07:33 am
ہوائوں کا رخ بدل گیا

ہوائوں کا رخ بدل گیا

07:33 am

ہوائوں کا رخ تو بدلا مگر نیب کے پر کاٹ دیئے گئے، یہ کام بہت پہلے ہو جانا چاہییے تھا مگر ایسے وقت ہوا جب بی آر ٹی اور مالم جبہ کا جن بوتل سے باہر نکلنے والا تھا۔ نیب کا قانون اگرچہ موجودہ حکومت کا نہیں مگر غیر منصفانہ ضرور ہے، الزام ثابت ہونے سے پہلے ہی ملزم کو سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کا فلسفہ عجیب منطق ہے، اس کے بعد نیب کے خود مختارانہ بیانات اور سر تا پا بہیمانہ فرعونیت آمریت کا سراپا لگتے تھے۔ نیب اختیارات میں کمی کا قانون بھی بجائے پارلیمنٹ کے آرڈیننس کے ذریعے لایا گیا ہے اسکا فائدہ اپوزیشن کو تو ہوگا ہی مگر سب سے بڑا سیاسی فائدہ تحریک انصاف کو ملے گا کہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز بڑے بڑے  نام نیب کے شکنجے سے بچ گئے۔
نیب ترمیمی آرڈینینس کے بعد پچاس کروڑ سے نیچے کی کرپشن پر ہاتھ نہیں ڈالا جائیگا، سرکاری افسران، تاجر اور عوامی عہدہ رکھنے والوں کو خاصی چھوٹ دی گئی، گرفتاری کا اختیار عدالت کو، تین ماہ کے دوران ضمانت کا حق، اختیارات سے تجاوز اور محکمانہ نقائص پر کوئی کارروائی نہیں، افسران کی جائیداد منجمد کرنے کا اختیار واپس، صرف مالی فوائد حاصل کرنے پر ٹھوس ثبوت کے ساتھ کارروائی ہو سکے گی۔ جہاں تک اپوزیشن کا تعلق ہے تو شہباز شریف، حمزہ شہباز، سعد رفیق، احسن اقبال، شاہد خاقان عباسی، آصف زرداری، فریال تالپور، خورشید شاہ سمیت دیگر ارکان کو فائدہ پہنچے گا۔ حکومت کو اس طرح فائدہ ہو گا کہ بی آر ٹی، مالم جبہ، ہیلی کاپٹر اسکینڈل، بلین ٹری اور جہانگیر ترین کیس قانون میں تبدیلی سے بہرہ مند ہونگے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیب قابو سے باہر ہو چکی تھی، نیب قوانین میں ترمیم کا ڈول چھ ماہ پہلے بھی ڈالا گیا تھا اور اپوزیشن بھی اس کی حمایت کر رہی تھی مگر یہ معاملہ اس وقت طے نہ ہو سکا۔ الزام ثابت ہوئے بغیر نیب کو گرفتاری و تفتیش کا اختیار ناقابل فہم سہی مگر بہرحال قانون میں موجود ہے۔ نیب نے ان اختیارات کا استعمال تو خوب کیا مگر نتائج کے اعتبار سے معاملہ کچھ مختلف ہے، چیئرمین کی مجاہدانہ الزامات و بیانات کے برعکس عدالت میں ثبوت و شواہد اتنے کھوکھلے ہوتے تھے کہ الزام ثابت کرنا ناممکن رہا۔ نیب قانونی سے زیادہ سیاسی ادارہ ثابت ہوا اور بارہا معزز عدالتیں بھی یہ باور کراتی رہیں، اب دیکھنا یہ ہو گا کہ نیب کا اپنا احتساب کب ہوتا ہے؟
چیئرمین نیب نے ٹھیک ہی کہا تھا ہوائوں کا رخ بدل گیا، بی آر ٹی پر پشاور ہائیکورٹ کے اٹھائے گئے سوالات کا جائزہ لیں تو پتہ چل جاتا ہے کہ نئے پاکستان میں کرپشن کس طرح کی جاتی ہے، عدالت نے ویژن، فزیبیلیٹی، قرضے، انجینئرنگ غلطیاں، تعمیری منصوبہ بندی معیار، پرویز خٹک اور افسران کے تعلق، نااہل کنسلٹنٹس، غیر شفاف ٹھیکے، مستقبل میں ٹریفک نظام کی تباہی کا باعث، وزرا کے دوستوں کو فراخدلانہ ٹھیکے، عدالت عالیہ نے ایف آئی اے کو 45 دن میں انکوائری مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ برسر تذکرہ عرض ہے کہ بی آر ٹی کی لاگت ساڑھے 39 ارب تھی اور یہ منصوبہ 6 ماہ میں مکمل ہونا تھا، اب ماشااللہ اس منصوبے کے لاگت 70 ارب ہو چکی ہے اورمدت کا کوئی تعین ہی نہیں۔ وزرا مختلف تاریخیں دیتے رہے ہیں مگر اب تک کوئی حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی ہے، یوں سمجھیں کہ لگ بھگ گزشتہ پونے دو سال سے پشاور کے شہری صوبائی حکومت کی نااہلی بھگت رہے ہیں، ٹریفک نظام درہم برہم، گردوغبار کے باعث امراض اور جانے کیا کیا کچھ، مجال ہے کہ کوئی حکومتی نمائندہ غلطیوں کا اعتراف کرے بلکہ ناصحانہ تقریر شروع کر دیتے ہیں۔ یہ صرف ایک منصوبے کی صورتحال ہے۔ اداروں کو آزادی کا مطالبہ کرنے والے تحریک انصاف کی کے پی حکومت اب اس معاملے پر ایف آئی اے تحقیقات رکوانے کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کر رہی ہے، بھائی یہ کیسی تبدیلی ہے۔ مالم جبہ کیس پر بھی اسٹے آرڈر لے رکھا ہے، سوات کے علاقہ مالم جبہ میں دو ہزار چودہ میں 275 ایکڑ سرکاری اراضی پر ریزورٹ بنانے کی منظوری دی گئی، اشتہار میں 15 سال کی مدت تھی مگر کنڑیکٹ ہونے کے بعد لیز کو 32 سال میں تبدیل کر دیا گیا۔ اس وقت کے وزیر اعلی پرویز خٹک، سینئر وزیر عاطف خان، چیف سکریٹری اعظم خان (جو اب ماشااللہ سے وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری ہیں)، اس وقت کے وزیر سیاحت اور حالیہ وزیر اعلی محمود خان وغیرہ کا نام کرپشن کیس میں شامل ہے مگر اس پر بھی اسٹے آرڈر لے رکھا ہے۔ حضور تفصیل میں اسلئے جانا پڑا کہ یہ تو صرف دو منصوبے ہیں، کس کس نے کتنی بار بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے یا اشنان لیا، فیصلہ آپ پر چھوڑا۔ آپس کی بات ہے ابھی تو ہنی مون جاری ہے، چند انگلیاں اٹھ رہی ہیں مگر سوچیں تحریک انصاف حکومت ختم ہونے کے بعد کیا غدر مچے گا، کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی کیا کیا کہانیاں سامنے آئیں گی۔
نیب بیچاری بھی کیا کرے، اپوزیشن کو اسٹے آرڈر لینا نہیں آتا، نیب کو اسٹے آرڈر چیلنج کرنا نہیں آتا۔ زرداری، فریال تالپور، نواز شریف، مریم نواز کو عدالت سے ریلیف ملا، حمزہ اب تک اندر ہیں، سعد رفیق پر الزام ثابت نہیں ہوا مگر اندر ہیں کیونکہ ثبوت و شواہد بگاڑ سکتے ہیں، شاہد خاقان عباسی نیب کے گلے کی ہڈی بن گئے ہیں، ضمانت کی درخواست تک دائر نہیں کر رہے کہ نیب پورے اطمینان سے کیس ثابت کرے۔ خورشید شاہ کے خلاف الزامات کا ڈھیر تھا مگر 90 دن کی مدت میں کچھ بھی ثابت نہ ہو سکا سو چھوٹ گئے۔ ملزمان اپوزیشن میں ہوں تو ثبوت و شواہد بگاڑ سکتے ہیں مگر بی آر ٹی اور مالم جبہ ملزمان حکومت میں ہوں تب بھی کوئی خطرہ نہیں، عجیب انصاف ہے۔ نیب کی من مانیوں پر بیوروکریسی نے ہاتھ اٹھا لیا، تاجر پیسہ لگانے پر رضامند نہیں، وزرا تو وزرا وزیر اعظم تک نے منتیں ترلے کر لئے مگر کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ خیر جناب اب حکومت نے گھٹنے ٹیک دیئے، نیب کے پر کاٹ دیئے گئے،  تاجروں، سرکاری افسران اور عوامی عہدیداروں کو تحفظ فراہم کر دیا گیا۔
المیہ یہ ہے کہ کرپشن کا ناسور ہمیں کھا رہا ہے اور احتساب ہمیشہ سیاسی ثابت ہوا، ایوب خان کے ا یبڈو سے لیکر جاوید اقبال کی نیب تک سیاسی احتساب کا کھیل جاری رہا، ہر دور کی سیاست کرپشن کو تحفظ فراہم کرتی رہی اور عوام بھگتتے رہے۔ ویسے تو الحمداللہ فوج اور عدلیہ ایسے قوانین سے باہر ہیں کیونکہ خود اپنا احتساب کوئی قانون ہوتا ہی نہیں، اب بچے سیاستدان، سرکاری افسران اور عام شہری، تو عرض یہ کرنا تھا کہ تحریک انصاف بھی کچھ مختلف ثابت نہیں ہوئی، کرپشن کے خلاف جنگ اپوزیشن کیلئے ہو تو ٹھیک، خود اپنے لیئے تو برداشت نہیں کی جا سکتی ناں!

تازہ ترین خبریں