08:08 am
میڈیا پر وزیراعظم کا غم و غصہ

میڈیا پر وزیراعظم کا غم و غصہ

08:08 am

٭پنڈدادن خان، وزیراعظم میڈیا پر بہت گرجے برسےOانڈیا: شہریت ایکٹ کے خلاف بغاوت، مزید دو صوبوں کا عمل کرنے سے انکار، تعداد11 ہوگئیO کنٹرول لائن، بھارتی فائرنگ سے دو فوجی شہیدO لاہور۔ ن لیگ کے صدر دفتر پر ایف آئی اے کا چھاپہO لیاقت پارک راولپنڈی بے نظیر بھٹو کی برسیOجمہوریت کو گرہن لگ رہا ہے: مودیO رانا ثناء اللہ قرآن مجید اٹھا کر بے گناہی کا بیانO جنرل باجوہ کی توسیع، حکومت کی نظرثانی کی اپیلO ڈالر پھر مہنگا، 160 روپے تک جائے گاOبجلی مزید مہنگی14 ارب کا اضافہ کھیوڑا کا نمک، پہلا وفادار نمک خوار وزیراعظم:فواد چودھریO مقبوضہ کشمیر کرفیو 145 دن۔
٭وزیراعظم عمران خان پنڈ دادن خاں کے جلسے میں میڈیا پر بہت گرجے برسے، جی بھر کر صلواتیں سنائیں۔ سخت غصے کا اظہار کیا کہ میڈیا کے جن لوگوں کی روزی بند ہو گئی ہے وہ حکومت کے خلاف لکھ رہے ہیں۔ یہ بہت سخت الزام ہے۔ اس پر کچھ لکھنا ضروری ہو گیا ہے۔ مجھے وہی وقت دکھائی دے رہا ہے جب جنرل ایوب خان نے میڈیا پر نہ صرف پابندی لگائی بلکہ ملک کے بڑے بڑے اخبارات مشرق، پاکستان ٹائمز، امروز اور مارننگ نیوز پر قبضہ کر کے ان کا سرکاری ٹرسٹ بنا دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک عرصے کے بعد یہ سارے اخبارات ختم ہو گئے مگر ایوب خان کو یہ اقدام بہت مہنگا پڑا۔ اس کے خلاف تحریک چلی تو کسی اخبار نے ایوب خان کو سہارا نہ دیا، اسے اقتدار سے محروم ہو کر گھر جانا پڑا۔ جنرل ضیاء الحق نے بھی میڈیا کو بہت دبایا۔ اس دور میں بعض بڑے ناموں والے صحافی خرید لئے مگر پھر اس کا انجام کیا ہوا، صرف تین سیکنڈوں میں جلتے جہاز کی راکھ کا ڈھیر! میں ذرا پہلے چلتا ہوں۔ مولانا ظفر علی خان قیام پاکستان کی تحریک کے بہت بڑے حامی تھے۔ ان کا اخبار زمیندار بار بار بند کیا جاتا رہا۔ ایک روز اخبار کا پورا اداریہ روک دیا گیا۔ انہوں نے اداریے کی پوری جگہ پر صرف ایک سطر لکھ دی کہ ’’نکتہ نکتہ، شوشا، شوشا نذر سنسر ہو گیا‘‘ یہ ایک سطر پورے اداریے سے زیادہ بھاری ثابت ہوئی۔ قارئین نے حکومت کے خلاف نفرت کے اپنے اپنے مفروضے بنا لئے۔ ایوب خان کا دور میڈیا پر سختی کا بہت کاری دور ثابت ہوا۔ ملک کے صدارتی انتخابات کے دوران ایوب خان کی مخالف امیدوار محترمہ فاطمہ جناح کا لاہور میں بہت بڑا جلسہ ہوا۔ تمام اخبارات کو حکم جاری ہوا کہ اس جلسے کی صرف چھ انچ سنگل کالم خبر شائع ہو گی۔ روزنامہ مشرق کے چیف ایڈیٹر اقبال زبیری نے اس جلسے کی خود رپورٹنگ کی تھی۔ انہوں نے طویل خبر بنائی مگر چھ انچ پابندی کا حکم آ گیا۔ وہ بہت پریشان ہوئے۔ منیجنگ ڈائریکٹر عنائت اللہ ایسے معاملات سے نمٹنے کے ماہر تھے۔ اگلے روز اخبار شائع ہوا تو اس کے خبروں والے پورے صفحے پر جلسے کی بہت بڑی اور نمایاں تصویر چھپی ہوئی تھی۔ نیچے ایک کونے پر چھ انچ خبر تھی۔ جس میں صرف جلسے کے مقررین کے نام اور چند دوسری غیر اہم باتیں درج تھیں۔ یہ صفحہ دھماکہ ثابت ہوا۔ حکومت بوکھلا گئی۔ سخت جواب طلبی ہوئی تو انتظامیہ نے کہا کہ صرف خبر چھاپنے پر پابندی تھی۔تصویر کے بارے میں کوئی ہدایت نہیں تھی۔
