07:34 am
پاکستان یا قبرستان؟

پاکستان یا قبرستان؟

07:34 am

بھارتی پولیس افسران دھمکیاں دے رہے ہیں کہ ’’پاکستان یا پھر قبرستان‘‘نئی دہلی، حیدر آباد،بنگلور سمیت بھار ت کے متعدد شہروں میں لاکھوں مسلمان مودی سرکار کی بدمعاشی اور غنڈہ گردی کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کررہے ہیں… بھارت کے علماء نے اب باقاعدہ ’’جہاد‘‘ کی باتیں شروع کر دی ہیں ، متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کی وجہ سے بھارتی عوام اپنی بدمعاشی حکومت کے خلاف بغاوت پر اتر آئے ہیں ، مرد تو مرد بھارت کی مسلمان خواتین بھی ہزاروں کی تعداد میں مظاہروں میں نکل کر ’’آزادی‘‘ کے نعرے بلند کرنے پر مجبور ہوچکی ہیں۔
بھارتی پولیس کے ہندو شد ت پسند گھروں میں گھس کر عورتوں اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں، سڑکوں پر پرامن مظاہرہ کرنے والے  بوڑھے، بچے ہوں یا کالجز اور یونیورسٹیز کے پرامن طلباء و طالبات ، بھارتی سیکورٹی فورسز کے بدمعاش ہر کسی کو گھسیٹ، گھسیٹ کر لاٹھیوں سے مارتے ہیں، بچوں کے سامنے مائوں کو، بھائیوں کے سامنے بہنوں کو، خاوند کے سامنے بیوی کو اولاد کے سامنے ان کے والدین کو خوفنا ک تشدد کا نشانہ بنانے والی مودی سرکار کاعلاج کیا مسلح جہاد کے بغیر ممکن ہے؟
تقریباً سوا ارب آبادی والا ملک بھارت اس وقت ہندو شدت پسندی کے بوجھ تلے لرز رہا ہے … بھارت کی اکثریتی آبادی ہندوئوں پر مشتمل ہے، ہندوئوں کے بعد دوسری بڑی آبادی مسلمانوں کی ہے  پھر عیسائی، سکھ، بدھ مت اور جین مذہب کے ماننے والے بھارت میں آباد ہیں…72 سالوںسے بھارتی حکمران دنیا کو ’’سیکولر ازم‘‘ کا لولی پاپ دیتے چلے آرہے تھے، جب ووٹ لینے کا مسئلہ  ہو تو بھارت کی ہندو جماعتیں سیکولر ازم کا لبادہ اوڑھ لیتی ہیں، بھارتی مسلمان بھی بادل نخواستہ ہی  سہی مگر خاموشی کے ساتھ سیکولر ازم کے ’’خیالی‘‘ سائے تلے زندگیاں گزارنے پر مجبور تھے۔
ہمارے ہاں غامدی مارکہ ارسطو! سیکولر ازم کو مذہب کی سیاسی تعبیر سے ہم آہنگ کرکے کسی نام نہاد مسلم معاشرے کی تشکیل کا چورن بیچ رہے ہیں … لیکن کوئی یہ بتانے پر آمادہ نہیں ہے کہ 72 سالوں سے مسلمان جس بھارت کو سیکولر ریاست سمجھ کر وہاں زندگیاں گزار رہے ہیں … صرف مودی کی چند سالہ حکومت میں وہ ’’بھارت‘‘ اتنا  سفاک اور سنگدل کیسے ہوگیا کہ اس نے بھارتی آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق کو پامال کرکے متنازعہ شہریت قانون بنا ڈالا؟
صرف یہ  کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ نریندر مودی ہٹلر کا جانشین ہے ، یا یہ کہ بھارت میں ہندو شدت پسندی کا جن بوتل سے باہر آچکا ہے … خدا کے بندو! اگر ستر سالہ سیکولر ازم کی کوکھ سے ہندو شدت پسندی کے جن نے ہی جنم لینا تھا تو پھر ماننا پڑے گا کہ سیکولر ازم دراصل لادینیت ہی کا دوسرا نام ہے، سیکولر ازم وہ طاغوتی ہتھیار ہے کہ جس کے بل بوتے پر مسلمانوں کے بنیادی عقائد کو کمزور کرکے انہیں باطل کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہوتا ہے، قطع نظر اس کے کہ سیکولر ازم کی  کتابی تعریف کیا ہے؟  دیکھنا یہ ہے کہ جنہیں سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ ہے … سیکولر ازم نے وہاں کیا گل  کھلائے؟ دور مت جائیے،  بھارت میں سیکولر ازم کاکردار یکھ لیجئے کہ جس کی کوکھ سے نریندر   مودی جیسا ہٹلر اور ہلاکو برآمد ہوا، صرف نریندر مودی نہیں، آپ اس سے پہلے کے سیکولر بھارت کے مناظر دیکھ لیجئے، اندرا  گاندھی کا دور ہو ، راجیو گاندھی کا دور ہو، واجپائی ہو یا من موہن سنگھ، ہر دور ہی بھارتی مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے لئے بھاری ثابت ہوا تو کیوں؟ جب بھارتی گجرات میں سینکڑوں مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا تو دہلی پر حکمران کون تھا؟1992 ء میں جب ایودھیا کی بابری مسجد پر حملہ کرکے اسے شہید کیا گیا تو بھارت کا وزیراعظم کون تھا؟
