07:26 am
حلال کمائی کی برکات

حلال کمائی کی برکات

07:26 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
٭ ملازِم دفتر یا دکان پر آنے جانے کا وقت رجسٹر وغیرہ میں درست لکھے، اگر غلط بیانی سے کام لیا اور ڈیوٹی کم دینے کے باوجود پورے وقت کی تنخواہ لی تو گنہگار و عذابِ نار کا حقدار ہے۔ 
٭ وقت کے اجارے میں چاہے کام ہو یا نہ ہو یا جلدی کام ختم کر لینے کی صورت میں اگر وقت سے پہلے چلا گیا تو مالِ وقف سے اسے تنخواہ لینا یا دینا جائز نہیں بلکہ جتنے گھنٹے مثلاً تین گھنٹے پہلے چلا گیا تو اس قدر اُسکی اجرت میں سے کمی کی جائیگی البتہ نجی (یعنی پرائیویٹ) ادارے کا مالک جانتے ہوئے رضامندی کیساتھ پوری تنخواہ دیدے تو جائز ہے۔ 
 
٭ جن اداروں میں بیماریوں کی چھٹیاں دی جاتی ہے وہاں بیمار نہ ہونے کے باوجود جھوٹ بول کر یا ڈاکٹر کی جعلی (نقلی) چٹھی دکھا کر چھٹی کرنا گناہ ہے، جان بوجھ کر جھوٹی چٹھی لکھ کر دینے والا ڈاکٹر بھی گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہے۔ 
٭ جن اداروں میں ملازمین کو علاج کی مفت سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں، ان میں جھوٹے بہانوں سے دوا حاصل کرنا، اپنا نام لکھوا یا بتا کر کسی دوسرے کیلئے دوا نکلوا لینا وغیرہ حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، ایسوں کے ساتھ جان بوجھ کر تعاون کرنیوالا بھی گنہگار ہے۔ 
٭ تنخواہ زیادہ کرانے اور عہدے وغیرہ میں ترقی کروانے کیلئے جعلی (نقلی) سند لینا ناجائز و گناہ ہے کیونکہ یہ جھوٹ اور دھوکے پر مبنی ہے۔
٭ ملازم کو چاہئے کہ دورانِ ڈیوٹی چاق و چوبند رہے، سستی پیدا کرنے والے اسباب سے بچے مثلاً رات دیر سے سونے کے سبب بلکہ نقلی روزہ رکھنے کے باعث اگر کام میں کوتاہی ہو جاتی ہے تو ان افعال سے باز رہے کہ قصداً کام میں سستی کرنیوالا اگرچہ کٹوتی کروا دے مگر اب بھی ایک طرح سے گنہگار ہے، کیونکہ اس نے کام کرنے کا معاہدہ کیا ہوا ہے اور اس معاہدے کی رُو سے کم از کم معتدل یعنی درمیانے انداز میں اس کو کام کرنا ضروری ہے۔ 
٭ اجیرِ خاص (یعنی جو مخصوص وقت میں کسی ایک ہی سیٹھ یا ادارے کے کام کا پابند ہو) اُس مدتِ مقررہ میں (یعنی دورانِ ڈیوٹی) اپنا ذاتی کام بھی نہیں کر سکتا اور اوقاتِ نماز میں فرض اور سنت موکدہ پڑھ سکتا ہے، نقل نماز پڑھنا اس کیلئے اوقاتِ اجارہ میں جائز نہیں (جبکہ صراحتاً یا عرفاً اجازت نہ ہو) اور جمعہ کے دن نمازِ جمعہ پڑھنے کیلئے جائیگا مگر جامع مسجد اگر دُور ہے کہ وقت زیادہ صرف ہو گا تو اتنے وقت کی اُجرت کم کر دی جائیگی اور اگر نزدیک ہے تو کچھ کمی نہیں کی جائیگی، اپنی اُجرت پوری پائے گا۔ (اگر ڈیوٹی کے دوران نمازِ عشاء آئی تو وِتر پڑھ سکتا ہے)۔ 
