07:31 am
پلٹ تیرا دھیان کدھرہے!

پلٹ تیرا دھیان کدھرہے!

07:31 am

گذشتہ دنوں پاکستان کے سب سے بڑے پیر سیاست وریاست عمران نیازی  جدید ریاست مدینہ کے داعی جواپنی ہرمجلس میں ببانگ دھل این آراو کی نفی کرتے رہے تھے۔ اکثر فرمایاکرتے کہ کسی کوبھی کسی قیمت پر این آراو نہیں دیاجاے گا لیکن اللہ کی شان کہ جب محترم کو اطلاع ملی کہ چیئرمین نیب شریف نے ہوا کارخ تبدیل کرنے کااعلان فرمایادیاہے توانہیں اپنے قلب اطہر پر اپنے حواریوں کو درپیش مشکلات کااحساس شدید طور پرپرنازل ہوا اور حضرت پیر ریاست نے اپنے معصوم بے قصور حواریوں پر اپنے رحم وکرم کی بارش کرتے ہوئے اپنے عظیم الشان حکم کے ذریعے ان کی دل جوئی فرمائی ہے۔ انہوں نے اپنی بصیرت اور تدبر سے کام لیتے ہوے بظاہر NRO توجاری نہیں کیا بلکہ اس درخت جس پراحتساب کاپھل لگایاگیاتھااسے ہی اس کی شاخ وپتوں سے محروم کردیا ۔ اگر یوں سمجھا جائے کہ  اس کے کاٹنے والے دانت نکال دے ہیں توغلط نہ ہوگا اس طرح انہوں نے اپنے ہر طرح کے حمایتی اور قرابت داروں کو نیب کی زد سے دور کردیا گیاہے ۔کہنے والے تو کچھ بھی کہتے رہتے ہیں‘ جیسے امیر ریاست مدینہ کے اس عظیم الشان فلاحی و بہبودی اقدام میں کیڑے نکانے والے کہہ رہے ہیں کہ اب جب چیئرمین نیب نے اپنارخ تبدیل کرنے مغرب سے مشرق کی طرف چلنے کے ارادے کا اظہار کیاتو امیرریاست نے اتنی بڑی چھلانگ لگادی کہ وہ این آر او میں اپنے پیش رو جنرل مشرف کوبھی پیچھے چھوڑ گے وہ جواپنی سزائے موت سے جنگ کرنے کی تیاری کررہے ہیں ۔ اس اقدام سے صرف پیر سیاست کے مرید ین کے علاوہ بہت سارے اہل تجارت کوبھی راحت نصیب ہو گی ہے۔ مخالفین کاجوحشر نشر ہوناتھا وہ توہوچکا کیونکہ اب ادھر ایسا کچھ نہیں بچا جس کی مزید صفائی ستھرائی کی ضرورت ہو جب سے حضرت نیب شریف کاہو اکی تبدیلی کابیان سامنے آیاہے۔ تب سے مریدان ریاست کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں انہیں گرفتاری کاخطرہ منڈلاتا نظرآنے  لگا تھا۔ گردن میں پھندہ پڑتا محسوس ہونے لگا تھاپھر سب سے اصل بات یہ کہ خود قبلہ امیر ریاست بھی زد میں آرہے تھے۔
 حز ب مخالف پر جوکرپشن کے الزامات صادر کے گے تھے یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہے کسی الزام کی ضرورت نہیں جرم توہوئے ہیں کسی کوزبردستی کچھ ثابت کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔ اگر کہیں حقیقت میں ایسا ہوجاتا تو ریاست بڑے زلزلے کاشکارہوسکتی تھی اس لئے امیر ریاست مدینہ کو اپنی ریاست کے وسیع تر مفاد و فلاح کیلئے جلدی میں قانون سازی سے بچتے ہوئے آرڈینس کاسہارا لینا پڑا۔ یوں بلی کے بھاگوں احتساب کاچھینکا توڑ دیاگیااس سے بہت سوں  کابھلا ہوگیاہے یہ ان کی قسمت۔ کیاہی اچھا ہوتا کہ امیر ریاست اپنی ملنے والی ریاست کے عوام کابھی اسی طرح خیال کرتے اور بدعنوانوں کو پشت پنہائی نہ فراہم کرتے۔
