07:35 am
تاریخ کا نوحہ

تاریخ کا نوحہ

07:35 am

ایک نیک دل بادشاہ تھا جس کی رعایا دھیرے دھیرے غافل ہوتی جا رہی تھی۔ ریاست کی اقتصادیات میں بتدریج گھاٹا ہو رہا تھا۔ لوگ زیادہ وقت گلی کوچوں میں ضائع کرنے لگے ۔ حالت یہ ہو گئی کہ ریاست کی درآمدات اور برآمدات بالکل کم ہو گئیں۔ بادشاہ کی پریشانیاں حد سے بڑھتی گئیں۔ نجومی نے بادشاہ کی اس پریشانی سے خوب فائدہ اٹھایا۔ بادشاہ بہت متقی اور پرہیز گار تھا اور کسی ظلم و جبر سے اجتناب کرتا تھا۔حالات کے پیش نظر ایک دن مکار نجومی بادشاہ کے پاس آیا اور بولا کہ بادشاہ سلامت اب پانی سر کے اوپر سے گزر گیا ہے اور حالات بے قابو ہوتے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی اس نے یہ بھی مشورہ دیا کہ بستی کے سب لوگ ایک پل سے گزرتے ہیں اور اقتصادیات کو صحیح سمت پر لانے کے لیے عوام پر ایک ٹکے کا جزیہ عائد کر دیا جائے۔ بادشاہ اس مشورے کو سن کر سہم گیا اور بولا کہ میں اپنی عوام پر اتنا ظلم نہیں کر سکتا۔ پہلے ہی حالات اتنے خراب ہیں اور ان پر یہ جزیہ لگانا عقل اور عدل کے خلاف ہے۔ خیر نجومی کے منانے پر بادشاہ مان گیا اور منادی کرا دی گئی کہ ہر شخص جو پل پر سے گزرے گا اس کو ایک ٹکہ دینا پڑے گا۔لوگوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں خیر، بادشاہ کے حکم کی تعمیل لازم تھی سو سرتسلیم خم کرنا پڑا۔ لیکن لوگوں کی عادت میں کوئی فرق نہیں آیا۔
 نجومی کے مشورے پر جزیہ ایک ٹکے سے دو ٹکے بڑھا دیا پل کے آنے اور جانے پر۔ لوگوں کی سخت ناراضگی کے باوجود ان کو بادل نخواستہ یہ کرنا ہی پڑا۔بادشاہ اس وقت تشویش سے امراض قلب میں مبتلا ہو گیا جب اس کو خبر ملی کہ عوام ابھی تک ویسے کے ویسے ہیں۔ چنانچہ نجومی کے مشورہ پر جزیہ دو گنا بڑھا دیا گیا لیکن عوام کے کان پر جوں تک نہ رینگی سوائے شکایات اور اعتراضات کے۔ اقتصادیات کا درجہ نیچے سے نیچے جا رہا تھا اور بادشاہ کی فکر اوپر جا رہی تھی۔نجومی نے بادشاہ کو ایک اور مشورہ دیا جس کو سن کر بادشاہ آگ بگولا ہو گیا۔ لیکن نجومی کے  دلائل کے آگے بادشاہ کی کچھ نہ چلی اور یہ نیا قانون پاس ہو گیا کہ جو شخص پل سے گزرے گا وہ چار گناہ جزیہ دے گا اور منہ پر ایک تھپڑ بھی رسید کیا جائے گا۔ عوام سٹپٹا گئی اور آخر منظور کر ہی لیا۔اب بادشاہ کے سپاہی ہر آنے جانے والے کو ایک تھپڑ رسید کرتے اور چار گناہ جزیہ لیتے لیکن حالات تھے کہ بہتری کی طرف نہیں آ رہے تھے۔ نجومی کے گھاگ مشورے اور بادشاہ کے نہ چاہتے ہوئے بھی نیا قانون آیا کہ ہر شخص جو پل پار کرے گا اس کوچار گنا زیادہ جزیہ ، منہ پر تھپڑ اور گالی پڑے گی۔ لوگوں نے اسے قسمت کا روگ جان کر قبول کر لیا اور اس فیصلے کے آگے سر تسلیم خم کر لیا۔ایک دن بادشاہ نے رعایا سے دریافت کیا کہ کیا عوام کو کوئی تکلیف ہے تو ایک بوڑھا آدمی بولا۔ بادشاہ سلامت اگر ہو سکے تو پل پر مزید نفری تعینات کر دیجئے کیونکہ ہمیں تھپڑ کھانے اور گالی سننے کے لیے بہت انتظار کرنا پڑتا ہے۔پانی سر سے کافی اونچا ہو گیا تھا اور ایک زمانے تک لوگ ان فیصلوں پر عمل درآمد کرتے رہے اور بادشاہ کے مرنے کے بعد معاشرے میں بدامنی پھیل گئی اور تاریخ نے ان کے چشم و چراغ کی کہانیاں غلامی اور ذلالت کے طور پر درج کیں۔