٭ اگر کسی عذر کی وجہ سے اجیر خاص کام نہ کر سکا تو اُجرت کا مستحق نہیں ہے مثلاً بارش ہو رہی تھی جس کی وجہ سے کام نہیں کیا، اگرچہ حاضر ہوا تو اجرت نہیں پائے گا (یعنی اس دن کی تنخواہ نہیں ملے گی) البتہ اگر اسکی تنخواہ کا بھی عُرف ہے تو ملے گی کہ تعطیلاتِ معہودہ (یعنی جن چھٹیوں کا معمول ہوتا ہے اُن) کی تنخواہ ملتی ہے۔ 
٭ ہر ملازم اپنے روزانہ کے کام کا احتساب کرے کہ آج ڈیوٹی کے اوقات میں غیرضروری باتوں یا بے جا کاموں وغیرہ میں کتنا وقت خرچ ہوا؟ آنے میں کتنی تاخیر ہوئی؟ وغیرہ نیز غیرواجبی چھٹیوں کا شمار کر کے خود ہی حساب لگا کر ہر ماہ تنخواہ میں کٹوتی کروا لے۔ 
٭ مراقب (یعنی سپروائزر) یا مقررہ ذِمے دار تمام مزدوروں کی حسب استطاعت نگرانی کرے، وقت اور کام میں کوتاہی اور سستی کرنے والوں کی مکمل کارکردگی (رپورٹ) کمپنی یا ادارے کے متعلقہ افسر تک پہنچائے، مراقب اگر ہمدردی یا مروت یا کسی بھی سبب سے جان بوجھ کر پردہ ڈالے گا تو خائن و گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہو گا۔ 
٭ مذہبی یا سماجی ادارے کے مقررہ ذمہ داران اگر ادارے کے ملازمین کی کوتاہیوں اور غیرقانونی چھٹیوں سے واقف ہونے کے باوجود آنکھ آڑے کام کریں (یعنی جان بوجھ کر انجان بنیں) گے اور اس وجہ سے ان ملازمین کو وقف کی رقم سے مکمل تنخواہ دی جائیگی تو لینے والوں کے ساتھ ساتھ متعلقہ ذمہ دار بھی خائن و گنہگار اور عذابِ نار کے حقدار ہونگے۔ 
٭ کسی مذہبی ادارے میں اجارے کے شرعی مسائل پر سختی سے عمل دیکھ کر نوکری سے کترانا یا صرف اس وجہ سے مستعفی ہو کر ایسی جگہ ملازمت اختیار کر لینا جہاں کوئی پوچھنے والا نہ ہو انتہائی نامناسب ہے۔ ذہن یہ بنانا چاہئے کہ جہاں اجارے کے شرعی احکام پر سختی سے عمل وہ وہیں کام کریں تاکہ اسکی برکت سے معصیت کی نحوست سے بچوں اور حلال اور ستھری روزی بھی کما سکوں۔ 
٭ جو ادارے کے مطابق کام نہیں کر پاتا مثلاً مدرس ہے مگر صحیح پڑھا نہیں پا رہا تو اسے چاہئے کہ اجارے کرنیوالے کو فوراًمطلع کرے۔
٭ اگر وقف کے ادارے کا کوئی مدرس درست نہیں پڑھا پا رہا اسی طرح ناظم یا کسی طرح کا اجیر عُرف و عادت سے ہٹ کر کوتاہیاں کر رہا ہے تو متعلقہ ذمہ دار پر واجب ہے کہ اسکو معزول کر دے۔ 
