08:07 am
برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی اورہمارے’’ قابل فخر پاکستانی‘‘

برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی اورہمارے’’ قابل فخر پاکستانی‘‘

08:07 am

 نیشنل کرائم ایجنسی (NCA)منظم جرائم کے خلاف برطانیہ کا ہراول دستہ ہے جو عوام کا تحفظ کرتے ہوئے برطانیہ کے لیے خطرہ تصور کیے جانے والے مجرموں کو گرفت کرتی ہے۔ 2013 میں قائم کیے جانے والے اس ادارے کامرکزی دفتر لندن میں واقع ہے۔ یہ تنظیم انسانی، اسلحے اور منشیات کی اسمگلنگ، سائبرکرائم، معاشی کرائم اور منی لانڈرنگ کے خلاف برسرپیکار ہے۔ اس کی تفتیش کا دائرہ دیگر ممالک تک پھیلا ہواہے
۔یہ تنظیم برطانوی ہوم آف سیکریٹری، پریتی پٹیل کے ماتحت ہے اور فی الحال اس کی قیادت سینئر پولیس آفیسر،لین اونز کر رہی ہیں، جو 2016 سے اس کی ڈائریکٹر جنرل ہیں۔اس کے دائرہ کار میں سرحدی خطرات، سائبرکرائم،غیرقانونی اسلحہ، فراڈ، ناجائز مالی اعانت، جدید طرز غلامی، انسانی اسمگلنگ، اغوا اور رشوت خوری،بچوں سے زیادتی، رشوت ستانی، بدعنوانی اور قوانین کی خلاف ورزی جیسے معاملات آتے ہیں۔ 2015 میں اس تنظیم کا بجٹ 44کروڑ 80لاکھ پائونڈ تھا۔گزشتہ دنوں پاکستانی پرائیویٹ سیکٹر کے سب سے بڑا آجر سے متعلق ہونے والی تحقیقات کے نتیجے میں  NCA اور ملک ریاض کے مابین 19کروڑ پائونڈادائیگی کا تصفیہ طے پایا۔ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کورٹ کی جانب سے اگست 2019 میں ان آٹھ اکائونٹس کو منجمد کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ، جن سے لگ بھگ12کروڑ پائونڈ کا لین دین ہوا تھا۔ یہ کارروائی دسمبر2018میں دو کروڑ پائونڈ کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات میں جاری آرڈر کا تسلسل تھی۔ اکائونٹ منجمد کرنے کے تمام احکامات برطانوی بینکوں میں موجود کھاتوں سے متعلق تھے۔این سی اے نے جس 19کروڑ پائونڈ  کے تصفیے کی پیش کش قبول کی، اس میں ون ہائیڈ پارک پیلس، لندن ڈبلیو ٹو، ٹو ایل ایچ کی جائیداد ، جس کی مالیت لگ بھگ 5کروڑ پائونڈ ہے اور اس میں تمام منجمد کھاتے شامل تھے۔مذکورہ پتہ پاکستانیوں کی جانب سے بے دریغ کرپشن سے کمائی جانے والی غیرقانونی دولت کا مقناطیس تصور کیا جاتا رہا ہے۔این سی اے کی جانب سے ان اثاثوں کو ریاست پاکستان کو لوٹانے کا اعلان امید افزا ہے،جو سمندر میں وہ اولین قطرہ ثابت ہوگا، جوپہلے لہر اور بعد ازاں سیلابی شکل میں پاکستان سے لوٹی ہوئی غیر ملکی دولت کو وطن واپس لانے کا سبب بنے گا۔بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے غیرقانونی اثاثوں کی وطن واپسی میں یہ واقعہ اہم پیش رفت  ہے۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں اس رقم کی واپسی کی کوششیں ناکام رہیں جس سے یہ تاثر ابھرنے لگا تھا کہ ریاست پاکستان اپنی اس دولت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم ہوگئی۔ برطانیہ کی جانب سے کریمنل فنانس ایکٹ 2017 میں متعارف کردہ ترامیم سے ایک بار پھر یہ امکان روش ہوا۔ قانون میں یہ ترمیم  بدعنوانی کے خلاف یواین کنوینشن سے مطابقت رکھتی تھیں۔
