت کامظاہرہ کررہی ہے، اس کو دیکھ کر اور ان کی داستان غم سن کر یہ احساس جاگزیں ہورہاہے کہ بھارت مسلمانوں کے ساتھ عمومی طور پر اور پاکستان کے خلاف خصوصی طور پر جارحانہ عزائم رکھتاہے۔ اس نے 5اگست2019ء کے بعد31اکتوبر 2019ء کی رات کومقبوضہ کشمیر کودوحصوں میں تقسیم کردیاہے جس کو پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے عوام نے مسترد کردیاہے لیکن بھارت اپنی ناجائز ، غیر قانونی اور غیر اخلاقی حکمت عملی پر بدستور قائم اور رواں ہے۔ مزید براں بی جے پی کی حکومت نے حالیہ دنوں میں ایک شہریت کا بل لوک سبھا اورراجیہ سبھا سے منظور کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے مسلمانوں کے علاوہ چھ مذاہب کے لوگ بہ آسانی بھارت آسکتے ہیں۔ انہیں بھارت کی شہریت دی جائے گی جبکہ مسلمانوں کو اس سے علیحدہ کردیا ہے یہ بل پورے بھارت کے عوام میں متنازعہ بن چکاہے۔ آسام سے لے کر ممبئی تک اور یوپی سے کر حیدرآباد دکن تک ہر مکتب فکر کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور بل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے نریندرامودی سے مطالبہ کررہے ہیں کہ اس متنازعہ بل کو واپس لیاجائے۔ اب تک پورے بھارت میں اس عوامی احتجاج میں تقریباً25افراد مارے گئے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد100سے زائد ہے۔ مظاہرے ہنوز جاری ہیں۔ پولیس اور پیرا ملٹری فورس مظاہرین پر تشدد کرکے انہیں احتجاج سے روکنے پرمجبور کررہی ہے لیکن پولیس کی جانب سے بہیمانہ تشدد کے باوجود لوگ سڑکوں پر موجود ہیں اور بل کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔ بھارت کی بڑی سیاسی پارٹیاں بھی اس بل کے خلاف ہیں اور حکومت سے مطالبہ کررہی ہیں کہ اس کو واپس لیاجائے۔ بھارت کے دانشور بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور شاعر ایسی نظمیں لکھ رہے ہیں جس میں نریندرا مودی کی کھل کر مذمت کی جارہی ہے اور یہ کہاجارہاہے کہ اس بل کے ذریعے ہندوستان اندر سے تقسیم ہوجائے گا۔
 
 دوسری طرف بھارت میں عوام کی جانب سے متنازعہ بل کے خلاف بڑھتے ہوئے مظاہرے سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارتی فوج ایل او سی پر فائرنگ اور گولے باری کررہی ہے جس میں کئی پاکستانی شہری شہید ہوچکے ہیں۔ نیز بھارت کی فوج کے کمانڈر ز نے پاکستان پر حملہ کرنے کی ایک بار پھردھمکی دی ہے جس سے یہ ظاہر ہورہاہے کہ بھارت یقیناً پاکستان پرحملہ کرنے کی ٹھان چکاہے۔ پاکستانی فوج کے سپہ سالار قمر جاوید باجوہ نے حال ہی میں ایل او سی کادورہ کیا ہے اور بھارت کو جواب دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کی فوج بھارت کے متوقع حملے کابھرپور انداز میں جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہے۔ ہرچندکہ پاکستان بھارت کے خلاف جنگ کاخواہش مند نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان کے اس تصور(جنگ نہ کرنے کا)کو پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے اور اس لئے بھارت کو خود سوچناچاہیے کہ پاکستان کے خلاف جنگ کرنے کے کتنے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی اپنے ایک بیان میں بڑی وضاحت سے کہاہے کہ اگر بھارت نے پاکستان پرحملہ کیا تو پاکستان کے پاس اس حملے کاجواب دینے کے لئے ہر قسم کے آپشن موجود ہیں۔ پاکستان کی فوج اور عوام ملکر بھارت کی جارحیت کامقابلہ کریں گے اور اس کووہ سبق سکھائیں گے کہ اس کی آئندہ آنے والی نسلیں بھارت کی اس مہم جوئی کو یاد رکھیں گی۔ پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بھارت کی جانب سے اچانک حملے سے متعلق اپنے خدشات کااظہار کیاہے اور عالمی کمیونٹی سے استدعا کی وہ بھارت کے پاکستان کے خلاف بڑھتے ہوئے جارحانہ عزائم کو روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کرے کیونکہ اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ شروع ہوئی تو اس کے اثرات پورے خطے کے علاوہ پوری دنیا پر بھی پڑسکتے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر سب سے بڑی ذمہ داری امریکہ بہادر پر عائد ہوتی ہے جس کے بھارت کے ساتھ اسٹرٹیجک تعلقات ہیں جس میں بعض خفیہ دفاعی معاہدے بھی شامل ہیں۔ اس لئے امریکہ اگر چاہتاہے کہ جنوبی ایشیاء میں جنگ نہیں ہونی چاہیے تو اس کو چاہیے کہ وہ بھارت پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے موجودہ حالات میں امن کے چراغوں کو فروزاں کرے تاکہ عوام کے ذہنوں میں جنگ کے خوف کی بجائے امن کے پھول کھل سکیں۔ تاہم یہ بات بھی لکھنا ضروری ہے کہ امریکہ بھی جنوبی ایشیاء میں جنگ نہیں چاہتاہے۔ اس کی قیادت کو اس بات کا ادراک ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا آغاز ہوتاہے تو یہ روایتی ہتھیاروں تک محدود نہیں رہ سکے گی بلکہ اس جنگ میں نیوکلیئر ہتھیاروں کابھی استعمال ہوسکتاہے۔ دراصل بھارت کی موجودہ قیادت اس حد تک پاکستان دشمنی پر اتر آئی ہے کہ اس کو پاکستان کا وجود کھٹک رہاہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیراعظم ہرگزرے دن کے ساتھ پاکستان پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دیتارہتاہے۔ ان دھمکیوں سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ بھارت یقیناً پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتاہے۔ بھارت کی جانب سے ایل اوسی پر مسلسل گولے باری اور فائرنگ سے یہ ظاہرہورہاہے کہ بھارت آئندہ دنوں میں مزید کچھ کرنے والاہے۔ بھارت کی جانب سے یہ مہم جوئی اس خطے کو جن تکلیف دہ حالات سے دوچار کرے گی کہ اس کا عبرتناک مظاہرہ ہم مشرق وسطیٰ میں دیکھ رہے ہیں ۔ دراصل بھارت امریکہ کے تعاون سے پورے جنوبی ایشیاء میں اپنی اجارہ داری چاہتاہے، وہ پاکستان کو ایک اور بنگلہ دیش بناناچاہتاہے جس میں اس کو کبھی بھی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ تباہی وبربادی اس کا مقدر بن جائے گی۔ ہرچند کہ یہ صورتحال اہل بینش اوردانش کیلئے انتہائی تکلیف دہ ثابت ہوگی جبکہ اس کی تمام تر ذمے داری بھارت کی موجودہ انتہا پسند قیادت پر عائد ہوگی جو امن کی بجائے جنگ کا پیغام دے رہی ہے۔ذرا سوچیے۔

تازہ ترین خبریں