٭ اگر مخصوص مدت مثلاً بارہ ماہ کیلئے ملازمت کا اِجارہ ہو تو اب فریقین کی رضامندی کے بغیر اِجارہ ختم نہیں ہو سکتا، سیٹھ کا خواہ مخواہ دھمکیاں دینا کہ وقت سے پہلے ہی فارغ کر دوں گا نیز اسی طرح ضرورتمند سیٹھ کو نوکر کا ڈراتے رہنا کہ نوکری چھوڑ کر چلا جائوں گا، درست نہیں، ہاں مجبوریوں کو شریعت تسلیم کرتی ہے اس صورت میں دونوں میں سے کوئی بھی وقت سے پہلے اِجارہ ختم کر سکتا ہے۔ 
٭ اگر کسی سے کہہ دیا کہ پہلی تاریخ سے نوکری یا کام پر آ جانا اور اُجرت طے کر لی مگر مدت طے نہیں کی تو عرف دیکھا جائیگا، اگر دیہاڑی پر رکھتے ہیں تو ایک دن کا، ہفتے کیلئے رکھتے ہیں تو ایک ہفتے کا اور اگر مہینے کیلئے رکھتے ہوں تو ایک مہینے کا اَجیر قرار پائیگا مثلاً اس کام کاج میں ایک مہینے کا معمول ہو تو سیٹھ اور نوکر دونوں کو اختیار ہے کہ مہینہ پورا ہو جانے پر اجارہ ختم کر دیں، اگر اجارہ ختم نہ کیا اور دوسرے مہینے کی ایک رات اور ایک دن گزر گیا تو اب یہ مہینہ پورا ہونے سے قبل اجارہ ختم کرنے کی اجازت نہیں، جب بھی اجارہ ختم کرنا ہو مہینے کے پہلے دن ہی ختم کرنا ہو گا، ہاں مہینہ پورا ہونے سے قبل اجیر و مستاجر ایک دوسرے کو مطلع کر سکتے ہیں کہ آنیوالی ماہ کی پہلی تاریخ سے اجارہ ختم ہو جائیگا۔ 
(جاری ہے)

٭ مسلمان نے کافر کی خدمت گاری کی نوکری کی، یہ منع ہے بلکہ کسی ایسے کام پر کافر سے اِجارہ نہ کرے جس میں مسلم کی ذلت ہو (کہ ایسا اِجارہ جائز نہیں)۔ (عالمگیری، ج4، ص435)۔ عمومی طور پر یہ کام یعنی کافر کے پائوں دبانا، اسکے بچوں کی گندگیاں اٹھانا، گھر یا دفتر کا جھاڑو پوچا کرنا، گند کچرا اٹھانا، اس کی گاڑی کی دھلائی کرنا وغیرہ ذلت میں شامل ہے البتہ ایسی نوکری جس میں مسلمان کی ذلت نہ ہو وہ کافر کے یہاں جائز ہے۔ 
٭ سیدزادے کو بھی ذلت کے کاموں پر ملازم رکھنا جائز نہیں۔ 
٭ ملازم اپنے دفتر کا قلم، کاغذ اور دیگر اشیاء اپنے ذاتی کاموں میں صرف کرنے سے اجتناب کرے۔ 
٭ اگر ادارے کی طرف سے ذاتی کام میں ٹیلیفون استعمال کرنے کی اجازت ہو تو اجازت کی حد تک استعمال کر سکتا ہے، اگر اجازت نہیں تو ذاتی کام کیلئے استعمال کرنا ناجائز و گناہ ہے۔ 
٭ اجارے کے وقت میں کبھی کبھار بہت قلیل وقت کیلئے ذاتی فون سننے کی عرفاً اجازت ہوتی ہے البتہ اگر کوئی اجارے کے اوقات میں بار بار فون سنتا ہے اور پھر بات چیت بھی دس پندرہ منٹ سے کم نہیں ہوتی تو اس طرح کے ذاتی فون سننا جائز نہیں کہ اس طرح کام اور مستاجر کا بھی نقصان ہو گا۔ 
