07:32 am
حلال کمائی کی برکات

حلال کمائی کی برکات

07:32 am

(گزشتہ سے پیوستہ)

٭ مسلمان نے کافر کی خدمت گاری کی نوکری کی، یہ منع ہے بلکہ کسی ایسے کام پر کافر سے اِجارہ نہ کرے جس میں مسلم کی ذلت ہو (کہ ایسا اِجارہ جائز نہیں)۔ (عالمگیری، ج4، ص435)۔ عمومی طور پر یہ کام یعنی کافر کے پائوں دبانا، اسکے بچوں کی گندگیاں اٹھانا، گھر یا دفتر کا جھاڑو پوچا کرنا، گند کچرا اٹھانا، اس کی گاڑی کی دھلائی کرنا وغیرہ ذلت میں شامل ہے البتہ ایسی نوکری جس میں مسلمان کی ذلت نہ ہو وہ کافر کے یہاں جائز ہے۔ 
٭ سیدزادے کو بھی ذلت کے کاموں پر ملازم رکھنا جائز نہیں۔ 
٭ ملازم اپنے دفتر کا قلم، کاغذ اور دیگر اشیاء اپنے ذاتی کاموں میں صرف کرنے سے اجتناب کرے۔ 
٭ اگر ادارے کی طرف سے ذاتی کام میں ٹیلیفون استعمال کرنے کی اجازت ہو تو اجازت کی حد تک استعمال کر سکتا ہے، اگر اجازت نہیں تو ذاتی کام کیلئے استعمال کرنا ناجائز و گناہ ہے۔ 
٭ اجارے کے وقت میں کبھی کبھار بہت قلیل وقت کیلئے ذاتی فون سننے کی عرفاً اجازت ہوتی ہے البتہ اگر کوئی اجارے کے اوقات میں بار بار فون سنتا ہے اور پھر بات چیت بھی دس پندرہ منٹ سے کم نہیں ہوتی تو اس طرح کے ذاتی فون سننا جائز نہیں کہ اس طرح کام اور مستاجر کا بھی نقصان ہو گا۔ 
٭ ملازم کو اجارے کے دوران بات بات پر دھمکی دینا کہ مدت پوری ہونے سے پہلے ہی نوکری سے نکال دوں گا، درست نہیں بلکہ بعض اوقات کسی چھوٹی سی بات پر غصہ آ جانے پر نکال بھی دیتے ہیں، ایسا کرنا جائز نہیں، ہاں کوئی بہت بڑا معاملہ درپیش ہو جو شرعاً یکطرفہ اجازت سے فسخ کرنے کا عذر ہو تو دونوں میں سے کوئی بھی اجارہ ختم کر سکتا ہے مثلاً دوسرے ملک میں گیا اور 2 سال کا اِجارہ طے ہوا مگر ایک سال پورا ہوتے ہی ویزا کی مدت ختم ہو گئی اور مزید نہ ملا تو ملازم اِجارہ ختم کر دے کیونکہ قانونی جرم کی وجہ سے بغیر ویزا اسے وہاں رہنا جائز نہیں۔ 
٭ اگر نوکری (یا کرائے پر لی ہوئی دکان وغیرہ) چھوڑنا ہو تو ایک ماہ پہلے بتانا ہو گا ورنہ ایک مہینے کی تنخواہ کاٹی جائیگی (یا کرایہ وصول کیا جائیگا)، تو جان لیجئے ملازم (یا کرایہ دار) سے اس طرح کا کیا ہوا معاہدہ باطل ہے۔ اگر اُس نے ایک ماہ پہلے بتائے بغیر نوکری ختم کر دی (یا کرائے پر لی ہوئی جگہ خالی کر دی) تب بھی تنخواہ کاٹنا (یا زائد کرایہ وصول کرنا) ظلم ہو گا، ایسے موقع پر ایک مہینے تو کیا ایک گھنٹے کی بھی تنخواہ کاٹی (یا زائد کرایہ وصول کیا) تو گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہو گا۔
٭ ملازم نے اگر مرض کی وجہ سے چھٹی کر لی یا کام کم کیا تو مستاجر (یعنی جس سے اِجارہ کیا ہے اس) کو تنخواہ میں سے کٹوتی کرنے کا حق حاصل ہے مگر اسکی صورت یہ ہے کہ جتنا کام کیا صرف اتنی ہی کٹوتی کی جائے مثلاً 8گھنٹے کی ڈیوٹی تھی اور تین گھنٹے کام نہ کیا تو صرف تین گھنٹے کی اُجرت کاٹی جائے، پورے دِن بلکہ آدھے دِن کی اُجرت کاٹ لینا بھی ظلم ہے۔ 