نریندر مودی کا مکروہ چہرہ اور بھارت میں ہندو شدت پسندی کے ابلتے ہوئے گٹر دکھا کر چور دروازے سے مسلم معاشرے کو سیکولر ازم کے حوالے کرنے کی ہر باریک واردات کا پوسٹ مارٹم کرنا اس خاکسار کی ذمہ داری ہے، بھارت کی72 سالہ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ سیکولر آئین اور سیکولر ازم کا دعویٰ کرنے کے باوجود بھارت میں ہمیشہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے حقوق کو ریاستی ڈنڈے کے ساتھ دبانے کی کوششیں کی جاتی رہیں۔
غامدی سکول آف تھاٹ کے ایک محترم کالم نگار نے اپنے کالم میں کیا معصومانہ سوال اٹھاکر پھر خود ہی اس کا جواب عنایت فرمایا ہے کہ ’’مشکل کی اس گھڑی میں کون ہے جو بھارت کے مظلوم مسلمانوں کا ہاتھ تھام سکتا ہے؟ ہر سمت سے ایک ہی آواز ہے ’’سیکولر ازم‘‘ کوئی ان سے پوچھے کہ جس بھارت میں سات دہائیوں سے سیکولر  ازم کا راج تھا ، سیکولر ازم کے ہوتے ہوئے اس بھارت کے مظلوم مسلمانوں پر مشکل کی یہ گھڑی آئی ہی کیوں؟ اب تو یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نریندر مودی سیکولر ازم کی جدید شکل کانام ہے، مسلمانوں پر بدترین مظالم ڈھا کر اس نے سیکولر ازم کو عروج بخشنے کی جو کوشش کی ہے اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ دین اسلام اور سیکولر ازم میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان میں دیوبند یا بریلوی نے کوئی آزادی کی نئی تحریک یا جہادی جماعت بنانے کا اعلان کیا تھا کہ جو سیکولر بھارت شہریت کا ظالمانہ ترمیمی قانون لانے پر مجبور ہوا؟
ہرگز نہیں،1992 ء میں تو نریندر مودی وزیراعظم نہیں تھاتب تو بھارت کی ہوائیں بھی سیکولر تھیں … پھر پولیس اور دیگر سیکورٹی فورسز کی موجودگی میں ہزاروں ہندوئوں نے بابری مسجد کو شہید کیسے کر دیا؟
اچھا جی! بھارت کا آئین تو آج بھی سیکولر ہے ، بھارت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اسی سیکولر آئین پر حلف اٹھا رکھا ہے، پھر اس نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ بابری مسجد پر ہندو موقف کمزور اور مسلمانوں کا دعویٰ برحق ہے ، بابری مسجد کی زمین کو ہندوئو ں کے حوالے کیوں   کیا؟
اگر شہریت کے متنازعہ قانون کو مظاہروں سے تنگ آکر مودی سرکاری نے واپس بھی لے لیا، تب بھی ’’سیکولر ازم‘‘ سے ہندوستانی مسلمانوں او ر دیگر اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کو نہیں روکا جاسکتا ، ممکن ہے کہ وقتی طور پر چند ماہ کیلئے سکون ہو جائے مگر سیکولر لادینیت کی تو اخلاقی قدریں ہی جہنم واصل ہیں، جس کی اخلاقی قدریں ہی برباد ہوں اس سے رحم کی توقع رکھنا ہی عبث ہے۔
نریندر مودی کی سیکولر سیکورٹی فورسز اگر وہاں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کو پاکستان یا پھر قبرستان بھیجنا چاہتی ہیں تو وہاں کے مسلمانوں کا  بھی یہ حق ہے کہ وہ جہاد کے راستے پر چلتے ہوئے اک نئے پاکستان کی جدوجہد شروع کریں، میں بہت عرصے سے یہ بات لکھ رہا ہوں کہ سیکولر ازم کسی بھی مظلوم کا ہاتھ مستقل نہیں تھام سکتا، ہاں البتہ اسلام وہ واحد دین ہے کہ جس نے ہمیں شعور بخشا کہ مظلوم کی آہ سے عرش الٰہی بھی کانپ جاتاہے، جو اسلام مظلوم کی ’’آہ‘‘ کی بات کرتا ہو، وہ ’’مظلوم‘‘ کا ہاتھ تھامنے سے کیسے انکاری ہوسکتاہے؟ چھوڑیئے لبرل ازم اور سیکولر ازم کی باتوں کو … آئیے دین اسلام کی طرف ، کیونکہ اسی میں فلاح کا راز مضمر ہے۔

تازہ ترین خبریں