٭ ملازم کو اجارے کے دوران بات بات پر دھمکی دینا کہ مدت پوری ہونے سے پہلے ہی نوکری سے نکال دوں گا، درست نہیں بلکہ بعض اوقات کسی چھوٹی سی بات پر غصہ آ جانے پر نکال بھی دیتے ہیں، ایسا کرنا جائز نہیں، ہاں کوئی بہت بڑا معاملہ درپیش ہو جو شرعاً یکطرفہ اجازت سے فسخ کرنے کا عذر ہو تو دونوں میں سے کوئی بھی اجارہ ختم کر سکتا ہے مثلاً دوسرے ملک میں گیا اور 2 سال کا اِجارہ طے ہوا مگر ایک سال پورا ہوتے ہی ویزا کی مدت ختم ہو گئی اور مزید نہ ملا تو ملازم اِجارہ ختم کر دے کیونکہ قانونی جرم کی وجہ سے بغیر ویزا اسے وہاں رہنا جائز نہیں۔ 
٭ اگر نوکری (یا کرائے پر لی ہوئی دکان وغیرہ) چھوڑنا ہو تو ایک ماہ پہلے بتانا ہو گا ورنہ ایک مہینے کی تنخواہ کاٹی جائیگی (یا کرایہ وصول کیا جائیگا)، تو جان لیجئے ملازم (یا کرایہ دار) سے اس طرح کا کیا ہوا معاہدہ باطل ہے۔ اگر اُس نے ایک ماہ پہلے بتائے بغیر نوکری ختم کر دی (یا کرائے پر لی ہوئی جگہ خالی کر دی) تب بھی تنخواہ کاٹنا (یا زائد کرایہ وصول کرنا) ظلم ہو گا، ایسے موقع پر ایک مہینے تو کیا ایک گھنٹے کی بھی تنخواہ کاٹی (یا زائد کرایہ وصول کیا) تو گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہو گا۔
٭ ملازم نے اگر مرض کی وجہ سے چھٹی کر لی یا کام کم کیا تو مستاجر (یعنی جس سے اِجارہ کیا ہے اس) کو تنخواہ میں سے کٹوتی کرنے کا حق حاصل ہے مگر اسکی صورت یہ ہے کہ جتنا کام کیا صرف اتنی ہی کٹوتی کی جائے مثلاً 8گھنٹے کی ڈیوٹی تھی اور تین گھنٹے کام نہ کیا تو صرف تین گھنٹے کی اُجرت کاٹی جائے، پورے دِن بلکہ آدھے دِن کی اُجرت کاٹ لینا بھی ظلم ہے۔ 
٭ امام و مؤذن عرف و عادت کی چھٹیوں کے علاوہ اگر غیرحاضری کریں تو تنخواہ میں کٹوتی کروا لیا کریں مثلاً امام کی تین ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ہے تو وہ 30 کے مہینے اپریل میں چھٹیاں کرنے پر فی نماز 20روپے کٹوا لیں، اسی طرح مؤذن صاحب بھی حساب لگا لیں۔ (بلاعذرِ صحیح قصداً معاہدے کی خلاف ورزی کی اور چھٹیاں کرتا رہا تو کٹوتیاں کروانے کے باوجود گناہ ذمے باقی رہیں گے، لہٰذا سچی توبہ کرے اور اس طرح کی من مانی چھٹیوں سے باز رہے)۔ 
٭ امام و مؤذن، خادمِ مسجد اور (دینی و دُنیوی) ہر طرح کی ملازمتوں میں عرف و عادت (یعنی جاری معمول) کے مطابق کی جانیوالی چھٹیوں میں تنخواہ کی کٹوتی نہیں کی جا سکتی البتہ عُرف (رائج طریقے) سے ہٹ کر جو چھٹیاں کی جائیں ان پر تنخواہ کاٹی جائے۔ 
٭ جو اپنے پلے سے تنخواہ دیتا ہو اسے امام یا مؤذن وغیرہ کے عرف سے زائد چھٹی کرنے پر کٹوتی کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے، اسی طرح سیٹھ اپنے نوکر کے معاملے میں بااختیار ہے۔ 
