07:29 am
برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی اورہمارے’’ قابل فخر پاکستانی‘‘

برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی اورہمارے’’ قابل فخر پاکستانی‘‘

07:29 am

(گزشتہ سے پیوستہ)

اگر یہ رقم پاکستان آتی ہے، تو اِس سے ملک ریاض کے سپریم کورٹ آف پاکستان کے واجبات ادا کیے جائیں گے، جیسا کہ شہزاد اکبر نے اپنی پریس کانفرنس میں بھی کہا۔یہ عمل اِس رقم کوملک ریاض کو لوٹانے کے مترادف ہوگا۔
یہ عمل ناقابل قبول اور UWOکی روح کے منافی ہے۔تحقیقات کے بعد نہ صرف بدعنوانی کے ذرایع، بلکہ اس شخص کو بے نقاب کرنا چاہیے، جس نے یہ رقم پاکستان سے باہر منتقل کی۔ اور کیا اس بھاری رقم پر کبھی ٹیکس ادا کیا گیا؟یاد رہے کہ وفاقی محتسب برائے ٹیکس شعیب سڈل نے ملک ریاض اور جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے ارسلان افتخار پر اس ضمن میں الزامات عاید کیے تھے۔البتہ اس وقت کے صدر، آصف علی زرداری نے معاملے کو رفع دفع کردیا۔
اس نوع کے مالی معاملات میں رکھی جانے والی رازداری شفافیت کی اس نیت کے منافی ہے، جسے  UWOکے 2017کے قانون میںمتعین کیا گیا ہے۔ملک ریاض کے کیس میں این سی اے کی جانب سے رکھی جانے والی رازداری ان کے اپنے ہی دیگر کیسوںکے طریقہ تفتیش سے متصادم ہے، جہاں اُنھوں نے اثاثوں کی تفصیلات کے ساتھ ان شخصیات کے ناموں کا بھی اپنے ہوم پیج یا سوشل میڈیا پیجز پر اعلان کیا تھا،جن کے خلاف تفتیش جاری تھی۔جن میں یہ تفصیلات بھی شامل تھیں کہ رقم کب اور کہاں ضبط کی گئی، تفتیش کب تک جاری رہی اور اثاثوں سے متعلق زیر تفتیش شخص نے کیا وضاحت کی۔ 
ہم صرف اندازہ ہی لگا سکتے ہیں کہ این سی اے نے یہ طرز عمل کیوں اختیار کیا۔شاید ملک ریاض کے دیگر غیر قانونی اثاثے اور عوامی ساکھ وہ قیمت ہو، جو اے سی اے نے ادا کی، جب وہ اس معروف اور’’ قابلِ فخر پاکستانی ‘‘کے غیرقانونی اثاثوں اور غیرقانونی طرز عمل کو پوری طرح ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
اور ویسے پاکستانی حکومت نے بھی اس تصفیہ میں رازدای کی شق کو برقرار رکھا ہے۔ اگر ٹانگ شکنجے میں پھنس جائے تو فرار کے لیے جانور بھی اپنی ٹانگ کاٹ ڈالتا ہے۔لیکن این سی اے کی جانب سے ملک ریاض کے اثاثوں کی اصلیت کو خفیہ رکھنے اور اخلاقی سطح پر کلین چٹ دینے کی جو بھی وجہ رہی ہو،عوام کو  اس ضمن میں گمراہ نہیں کیا جاسکتا، ہاں این سی اے نے بہرحا ل اپنے مقاصد پر سمجھوتہ کیا ہے۔این سے اے ایک تنگ پگڈنڈی پر چل رہی ہے، جہاںایک جانب تو اس کے مقاصد ہیں، اور دوسری طرف بدعنوانی کو عیاں کرنے کے بجائے اُس کی پردہ پوشی کے عمل کا حصہ بننے کا خدشہ اور خطرہ۔
فقط چھ برس قبل قائم ہونے والی این سی اے منظم جرائم کے خلاف ایک خوش آئند اقدام ہے۔ذمہ داریاں آسان نہیں، اس کا مقابلہ دہائیوں سے برطانیہ اور دنیا میں جاری مالی بدانتظامی سے ہے،جسے بڑی حد تک قابل قبول تصور کیا جانے لگا ہے اور اب تویہ عمل  ایسی سطح تک  پہنچ گیا ہے، جہاں ریاستوں کی سیکیورٹی اور معیشت پر سمجھوتاکیا جا رہا ہے۔یہی سبب ہے کہ بدعنوانی کے خلاف جنگ کو یو این، ڈبلیو ای ایف اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنا اہم ترین ہدف قرار دیا ہے۔آج کی عالم گیریت میں جرم اور بدعنوانی ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے، جس کے سامنے سرحدیں اہم نہیں رہیں۔ معاشی عالمگیرت ، سیاست اور معیشت کے میدان میں عالم گیریت کی وجہ رہی ہے۔
ریاستی سطح پر قائم ہونے والی این سی اے پہلا مثبت قدم ہے۔ بین الاقوامی رسائی اور کراس لنکنگ کے عمل کے لیے لازمی ہیں۔بدقسمتی سے آج بھی کئی ممالک میں ایسے منظم ادارے موجود نہیں، جو جرائم کا قلع قمع کر سکیں۔ سوئٹزر لینڈ ہی کو دیکھیں، جو پاکستان سے لوٹی جانے والی رقم کا ایک اور اہم ٹھکانہ ہے، وہاں بھی ایسی کوئی تنظیم موجود نہیں۔ پاکستان میں مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ایک منظم اور مضبوط نیب کی موجودگی لازمی ہے،جو خود کو بدعنوانی کے خاتمے کے لیے وقف کر دے۔اِس جدوجہد کو عدلیہ کا تعاون درکار ہے، جس کے بنا جرائم کی موثر پراسیکیویشن ممکن نہیں۔
این سی اے کے معاملے میں پاکستان کواُس نام نہاد قابلِ فخر پاکستانی کو کسی نوع کا تحفظ فراہم نہیں کرنا چاہیے، جس نے جعلی اکائونٹس اور منی لانڈرنگ سے حاصل کردہ دولت سے ہائیڈ پارک کے نزدیک مہنگی جائیدادیں خرید رکھی ہیں۔ ان  ’’قابلِ فخر پاکستانیوں‘‘ کے معاملے میں سب سے افسوس ناک رویہ ہمارے میڈیا کا ہے، جو ایک رشوت خور پولیس اہل کار کے خلاف تو آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے۔ البتہ میگا کرپشن کے معاملے کو سہولت سے نظر انداز کر دیتا ہے۔ایک اہم اور بااثر شخصیت کے مطابق :’’ پاکستان میں بدعنوان شخص ہی دوسرے کو بدعنوان ٹھہراتا ہے۔بدعنوان ہی دوسرے بدعنوان کی تفتیش کرتا ہے اور بدعنوانی کو بدعنوانی سے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘ اس میں اتنا اضافہ کرتا ہوں کہ’’کرپشن کرنے والے، جو بدقسمتی سے جیل چلے جاتے ہیں، بعد میں اِسی کرپٹ سسٹم سے مستفید ہوتے ہیں۔ سسٹم، جو انھیں بدعنوانی سے حاصل کردہ دولت سے بھرے سوٹ کیس بیرون ملک لے جانے اور ہائیڈ پارک کے نواح میں جائیدادیں خرید کران میں مزے سے رہنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔‘‘
(فاضل کالم نگار سیکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)