07:29 am
تیسری عالمی جنگ چھڑنے کا شدید خطرہ

تیسری عالمی جنگ چھڑنے کا شدید خطرہ

07:29 am

نریندرا داس مودی نے بھارتی ہندوئوں کو یقین دلایا تھا کہ وہ اگر انتخابات میں کامیاب ہو گئے تو بھارت میں سیکولرازم ختم کرکے اسے کٹر ہندو ریاست میں تبدیل کریں گے، بابری مسجد کو رام مندر میں تبدیل کردیں گے، مسلمانوں کو نہ صرف بھارت بلکہ مقبوضہ کشمیر میں جینا دوبھر کریں گے، کشمیریوں کی جاری تحریک آزادی کو کچل دیں گے بلکہ پاکستان پر دہشت گردی اور غیر اعلانیہ جنگ کا الزام لگا کر امریکہ سے فوجی اسلحہ اور نقد رقم کی ادائیگی رکوا دیں گے
 
۔ 2014ء میں بھارتی انتخابات میں بی جے پی اکثریت سے کامیاب ہوئی تھی جبکہ کانگریس بری طرح ہار گئی تھی اور بی جے پی کی قیادت نے برسر اقتدار آنے کے بعد بھارتی مسلمانوں اور مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا تھا بھارتی مسلمانوں کو گئو ماتا کی ہتھیا کے نام پر بے دریغ قتل عام کیا تھا۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے کرنل پروہت اور اسرائیلی سیکرٹ سروس موساد کے ساتھ مل کر ممبئی بم دھماکے کرائے تھے۔ دہشت گرد کہہ کر جو لوگ ماے گئے  ان کے ہاتھوں میں ہندوانہ کڑا اور کنگن تھا ۔ نریندر مودی نے بحیثیت وزیر اعلیٰ گجرات اور بھارتی سیکرٹ سروس را کے چیف کے ساتھ مل کر اس وقت کے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو گمراہ کیا تھا سارا الزام پاکستان کی مسلح افواج اور آئی ایس آئی پر لگوایا تھا۔ اس وقت پاکستان کے سابق وزیر اعظم سیّد یوسف رضا گیلانی بھارت کے مطالبہ پر پاکستان کی آئی ایس آئی کے سابقہ چیف لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) احمد شجاع پاشا صاحب کو بھارت بھیجنے کے لئے تیار ہو گئے تھے مگر سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ریٹائرڈ) اشفاق پرویز کیانی صاحب اور پاکستان کی مسلح افواج کے اعلیٰ افسران کی مخالفت پر انہوں نے یہ ارادہ ترک کر دیا تھا۔ 2014ء سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حکم پر بھارتی خفیہ ایجنسی را نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی کے ساتھ مل کر دہشت گردی میں پشاورآرمی پبلک اسکول کے معصوم بچوں کی شہادت سے لے کر خودکش دھماکوں میں ہزاروں لوگ شہید کئے ہیں۔ اور مقبوضہ کشمیر میں ایک لاکھ سے زیادہ معصوم بچے عورتیں جوان اور ضعیف لوگ نہ صرف شہید کئے گئے ہیں بلکہ ان پر کیمیائی ہتھیار بھی استعمال کئے گئے ہیں جس سے وہ جسمانی طور پر معذور ہو گئے ہیں اس کے ذمہ دار نریندر مودی ہیں۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے کمانڈنٹ کل بھوشن یادو اور اس کے نیٹ ورک کے کوئٹہ سے گرفتار ہونے کے بعد بھارتی حکومت بوکھلا گئی تھی  اسے بچانے کے لئے بھارت عالمی عدالت میں مقدمہ لے کر گیا لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔2017ء کے آخر میں  امریکی کانگریس اور سینیٹ میں پاکستان کے خلاف دہشت گردی کا الزام لگا کر پاکستان کی فوجی امداد نہ صرف رکوائی گئی بلکہ لشکر طیبہ بمعہ جماعت الدعوۃ اور حزب المجاہدین کے سربراہان حافظ محمد سعید اور سیّد صلاح الدین کو دہشت گرد ڈکلیئر کرکے امریکہ نے ان کو بلیک لسٹ کر دیا ہے جبکہ امریکہ کے پاگل اور جنونی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو پورے بھارت ، مقبوضہ کشمیر سمیت مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں پر بھارتی حکومت کے ظلم و ستم نظر نہیں آتے بھارتی فوج کے سربراہ پچھلے دو سال سے پاکستان میں سرجیکل اسٹرائیک کا ڈرامہ اور ڈرون حملے کی دھمکی دے رہے ہیں اس پر امریکہ کا کوئی ردعمل دکھائی نہیں دے رہا۔
5 اگست سے بھارت کے آئین سے آرٹیکلز 35-A اور 370 ختم کرکے ایک صدارتی آرڈنینس کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کرکے اسے ریاست کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ پورا کشمیر جیل میں بدل دیا گیا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، ان کے بیٹے عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی کو ان کے گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے اور وہ دو قومی نظریہ کو تسلیم کر رہے ہیں۔ دوسری جانب  بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھارتی مسلمانوں کی شہریت ختم کرنے کے لئے جو ترمیمی بِل بھارتی پارلیمنٹ سے منظور کرایا ہے اس سے پورے بھارتی میں آگ لگی ہوئی ہے۔ بھارتی وزیر اعظم بھارت کی نہ صرف معیشت کو تباہ و برباد کر چکے ہیں بلکہ بھارت کی سلامتی بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔  اس سب سے توجہ ہٹانے کے لئے نریندر مودی بھارتی چیف آف آرمی اسٹاف کے ذریعے لائن آف کنٹرول پر شر انگیزی جان بوجھ کرکر رہے ہیں تاکہ تیسری عالمی جنگ چھڑ جائے اور بھارتی مظالم پر پردہ پڑ جائے یہ پوری دُنیا کے لئے خطرناک ثابت ہوگا جبکہ بھارتی مسلمان اب دو قومی نظریہ کو تسلیم کر رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سلامتی کونسل کے صدرکو خط لکھ کر تمام صورت حال سے آگاہ کر دیا ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج اور آئی ایس آئی اس وقت اندرونی طور پر تمام صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکورٹی کے بہترین انتظامات کر رہے ہیں کیونکہ چاروں طرف سے پاکستان شدید خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج اس کی خفیہ ایجنسیوں بشمول آئی ایس آئی کو شاندار خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