٭ ہمارے عُرف میں امام و مؤذن کو مہینے میں ایک یا دو چھٹیاں کرنے کی اجازت ہوتی ہے، وہ ان چھٹیوں کی تنخواہ پائیں گے، البتہ مختلف علاقوں کے اعتبار سے عُرف مختلف ہو سکتا ہے۔ 
٭ اگر امام یا مؤذن تین دن کے مدنی قافلے میں سفر کریں تو کم از کم ایک دن کی تنخواہ ضرور کٹوائیں اور ایک دن کی بھی صرف اسی صورت میں جبکہ اس مہینے میں کسی اور دن کی چھٹی نہ کریں، الغرض ماہانہ دو چھٹیوں کے علاوہ زائد چھٹیوں کی تنخواہ کٹوا دیں جبکہ عرف میں صرف دو چھٹیاں ہوں۔ 
٭ کبھی کبھی امام نماز کی اور مؤذن اذان کی چھٹی کر لیا کرتے ہیں، ایسے موقع پر وہاں کا معمول دیکھا جائیگا، اگر اس طرح کی چھٹیوں پر وہاں کٹوتی نہیں کی جاتی تو نہ کی جائے ورنہ کر لی جائے۔ 
٭ متولیانِ مسجد کی رضامندی کی صورت میں امام و مؤذن عرف سے زائد چھٹیوں میں اپنا نائب دیدیا کریں تو تنخواہ نہیں کاٹی جائیگی۔ 
٭ ہمارے ہاں عموماً مؤذن سے صراحتاً (یعنی واضح طور پر) یا دلالۃً طے ہوتا ہے کہ وہ امام کی غیرحاضری میں نماز پڑھائے گا، ایسی صورت میں امام اس کو اپنا نائب نہیں بنا سکتا، کسی اور کو بنائے۔ دوسرے کو نائب بنانے سے مؤذن یا انتظامیہ خوش نہ ہوں تو ضروری ہے کہ نائب کے تقرر کے بجائے کٹوتی کروائے، البتہ یہ صورت ہو سکتی ہے کہ مؤذن صاحب اور انتظامیہ سے مشاورت کے بعد کسی کا بطورِ نائب تقرر کر لے۔ 
٭ امام و مؤذن سالانہ کم و بیش ایک ہفتے کیلئے اپنے عزیز و اقرباء سے ملنے بیرون شہر جا سکتے ہیں، ان دنوں کی تنخواہ کے حقدار ہوں گے۔ 
٭ امام، مؤذن یا کسی بھی دکان وغیرہ کا ملازم سخت بیمار ہو جائے یا اسکے یہاں کوئی انتقال کر جائے تو ان صورتوں میں ہونیوالی چھٹیوں میں وہاں کا عرف دیھکا جائیگا اگر تنخواہ کاٹنے کا معمول ہے تو کاٹ لی جائے ورنہ نہ کاٹی جائے۔ 
٭ امام و مؤذن یا مدرس یا کسی ملازم کا گھر دُور ہے ’’پہیہ جام ہڑتال‘‘ کی وجہ سے سواری نہ ملی یا ہنگاموں کے صحیح خوف کے سبب چھٹی ہو گئی تو اگر پہلے سے طے ہو گیا تھا کہ ایسے مواقع پر تنخواہ نہیں کاٹی جائیگی یا وہاں کا معمول ہی ایسا ہو کہ ایسے مواقع پر کٹوتی نہیں ہوتی تو اس طرح کی چھٹی کی تنخواہ پائے گا۔ یاد رہے! معمولی ہڑتال چھٹی کیلئے عذر نہیں۔ 
٭ حج یا عمرے کی وجہ سے ہونیوالی چھٹیوں کی تنخواہ کٹوانی ہو گی۔ 
٭ اگر 28 تاریخ کو ترکِ ملازمت کی تو (ہجری سن کے ماہ کے اعتبار سے نوکری ہو تو) بقیہ ایام مثلاً ایک دو دن یا (عیسوی سن کے ماہ کے اعتبار سے نوکری ہو تو) بقیہ تین دن کی تنخواہ کا مستحق نہیں۔ 