تاریخ اپنے آپ کو دوہراتی ہے لیکن اس میں فرق ضرور ہوتا ہے۔ وقت کا، لوگوں کا اور ماحول کا۔ ایسی تاریخ کیا اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے؟لوگوں کی حس شاید اس بادشاہ کی سسکیوں کے ساتھ ہی مر گئی اور نجومی کا سوچا ہوا حربہ عوام کو لے ڈوبا۔نظر اٹھائیے اور گھمائیے کہ کتنے داغ ہیں جو صرف ہم ہی صاف کر سکتے ہیں۔ وقت ان نجومی کی جال کا جزیہ تو لے رہا ہے لیکن کیا اب گھٹنے ٹیک دیئے ہیں وقت کے آگے لوگوں نے؟ عام لوگ زندگی کے ہر پہلو میں جنگجو ہوتے جا رہے ہیں۔ کہیں دھماکے ہیں تو کہیں خودکش حملے، کہیں مہنگائی ہے تو کہیں مفلسی۔ خیر، اللہ نہ کرے تاریخ کا یہ باب پھر سے دہرایا جائے۔
آج ہمارے حالات دیکھے جائیں تو یہ بات اٹل ہے کہ چاہے کتنی بھی کمیٹیاں بنادی جائیں وہ کچھ بھی نہیں کرسکیں گی اس لیے کہ مسائل کے حل کے لئے اصلاحات درکار ہیں۔ہمیں زمینی حقائق سے نظریں نہیں چرانی چاہئیں۔غریب اور متوسط طبقے کو مہنگائی اور گرانی کے عفریت سے بچانے کی اس لئے بھی اشد ضرورت ہے کہ سابقہ حکومت کے ڈاروں کے لگائے ہوئے ٹیکسوں سے ان کی حالت نیم بسمل پہلے ہی ہے اس پر اب کیا کہیں کہ نئی حکومت کے نئے ڈار بھی وہی گل کھلا رہے ہیں ملک بھر میں مصنوعی مہنگائی اور گرانی کا ماحول پیدا کرنے والوں کو کھلی چھٹی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں اگر یہ کام اسی طرح چلتا رہا تو نہ صرف نئے پاکستان کا خواب ادھورا رہے گا بلکہ آج کے حکمرانوں کو بے آبرو ہو کر گلی کوچے سے نکلنا پڑے گا۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو کیونکہ یہ ان کو ووٹ دینے والے عوام کی بھی تذلیل اور توہین ہو گی۔ سوچئے سوچئے اور ہزار مرتبہ سوچئے اس ہوش ربا مہنگائی اور گرانی کو کنٹرول کرنے کا سامان کیا ہے؟ اس راہ میں جو فیصلے آپ کریں گے وہی کلیدی فیصلے ہوں گے  او ر عوام کو بھی یہ سمجھنے کی ضرو رت ہے کہ ہم مکمل دودھ کے دھلے کا انتخاب تو نہیں کر سکتے لیکن اس کا انتخاب ضرور کر سکتے جس کا کرپٹ حکمرانوں کی لسٹ میں نام سب سے نیچے ہو ، لیکن ہم ووٹ دیتے ہیں تو اس کو جس کو کوئی دوست احباب یا رشتہ دار کہے یا اگر کوئی برادری میں سے کسی کا واقف امیدوار ہو!
جب تک ہم اس سسٹم کو نہیں بدلیں گے تو سیاسی وسماجی حالت بدتر ہوتی جائیگی،اول تو ہم صرف نفرت بھری تنقید کرتے ہیں،اور ہم میں سے اچھے خاصی تعداد میں لوگ ووٹ ہی نہیں دیتے، دیتے بھی ہیں تو کس بنا پر اور کن شرائط پر؟
خدا نے کبھی اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو خود خیال جس کو اپنی حالت بدلنے کا !
آج ریاست مدینہ کا نعر ہ عام ہے او ر بادشاہ نئے ہیں لیکن عوام پر انے اگر آج کے بادشاہوں کو ماضی کی عوام دشمن تاریخ میں اپنانام نہیں لکھانا توبس اتنا یاد رکھناہو گاکہ حجۃ الوداع کے موقعہ پر خطبے میںنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے پیش کردہ عالمی منشورِانسانیت میں شامل اہم نکات،مِن حیث القوم ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ سو،ریاستِ مدینہ کی طرز پر قائم معاشرے میں رہنے کے متمنی افراد کا مزاج ، رویے اور اعمال بھی ایسے ہی ہونے چاہئیں، تب ہی تو وہ اس معاشرے میں رہنے کے قابل کہلائیںگے۔

تازہ ترین خبریں