٭ امام و مؤذن عرف و عادت کی چھٹیوں کے علاوہ اگر غیرحاضری کریں تو تنخواہ میں کٹوتی کروا لیا کریں مثلاً امام کی تین ہزار روپے ماہانہ تنخواہ ہے تو وہ 30 کے مہینے اپریل میں چھٹیاں کرنے پر فی نماز 20روپے کٹوا لیں، اسی طرح مؤذن صاحب بھی حساب لگا لیں۔ (بلاعذرِ صحیح قصداً معاہدے کی خلاف ورزی کی اور چھٹیاں کرتا رہا تو کٹوتیاں کروانے کے باوجود گناہ ذمے باقی رہیں گے، لہٰذا سچی توبہ کرے اور اس طرح کی من مانی چھٹیوں سے باز رہے)۔ 
٭ امام و مؤذن، خادمِ مسجد اور (دینی و دُنیوی) ہر طرح کی ملازمتوں میں عرف و عادت (یعنی جاری معمول) کے مطابق کی جانیوالی چھٹیوں میں تنخواہ کی کٹوتی نہیں کی جا سکتی البتہ عُرف (رائج طریقے) سے ہٹ کر جو چھٹیاں کی جائیں ان پر تنخواہ کاٹی جائے۔ 
٭ جو اپنے پلے سے تنخواہ دیتا ہو اسے امام یا مؤذن وغیرہ کے عرف سے زائد چھٹی کرنے پر کٹوتی کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے، اسی طرح سیٹھ اپنے نوکر کے معاملے میں بااختیار ہے۔ 
٭ ہمارے عُرف میں امام و مؤذن کو مہینے میں ایک یا دو چھٹیاں کرنے کی اجازت ہوتی ہے، وہ ان چھٹیوں کی تنخواہ پائیں گے، البتہ مختلف علاقوں کے اعتبار سے عُرف مختلف ہو سکتا ہے۔ 
٭ اگر امام یا مؤذن تین دن کے مدنی قافلے میں سفر کریں تو کم از کم ایک دن کی تنخواہ ضرور کٹوائیں اور ایک دن کی بھی صرف اسی صورت میں جبکہ اس مہینے میں کسی اور دن کی چھٹی نہ کریں، الغرض ماہانہ دو چھٹیوں کے علاوہ زائد چھٹیوں کی تنخواہ کٹوا دیں جبکہ عرف میں صرف دو چھٹیاں ہوں۔ 
٭ کبھی کبھی امام نماز کی اور مؤذن اذان کی چھٹی کر لیا کرتے ہیں، ایسے موقع پر وہاں کا معمول دیکھا جائیگا، اگر اس طرح کی چھٹیوں پر وہاں کٹوتی نہیں کی جاتی تو نہ کی جائے ورنہ کر لی جائے۔ 
٭ متولیانِ مسجد کی رضامندی کی صورت میں امام و مؤذن عرف سے زائد چھٹیوں میں اپنا نائب دیدیا کریں تو تنخواہ نہیں کاٹی جائیگی۔ 
٭ ہمارے ہاں عموماً مؤذن سے صراحتاً (یعنی واضح طور پر) یا دلالۃً طے ہوتا ہے کہ وہ امام کی غیرحاضری میں نماز پڑھائے گا، ایسی صورت میں امام اس کو اپنا نائب نہیں بنا سکتا، کسی اور کو بنائے۔ دوسرے کو نائب بنانے سے مؤذن یا انتظامیہ خوش نہ ہوں تو ضروری ہے کہ نائب کے تقرر کے بجائے کٹوتی کروائے، البتہ یہ صورت ہو سکتی ہے کہ مؤذن صاحب اور انتظامیہ سے مشاورت کے بعد کسی کا بطورِ نائب تقرر کر لے۔ 
٭ امام و مؤذن سالانہ کم و بیش ایک ہفتے کیلئے اپنے عزیز و اقرباء سے ملنے بیرون شہر جا سکتے ہیں، ان دنوں کی تنخواہ کے حقدار ہوں گے۔ 
٭ امام، مؤذن یا کسی بھی دکان وغیرہ کا ملازم سخت بیمار ہو جائے یا اسکے یہاں کوئی انتقال کر جائے تو ان صورتوں میں ہونیوالی چھٹیوں میں وہاں کا عرف دیھکا جائیگا اگر تنخواہ کاٹنے کا معمول ہے تو کاٹ لی جائے ورنہ نہ کاٹی جائے۔ 
