07:31 am
نیب مرحوم کے لئے ایک تعزیتی کالم

نیب مرحوم کے لئے ایک تعزیتی کالم

07:31 am

٭جس نے نہیں سُنا، سُن لے، جو نہیں جانتا، جان لے کہ ملک میں احتساب پر فالج کا حملہ ہو گیا ہے۔ نیب کے سارے اختیارات چھین لئے گئے ہیں، اس کی کارکردگی کو اتنا محدود کر دیا گیا ہے کہ وہ اب محض ایک نمائشی ادارہ بن گیا ہے۔ یہ ادارہ اب کسی تاجر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکے گا، کسی سرکاری ملازم کی جائیداد ضبط یا منجمد نہیں کرے گا۔ 50 کروڑ سے کم کی کسی کرپشن کا جائزہ نہیں لے سکے گا، کبھی کسی ملزم کو 90 دنوں کی بجائے صرف 14 دن اپنے پاس رکھ سکے گا، ٹیکس وغیرہ کی چھان بین کے اختیارات دوسرے اداروں کو دے دیئے گئے ہیں۔ تفصیلات اخبارات میں موجود ہیں۔ پہلے پانچ کروڑ روپے سے اوپر کی کرپشن کا محاسبہ کیا جا سکتا تھا، اب 50 کروڑ سے اوپر محاسبہ ہو سکے گا گویا 4999999 روپے (50 کروڑ سے ایک روپیہ کم) تک جی بھر کر کرپشن کی کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔ اب نیب کا جو حال کر دیا گیا ہے اس پر مجھے عربی زبان میں پڑھی ہوئی ایک مختصر کہانی یاد آ گئی ہے۔ ایک شخص الف دوسرے شخص ب کے سسرال والے گائوں میں جا رہا تھا۔ جاتے ہوئے ب سے ملا اور حال پوچھا، اس نے کہا کہ سر میں سخت درد رہتا ہے، آنکھیں ابل آئی ہیں، سینے میں سخت تکلیف ہے، سانس لینا مشکل ہو گیا ہے، بلڈ پریشر بہت اوپر چلا گیا ہے، کمر کی تکلیف بھی بڑھ گئی’، گردے بھی کام نہیں کر رہے، چلنا پھرنا چھوٹ گیا ہے۔الف نے کہا کہ اتنی لمبی بات چھوڑو، تمہارے سسرال کو بتائوں گا کہ مر گیا ہے۔
٭یہ اس حکومت کا کارنامہ ہے جس نے انتخابات کے دوران صرف کرپشن کے خاتمہ کے نعرے پر کامیابی حاصل کی۔ 126 دنوں کے دھرنے میں ہر روز سٹیج پر ڈاکوئوں، چوروں کو نہیں چھوڑوں گا کی تکرار کی گئی۔ حکومت بنانے کے بعد بھی ڈاکوئوں چوروں سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا کی مسلسل گردان جاری رہی۔ اپوزیشن کے بڑے بڑے گُرگوں کو پکڑ لیا گیا۔ پھر ابھی تک صرف ایک ’شکار‘ کو سزا ہوئی اسے ملک سے باہربھیج دیا گیا اور اب باقی سب کے رہائی اور آزادی کا منصوبہ آ گیا۔ یہ واضح نہیں کیا کہ صدارتی آرڈی ننس کا اطلاق آئندہ کے لئے ہو گا یا پچھلے مقدمات پر بھی لاگو ہو گا۔ صاف بات یہ ہے کہ ایک جرم پر الگ الگ کارروائی نہیں ہو سکتی۔ پہلے والے مقدمات میں ملوث اور آئندہ ملوث ہونے والے افراد کو آئین کے تحت مساوی بنیادی حقوق حاصل ہوں گے، ان میں تفریق نہیں ہو سکتی، اس کے معنی ہیں کہ پہلے والے 50 کروڑ سے ایک روپیہ کم والے تمام مقدمات ختم، سینکڑوں کی تفتیش بند، ان مقدمات پر کروڑوں اربوں کے اخراجات ضائع! اور آئندہ کے لئے ملک بھر میں 50 کروڑ سے نیچے کرپشن، دھاندلیوں، غبن، منی لانڈرنگ وغیرہ کھلی چھٹی!
٭المیہ یہ ہے کہ اس معاملہ پر حکومت اور اپوزیشن آپس میں مل گئے ہیں۔ چور آرڈی ننس آسانی سے منظور ہو جائے گا۔ کرپشن کی آگ دونوں طرف برابر لگی ہوئی ہے۔ نیب کا چیئرمین اعلان کرتا ہی رہ گیا کہ اب حکومتی بڑوں کابھی مواخذہ ہو گا! کیا مواخذہ؟ کہاں کا محاسبہ؟ حکومت خوش، اپوزیشن بھی خوش! پرانے تھیٹروں کے آخری سین میں ایک پرسوز بول بہت دلدوز انداز میں گایا جاتا تھا کہ ’’عاشق کا جنازہ ہے ذرادُھوم سے نکلے، معشوق کی گلیوں سے ذرا گھوم کے نکلے!‘‘ یہاں عاشق معشوق، چور اورچوکیدار سب ملک لوٹنے  کے لئے اکٹھے ہو گئے ہیں۔ خدا تعالیٰ میرے ملک کو محفوظ رکھے!!