بات لمبی ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے الزام لگایا کہ جن صحافیوں کی روزی بند ہو گئی ہے وہ حکومت کے خلاف لکھ رہے ہیں۔ مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی۔ اس حکومت کے مہنگائی کے جان لیوادور میں متعدد اخبارات اور ٹیلی ویژن بند ہو چکے ہیں۔ملک بھر میں بے روزگار ہونے والے سینکڑوں صحافی سڑکوں پر پھر رہے ہیں۔اخبارات کے اشتہارات بند کر دیئے گئے۔ جبر و تشدد اور کیا ہوتا ہے! عمران خان صاحب! آپ نے صحافیوں پر پیسے لینے کا گالی نما الزام لگایا ہے، اس میں حقیقت بھی ہو گی مگر آپ کے ایک عمومی قسم کے الزام سے سارے صحافیوں کا کردار مشکوک ہو گیا ہے اس میں سرفراز سید کا نام بھی آ رہا ہے جس کے پاس 53 برس کی صحافت کے بعد بھی ایک بائیسکل بھی نہیں ہے۔ میرے جیسے بے شمار دوسرے صحافی بھی ہیں۔ بعض روسیاہ افراد نے صحافت جیسے مقدس پیشے کی آڑ میں واقعی لوٹ مار مچائی ہے۔ انہیں بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ مگر ہزاروں دیانت دار صحافیوں پر کھلا الزام!! اور کیا آپ نے کھلے عام ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی بات سنی کہ آپ کی حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو مفید ثابت کرنے کی حمایت کے لئے صحافیوں کو 30 کروڑ روپے رشوت دینے کی باقاعدہ تحریری تجویز ایک اجلاس میں پیش کی تھی اس کی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے مخالفت کی تو اسے اس وزارت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ وزیراعظم صاحب! اپنے بیان کی وضاحت کریں آپ نے پوری صحافتی برادری کی توہین کی ہے، کوئی بھی صحافی عدالت میں جا سکتا ہے۔
ایوب خان نے بہر حال قومی سطح کے بعض بہت اہم کام بھی کئے تھے۔ ملک کو زبردست صنعتی ترقی دی، ڈیم بنائے، ملکی معیشت کو مضبوط کیا۔ بھارت کے ساتھ جنگ لڑی (بھٹو کے مشورے پر) مگر موجودہ حکومت کی کارکردگی کیا ہے؟ نیب کو اپوزیشن کے پیچھے لگا دیا، جیل میں سنگین الزام کی طویل قید کاٹنے والے سابق وزیراعظم کو آزاد کر کے لندن بھیج دیا۔ بجلی، سبزیوں، دالوں، آٹا، گھی کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ! بجلی بند، گیس بند! ہر فیصلے پر عدالتوں کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ اہم فیصلوں پر نظرثانی اور اپیل! ہر وقت ساتھ دینے والے ترکی اور ملائیشیا کو ناراض کر لیا، جگہ جگہ سے قرضے لے کر خزانہ میں بھر لئے اور اس پر فخر کا اظہار!