٭ امام و مؤذن یا مدرس یا کسی ملازم کا گھر دُور ہے ’’پہیہ جام ہڑتال‘‘ کی وجہ سے سواری نہ ملی یا ہنگاموں کے صحیح خوف کے سبب چھٹی ہو گئی تو اگر پہلے سے طے ہو گیا تھا کہ ایسے مواقع پر تنخواہ نہیں کاٹی جائیگی یا وہاں کا معمول ہی ایسا ہو کہ ایسے مواقع پر کٹوتی نہیں ہوتی تو اس طرح کی چھٹی کی تنخواہ پائے گا۔ یاد رہے! معمولی ہڑتال چھٹی کیلئے عذر نہیں۔ 
٭ حج یا عمرے کی وجہ سے ہونیوالی چھٹیوں کی تنخواہ کٹوانی ہو گی۔ 
٭ اگر 28 تاریخ کو ترکِ ملازمت کی تو (ہجری سن کے ماہ کے اعتبار سے نوکری ہو تو) بقیہ ایام مثلاً ایک دو دن یا (عیسوی سن کے ماہ کے اعتبار سے نوکری ہو تو) بقیہ تین دن کی تنخواہ کا مستحق نہیں۔ 
٭ نجی ادارے کے سیٹھ یا اُسکے نائب کی اجازت سے کام کاج کے اوقات میں ملازم سنت ِ غیرموکدہ، نوافل اور دیگر اَذکار پڑھ سکتا نیز اجازت کیساتھ ہی درس، سنتوں بھرے اجتماع وغیرہ میں مستحب کاموں میں شرکت کر سکتا ہے۔ 
٭ چوکیدار، گارڈ یا پولیس وغیرہ جن کا کام جاگ کر پہرہ دینا ہوتا ہے، اگر ڈیوٹی کے اوقات میں ارادۃً سو گئے تو گنہگار ہونگے اور (قصداً یا بلاقصد) جتنی دیر سوئے یا غافل ہوئے اُتنی دیر کی اُجرت کٹوانی ہو گی۔ 
٭ ملازمین کا مطالبات منظور کروانے یا کچھ حالات بہتر کروانے کیلئے کام کرنے سے انکار کرتے ہوئے ہڑتال کرنا (یعنی کام سے رُکنا)، ملازم اور مالک کے مابین معاہدے کی خلاف ورزی ہے، ایسا کرنا منع ہے۔ 
٭ ایک ہی وقت کے اندر دو جگہ نوکری کرنا یعنی اِجارے پر اجارہ کرنا ناجائز ہے، البتہ اگر وہ پہلے ہی سے کہیں نوکری پر لگا ہوا ہے تو اب اپنے سیٹھ کی اجازت سے دوسری جگہ کام کرسکتا ہے، جبکہ پہلی جگہ کے سبب دوسری جگہ کے کام میں کسی طرح کی کوتاہی نہ ہوتی ہو۔ 
٭ عرف کے مطابق جو چھٹی ہوتی ہے اس میں مستاجر (سیٹھ) اپنے ملازم سے کام نہیں لے سکتا، اگر جبراً لے گا تو گنہگار ہو گا، ہاں حکمیہ لہجے میں نہیں فقط درخواست کرنے پر ملازمت خوشدلی سے کام کر دے یا چھٹی کے اوقات میں کئے جانے والے کام کی باہم الگ سے اُجرت طے کر لی جائے تو پھر جائز ہے۔ 
٭ مزدوری یا ڈیوٹی میں سستی اور چھٹیوں کے باوجود جو مکمل اُجرت یا تنخواہ لیتا رہا اور اب نادم ہے تو اس کیلئے صرف زبانی توبہ کافی نہیں، توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ آج تک جتنی اُجرت یا تنخواہ زائد حاصل کی ہے اسکی بھی شرعی ترکیب کرنی ہو گی۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: (جتنا کام کیا) اُس سے جو کچھ زیادہ ملا (ہو وہ) مستاجر (یعنی جس نے اُجرت پر رکھا اُسی) کو واپس (لوٹا) دے، وہ نہ رہا ہو (تو) اسکے وارثوں کو دے، ان کو بھی پتہ نہ چلے (تو) مسلمان محتاج (یعنی مسلمان فقیر یا مسکین) پر تصدق (یعنی خیرات) کرے، اپنے صَرف (یعنی استعمال) میں لانا یا غیرمصدقہ میں صَرف (خرچ) کرنا حرام ہے۔ (فتاویٰ رضویہ ج19، ص407)۔ وقف کے ادارے میں بہرحال واپس ہی کرنی ہو گی، اگر رقم یاد نہیں تو ظن ِ غالب کے حساب سے مالیت طے کر کے بیان کردہ حکمِ شرعی پر عمل کیجئے۔ یاد رکھئے! پرایا مال ناجائز طریقے پر کھا ڈالنا محشر میں پھنسا سکتا ہے۔ 

تازہ ترین خبریں