٭سینئر صحافی اور دانش ور منو بھائی مرحوم کی ایک نظم بہت مشہور ہوئی کہ قیامت آنے کیلئے جو نشانیاں بتائی گئی ہیں وہ سب نازل ہو چکی ہیں، پتہ نہیں قیامت کیوں نہیں آ رہی؟ نوازشریف کو سزا سنا کر ان کے گھر جا کر معافی مانگنے والے جج محمد ارشد کے مزید عجیب انکشافات سامنے آئے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ مجھے بلیک میل کر کے دبائو ڈالا گیا تھا کہ میں نوازشریف کو کم از کم دس سال کی سزا سنائوں، میں نے کم کر کے سات سال کر دی! یہ بات لندن میں 15 سال سے مقیم ن لیگ کے اہم رہنما ناصر بٹ نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں بتائی ہے۔ یہ تفصیلات بار بار چھپ چکی ہیں کہ ملتان میں جج محمد ارشد کی عارف بٹ وغیرہ خاص افراد سے ملاقات کے دوران اس مقدمے سے نوازشریف کو بری کرنے کے بارے میں بعض باتیں ہوئی تھیں جنہیں جج کی لاعلمی میں ریکارڈ کر لیا گیا۔ یہ ریکارڈنگ مریم نواز تک پہنچائی گئی اور جج کو دکھائی گئی وہ حواس باختہ ہو گیا اور خودکشی تک کا سوچنے لگا۔ اس کیس میں ناصر بٹ اور دوسرے افراد کے وارنٹ گرفتاری موجود ہیں، کچھ افراد زیرحراست بھی ہیں۔ اس کیس کے انکشافات اور اعتراضات کی بنا پر نوازشریف کی سزا کو عدالت میں چیلنج بھی کیا جا چکا ہے۔ جج محمد ارشد کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی، اسے عدالتی کاموں سے روکا ہوا ہے۔ ملک میں کیا ہو رہا ہے، استغفار!
٭ایک خبر! پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں آئندہ سیاسی اتحاد کے لئے پیپلزپارٹی کی سینٹ میں قائد شیری رحمان اور ن لیگ کے راجہ ظفر الحق کے درمیان رابطے ہوئے ہیں ان میں مولانا فضل الرحمان کو شریک نہیں کیا جا رہا۔ دونوں فریقوں کا موقف ہے کہ مولانا نے اسلام آباد میں دھرنے اور جلوسوں وغیرہ کے بارے میں یک طرفہ صوابدیدی فیصلے کئے، ان دونوں پارٹیوں کو اعتماد میں نہیں لیا۔ اس کے جواب میں مولانا کو کسی مشورہ میں شامل کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ مولانا کچھ عرصے سے خاموش ہیں، انہوں نے نومبر، پھر دسمبر میں حکومت کے خاتمہ کا اعلان کیا تھا۔ دسمبر بھی گزر گیا!
قارئین کرام! میرے لئے جرأت اور بہادری کا کوئی تمغہ تجویز کریں کہ شدید سردی، ریکارڈ نزلہ، مسلسل چھینکیں اور سردرد کے عالم میں کالم لکھ رہا ہوں۔ چلئے، میرے صحت یاب ہونے کی دُعا تو کر دیں۔
٭راولپنڈی کے لیاقت باغ میں بے نظیر بھٹو کی 12 ویں برسی پر بہت بڑا جلسہ ہوا، بلاول زرداری اور دوسرے مقررین نے موجودہ حکومت کے خلاف دھواں دار تقریریں کیں۔ خبروں کے مطابق شدید سردی اور شام کے اندھیرے کے باوجود لیاقت پارک کے اندر اور باہر بہت بڑی تعداد میں پیپلزپارٹی کے ارکان موجود تھے۔ پچھلے 11 برسوں سے برسی کی یہ تقریب محترمہ کی آخری آرام گاہ پر منعقد ہوا کرتی ہے۔ پہلی بار یہ لیاقت باغ میں منعقد کی گئی اور گڑھی خدا بخش میں بے نظیر بھٹو کی قبر پر قرآن خوانی ہوئی۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کو بارہ سال گزر گئے۔ ابھی تک اتنے بڑے واقعہ کے اصل مجرم نہیں پکڑے۔ کچھ افراد کو حراست میں لیا گیا ان میں سے پانچ کو چھوڑ دیا گیا۔ یہ مقدمہ بارہ برسوں سے چل رہا ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری پانچ سال صدر رہے۔ پانچ سال وزیراعظم کا عہدہ بھی پیپلزپارٹی کے پاس رہا مگر بے نظیر کے قاتلوں پر ہاتھ نہ ڈالا جا سکا۔ یہ مقدمہ اب بھی چل رہا ہے اس میں جنرل پرویز مشرف کو بھی نامزد کیا گیا  تھا۔ بلاول نے کچھ عرصہ بہت احتجاج کیا کہ والدہ کے قاتل کیوں نہیں پکڑے جا رہے۔ اب یہ موضوع چھوڑ دیا ہے۔ ویسے یہ نئی بات نہیں، آج تک معلوم نہ ہو سکا بلکہ معلوم کرنے کی کوشش ہی نہ کی گئی کہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کی اچانک پراسرار موت کیسے ہوئی؟ ان کے گلے پر سرخ نشانات کیسے تھے۔ ان کا پوسٹ مارٹم بھی نہ ہوا، بلکہ نہ ہونے دیا گیا! حسین شہید سہروردی کی بیروت میں موت کا پس منظر کیا تھا؟ جنرل آصف نواز پوری طرح صحت مند تھے، اچانک انتقال کی وجہ کیا تھی؟ لیاقت علی خاں کے قتل کی سازش کا سراغ کیوں نہ لگایا جا سکا؟ وہ جس طیارے میں اس قتل کی تحقیقات کے کاغذات کراچی لے جائے جا رہے تھے اسے راستے میں کس نے تباہ کیا؟ اور اب بے نظیر بھٹو!بہت سے اہم نام  لئے جاتے ہیں مگر کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ آصف زرداری نے کہا تھا کہ مجھے مجرموں کا پتہ ہے پھر کوئی کارروائی کیوں نہ ہوئی۔