٭پنجاب اسمبلی میں ڈیری فارموں کا ذکر ہو رہا ہے۔ ایک رکن نے اونٹنیوں کا ڈیری فارم کھولنے کا مشورہ دیا۔ سپیکر نے کہا کہ آپ پہلے اونٹنی کا دودھ پی کر آئیں پھر اس کے فوائد بتائیں۔وہ رکن تو پتہ نہیں کیا بتائے گا؟ قارئین مجھ سے یہ فوائد سن لیں۔ دودھ کے ماہر تجزیہ نگاروں کی تحقیق کے مطابق اونٹنی کا دودھ گائے، بکری، بھینس کے دودھ سے زیادہ طاقت ور اور میٹھا ہوتا ہے۔ اس میں گائے کے دودھ سے وٹامن سی تین گنا، آئرن (فولاد) 10 گنا زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح پوٹاشیم، تانبہ، زنک، سوڈیم، میگنشیم، وٹامن اے و بی،پروٹین بھی زیادہ ہوتے ہیں۔اس دودھ میں چکنائی کم ہوتی ہے۔ اس لئے کولیسٹرول بھی کم ہوتا ہے۔ بہت زود ہضم اورصِحت بخش ہے۔ بچوں کی الرجی ختم کرنے میں بہت مددگار ہوتا ہے۔ اونٹنی روزانہ تقریباً 30 لٹر دودھ دیتی ہے۔ عرب ممالک میں اونٹ کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ امریکہ میں بہت کم، صرف پانچ ہزار ہیں۔ وہاں یہ دودھ بہت مہنگا ملتا ہے، 16 اونس کی بوتل 100 ڈالر تک۔
٭اونٹوں کا ذکر بھی لمبا ہو گیا۔ شہریت بل پر بھارت کے ہنگاموں کا کچھ ذکر۔ یہ ہنگامے اب 11 صوبوں تک پھیل گئے ہیں۔ اس پر بھارتی حکومت بدحواس ہو رہی ہے۔ ایک وزیرسنجیو بال ہان نے کہا ہے کہ یہ قانون پاس کرتے وقت کچھ مخالفت کا خیال تھا مگر جو کچھ ہو رہا ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ بات بہت آگے نکل گئی ہے۔ خود نریندر مودی کابیان چھاپا ہے کہ بھارت کی جمہوریت کو گرہن لگ گیا ہے!
٭ضمانت پر رہا ہونے والے رانا  ثناء اللہ نے ہاتھ میں قرآن مجید اٹھا کر کہا کہ میں بے قصور ہوں۔ یہ عجیب رواج ہو گیا ہے کہ سیاست دان ذرا ذرا سی بات پر قرآن مجید کو بیچ میں لے آتے ہیں۔ یہ اس عظیم مقدس کتاب کی صریح توہین ہے۔ ایک سیاست دان ذوالفقار مرزا نے سر پر قرآن مجید رکھ کر آصف زرداری کے خلاف سنگین الزامات لگائے، پھر پتہ نہیں اسے کون سے بوٹی سنگھائی گئی کہ اچانک چپ ہو گیا۔ اب بھی چپ ہے۔ خود آصف زرداری نے بیچ میں قرآن مجید رکھ کر اس کے حوالے سے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے گرفتار جج جلد بحال کر دیئے جائیں گے۔ اگلے روز کہا کہ وعدے قرآن حدیث نہیں ہوتے! انجام سب دیکھ رہے ہیں۔ ملک بھر میں جھوٹے گواہ بیان دینے سے پہلے اللہ تعالیٰ کو حاضر و ناظر جاننے کا حلف اٹھا کر جھوٹا بیان دے دیتے ہیں۔ پتہ نہیں ان لوگوں نے اپنی ذات کی کمزوریوں کو چھپانے کے لئے قرآن مجید کو بیچ میں لانا اتنا آسان کیوں سمجھ لیا ہے۔ 

تازہ ترین خبریں