غیرواضح اثاثوں سے متعلق آرڈرز (UWOs) متعارف ہونے کے بعد ہمیں یہ مثبت و موثر تبدیلیاں دکھائی دیں۔عدالت پچاس ہزار پائونڈ سے زائد رقم کے مالک شخص، وہ شخص جس کی آمدنی اس کے اثاثوں سے مطابقت نہ رکھتی ہو، یا پھر وہ،جو سنگین جرائم میں ملوث رہا ہو،کے لیے یہ آرڈرز جاری کرسکتی ہے۔UWOفوجداری قوانین اور دیوانی قوانین کے مابین ایک ربط و تعلق کی نمائندگی کرتا ہے۔اگرچہ اس میں جرائم کی تفتیش کا خود کار نظام نہیں۔ایک ہی سکے کے یہ دو رخ بلاشبہ غیر واضح آمدن سے زائد اثاثوں کی تیزی سے بازیافت میں کام آتے ہیں، لیکن یہی اِسے اِن اثاثوں کے مالکان کے نام عیاں کرنے سے روکتے ہیں۔ ملک ریاض سے ہونے والے تصفیے پر  رازداری کا پردہ حائل ہے۔ بظاہرملک ریاض سے کوئی مجرمانہ فعل منسوب نہیں اور ان کی سرگرمیاں، جو انھیں یہ تاثر دینے میں مدد فراہم کرتی ہیں کہ یہ سب معمول کی کارروائی تھی،اور این سی اے کی پریس ریلیز کے تمام تر الزامات کو رد کرتے ہوئے خود کوبا فخر پاکستانی ٹھہرانے کی اجازت دیتی ہیں۔
ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل (TI)سمیت کئی حلقوں نے اس رازداری کو بے وجہ قرار دیا ہے۔ اس ادارے کے ڈائریکٹر برائے پالیسی سازی، ڈیکن ہمیزکا بیان ریکارڈ پر موجود ہے، جس میں انھوں نے کہا کہ اس طرح کے تصفیوں میں رکھی جانے والی رازدای اس نوع کے جرائم کرنے والوں کے لیے باعث کشش ہے۔ان کا اصرار ہے کہ برٹش ورجن آئرلینڈز(جزائر)جن کا ملک ریاض کی منی لانڈرنگ سے تعلق ہے، انھیں کیمین جزائر اور جبرالٹر جیسے دیگر سمندر پار برطانوی علاقوں کی تقلید کرنی چاہیے  اور ان کمپنیوں اور ساحلوں کے اصل مالکان کے نام سامنے لانے چاہئیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا اس کیس سے متعلق بیان جرمنی اور دیگر ممالک میں تو میڈیا کی زینت بنا، مگر پاکستان کے ’’آزاد میڈیا‘‘ نے اسے پوری طرح نظر انداز کر دیا۔ ہاں این سی اے کی جانب سے ناصر جمشید کے اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے کی خبروں کو اہتمام سے نشر کیا گیا۔دولت کا یہ اثر ہمارے نام نہاد ’’آزاد میڈیا‘‘پر بڑا واضح ہے۔یہاں غیر متعلقہ خبریں نشر کی جاتی ہیں اور بڑے ناموں کی بدعنوانی نظر انداز کرنے کے لیے بھاری معاوضے وصول کیے جاتے ہیں۔اگر یہ رقم پاکستان آتی ہے، تو اِس سے ملک ریاض کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے واجبات ادا کیے جائیں گے، جیسا کہ شہزاد اکبر نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی کہا۔یہ عمل اِس رقم کوملک ریاض کو لوٹانے کے مترادف ہوگا۔یہ عمل ناقابل قبول اور UWOکی روح کے منافی ہے۔تحقیقات کے بعد نہ صرف بدعنوانی کے ذرائع بلکہ اس شخص کو بے نقاب کرنا چاہیے، جس نے یہ رقم پاکستان سے باہر منتقل کی۔ اور کیا اس بھاری رقم پر کبھی ٹیکس ادا کیا گیا؟یاد رہے کہ وفاقی محتسب برائے ٹیکس شعیب سڈل نے ملک ریاض اور جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار پر اس ضمن میں الزامات عائد کیے تھےالبتہ اس وقت کے صدر، آصف علی زرداری نے معاملے کو رفع دفع کردیا۔اس نوع کے مالی معاملات میں رکھی جانے والی رازداری شفافیت کی اس نیت کے منافی ہے، جسے  UWOکے 2017کے قانون میں متعین کیا گیا ہے۔ملک ریاض کے کیس میں این سی اے کی جانب سے رکھی جانے والی رازداری ان کے اپنے ہی دیگر کیسوں کے طریقہ تفتیش سے متصادم ہے، جہاں اُنھوں نے اثاثوں کی تفصیلات کے ساتھ ان شخصیات کے ناموں کا بھی اپنے ہوم پیج یا سوشل میڈیا پیجز پر اعلان کیا تھا،جن کے خلاف تفتیش جاری تھی،جن میں یہ تفصیلات بھی شامل تھیں کہ رقم کب اور کہاں ضبط کی گئی، تفتیش کب تک جاری رہی اور اثاثوں سے متعلق زیر تفتیش شخص نے کیا وضاحت کی۔
(جاری ہے) 

تازہ ترین خبریں