عوام جومہنگائی‘ بیروز گاری ‘غربت کی چکی میں پس رہی ہے کوتھوڑاسا آرام پہنچایاجاتا۔ اصل ریاست مدینہ کے حاکم کاقول تھا کہ ’’ اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکاہوگا تواللہ ان سے پوچھے گا۔‘‘ خلیفہ وقت حقیقی ضرورت مندوں کی مدد کیلئے خود راتوں کواپنی کمر پرلاد کرضروریات زندگی ضرورت مندوں کو پہنچایاکرتے تھے۔ یقینا ایسا آج کے جدید دور میں ممکن نہیں توکم از کم یہ تو ممکن ہے کے اپنی رعایا کو وہ تمام ناسہی ایسی سہولیات تو باہم پہنچائی جاسکتی ہیں جن سے ان کی روز مرہ زندگی آسان ہوسکے وہ جنہیں احتساب کاشکار بنایا گیا۔ سابقہ اہل سیاست جو احتساب کے حوالے سے بدعنوان بے ایمان اور ہرطرح کی کرپشن میں ملوث تھے مان لیاجائے لیکن اب موجودہ ریاست مدینہ میں اب کسی قسم کی بدعنوانی بے ایمانی کرپشن نہیں ہورہی تووہ اربوں کھربوں کی لوٹنے والی دولت تو بچ رہی ہے پھر یہ بھی اچھی بات ہے کہ نیب نے اب تک اربوں کی دولت نکلوالی ہے یہ سب آخر کہاں خرچ ہورہی ہے جبکہ آئی ایم ایف اور دیگر ذرائع سے بھی بڑی رقوم حاصل کرلی گئی ہیں۔ کم از کم وہ دولت جوسابقہ اہل سیاست کے ہاتھوں لٹنے سے بچ رہی ہے اسے ہی عوام کی فلاح وبہبود کیلئے مختص کردیاجائے تب بھی کچھ ناہونے سے ہوناتو ہوسکے گا۔ عوام یوں مایوسی ناامیدی کاشکارتو نہیں ہوںگے۔ اب جبکہ ملک کسی بھی وقت بھارتی جارحیت کاسامنا کرسکتاہے ایسے نازک موقع پرتو ریاست کواور محافظین ریاست کوعوام کی حمایت کی شدید ضرورت پڑے گی۔ ریاست کوچاہیے کہ وہ فوری طور پر اپنے طرز عمل میں تبدیلی لائے۔ جتنی اتحاد ویگانگت کی ضرورت آج ہے اس کا تقاضا ہے کے ہرقدم ہرعمل بہت سوچ سمجھ کراٹھایا جائے۔ نیب کے دانت توڑنا کوئی براعمل نہیں ہے ویسے بھی گھٹنے پیٹ کی ہی طرف جھکتے ہیں۔ اگر حکومت نے اپنے ساتھیوں کوتحفظ دینے کیلئے ایساکیاہے تولاکھ غلط ہولیکن انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لیکن اتنی بڑی چھلانگ دیکھ بھا ل کرلگانی چاہے تھی    حکومت کوچاہے کہ وہ انتقامی سیاست کارخ بدل کر تفہیم کا رخ اپنالے۔  
موسم کی طرح حالات بھی یکساں نہیں رہتے اس لئے بہتر ہے کہ ہواکارخ دیکھ کرچلاجائے اپنی ذات میں اتنا مگن نہیں ہوناچاہے کے اپنے سوا کچھ اور نظر ہی نا آئے۔عوام کے کندھوں پرسوار ہوکر ہی یہ منصب جلیلہ اورعزت نصیب ہوئی ہے۔ بقول حزب اختلاف کے اگر سلیکٹ بھی کیاگیاہے توانہوں نے بھی ہوا کارخ دیکھ کرہی سلیکٹ کیاہوگا۔ وقت بڑا ظالم ہے کسی کو نہیں بخشتاآپ کی سیاست تو ہے بھی پلٹنے کی موقع ہے کہ ایک بار لپٹ کراپنے عقب میں چلنے والوںکوبھی دیکھ لیں ان کے دکھ درد بانٹ لیں۔  

تازہ ترین خبریں