٭ نجی ادارے کے سیٹھ یا اُسکے نائب کی اجازت سے کام کاج کے اوقات میں ملازم سنت ِ غیرموکدہ، نوافل اور دیگر اَذکار پڑھ سکتا نیز اجازت کیساتھ ہی درس، سنتوں بھرے اجتماع وغیرہ میں مستحب کاموں میں شرکت کر سکتا ہے۔ 
٭ چوکیدار، گارڈ یا پولیس وغیرہ جن کا کام جاگ کر پہرہ دینا ہوتا ہے، اگر ڈیوٹی کے اوقات میں ارادۃً سو گئے تو گنہگار ہونگے اور (قصداً یا بلاقصد) جتنی دیر سوئے یا غافل ہوئے اُتنی دیر کی اُجرت کٹوانی ہو گی۔ 
٭ ملازمین کا مطالبات منظور کروانے یا کچھ حالات بہتر کروانے کیلئے کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے ہڑتال کرنا (یعنی کام سے رُکنا)، ملازم اور مالک کے مابین معاہدے کی خلاف ورزی ہے، ایسا کرنا منع ہے۔ 
٭ ایک ہی وقت کے اندر دو جگہ نوکری کرنا یعنی اِجارے پر اجارہ کرنا ناجائز ہے، البتہ اگر وہ پہلے ہی سے کہیں نوکری پر لگا ہوا ہے تو اب اپنے سیٹھ کی اجازت سے دوسری جگہ کام کرسکتا ہے، جبکہ پہلی جگہ کے سبب دوسری جگہ کے کام میں کسی طرح کی کوتاہی نہ ہوتی ہو۔ 
٭ عرف کے مطابق جو چھٹی ہوتی ہے اس میں مستاجر (سیٹھ) اپنے ملازم سے کام نہیں لے سکتا، اگر جبراً لے گا تو گنہگار ہو گا، ہاں حکمیہ لہجے میں نہیں فقط درخواست کرنے پر ملازمت خوشدلی سے کام کر دے یا چھٹی کے اوقات میں کئے جانے والے کام کی باہم الگ سے اُجرت طے کر لی جائے تو پھر جائز ہے۔ 
٭ مزدوری یا ڈیوٹی میں سستی اور چھٹیوں کے باوجود جو مکمل اُجرت یا تنخواہ لیتا رہا اور اب نادم ہے تو اس کیلئے صرف زبانی توبہ کافی نہیں، توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ آج تک جتنی اُجرت یا تنخواہ زائد حاصل کی ہے اسکی بھی شرعی ترکیب کرنی ہو گی۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (جتنا کام کیا) اُس سے جو کچھ زیادہ ملا (ہو وہ) مستاجر (یعنی جس نے اُجرت پر رکھا اُسی) کو واپس (لوٹا) دے، وہ نہ رہا ہو (تو) اسکے وارثوں کو دے، ان کو بھی پتہ نہ چلے (تو) مسلمان محتاج (یعنی مسلمان فقیر یا مسکین) پر تصدق (یعنی خیرات) کرے، اپنے صَرف (یعنی استعمال) میں لانا یا غیرمصدقہ میں صَرف (خرچ) کرنا حرام ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ج19، ص407)۔ وقف کے ادارے میں بہرحال واپس ہی کرنی ہو گی، اگر رقم یاد نہیں تو ظن ِ غالب کے حساب سے مالیت طے کر کے بیان کردہ حکمِ شرعی پر عمل کیجئے۔ یاد رکھئے! پرایا مال ناجائز طریقے پر کھا ڈالنا محشر میں پھنسا سکتا ہے۔ 
 

تازہ ترین خبریں